🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

272. في المحرم يأكل ما (صاد) الحلال
محرم اگر حلال شخص کا شکار کیا ہوا جانور کھا لے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14678 ترقیم الشثری: -- 15069
١٥٠٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير وابو الاحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد الله بن ابي قتادة قال: كان ابو قتادة في نفر محرمين وابو قتادة محل، فراى اصحابه حمارا (وحشيا) (١) فلم (يؤذنوه) (٢) حتى ابصره، فاختلس من بعضهم سوطا (فصرعه) (٣) فاكلوا (وحملوا) (٤) منه، فلقوا رسول الله ﷺ فسالوه (عنه) (٥) فقال:"هل اشار إليه احد منكم؟" قالوا: لا، قال:"فكلوا" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (وحشيًا)، وفي [ز]: (وحشي).
(٢) في [أ، ب]: (يوذونه)، وفي [ن]: (يؤذوه).
(٣) في [أ، ب]: (فصرعوه)، وفي حاشيتها (عنه)، وفي [ص]: (تصرعه).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) سقط من: [ن].
(٦) صحيح كما أخرجه البخاري (١٨٢٤)، ومسلم (١١٩٦).

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا جرير ، وابو الاحوص ، عن عبد العزيز بن رفيع ، عن عبد الله بن ابي قتادة ، قال: كان ابو قتادة في نفر محرمين وابو قتادة محل , فراى اصحابه حمارا وحشيا فلم يؤذنوه، حتى ابصره , فاختلس من بعضهم سوطا فصرعه , فاكلوا وحملوا منه , فلقوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالوه؟ فقال:" هل اشار إليه احد منكم؟ قالوا: لا , قال: فكلوا"
حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو قتادہ احرام والے لوگوں کے ساتھ تھے اور وہ خود محرم نہ تھے، ان کے ساتھیوں نے جنگلی گدھا دیکھا، ان کے ساتھیوں نے گدھے کی طرف نشاندہی نہ کی لیکن انہوں نے خود اسے دیکھ لیا۔ پس انھوں نے ان میں سے بعض کا کوڑا اٹھایا اور اس کو پچھاڑ دیا، پھر انھوں نے اس کو کھایا اور اپنے ساتھ اس کا گوشت اٹھا بھی لیا، پھر ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں سے کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15069]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15069، ترقيم محمد عوامة 14678)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14679 ترقیم الشثری: -- 15070
١٥٠٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن جريج عن محمد بن المنكدر عن معاذ بن عبد الرحمن عن ابيه قال: كنا مع طلحة بن ⦗٣٤٠⦘ (عبيد) (١) الله في الحج، ونحن محرمون قال: فاهدي لنا طائر وطلحة نائم قال: (فمنا) (٢) من اكل ومنا من تورع فلم (ياكل) (٣) فلما استيقظ طلحة ذكروا ذلك له قال: (فوفق) (٤) من اكله وقال: (اكلناه) (٥) مع رسول الله ﷺ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (عبد).
(٢) في [ن]: (منا).
(٣) في [أ، ب، جـ، ص، ن]: (يأكله).
(٤) في [أ، ب، ن]: (فوقف).
(٥) في [ن]: (أكلتها).
(٦) صحيح؛ صرح ابن جريج بالتحديث عند مسلم، أخرجه مسلم (١١٩٧)، وابن حبان (٣٩٧٣).

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان ، عن ابن جريج ، عن محمد بن المنكدر ، عن معاذ بن عبد الرحمن ، عن ابيه، قال: كنا مع طلحة بن عبيد الله في الحج ونحن محرمون، قال: " فاهدي لنا طائر وطلحة نائم، قال: منا من اكل ومنا من تورع فلم ياكله , فلما استيقظ طلحة ذكروا ذلك له، قال: فوافق من اكله , وقال: اكلناه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم"
حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ہم سفر حج میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ساتھ تھے اور ہم لوگ حالت احرام میں تھے، ہمارے پاس ایک پرندہ (شکار کیا ہوا) ھدیہ لایا گیا، حضرت طلحہ آرام فرما رہے تھے، ہم میں سے بعض نے تو اس کو کھایا اور بعض رکے رہے اور اس کو نہ کھایا، حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے کھانے والوں کو درست کہا، اور فرمایا: ہم نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15070]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15070، ترقيم محمد عوامة 14679)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14680 ترقیم الشثری: -- 15071
١٥٠٧١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد (بن العوام) (١) عن يونس عن الحسن ان عمر بن الخطاب كان لا يرى باسا بلحم الطير إذا (صيد) (٢) لغيره، يعني في الإحرام (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: زيادة (بن العوام).
(٢) في [أ، ب، ز]: (أصيد).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يسمع من عمر.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عباد، عن يونس، عن الحسن، ان عمر بن الخطاب كان " لا يرى باسا بلحم الطير إذا صيد لغيره" , يعني: في الإحرام
حضرت عمر بن خطاب ایسے پرندے کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے جس کو محرم کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے شکار کیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15071، ترقيم محمد عوامة 14680)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14681 ترقیم الشثری: -- 15072
١٥٠٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن اسامة بن زيد عن سالم قال: سمعت ابا هريرة (يقول) (١) : (لما) (٢) قدمت من البحرين لقيني قوم من اهل العراق فسالوني عن الحلال يصيد الصيد (فياكله) (٣) الحرام، فافتيتهم باكله فقدمت على عمر فسالته عن ذلك فقال: لو افتيتهم بغيره ما افتيت (احدا) (٤) ابدا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ن]، وفي [ن]: (قال).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ن]: (فيأكل).
(٤) في [ص]: (أخدًا).
(٥) حسن؛ أسامة صدوق.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن سالم، قال: سمعت ابا هريرة ، يقول:" لما قدمت من البحرين لقيني قوم من اهل العراق فسالوني عن الحلال يصيد الصيد فياكل الحرام؟ فافتيتهم باكله" , فقدمت على عمر فسالته عن ذلك؟ فقال: لو افتيتهم بغيره ما افتيت احدا ابدا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں بحرین سے واپس آیا تو مجھے اھل عراق کی ایک قوم ملی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ حلال شخص کا شکار کیا ہوا جانور محرم کھا سکتا ہے؟ میں نے ان کو کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق رائے لی؟ آپ نے فرمایا (کہ تو نے صحیح فتویٰ دیا) اگر تو ان کو اس کے علاوہ کوئی فتویٰ دیتا تو تجھ سے کوئی بھی کبھی بھی فتویٰ نہ لیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15072، ترقيم محمد عوامة 14681)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14682 ترقیم الشثری: -- 15073
١٥٠٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن ابيه ان الزبير ابن العوام كان يتزود (صفيف) (١) الوحش وهو محرم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: (ضعيف)، وصفيف الوحش هو القديد، انظر: غريب الحديث لابن قتيبة ٢/ ٦٣١، ولابن سلام ٤/ ٣.
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان الزبير بن العوام كان " يتزود صفيف الوحش وهو محرم"
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر بن العوام حالت احرام میں حمار وحشی کے خشک گوشت کا زاد راہ (توشہ) اختیار کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15073، ترقيم محمد عوامة 14682)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14683 ترقیم الشثری: -- 15074
١٥٠٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يونس عن الحسن.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عباد بن العوام، عن يونس، عن الحسن
حضرت حسن اور حضرت عطاء اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ حلال شخص کا شکار کیا ہوا جانور محرم کھالے، جب کہ اس شخص نے اس کے لیے اور اس کے ہتھیار سے شکار نہ کیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15074، ترقيم محمد عوامة 14683)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15075
١٥٠٧٥ - (و) (١) عبد الملك عن عطاء انهما لم (يكونا) (٢) يريان باسا باكل المحرم ما (اصاب) (٣) الحلال، إذا كان لم يصده من (اجله) (٤) ، او (قالا: له) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (يكونان).
(٣) في [جـ، ص]: (صاد)، وفي [ز]: (أصاد).
(٤) في [ص]: (أجعله).
(٥) في [جـ]: (قال: له)، وفي [ن]: (بالآلة)، وفي [ط]: (بآلته).

وعبد الملك، عن عطاء، انهما " لم يكونا يريان باسا باكل المحرم ما اصاب الحلال , إذا كان لم يصده من اجله او بالآلة"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15075، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14684 ترقیم الشثری: -- 15076
١٥٠٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن يونس بن ابي إسحاق عن ابيه عن (سعد) (١) بن عياض قال: سئل ابن مسعود عن قوم محرمين لقوا قوما حلالا معهم لحم صيد فإما باعوهم وإما اطعموهم؟ فقال: لا باس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: (سعيد).
(٢) مجهول؛ لجهالة سعد بن عياض.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن يونس بن ابي إسحاق، عن ابيه، عن سعد بن عياض، قال: سئل ابن مسعود عن " قوم محرمين لقوا قوما حلالا معهم لحم صيد فإما باعوهم , وإما اطعموهم؟ فقال: لا باس"
حضرت ابن مسعود سے دریافت کیا گیا کہ محرم جماعت کی بغیر احرام والی جماعت سے ملاقات ہوئی اور ان کے پاس شکار کیا ہوا جانور کا گوشت ہو، تو کیا یہ اس سے خرید لے یا وہ ان کو کھلا دیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15076، ترقيم محمد عوامة 14684)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14685 ترقیم الشثری: -- 15077
١٥٠٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن قرة (بن خالد) (١) (عن) (٢) يزيد ابن عبد الله بن الشخير (قال) (٣) رجل: اشترينا رجل حمار ونحن محرمون ⦗٣٤٢⦘ من قوم حلال قال: فمررنا (بابي ذر) (٤) فسالناه فقال: (لا) (٥) اراكم (فجرتم) (٦) ، لا باس به (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص، ز]: زيادة (بن خالد).
(٢) في [أ، ب، ن]: (بن).
(٣) تكرر في: [أ، ب، جـ، ص، ز].
(٤) في [ص]: (أبي ذر)، وفي [أ]: (بأبي زر).
(٥) في [جـ، ص، ز]: زيادة (لا).
(٦) في [أ، ب]: (تحريم)، وفي [ن]: (تحيرتم).
(٧) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن قرة، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، قال رجل: " اشترينا رجل حمار ونحن محرمون من قوم حلال، قال: فمررنا بابي ذر فسالناه؟ فقال: اراكم تحيرتم لا باس به"
حضرت یزید بن عبد اللہ بن الشخیر سے مروی ہے کہ ایک شخص فرماتے ہیں کہ ہم نے حلال جماعت سے حالت احرام میں حمار کی ٹانگ خریدی، پھر ہم حضرت ابو ذر کے پاس سے گزرے تو ہم نے ان سے سوال کیا؟ آپ نے فرمایا کہ میرا نہیں خیال کہ تم نے کوئی گناہ کا کام کیا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15077، ترقيم محمد عوامة 14685)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں