مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
117. من قال: يصلي شفعا ولا يشفع وتره
جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا ر ہے
ترقیم عوامۃ: 6807 ترقیم الشثری: -- 6909
٦٩٠٩ - حدثنا هشيم عن الشيباني عن ابي قيس قال: لقيت علقمة فذكرت (ذلك له) (١) فقال: صل ركعتين ركعتين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (له ذلك).
حدثنا هشيم، عن الشيباني، عن ابي قيس، قال:" لقيت علقمة فذكرت ذلك له، فقال: صل ركعتين ركعتين"
حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت علقمہ سے ملا اور میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم دو دو رکعتیں پڑھ لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6909]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6909، ترقيم محمد عوامة 6807)
ترقیم عوامۃ: 6808 ترقیم الشثری: -- 6910
٦٩١٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن ابي قيس) (١) قال: سالت علقمة فقال: إذا اوترت ثم قمت فاشفع بركعة حتى تصبح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن ابي قيس، قال: سالت علقمة، فقال: " إذا اوترت، ثم قمت، فاشفع بركعة حتى تصبح"
حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب وتر پڑھ کر سو جاؤ اور پھر اٹھو تو صبح تک ایک رکعت کے ساتھ ایک ملاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6910]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6910، ترقيم محمد عوامة 6808)
ترقیم عوامۃ: 6809 ترقیم الشثری: -- 6911
٦٩١١ - حدثنا هشيم قال: اخبرنا مغيرة عن إبراهيم عن عائشة (انها) (١) سئلت عن الذي ينقض وتره (فقالت) (٢) : هذا يلعب (بوتره) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أنه).
(٢) في [ب]: (فقال).
(٣) في [ز، ك]: (وتره).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عائشة.
حدثنا حدثنا هشيم، قال: اخبرنا مغيرة، عن إبراهيم، عن عائشة :" انها سئلت عن الذي ينقض وتره، فقالت: هذا يلعب بوتره"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنے وتروں کو توڑ دیتا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اپنے وتروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6911]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6911، ترقيم محمد عوامة 6809)
ترقیم عوامۃ: 6810 ترقیم الشثری: -- 6912
٦٩١٢ - حدثنا هشيم قال: اخبرنا داود عن الشعبي قال: سالته عن الذي ينقض وتره فقال: إنما امرنا بالإبرام ولم نؤمر بالنقض.
حدثنا هشيم، قال: اخبرنا داود، عن الشعبي، قال: سالته عن الذي ينقض وتره، فقال: إنما امرنا بالإبرام، ولم نؤمر بالنقض"
حضرت داود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے وتروں کو توڑ دے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے توڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6912، ترقيم محمد عوامة 6810)
ترقیم عوامۃ: 6811 ترقیم الشثری: -- 6913
٦٩١٣ - حدثنا معتمر عن يونس عن (الحسن) (١) قال: إذا اوتر ثم قام وعليه ليل قال: يصلي (شفعا، شفعا) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [أ، ز، ك]: (شفع شفع).
حدثنا معتمر، عن يونس، عن الحسن، قال: " إذا اوتر، ثم قام وعليه ليل، قال: يصلي شفعا شفعا"
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے وتر پڑھ لئے، پھر وہ اٹھا اور رات کا کچھ حصہ باقی تھا، اب وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6913]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6913، ترقيم محمد عوامة 6811)
ترقیم عوامۃ: 6812 ترقیم الشثری: -- 6914
٦٩١٤ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا اوتر الرجل من اول الليل ثم بدا له ان يصلي من آخر الليل فليصل ركعتين ركعتين حتى يصبح.
حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، قال: " إذا اوتر الرجل من اول الليل، ثم بدا له ان يصلي من آخر الليل فليصل ركعتين ركعتين حتى يصبح"
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لے، پھر اسے رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے تو وہ صبح تک دو دو رکعتیں پڑھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6914]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6914، ترقيم محمد عوامة 6812)
ترقیم عوامۃ: 6813 ترقیم الشثری: -- 6915
٦٩١٥ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم قال: سالته عن الرجل يوتر ثم يستيقظ قال: يصلي مثنى، مثنى وكانوا يستحبون ان يكون آخر صلاتهم وترا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ك] زيادة: (نا)، وفي [أ، ز]: (ثنا)، وسقط من: [هـ].
حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم، قال: سالته عن الرجل يوتر، ثم يستيقظ، قال:" يصلي مثنى مثنى، وكانوا يستحبون ان يكون آخر صلاتهم وترا"
حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وتر پڑھ کر سو جائے پھر رات کو نماز کے لئے اٹھے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔ اور اسلاف اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ لوگوں کی آخری نماز وتر ہونی چاہئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6915، ترقيم محمد عوامة 6813)
ترقیم عوامۃ: 6814 ترقیم الشثری: -- 6916
٦٩١٦ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد الله بن بدر عن قيس بن طلق عن ابيه قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا وتران في ليلة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ قيس صدوق، أخرجه أحمد (١٦٢٩٦)، وأبو داود (١٤٣٩)، والترمذي (٤٧٠)، والنسائي ٣/ ٢٢٩، وابن خزيمة (١١٠١)، والطحاوي ١/ ٣٤٢، وابن حبان (٢٤٤٩)، والبيهقي ٣/ ٣٦، وابن سعد ٥/ ٥٥٢، وابن عبد البر في الاستذكار (٦٧٨٩)، والطيالسي (١٠٩٥)، والطبراني (٨٢٤٧)، والمروزي في قيام الليل ص ١٣٢.
حدثنا ملازم بن عمرو ، عن عبد الله بن بدر ، عن قيس بن طلق ، عن ابيه ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " لا وتران في ليلة"
حضرت طلق سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں پڑھے جاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6916، ترقيم محمد عوامة 6814)