مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. في غسل الجمعة
جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 5036 ترقیم الشثری: -- 5091
٥٠٩١ - حدثنا هشيم قال: (اخبرنا) (١) يزيد بن ابي زياد عن (عبد الله) (٢) بن الحارث قال: كنت (مع) (٣) سعد فجاء ابن له فقال له: هل اغتسلت؟ قال: لا توضات ثم جئت فقال له سعد: ما كنت احسب ان احدا يدع الغسل يوم الجمعة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: ورد (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك] زيادة: (بن).
(٤) ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد بن منيع كما في المطالب (٦٨٧).
حدثنا حدثنا هشيم، قال: اخبرنا يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، قال:" كنت مع سعد فجاء ابن له، فقال له: هل اغتسلت؟ قال: لا , توضات ثم جئت، فقال له سعد : ما كنت احسب ان احدا يدع الغسل يوم الجمعة"
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کا ایک صاحبزادہ ان کے پاس آیا، تو انہوں نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے غسل کر لیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: نہیں، میں نے وضو کیا اور پھر آ گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا یہ گمان نہیں تھا کہ کوئی شخص جمعہ کے دن غسل کو ترک کر دے گا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5091، ترقيم محمد عوامة 5036)
ترقیم عوامۃ: 5037 ترقیم الشثری: -- 5092
٥٠٩٢ - حدثنا هشيم عن منصور عن ابن سيرين قال: اقبل رجل من المهاجرين يوم الجمعة فقال له عمر: هل اغتسلت؟ قال: لا، قال: لقد علمت انا امرنا بغير ذلك قال الرجل: بم امرتم؟ قال: بالغسل، قال: انتم معشر المهاجرين ام الناس؟ قال: لا ادري (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، رواية ابن سيرين عن عمر منقطعة، أخرجه أحمد بن منيع كما في المطالب (٦٨٦).
حدثنا هشيم، عن منصور، عن ابن سيرين، قال: اقبل رجل من المهاجرين يوم الجمعة، فقال له عمر : " هل اغتسلت؟ قال: لا، قال: لقد علمت انا امرنا بغير ذلك، قال الرجل: بم امرتم؟ قال: بالغسل، قال: انتم معشر المهاجرين ام الناس؟ قال: لا ادري" ,
ابن سیرین سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن مہاجرین میں سے ایک صاحب آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے غسل کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں بخوبی علم ہے کہ ہمیں اس کے سوا (یعنی غسل کرنے) کا حکم دیا گیا تھا۔“ ان صاحب نے پوچھا: ”آپ لوگوں کو کس چیز کا حکم دیا گیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”غسل کرنے کا۔“ ان صاحب نے دریافت کیا: ”کیا یہ حکم خاص آپ مہاجرین کی جماعت کے لیے ہے یا تمام لوگوں کے لیے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5092، ترقيم محمد عوامة 5037)
ترقیم عوامۃ: 5038 ترقیم الشثری: -- 5093
٥٠٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون (١) عن هشام عن ابن سيرين عن ابن عباس قال: بينما عمر بن الخطاب يخطب ثم ذكر نحوه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في حاشية [جـ]: (نمت أخرجه الطحاوي عن طريق يزيد بن هارون فساقه نحوه: محمد مرتضى).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لم يسمع من ابن عباس.
حدثنا يزيد بن هارون، عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابن عباس، قال: بينما عمر بن الخطاب يخطب، ثم ذكر نحوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایک مرتبہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے“، پھر راوی نے اسی کے مانند تذکرہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5093، ترقيم محمد عوامة 5038)
ترقیم عوامۃ: 5039 ترقیم الشثری: -- 5094
٥٠٩٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي البختري قال: (قاول) (١) عمار (٢) رجلا فاستطال عليه فقال:"انا إذن انتن من الذي لا يغتسل يوم الجمعة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د، هـ]: (وقال)، وقاول أي: تخاصم بالقول.
(٢) في [أ]: (عمر).
(٣) ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط، وأبو البختري لم يسمع من عمار.
حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السائب، عن ابي البختري، قال: قاول عمار: رجلا فاستطال عليه، فقال: " انا إذا انتن من الذي لا يغتسل يوم الجمعة"
ابوالبختری سے روایت ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے تکرار ہو گئی اور اس نے آپ کے سامنے زبان درازی کی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تب تو میں اس شخص سے بھی زیادہ بدبودار ہوں جو جمعہ کے دن غسل نہیں کرتا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5094، ترقيم محمد عوامة 5039)
ترقیم عوامۃ: 5040 ترقیم الشثری: -- 5095
٥٠٩٥ - حدثنا حفص عن حجاج عن عمرو بن مرة عن زاذان قال: سئل (علي) (١) عن غسل يوم الجمعة فقال: (الغسل) (٢) يوم الجمعة وفي العيدين ويوم عرفة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [ب، ط، هـ]: (تغسّل).
(٣) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه مسدد كما في المطالب (٦٩٣).
