مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟
مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
ترقیم عوامۃ: 24044 ترقیم الشثری: -- 25124
٢٥١٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي ﷺ (١) بمثله او نحوه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: ﵇.
(٢) صحيح؛ وانظر: ما قبله.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25124، ترقيم محمد عوامة 24044)
ترقیم عوامۃ: 24045 ترقیم الشثری: -- 25125
٢٥١٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (زيد) (١) بن حباب عن إبراهيم بن إسماعيل (ابن) (٢) ابي حبيبة قال: حدثني داود بن (الحصين) (٣) عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يعلمنا من الاوجاع كلها، ومن الحمى هذا الدعاء:"بسم الله الكبير، اعوذ بالله العظيم من شر كل عرق (نعار) (٤) ومن شر حر النار" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (يزيد).
(٢) في [ز]: (عن).
(٣) بياض في: [ط].
(٤) أي: يخرج الدم منه بقوة لها صوت، وفي [ط، هـ]: (يعار).
(٥) ضعيف؛ إبراهيم بن إسماعيل ضعيف، ورواية داود عن عكرمة ضعيفة، أخرجه أحمد (٢٧٢٩)، والترمذي (٢٠٧٥)، وابن ماجه (٣٥٢٦)، والحاكم ٤/ ٤١٤، وعبد الرزاق (١٩٧٧١)، وعبد بن حميد (٥٩٤)، والعقيلي ١/ ٤٤، والطبراني (١١٥٦٣)، وابن السني (٥٦٦)، وابن عدي ١/ ٢٣٥، وابن عساكر ٤١/ ٢١٢، وابن أبي الدنيا في المرضى (١٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہمیں ہر طرح کی تکالیف اور بخار کے لئے یہ دعا سکھایا کرتے تھے ”اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں پناہ پکڑتا ہوں اس اللہ سے جو بہت عظمت والا ہے، ہر تیز رگ سے اور ہر آگ کی شدت کے شر سے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25125، ترقيم محمد عوامة 24045)
ترقیم عوامۃ: 24046 ترقیم الشثری: -- 25126
٢٥١٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن فرقد (السبخي) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ان امراة جاءت بابن لها إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله، إن ابني هذا به جنون، وإنه ياخذه [عند ⦗١٥٨⦘ عشائنا و (عند) (٢) غدائنا) (٣) ، فيخبث (٤) ، قال: (فمسح) (٥) رسول الله ﷺ صدره ودعا له فثع (ثعة) (٦) فخرج من جوفه مثل (الجرو) (٧) الاسود (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (السحي)، وفي [ح]: (السنجي).
(٢) في [ز]: زيادة (عند).
(٣) في [جـ]: (غدائنا وعشائنا).
(٤) في [ط]: (فيحسب)، وفي [ز]: (فيحث).
(٥) بياض في: [ط].
(٦) في [جـ]: (تعة).
(٧) في [هـ]: (الجرء).
(٨) ضعيف؛ لحال فرقد، أخرجه أحمد (٢١٣٣)، والدارمي (١٩)، والبيهقي في دلائل النبوة (٣٩٥)، والطبراني (١٢٤٦٠)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٥)، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٧٢٩.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے اس بیٹے پر جنوں (کا اثر) ہے، اور یہ دورہ بچہ کو صبح و شام پڑتا ہے اور بہت بُرا منظر ہوتا ہے، راوی کہتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کے سینہ کو ملا اور اس کے لئے دعا کی تو اس نے ایک مرتبہ الٹی (قے) کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ ککڑی کی طرح کوئی چیز نکلی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25126]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25126، ترقيم محمد عوامة 24046)
ترقیم عوامۃ: 24047 ترقیم الشثری: -- 25127
٢٥١٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن عمرة ابنة عبد الرحمن قالت: اشتكت عائشة ام المؤمنين، وإن ابا بكر دخل عليها و (يهودية) (١) (ترقيها) (٢) ، فقال: ارقيها بكتاب الله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (يهودي).
