صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ:
باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 994 ترقیم شاملہ: -- 2310
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.
ابوقلابہ نے ابواسماء (رحبی) سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دینار جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے انسان اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) اپنے جانور (سواری) پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ پھر ابوقلابہ نے کہا: ”آپ نے اہل و عیال سے ابتدا فرمائی۔“ پھر ابوقلابہ نے کہا: ”اجر میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، وہ ان کو (سوال کی) ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ اس کے ذریعے سے انہیں فائدہ پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2310]
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دینا ر جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے۔جسے انسان اپنے جہادی جاندار سواری پر صرف کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ابو قلابہ بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا عیال سے فرمائی، پھر ابو قلابہ کہنے لگے۔ اس آدمی سے بڑھ کر اجر کس آدمی کا ہو سکتا ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، انہیں سوال کی ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ انہیں اس کے ذریعہ نفع پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے (عیال جن کے نان و نفقہ کا انسان ذمہ دار ہے۔ اس کے بیوی بچے نوکر، چاکر یا غلام) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2310]
ترقیم فوادعبدالباقی: 994
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 995 ترقیم شاملہ: -- 2311
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے) ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن (کی آزادی) کے لیے خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا، ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2311]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے ایک دینار وہ ہے جسے تونے گردن کی آزادی کے لیے خرچ کیا ہے۔ ایک دینار وہ ہے جس نے مسکین پر صدقہ کیا ہے اور ایک دینار وہ جسے تو نے اپنے اہل پر صرف کیا ہے۔ ان سب سے زیادہ اجر تمھیں اس دینار پر ملے گا جسے تونے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2311]
ترقیم فوادعبدالباقی: 995
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 996 ترقیم شاملہ: -- 2312
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ".
خثیمہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کا کارندہ (مینیجر) ان کے پاس آیا، وہ اندر داخل ہوا تو انہوں نے پوچھا: ”(کیا) تم نے غلاموں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”جاؤ، انہیں دو۔“ (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انہیں نہ دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2312]
خثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ان کا وکیل و نگران ان کے پاس آیا۔ اندر داخل ہوا۔ تو انھوں نے پوچھا غلاموں کو ان کی خوراک دے دی ہے، اس نے کہا: نہیں انھوں نے کہا۔ جاؤ، انہیں ان کا خرچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ جن کا وہ مالک ہے ان کی خوراک روک لے یعنی فرض میں کوتاہی ناقابل معافی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 996
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة