🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب تَحْرِيمِ الصَّيْدِ الْمَأُكُولِ الْبَرِّيِّ، وَمَا أَصْلُهُ ذٰلِكَ عَلَي الْمُحْرِمِ بِحَجُ أَوُ عمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2855
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي "، قَالَ: فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: فَقَالُوا: أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، قَالَ: فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا "،
عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2855]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے قصد و ارادہ سے نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو جن میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، ایک طرف بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلو حتی کہ مجھ سے آ ملو۔ انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا، جب وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرے تو ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا سب نے احرام باندھ لیا، انہوں نے احرام نہ باندھا، چلتے چلتے انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے، ابو قتادہ رضی اللہ تالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، ساتھیوں نے پڑاؤ کیا اور اس کا گوشت کھا لیا اور کہنے لگے، ہم نے محرم ہونے کے باوجود گوشت کھا لیا، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو انہوں نے گدھی کا باقی ماندہ گوشت اٹھا لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو کہنے لگے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم محرم تھے اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ محرم نہ تھے اور ہم نے جنگلی گدھے دیکھے، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا ارو ان میں سے ایک گدھے کا شکار کر لیا، ہم نے پڑاؤ کیا اور اس میں سے گوشت کھا لیا، پھر ہم نے کہا، ہم شکار کا گوشت کھا رہے ہیں، حالانکہ ہم محرم ہیں تو ہم نے اس کا بقایا گوشت ساتھ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے اس کو مشورہ دیا تھا یا کسی قسم کا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا باقی ماندہ گوشت بھی کھا لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2856
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟ "، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ: قَالَ: " أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ.
شعبہ اور شیبان دونوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ شعبہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرایا؟ شعبہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے کہا: تم لوگوں نے مدد کی یا کہا: تم لوگوں نے شکار کرایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2856]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، شیبان کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے اس کو ان پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟،، شعبہ کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اشارہ کیا، یا مدد کی، یا شکار کیا؟ (شکار کا مشورہ دیا) شعبہ کہتے ہیں، مجھے پتہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَعَنتُم (تم نے مدد کی) کہا یا اَصَدتُم، تم نے شکار کیا کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2857
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، قَالَ: فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، فَقَالَ: " كُلُوهُ "، وَهُمْ مُحْرِمُونَ،
یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے اللہ ان سے راضی ہو۔ انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی، کہا: میرے علاوہ سب نے عمرے کا (احرام باندھ لیا اور) تلبیہ شروع کر دیا۔ کہا: میں نے ایک زیبرا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلایا جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا انہیں بتایا کہ ہمارے پاس اس (شکار) کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے۔ آپ نے (ساتھیوں سے) فرمایا: اسے کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2857]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، میرے سوا سب نے عمرہ کا احرام باندھا اور میں نے جنگلی گدھے کا شکار کیا اور میں نے اپنے محرم ساتھیوں کو کھلایا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ ہمارے پاس اس سے بچا ہوا گوشت ہے، آپ نے فرمایا: اسے کھا لو۔ اور مخاطب سب محرم تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2857]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2858
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ فَقَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ "، قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهُ، قَالَ: " فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا "،
ہمیں ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث سنائی کہ وہ لوگ (مدینہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بغیر احرام کے تھے۔ اور (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ (بچا ہوا) ہے؟ انہوں نے عرض کی، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجود ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تناول فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2858]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور وہ سب ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے سوا محرم تھے اور وہ غیر محرم تھے اور آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کا کوئی حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا، اس کی ٹانگ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کھا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2858]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2859
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ؟ "، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَكُلُوا ".
عبدالعزیز بن رفیع نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی، کہا: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نفری میں تھے انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور وہ خود احرام کے بغیر تھے اور حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی انسان نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا انہیں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو) کچھ کرنے کو کہا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تو پھر تم اسے کھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2859]
عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک محرم جماعت کے ساتھ تھے اور وہ غیر محرم تھے، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی انسان نے انہیں اشارہ کیا تھا، یا کسی قسم کا مشورہ دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کھا لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1197 ترقیم شاملہ: -- 2860
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: " أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
معاذ بن عبدالرحمان بن عثمان تیمی نے اپنے والد سے روایت کی، کہا ہم احرام کی حالت میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ایک (شکار شدہ) پرندہ بطور ہدیہ ان کے لیے لایا گیا۔ طلحہ (اس وقت) سو رہے تھے۔ ہم میں سے بعض نے (اس کا گوشت) کھایا اور بعض نے احتیاط برتی۔ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو آپ نے ان کی تائید کی جنہوں نے اسے کھایا تھا اور کہا ہم نے اسے (شکار کے گوشت کو حالت احرام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2860]
معاذ بن عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، انہیں پرندہ تحفتا پیش کیا گیا، جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے کھا لیا اور بعض نے پرہیز کیا تو جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، انہوں نے کھانے والوں سے موافقت کی اور کہا، ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1197
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں