مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
252. في الوالي والقاضي يهدى إليه
قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
ترقیم عوامۃ: 22384 ترقیم الشثری: -- 23353
٢٣٣٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا خلف بن خليفة عن منصور عن الحكم عن ابي وائل عن مسروق قال: القاضي إذا اخذ هدية فقد اكل السحت، وإذا اخذ الرشوة بلغت به الكفر.
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں قاضی اگر ہدیہ وصول کرے تو اس نے حرام کھایا اور اگر وہ رشوت لے تو کفر تک پہنچ گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23353، ترقيم محمد عوامة 22384)
ترقیم عوامۃ: 22385 ترقیم الشثری: -- 23354
٢٣٣٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن معاذ بن العلاء عن ابيه عن جده قال: خطب علي بالكوفة وبيده قارورة (فقال) (١) : (ما) (٢) (اصبت) (٣) بها منذ ⦗٢١٣⦘ دخلتها إلا (هذه) (٤) اهداها إلي دهقان (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكررت في [ز].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ز]: (صبت).
(٤) في [ح، هـ]: (هدية).
(٥) مجهول، لجهالة والد معاذ وجده.
حضرت معاذ بن العلاء اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں خطبہ دیا اور ان کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جب سے خلیفہ بنا ہوں مجھے صرف یہ ایک ہدیہ ملا ہے جو مجھے ایک دہقان نے بھیجا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23354]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23354، ترقيم محمد عوامة 22385)
ترقیم عوامۃ: 22386 ترقیم الشثری: -- 23355
٢٣٣٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن يوسف بن المهاجر قال: اهدى (الاصبهبذ) (١) إلى عبد الحميد اربعين الفا او اقل او اكثر، فكتب إلى عمر بن عبد العزيز فكتب إليه إن كان يهدي لك وانت بالجزيرة فاقبلها منه، وإلا فاحسبها له من خراجه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (الأصبهية)، وفي [جـ]: (الأصهبل)، وفي [ز]: (الأصبهبة)، والمراد به قائد العسكر في لغة الفرس.
حضرت یوسف بن مہاجر سے مروی ہے کہ لشکر کے قائد نے عبد الحمید کو چالیس ہزار یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ ہدیہ بھیجا۔ انہوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو تحریر کیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا: اگر آپ کو ہدیہ اس وقت ملا ہے جب جزیرہ میں تھے تو پھر قبول کرلو، وگرنہ میں اس کو اس کی طرف سے خراج شمار کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23355]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23355، ترقيم محمد عوامة 22386)
ترقیم عوامۃ: 22387 ترقیم الشثری: -- 23356
٢٣٣٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير (عن) (١) منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: الرشوة في الحكم سحت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (بن).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں رشوت کا حکم یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23356]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23356، ترقيم محمد عوامة 22387)
ترقیم عوامۃ: 22388 ترقیم الشثری: -- 23357
٢٣٣٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن خيثمة قال: قال عمر: بابان من السحت (ياكلهما) (١) الناس: الرشا ومهر الزانية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (أكلهما)، وفي [ط]: (باكلها).
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حرام کے دو دروازے ہیں جن سے لوگ کھاتے ہیں، ایک رشوت اور زانیہ کے مہر کی کمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23357، ترقيم محمد عوامة 22388)
ترقیم عوامۃ: 22389 ترقیم الشثری: -- 23358
٢٣٣٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن عبد الله بن (عمرو ابن) (١) (مرة) (٢) (عن ابيه) (٣) قال: سالت سعيد بن جبير عن السحت، فقال: الرشاء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [ط]: (قرة).
(٣) سقط من: [هـ].
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حرام کے متعلق دریافت کیا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ رشوت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23358، ترقيم محمد عوامة 22389)
ترقیم عوامۃ: 22390 ترقیم الشثری: -- 23359
٢٣٣٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن شعبة عن ابي قزعة عن ابي نضرة عن ابي سعيد قال: هدايا الامراء غلول (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ وأخرجه مرفوعًا الخليلي في الإرشاد [١/ ٤٤٤ (١١٥)].
حضرت ابو سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں امراء کے ہدایا خیانت ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23359، ترقيم محمد عوامة 22390)
ترقیم عوامۃ: 22391 ترقیم الشثری: -- 23360
٢٣٣٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (١) (قرة) (٢) عن ابي يزيد المديني قال: سئل جابر (بن) (٣) عبد الله عن هدايا الامراء فقال: هي في نفسي غلول (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٢) هو ابن خالد الدوسي، وفي [أ، جـ، ز، هـ]: (قزعة).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) صحيح؛ أخرجه مرفوعًا الطبراني في الأوسط (٤٩٦٩) و (٩٠٥٥)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١١٠، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٣٢، وابن عدي ١/ ٢٨٤، والسهمي في تاريخ جرجان ١/ ٢٩٥ (٤٩٦)، ومحمد بن خلف في أخبار القضاة ١/ ٦٠.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے امراء کے ہدایا کے متعلق دریافت کیا گیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ میرے خیال میں خیانت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23360، ترقيم محمد عوامة 22391)
ترقیم عوامۃ: 22392 ترقیم الشثری: -- 23361
٢٣٣٦١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابي معاذ عن طاوس قال: هي سحت.
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23361]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23361، ترقيم محمد عوامة 22392)
ترقیم عوامۃ: 22393 ترقیم الشثری: -- 23362
٢٣٣٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن (الاعمش) (١) عن شقيق قال: قدم معاذ من اليمن برقيق في (زمن) (٢) ابي بكر، فقال له عمر: (ادفعهم) (٣) إلى ابي بكر، قال: ولم (ادفع) (٤) إليه (رقيقي) (٥) ؟ قال: فانصرف إلى منزله ولم ⦗٢١٥⦘ (يدفعهم) (٦) ، فبات ليلته ثم اصبح من الغد (فدفعهم) (٧) إلى ابي بكر، فقال له عمر: ما بدا لك؟ قال: رايتني فيما يرى النائم كاني إلى نار (اهوي) (٨) إليها، فاخذت بحجزتي فمنعتني من دخولها، (فظننت) (٩) انهم هؤلاء الرقيق، فقال (له) (١٠) ابو بكر: هم لك فلما انصرف (١١) إلى منزله قام يصلي فرآهم يصلون خلفه فقال: لمن تصلون؟ فقالوا: لله، (فقال) (١٢) : اذهبوا انتم (لله) (١٣) (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أعمش).
(٢) في [جـ، ز]: (زمان).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (أرفعهم).
(٤) في [هـ]: (أرفع).
(٥) في [ط]: (رقيق).
(٦) في [أ، هـ]: (يرفعهم).
(٧) في [أ، هـ]: (فرفعهم).
(٨) في [هـ]: (أهدي).
(٩) في [جـ]: (وظننت).
(١٠) في [جـ، ز]: زيادة.
(١١) في [ز]: زيادة (قام).
(١٢) في [جـ، ز]: (قال).
(١٣) في [ط]: (اللَّه).
(١٤) صحيح.
حضرت شقیق سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں یمن سے غلاموں کو لائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: یہ غلام کو دے دو، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے غلام ان کو کیوں دے دوں؟ پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہاپنے گھر تشریف لے گئے۔ اور غلاموں کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں لے کر گئے۔ انہوں نے رات گذاری پھر جب اگلی صبح ہوئی تو انہوں نے غلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ پر کیا ظاہر ہوئی جو آپ نے ایسا کیا؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ میں نے خود کو خواب میں دیکھا کہ آگ میرے قریب ہے اور میں اس میں دھکیلا جا رہا ہوں۔ پھر آپ نے مجھے ازار بند کی جگہ سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا لیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب ان غلاموں کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: یہ سب غلام تمہارے ہیں۔ پھر جب حضرت معاذ گھر تشریف لائے تو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، غلاموں کو دیکھا کہ وہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم کس کے لئے نماز پڑھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ کے لئے، حضرت معاذ نے فرمایا: جاؤ تم اللہ کے لئے آزاد ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23362]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23362، ترقيم محمد عوامة 22393)