🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. من رخص أن (تكون) المرأة مع الجنازة والصياح لا يرى به بأسا
بعض حضرات نے عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے کی اجازت دی ہے اور ان کے چیخنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11411 ترقیم الشثری: -- 11631
١١٦٣١ - حدثنا (وكيع) (١) عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان (٢) عن محمد ابن عمرو (بن) (٣) عطاء عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ كان في جنازة فراى عمر امراة فصاح بها فقال له رسول الله ﷺ:"دعها يا عمر، فإن العين (دامعة) (٤) والنفس مصابة والعهد قريب" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [ز].
(٢) في [أ، ب، هـ، ق]: (وعن).
(٣) في [ص، هـ]: (عن).
(٤) في [ص، هـ]: (أو معه).
(٥) منقطع؛ محمد بن عمرو لم يسمعه من أبي هريرة، بل بينهما سلمة بن الأزرق كما عند النسائي (١٩٨٦)، وعبد بن حميد (١٤٤٠)، وسلمة مجهول، والحديث أخرجه أحمد (٩٧٣١)، وابن ماجه (١٥٨٧)، وابن حبان (٣١٥٧)، والحاكم ١/ ٣٨١، وأبو يعلى (٦٤٠٥)، وعبد الرزاق (٦٦٧٤)، والبيهقي ٤/ ٧٠، والحميدي (١٠٢٤)، والطحاوي ٤/ ٢٩٣، وعبد بن حميد (١٤٣٨).

حدثنا وكيع ، عن هشام بن عروة ، عن وهب بن كيسان ، وعن محمد بن عمرو بن عطاء ، عن ابي هريرة :" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في جنازة، فراى عمر امراة , فصاح بها، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:" دعها يا عمر، فإن العين دامعة والنفس مصابة والعهد قريب"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے حضرت عمر نے ایک عورت کو دیکھا جو چیخ رہی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: اے عمر چھوڑ دو بیشک آنکھیں اشک بار ہیں اور نفس غم میں مبتلا ہے اور عہد (وعدہ مقررہ) قریب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11631، ترقيم محمد عوامة 11411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11412 ترقیم الشثری: -- 11632
١١٦٣٢ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن (ابي) (١) إسحاق عن (جبار) (٢) الطائي قال: شهدت جنازة ام مصعب بن الزبير وفيها ابن عباس على اتان له، فمر (وحاذى) (٣) عبد الله بن عمرو وابن عمر وقال: فسمعوا اصوات صوائح، قال: ⦗٥٥٦⦘ قلت: يا (ابا) (٤) عباس (يصنع) (٥) هذا وانت هاهنا؟ قال: دعنا منك يا (جبار) (٦) فإن الله اضحك وابكى (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) في [هـ، ص]: (حبان)، وانظر: ما تقدم برقم (١١٥٦١).
(٣) في [ص، هـ]: (أحاذ).
(٤) في [ف]: (ابن).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (تصنع).
(٦) في [أ، هـ]: (حبان).
(٧) مجهول؛ لجهالة جبار الطائي.

حدثنا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي إسحاق، عن جبار الطائي، قال: شهدت جنازة ام مصعب بن الزبير، وفيها ابن عباس، على اتان له، فمر واحاد عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وقال: فسمعوا اصوات صوائح قال: قلت: يا ابن عباس: يصنع هذا وانت هاهنا؟ قال:" دعنا منك يا جبار, فإن الله اضحك وابكى"
حضرت جبار الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام مصعب بن زبیر کے جنازہ میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی سفید گدھی پر سوار موجود تھے جس کو لگام پکڑ کر چلا جا رہا تھا۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے تو انہوں نے چلانے اور چیخنے کی آواز سنی تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا یہاں پر یہ ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی یہاں موجود ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے جبارھم سے خود کو دور رکھو (ہم اس کے مکلف نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11632]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11632، ترقيم محمد عوامة 11412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11413 ترقیم الشثری: -- 11633
١١٦٣٣ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن خالد بن دينار عن الحسن قال: خرج في جنازة، فجعلوا يصيحون عليها، فرجع ثابت، فقال له الحسن: ندع حقا لباطل؟ قال: (فمضى) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فحضني).
حدثنا ابو بكر بن عياش، عن خالد بن دينار، عن الحسن، قال: خرج في جنازة فجعلوا يصيحون عليها فرجع ثابت، فقال له الحسن:" ندع حقا لباطل" قال:" فمضى"
حضرت حسن ایک جنازے کے ساتھ نکلے تو اس میں چیخنے کی آوازیں تھی، حضرت ثابت لوٹے تو حضرت حسن نے ان سے کہا کیا آپ باطل کے لیے (کی وجہ سے) حق کو چھوڑ رہے ہیں؟ راوی کہتے ہیں (یہ سن کر) وہ جنازے کے ساتھ چل پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11633]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11633، ترقيم محمد عوامة 11413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11414 ترقیم الشثری: -- 11634
١١٦٣٤ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن ابي بكر قال: رايت سالما والقاسم يمشيان امام الجنازة، والنساء خلفها.
حدثنا معن بن عيسى، عن خالد بن ابي بكر، قال:" رايت سالما والقاسم يمشيان امام الجنازة والنساء خلفها"
حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں میں نے حضرت سالم اور حضرت قاسم کو دیکھا آپ جنازے کے آگے آگے چل رہے ہیں اور عورتیں جنازے کے پیچھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11634]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11634، ترقيم محمد عوامة 11414)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں