مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
208. ما قالوا: في الرجل أو (المرأة) تسأل ابنها (أن) يطلق امرأته
اگر کوئی مرد یا عورت اپنے بیٹے سے کہیں کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19397 ترقیم الشثری: -- 20177
٢٠١٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن ابن ابي ذئب قال: نا الحارث بن عبد الرحمن عن حمزة بن عبد الله بن عمر قال: كانت (تحت) (١) ابن ⦗٤٤٠⦘ عمر (امراة) (٢) وكان يعجب بها (وكان عمر يكرهها) (٣) فقال (له) (٤) : طلقها، فابى (فذكرها) (٥) عمر لرسول الله ﷺ فقال النبي ﷺ:"اطع اباك وطلقها (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س، ط، هـ]: (امرأته).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [س]: (لها).
(٥) في [س]: (فذكر).
(٦) في [ز]: زيادة (له).
(٧) مرسل؛ حمزة تابعي، أخرجه أحصد (٤٧١١)، وأبو داود (٥١٣٨)، والترمذي (١١٨٩)، وابن ماجه (٢٠٨٨)، وابن حبان (٤٢٧)، والطحاوي في شرح المشكل (١٣٨٦)، والطبراني (١٣٢٥٠)، والحاكم ٢/ ١٩٧، والبيهقي ٧/ ٣٢٢، والبغوي (٢٣٤٨)، وعبد بن حميد (٨٣٥).
حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک بیوی تھیں جن سے وہ بہت محبت کرتے تھے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ عورت پسند نہ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو طلاق دے دو۔ انہوں نے طلاق دینے سے انکار کردیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا۔ حضور 5 نے ان سے فرمایا کہ اپنے والد کی اطاعت کرو اور اسے طلاق دے دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20177]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20177، ترقيم محمد عوامة 19397)
ترقیم عوامۃ: 19398 ترقیم الشثری: -- 20178
٢٠١٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن (الركين) (١) عن ابي طلحة الاسدي قال: كنت جالسا عند ابن عباس فاتاه اعرابيان (فاكتنفاه) (٢) فقال: احدهما: إني منت ابغي إبلا لي، فنزلت بقوم فاعجبتني فتاة لهم، فتزوجتها فحلف ابواي ان لا يضماها ابدا، وحلف الفتى فقال: عليه (الف محرر) (٣) والف هدية والف بدنة إن طلقها، فقال ابن عباس: ما انا بالذي آمرك ان تطلق امراتك، ولا ان (تعق) (٤) والديك قال: فما اصنع بهذه المراة؟ قال: إبرر والديك (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الدكين)، وفي [س]: (الوكين).
(٢) في [س]: (فاكتفاه).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ز]: (تعيق).
(٥) حسن؛ أبو طلحة الأسدي صدوق.
حضرت ابوطلحہ اسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ دو دیہاتی اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا کہ میں اپنا اونٹ تلاش کرتا ہوا ایک قوم میں جا پہنچا، ان کی ایک لڑکی مجھے بہت پسند آئی میں نے اس سے شادی کرلی۔ میرے والدین نے قسم کھالی ہے کہ وہ اس عورت کو بہو کے طو رپر کبھی قبول نہ کریں گے۔ لڑکے نے قسم کھالی کہ اگر وہ اس کو طلاق دے تو اس پر ایک ہزار غلام آزاد کرنا، ایک ہزار ہدیے دینا اور ایک ہزار اونٹ صدقہ کرنا لازم ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی والدین کی نافرمانی کا۔ اس نے کہا کہ پھر میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ والدین سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20178]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20178، ترقيم محمد عوامة 19398)
ترقیم عوامۃ: 19399 ترقیم الشثری: -- 20179
٢٠١٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا (١) محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الرحمن قال: كان من الحي فتى في بيت شلم (تزل) (٢) به امه حتى (زوجته) (٣) ابنة عم له فعلق منها معلقا، ثم قالت له امه: طلقها، فقال: لا استطيع، علقت مني (ما لا استطيع) (٤) ان اطلقها معه، قالت: فطعامك (وشرابك) (٥) علي حرام حتى تطلقها فرحل إلى ابي الدرداء إلى الشام فذكر له شانه فقال: (ما) (٦) انا بالذي آمرك ان تطلق امراتك، ولا انا بالذي آمرك ان تعق والديك (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: زيادة (وكيع).
(٢) في [س]: (ترك).
(٣) في [ب، س] (حتى تزوجته).
(٤) في [س]: (ما لا تستطيع).
(٥) في [جـ، ط]: (وخيرائك).
(٦) سقط من: [س].
(٧) ضعيف؛ عطاء اختلط.
حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قبیلے میں ایک نوجوان تھا جس کی والدہ نے اصرار کرکے اس کی شادی اس کی چچا زاد بہن سے کرادی۔ پھر وہ لڑکا بھی اس سے محبت کرنے لگا۔ پھر اس کی والدہ نے اسے حکم دیا کہ اس لڑکی کو طلاق دے دے۔ اس نوجوان نے کہا کہ اب میں اسے چاہنے لگا ہوں اور اب اسے طلاق دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی ماں نے کہا کہ تیرا کھانا اور تیرا پانی مجھ پر حرام ہے جب تک تو اسے طلاق نہ دے دے۔ اس نوجوان نے شام کی طرف سفر کیا اور حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے سارا قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نہ تو تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اپنی والدہ کی نافرمانی کا کہتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20179، ترقيم محمد عوامة 19399)
ترقیم عوامۃ: 19400 ترقیم الشثری: -- 20180
٢٠١٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا (هشيم) (١) (عن) (٢) حميد عن الحسن قال: (جاءه) (٣) رجل فقال: إن امه امرته ان (يتزوج) (٤) ، [ثم امرته بعد ذلك ان يطلق؟ فقال (الحسن) (٥) : ليس طلاقه امراته] (٦) ، من بر (امه) (٧) في شيء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (هثيم).
(٢) في [ط]: (بن).
(٣) في [ز، ط]: (جاء).
(٤) في [س]: (تتزوج).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٧) في [أ، س، ز، ط، هـ]: (أبيه).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس کی ماں نے پہلے اسے حکم دیا کہ شادی کرلے اور پھر اسے حکم دیا کہ اب اپنی بیوی کو طلاق دے۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ بیوی کو طلاق دینا ماں کی فرمانبرداری کا حصہ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20180، ترقيم محمد عوامة 19400)