مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. من أجازه بغير ولي ولم يفرق
جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیںکرائی جائے گی
ترقیم عوامۃ: 16197 ترقیم الشثری: -- 16698
١٦٦٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن امه (عن) (١) (بحرية) (٢) بنت هاني (قالت) (٣) : تزوجت القعقاع بن (شور) (٤) فسالني وجعل لي مذهبا من (جوهر) (٥) على ان يبيت عندي ليلة فبات، فوضعت له تورا فيه خلوق فاصبح وهو متضمخ بالخلوق، فقال (لي) (٦) : (فضحتني) (٧) (فقالت) (٨) له: مثلي يكون (سرا) (٩) ؟ فجاء ابي من الاعراب، فاستعدى عليه عليا، فقال علي للقعقاع: ادخلت؟، (فقال) (١٠) : نعم؟، فاجاز النكاح (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك، هـ]. وقد سقطت عن أمه من سنن البيهقي ٧/ ١١٢، وسنن الدارقطني ٣/ ٣٢٣.
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: (بحيرة) وهكذا وردت في المنفردات ص ١٨٦، وطلبة الطلبة ١/ ١٣٨، والمغرب ١/ ٥٧، ووردت (بحرية) في سنن الدارقطني والبيهقي وطبقات ابن سعد ٣/ ١٢٧ و ٥/ ١٨، وتاريخ دمشق ٦٩/ ٦٣ والمبسوط ٥/ ١٠٧.
(٣) في [س، هـ]: (قال).
(٤) في [جـ، هـ]: (ثور).
(٥) في [أ، ب]: (جوير)، وكذا في [جـ، ط].
(٦) في [س]: (له).
(٧) في [ب]: (تصحبني).
(٨) في [هـ]: (فقلت).
(٩) في [هـ]: (شرًا).
(١٠) كذا في [س، هـ]، وفي [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (قال).
(١١) مجهول؛ لجهالة بحرية وأم الشيباني.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن الشيباني، عن امه بحيرة بنت هانئ، قالت: " تزوجت القعقاع بن شور، فسالني وجعل لي مذهبا من جوهر على ان يبيت عندي ليلة فبات , فوضعت له تورا فيه خلوق فاصبح وهو متضمخ بالخلوق , فقال لي: فضحتني , فقلت له: مثلي يكون سرا؟ فجاء ابي من الاعراب فاستعدى عليه عليا , فقال علي للقعقاع: ادخلت؟ فقال: نعم , فاجاز النكاح"
حضرت بحریہ بنت ہانیء فرماتی ہیں کہ میں نے قعقاع بن شور سے شادی کی۔ انہوں نے مجھے سونے کا زیور دیا کہ وہ میرے پاس ایک رات گذاریں۔ چناچہ انہوں نے میرے گھر رات گذاری۔ میں نے خلوق کا ایک برتن ان کے پاس رکھا۔ صبح ان کے کپڑوں پرخلوق خوشبو لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم نے اس خوشبو کی وجہ سے میری رسوائی کا سامان کردیا کہ اب اس شادی کا سب کو پتہ چل جائے گا۔ میں نے کہا کہ کیا مجھ جیسی سے کوئی راز رہ سکتا ہے؟ پھر میرے دیہاتی والد آئے اور قعقاع بن شور کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع سے کہا کہ کیا تم نے اپنی بیوی سے دخول کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کو جائز قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16698، ترقيم محمد عوامة 16197)
ترقیم عوامۃ: 16198 ترقیم الشثری: -- 16699
١٦٦٩٩ - حدثنا ابو داود عن شعبة عن مصعب قال: سالت (موسى) (١) بن عبد الله بن يزيد فقال: يجوز في المراة تزويج بغير ولي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مولى).
حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن مصعب، قال: سالت موسى بن عبد الله بن يزيد، فقال: " يجوز في المراة تزويج بغير ولي"
حضرت مصعب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بغیر ولی کے عورت کی شادی کرانا جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16699، ترقيم محمد عوامة 16198)
ترقیم عوامۃ: 16199 ترقیم الشثری: -- 16700
١٦٧٠٠ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر قال: سالت الزهري عن (المراة) (١) تزوج بغير ولي فقال: إن كان كفؤا جاز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (امرأة).
حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، قال: سالت الزهري،" عن امراة تزوج بغير ولي فقال: إن كان كفؤا جاز".
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے سوال کیا کہ کیا عورت بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کرسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر خاوند بیوی کا کفوء ہو تو جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16700، ترقيم محمد عوامة 16199)
ترقیم عوامۃ: 16200 ترقیم الشثری: -- 16701
١٦٧٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: (إن) (١) كان كفؤا جاز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ف، هـ]: (إذا).
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن إسماعيل بن سالم , عن الشعبي، قال:" إذا كان كفؤا جاز"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کفوء ہوں تو جائز ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16701، ترقيم محمد عوامة 16200)
ترقیم عوامۃ: 16201 ترقیم الشثری: -- 16702
١٦٧٠٢ - حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن ابي قيس الاودي عمن حدثه عن علي انه اجاز (نكاحا) (١) بغير ولي انكحتها امها (برضاها) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نكاح امرأة).
(٢) في [أ، ب]: (بغير رضاها).
(٣) مجهول؛ لإبهام شيخ أبي فيس.
حدثنا حدثنا ابو معاوية، عن الشيباني، عن ابي قيس الاودي، عمن حدثه، عن علي :" انه اجاز نكاح امراة بغير ولي، انكحتها امها برضاها"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بغیر ولی کے نکاح کرنے کو جائز قرار دیا اور فرمایا کہ اس کی ماں اس کی اجازت سے اس کا نکاح کر اسکتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16702، ترقيم محمد عوامة 16201)
ترقیم عوامۃ: 16202 ترقیم الشثری: -- 16703
١٦٧٠٣ - حدثنا سلام وجرير عن عبد العزيز بن رفيع عن ابي سلمة بن عبد الرحمن قال جاءت امراة (١) إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله! إن عم ولدي خطبني فرده ابي وزوجني وانا كارهة، قال: فدعا اباها، فساله عن ذلك فقال: إني انكحتها ولم آلوها خيرا، فقال رسول الله ﷺ:"لا نكاح (لك) (٢) ، اذهبي فانكحي من شئت" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (زيد).
(٢) سقط من: [ط، س، هـ].
(٣) مرسل؛ أبو سلمة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٠٣٠٤)، وسعيد بن منصور (٥٦٨)، والبيهقي ٧/ ١٢٠، وابن الجوزي في التحقيق (١٧٠١).
حدثنا سلام ، وجرير ، عن عبد العزيز بن رفيع ، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن ، قال: جاءت امراة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله , إن عم ولدي خطبني فرده ابي وزوجني وانا كارهة , قال: فدعا اباها , فساله عن ذلك، فقال: إني انكحتها ولم آلوها خيرا , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا نكاح لك , اذهبي فانكحي من شئت"
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک 5 کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کردیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور 5 نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لئے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی پاک 5 نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16703، ترقيم محمد عوامة 16202)
ترقیم عوامۃ: 16203 ترقیم الشثری: -- 16704
١٦٧٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد ان القاسم بن محمد اخبره ان عبد الرحمن بن يزيد و (مجمع) (١) بن يزيد (الانصاريين) (٢) (اخبراه) (٣) ان رجلا منهم يدعى (خداما) (٤) انكح ابنة له، فكرهت نكاح ابيها فاتت رسول الله ﷺ فذكرت ذلك له، فرد عنها نكاح ابيها، فخطبت فنكحت ابا لبابة بن عبد المنذر (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، خ، ز]، وفي [أ، ب، س]: (محمد).
(٢) في [جـ]: (الأنصاري).
(٣) في [س]: (أجزاء).