حدثنا حفص ، عن حجاج ، عن عمرو بن مرة ، عن زاذان ، قال:" سئل علي عن غسل يوم الجمعة، فقال: " الغسل يوم الجمعة، وفي العيدين، ويوم عرفة"
زاذان سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جمعہ کے دن غسل کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”غسل جمعہ کے دن، دونوں عیدوں کے دن اور عرفہ کے دن (کیا جاتا) ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5095، ترقيم محمد عوامة 5040)
ترقیم عوامۃ: 5041 ترقیم الشثری: -- 5096
٥٠٩٦ - حدثنا ابن علية عن يحيى بن ابي إسحاق قال: سمعت ابا الوليد عبد الله ابن الحارث انه سمع ابن عباس يقول: ما شعرت ان احدا يرى ان له طهورا يوم الجمعة غير الغسل (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا ابن علية، عن يحيى بن ابي إسحاق، قال: سمعت ابا الوليد عبد الله بن الحارث، إنه سمع ابن عباس ، يقول: " ما شعرت ان احدا يرى ان له طهورا يوم الجمعة غير الغسل"
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا گمان تک نہ تھا کہ کوئی شخص جمعہ کے دن غسل کے سوا کسی اور عمل کو باعثِ طہارت سمجھتا ہوگا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5096، ترقيم محمد عوامة 5041)
ترقیم عوامۃ: 5042 ترقیم الشثری: -- 5097
٥٠٩٧ - حدثنا وكيع عن ثور عن زياد النميري عن ابي هريرة قال: لاغتسلن يوم الجمعة ولو (كاس) (١) بدينار (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) وفي [ك]: (كان).
(٢) ضعيف؛ لضعف زياد النميري، ويحتمل أن زيادًا هو ابن أبي سودة فيكون الأثر صحيحًا.
حدثنا حدثنا وكيع، عن ثور، عن زياد النميري، عن ابي هريرة ، قال: " لاغتسلن يوم الجمعة ولو كاس بدينار"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں جمعہ کے دن (غسلِ مسنون کی ادائیگی کی خاطر) ضرور غسل کروں گا، خواہ (پانی کی قلت کی وجہ سے) ایک پیالہ پانی ایک دینار (جیسی خطیر رقم) کے عوض ہی کیوں نہ ملے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5097، ترقيم محمد عوامة 5042)
ترقیم عوامۃ: 5043 ترقیم الشثری: -- 5098
٥٠٩٨ - حدثنا هشيم قال اخبرنا ابو بشر عن مجاهد قال: قال كعب: يفزع (ليوم) (١) الجمعة كل شيء إلا الثقلين، (و) (٢) على كل حالم فيه الغسل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (لكل يوم)، وفي [ب]: (يفزع ليوم)، وفي [أ]: (كل شيء ليوم الجمعة).
(٢) في [ب] سقط: (و).
حدثنا هشيم، قال: اخبرنا ابو بشر، عن مجاهد، قال: قال كعب: " يفزع ليوم الجمعة كل شيء إلا الثقلين، وعلى كل حالم فيه الغسل"
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: ” «الثقلين» (جن اور انسان) کے سوا ہر مخلوق جمعہ کے دن (قیامت کے اچانک وقوع پذیر ہونے کے اندیشے سے) گھبراہٹ اور خوف کا شکار رہتی ہے، اور اس دن ہر «حالم» (بالغ شخص) پر غسل کرنا لازم ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5098، ترقيم محمد عوامة 5043)
ترقیم عوامۃ: 5044 ترقیم الشثری: -- 5099
٥٠٩٩ - حدثنا هشيم عن يحيى (بن) (١) سعيد عن (عمرة) (٢) بنت عبد الرحمن عن عائشة قالت: كان الناس يخدمون انفسهم فكان احدهم يروح بهيئته إلى الجمعة فقيل لهم: لو اغتسلتم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ك]: (بن)، وفي [هـ، ب]: (عن).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عميرة).
(٣) صحيح، أخرجه البخاري (٩٠٣)، ومسلم (٨٤٧).
حدثنا حدثنا هشيم، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة ، قالت: " كان الناس يخدمون انفسهم، فكان احدهم يروح بهيئته إلى الجمعة، فقيل لهم: لو اغتسلتم"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ (اپنے کام کاج میں) اپنی خدمت خود ہی کیا کرتے تھے، چنانچہ ان میں سے کوئی شخص اپنی اسی حالت و ہیئت میں (یعنی کام کاج کے لباس اور پسینے کی بو کے ساتھ) جمعہ کی نماز کے لیے چلا جاتا تھا، تو ان سے کہا گیا: «لَوْ اغْتَسَلْتُمْ» ”کاش کہ تم (جمعہ کے لیے) غسل کر لیتے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5099، ترقيم محمد عوامة 5044)
ترقیم عوامۃ: 5045 ترقیم الشثری: -- 5100
٥١٠٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن داود عن ابي الزبير عن جابر قال: حق على كل مسلم غسل يوم بين سبعة ايام وهو يوم الجمعة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا محمد بن فضيل ، عن داود ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: " حق على كل مسلم غسل يوم بين سبعة ايام، وهو يوم الجمعة"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ وہ سات دنوں میں سے ایک دن غسل کرے، اور وہ جمعہ کا دن ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5100، ترقيم محمد عوامة 5045)