(٢) في [أ، ح، ط]: (يرقيها).
(٣) منقطع؛ عمرة لم تدرك أبا بكر، أخرجه مالك ٢/ ٩٤٣ (١٦٨٨)، والشافعي في الأم ٧/ ٢٢٨، والبيهقي ٩/ ٣٤٩.
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی تکلیف تھی۔ حضرت ابوبکر ان کے پاس تشریف لائے تو (دیکھا) ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دم کر رہی ہے تو حضرت ابوبکر نے فرمایا: اس کو اللہ کی کتاب کے ذریعہ دم کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25127]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25127، ترقيم محمد عوامة 24047)
ترقیم عوامۃ: 24048 ترقیم الشثری: -- 25128
٢٥١٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن فضيل ابن عمرو قال: جاء رجل إلى (علي) (١) فقال: إن فلانا شاك قال: (فيسرك) (٢) إن (يبرا) (٣) ؟ قال: نعم، قال: قل يا حليم يا كريم اشف فلانا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، هـ]: (فيسرا).
(٣) في [جـ، ز]: (سرا).
(٤) منقطع؛ فضيل بن عمرو لا يروي عن علي.
حضرت فضیل بن عمرو سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا، فلاں آدمی کو تکلیف ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ صحت یاب ہوجائے؟ آنے والے نے کہا۔ جی ہاں! آپ نے فرمایا: تم یوں کہو، اے حلیم! اے کریم! فلاں آدمی کو شفا عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25128، ترقيم محمد عوامة 24048)
ترقیم عوامۃ: 24049 ترقیم الشثری: -- 25129
٢٥١٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى (١) بن ابي (بكير) (٢) قال: حدثنا (٣) زهير بن محمد (عن يزيد) (٤) بن خصيفة عن (عمر) (٥) بن عبد الله بن كعب عن نافع عن عثمان بن (ابي) (٦) (العاص) (٧) الثقفي قال: قدمت على رسول الله ﷺ وبي وجع قد كاد يبطلني، فقال (لي) (٨) رسول الله ﷺ (٩) :"اجعل يدك اليمنى عليه، ثم قل بسم الله اعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما اجد سبع مرات"، ففعلت ذلك فشفاني الله (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (ابن آدم).
(٢) في [أ، ح، ط]: (بكر)، وفي [ز]: (كثير).
(٣) في [ز]: زيادة (ابن).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [هـ]: (عمرو).
(٦) في [ط]: (أبو).
(٧) في [جـ، ز]: (العاصي).
(٨) في [ط]: ساقطة.
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) صحيح؛ وهم فيه زهير فسمى شيخه عمر، وهو عند مالك بن أنس وإسماعيل بن جعفر: (عمرو)، والحديث أخرجه مسلم (٢٢٠٢)، وأحمد (١٦٢٦٨)، وانظر: الدعاء للطبراني (١١٣٢).
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوا کہ مجھے ایسی تکلیف تھی جو قریب تھا کہ مجھے ہلاک کردیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”تم اپنے داہنے ہاتھ کو اس درد کی جگہ پر رکھ دو، پھر یہ الفاظ کہو ”میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور ان کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس تکلیف سے جو میں محسوس کر رہا ہوں، سات مرتبہ کہو“ پس میں نے یہ عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرما دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25129، ترقيم محمد عوامة 24049)
ترقیم عوامۃ: 24050 ترقیم الشثری: -- 25130
٢٥١٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن سليمان بن عمرو بن (الاحوص) (١) عن امه ام جندب (قالت) (٢) : ⦗١٦٠⦘ رايت رسول الله ﷺ (٣) (تبعته) (٤) امراة من خثعم معها (صبي) (٥) لها (به) (٦) بلاء (٧) ، (فقالت: يا رسول الله إن هذا ابني وبقية اهلي، وبه بلاء) (٨) ، لا يتكلم، فقال رسول الله ﷺ:"ائتوني بشيء من ماء"، فاتي به، فغسل فيه يديه ومضمض فاه (فيه) (٩) ، ثم اعطاها فقال:"اسقيه منه (وصبي عليه منه) (١٠) واستشفي الله له"، فلقيت المراة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا (المبتلى) (١١) ، فلقيت المراة من الحول فسالتها عن الغلام فقالت: برا وعقل (عقلا) (١٢) ليس كعقول الناس (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الأخوص).