(٤) في [أ، ب، جـ، ز، س]: (حرامًا).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥١٣٩)، وأحمد (٢٦٧٨٩).
حدثنا يزيد بن هارون ، عن يحيى بن سعيد ، ان القاسم بن محمد ، اخبره ان عبد الرحمن بن يزيد ، ومحمد بن يزيد الانصاريين ، اخبراه:" ان رجلا منهم يدعى خداما انكح ابنة له , فكرهت نكاح ابيها، فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فرد عنها نكاح ابيها , فخطبت فنكحت ابا لبابة بن عبد المنذر ,
حضرت عبدالرحمن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری فرماتے ہیں کہ خذام نامی ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی کرائی۔ اس لڑکی نے اپنے والد کے کرائے ہوئے نکاح کو ناپسند کیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور ساری بات کا ذکر کیا۔ حضور 5 نے اس کے والد کے نکاح کو مسترد کردیا۔ پھر اس کے نکاح کے پیغام آئے اور انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے نکاح کرلیا۔ راوی یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ وہ ثیبہ تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16704، ترقيم محمد عوامة 16203)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 16705
١٦٧٠٥ - وذكر يحيى انه (بلغه) (١) (انها كانت ثيبا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بلغ)، وفي [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (بلغها).
(٢) في [س]: (أنهما كانت ثبيًا).
(٣) مرسل.
وذكر يحيى انه بلغه انها كانت ثيبا"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16705، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 16204 ترقیم الشثری: -- 16706
١٦٧٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: نا يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد ان عائشة انكحت حفصة ابنة عبد الرحمن بن ابي بكر المنذر بن الزبير، وعبد الرحمن غائب فلما قدم عبد الرحمن غضب وقال: (اي عباد الله) (١) (امثلي) (٢) (يفتات) (٣) عليه في بناته؟ فغضبت عائشة وقالت: اترغب عن المنذر؟ (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أبو عباد).
(٢) في [س]: (مثلي).
(٣) في [جـ، ز]: (يغتاب).
(٤) صحيح.
حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، قال: نا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، ان عائشة ، انكحت حفصة ابنة عبد الرحمن بن ابي بكر المنذر بن الزبير، وعبد الرحمن غائب، فلما قدم عبد الرحمن غضب، وقال: اي عباد الله , امثلي يفتات عليه في بناته؟ فغضبت عائشة، وقالت: اترغب عن المنذر"
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر کی شادی منذر بن زبیر سے کرادی۔ اس وقت ان کے والد عبدالرحمن غائب تھے۔ جب حضرت عبد الرحمن واپس آئے تو بہت غصے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ کے بندو! کیا میرے جیسے شخص اس قابل ہیں کہ ان کی بیٹیوں کے بارے میں اس کی مرضی کے بغیر فیصلہ کیا جائے؟ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غصہ میں آئیں اور فرمایا کہ کیا منذر جیسے لوگوں سے اعراض کیا جاسکتا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16706، ترقيم محمد عوامة 16204)
ترقیم عوامۃ: 16205 ترقیم الشثری: -- 16707
١٦٧٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم قال: نا سفيان عن ابي قيس عن (هزيل) (١) قال: رفعت إلى علي امراة زوجها خالها (وامها) (٢) ، قال: فاجاز علي النكاح (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (هذيل)، وفي [جـ، ز، ك]: (هديل).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) حسن؛ أبو قيس صدوق.
حدثنا حدثنا يحيى بن آدم، قال: نا سفيان، عن ابي قيس، عن هزيل، قال:" رفعت إلى علي امراة زوجها خالها وامها , قال: فاجاز علي النكاح ,
حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی عورت کا مقدمہ آیا جس کے ماموں اور اس کی ماں نے اس کی شادی کرادی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے نکاح کو جائزقرار دیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ ولی نہیں ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن صالح فرماتے ہیں کہ جائز ہے کیونکہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کو جائز قرار دیا تو وہ ولی کے درجہ میں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16707، ترقيم محمد عوامة 16205)