(٢) في [أ، ط]: (قال)، وكذلك في: [جـ].
(٣) زاد في [هـ]: (رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر ثم انصرف و).
(٤) في [ط]: (بنعة)، وفي [أ، ح]: (تبغنه).
(٥) في [ط]: (حبي).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) زاد في [هـ]: (لا يتكلم).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) سقط من: [ط، هـ].
(١٠) ساقطة في: [أ، ح، ط].
(١١) في [ط]: (اللبتلا).
(١٢) سقط من: [ز].
(١٣) ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٧١٣١)، وابن ماجه (٣٥٣٢)، وعبد بن حميد (١٥٦٧)، وابن سعد ٨/ ٣٠٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٣)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٤٤٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٥٢، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٣).
حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص اپنی والدہ ام جندب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک عورت آرہی تھی اور اس کے پاس اس کا بچہ تھا جس کو کوئی بیماری تھی، یہ عورت کہہ رہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ میرا بٹاپ ہے اور یہی میرے خاندان کا بقیہ (بچا ہوا) ہے، لیکن اس کو کوئی بیماری ہے کہ یہ گفتگو نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ“ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پانی عورت کو دے کر ارشاد فرمایا: ”اس پانی میں سے کچھ اس بچہ کو پلا دو اور کچھ پانی اس بچہ پر انڈیل دو اور اللہ تعالیٰ سے اس بچہ کے لئے شفا مانگو“ (راویہ کہتی ہیں) میں اس عورت سے ملی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا۔ اگر تم یہ بچہ مجھے ہدیہ کردو؟ اس عورت نے کہا یہ بچہ تو اسی مصیبت کا ہے پھر میں اس عورت سے اگلے سال ملی اور میں نے اس سے بچہ کے بارے میں پوچھا؟ تو اس نے کہا وہ صحت یاب ہوگیا اور وہ ایسی عقل کا مالک ہے کہ وہ عام لوگوں کی عقلوں سے جدا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25130، ترقيم محمد عوامة 24050)
ترقیم عوامۃ: 24051 ترقیم الشثری: -- 25131
٢٥١٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن ابي (حية) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد الله بن ابي الحسين عن عمر بن الخطاب ان ⦗١٦١⦘ رسول الله ﷺ قال:"نزل (ملكان، فجلس) (٢) احدهما عند راسي والآخر عند رجلي، فقال: الذي عند رجلي (للذي) (٣) عند راسي: ما به؟ قال: حمى شديدة، قال: عوذه، قال: فما نفث ولا نفخ، (فقال) (٤) : بسم الله ارقيك والله يشفيك، خذها فلتهنئك" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حبة).
(٢) في [هـ]: (مجلس ملكان).
(٣) في [ح]: (للذين).
(٤) في [جـ]: (فقال).
(٥) ضعيف منقطع؛ يحيى بن أبي حية ضعيف، وعبد اللَّه بن أبي الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه الطبراني في الدعاء (١٠٩٣)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٥٦٩)، والقزويني في التدوين ٤/ ٨٥.
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو فرشتے نیچے آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، جو فرشتہ میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس نے میرے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے پوچھا اس آدمی کو کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا، سخت بخار ہے، پہلے نے کہا، اس کو دم کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، اس نے پھونک نہیں ماری … چناچہ اس نے کہا، اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں اور اللہ ہی آپ کو شفا دے گا، یہ دم لو اور تمہیں مبارک ہو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25131، ترقيم محمد عوامة 24051)