مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. من كره الجر الأخضر ونهى عنه
جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 24286 ترقیم الشثری: -- 25373
٢٥٣٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن عبد الملك عن سعيد ابن جبير وذكروا النبيذ، فقال: لا ارى به باسا في السقاء، واكرهه في الجر الاخضر.
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے …لوگوں نے (ان کے سامنے) نبیذ کا ذکر چھیڑا … تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال کے مطابق اگر نبیذ مشکیزہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں سبز گھڑے میں نبیذ کو ناپسند کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25373]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25373، ترقيم محمد عوامة 24286)
ترقیم عوامۃ: 24287 ترقیم الشثری: -- 25374
٢٥٣٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن ابي رجاء عن مالك بن دينار ان جابر بن زيد والحسن كانا يكرهان نبيذ الجر.
حضرت مالک بن دینار سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن زید اور حضرت حسن، گھڑے کی نبیذ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25374]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25374، ترقيم محمد عوامة 24287)
ترقیم عوامۃ: 24288 ترقیم الشثری: -- 25375
٢٥٣٧٥ - (حدثنا ابو بكر قال: حدثنا) (١) عبد الله بن إدريس عن شعبة عن ثابت قال: قلت لابن عمر: نهي عن نبيذ الجر؛ فقال: زعموا (ذاك) (٢) ، [قلت عن رسول الله ﷺ؟ قال: زعموا ذاك، قلت: انت سمعته؟ قال: زعموا ذاك، قال] (٣) : وصرفه الله عني (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زائدة من: [هـ].
(٢) في [جـ]: (ذاك).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد في وجادة ابنه عنه في السند (٥٠٧٤).
حضرت ثابت سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ گھڑے کی نبیذ سے منع کیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حکم ثابت ہے؟ انہوں نے فرمایا: لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا: آپ نے یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: لوگوں کا خیال یہی ہے۔ اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کو مجھ سے پھیر دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25375]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25375، ترقيم محمد عوامة 24288)
ترقیم عوامۃ: 24289 ترقیم الشثری: -- 25376
٢٥٣٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا شعبة عن ابي (جمرة) (١) ان امراة اتت ابن عباس، وقد كنت حلفت ان لا اسال عن نبيذ الجر فقالت لي: سله فابيت ان اساله فساله رجل (عن) (٢) نبيذ الجر فنهاه، فقلت (يا ابا عباس) (٣) إني انتبذ في جر اخضر فاشربه حلوا طيبا فيقرقر بطني فقال: لا تشربه وإن كان احلى (من) (٤) العسل (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (حضرة).
(٢) في [ط]: (في).
(٣) في [هـ]: (يا ابن عباس).
(٤) في [ط]: (في).
(٥) صحيح.
حضرت ابو جمرہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی … اور میں نے (راوی نے) یہ حلف اٹھا رکھا تھا کہ میں گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال نہیں کروں گا… اس عورت نے مجھ سے کہا۔ تم ِ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرو۔ تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرنے سے انکار کیا۔ پس کسی آدمی نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کو منع کردیا۔ اس پر میں نے پوچھا۔ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! میں تو سبز گھڑے کی نبیذ بناتا ہوں اور پھر اس کو پیتا ہوں اس حال میں کہ وہ میٹھی اور لذیذ ہوتی ہے پس وہ میرے پیٹ کو صاف کردیتی ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کو نہ پیو اگرچہ یہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25376]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25376، ترقيم محمد عوامة 24289)
ترقیم عوامۃ: 24290 ترقیم الشثری: -- 25377
٢٥٣٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا سليمان (التيمي) (١) عن طاوس ان رجلا اتى ابن عمر فقال: نهى رسول الله ﷺ عن نبيذ الجر؛ فقال ابن عمر: نعم، فقال طاوس: والله إني سمعته منه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (سقط).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٤٨٣٧).
حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ سے منع کیا ہے؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواباً ارشاد فرمایا: ہاں۔ حضرت طاؤس کہتے ہیں۔ خدا کی قسم! یہ بات میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سُنی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25377]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25377، ترقيم محمد عوامة 24290)
ترقیم عوامۃ: 24291 ترقیم الشثری: -- 25378
٢٥٣٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثني يعلى بن حكيم عن (صهيرة) (١) [بنت جيفر سمعه منها قالت: حججنا ثم انصرفنا إلى المدينة (فدخلنا) (٢) على صفية] (٣) ننت حيي فوافقنا عندها نسوة من اهل الكوفة، فقلن لنا: إن شئتن سالنا وسمعتن، وإن شئتن سالتن وسمعنا، (فقلن) (٤) : سلن، فسالن عن اشياء من امر المراة وزوجها، ومن امر المحيض، وسالن عن نبيذ الجر، [فقالت: (اكثرتن) (٥) يا اهل العراق علينا في نبيذ الجر] (٦) ، حرم رسول الله ﷺ نبيذ الجر، (ما) (٧) على إحداكن ان تطبخ ثمرها (٨) تدلكه ثم تصفيه فتجعله في سقائها (وتوكئ) (٩) عليه، فإذا طاب شربت (وسقت زوجها) (١٠) (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ضميرة).
(٢) في [جـ]: (قد دخلنا).
(٣) سقط في: [أ، ح، ط].
(٤) في [ط، هـ]: (فقلنا).
(٥) في [ز]: (أكثرتين).
(٦) (ذكر) في حاشية: [ح].
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) سقط (ثم) من: [هـ].
(٩) في [أ، ح، ط]: (تولي).
(١٠) ورد في حاشية [ز].
(١١) مجهول؛ لجهالة صهيرة، أخرجه أحمد (٢٦٨٦٥)، وأبو يعلى (٧١١٧)، والطبراني (٢٤/ [١٩٩]).
حضرت صُہَیرہ بنت جیفر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم نے (ایک مرتبہ) حج ادا کیا پھر ہم مدینہ کی طرف واپس آئے اور ہم حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پر ہمیں اتفاق سے اہل کوفہ کی کچھ خواتین مل گئیں۔ انہوں نے ہم سے کہا۔ اگر تم چاہتی ہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم (چپ کر کے) سنو اور اگر تم چاہتی ہو تو تم سوال کرلو ہم سماعت کرلیں گی۔ ہم نے کہا: تم پوچھو۔ پس انہوں نے میاں، بیوی کے بہت سے امور کے بارے میں اور حائضہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضرت صفیہ نے فرمایا: اے اہل عراق! تم نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں ہم سے بکثرت سوالات کیئے ہیں جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ تم میں سے کسی پر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی کھجور کو پکاتی ہے۔ پھر اس کو ملتی ہے، صاف کرتی ہے پھر اس کو مشکیزہ میں ڈالتی ہے اور اس پر کوئی ڈوری وغیرہ باندھ کر اس کا منہ بند کردیتی ہے پس جب وہ مشروب لذت آمیز ہوجاتا ہے تو خود بھی پیتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی پلاتی ہے؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25378]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25378، ترقيم محمد عوامة 24291)
ترقیم عوامۃ: 24292 ترقیم الشثری: -- 25379
٢٥٣٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن (شميسة) (١) ام سلمة ⦗٢٤٩⦘ العتكية قالت: سمعت عائشة تقول: (لا تشربن) (٢) في راقود، ولا جرة، ولا قرعة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (سميسة)، وفي [هـ]: (سميه).
(٢) في [ح]: (يقول).
(٣) صحيح؛ شميسة ثقة.
حضرت شمیسہ ام سلمہ عتکیہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات سُنی کہ ہرگز تم بڑے گہرے مٹکے، گھڑے اور کدو … کے مصنوعی برتن … میں نہ پینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25379، ترقيم محمد عوامة 24292)
ترقیم عوامۃ: 24293 ترقیم الشثری: -- 25380
٢٥٣٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن كريمة بنت همام عن عائشة انها سمعتها تقول: إياكم ونبيذ الجر الاخضر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة كريمة.
حضرت کریمہ بنت ہمام سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا: ”خبردار تم سبز رنگ کے گھڑے کی نبیذ سے بچو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25380]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25380، ترقيم محمد عوامة 24293)
ترقیم عوامۃ: 24294 ترقیم الشثری: -- 25381
٢٥٣٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الاعلى بن كيسان قال: سمعت ابن ابي الهذيل يقول: ما في نفسي من نبيذ الجر شيء، إلا ان عمر بن عبد العزيز نهى عنه، وكان إمام عدل.
حضرت عبد الاعلیٰ بن کیسان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی الہذیل کو کہتے سُنا کہ گھڑے کی نبیذ کے بارے میں میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس سے منع کیا تھا اور وہ ایک عادل امام تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25381، ترقيم محمد عوامة 24294)
ترقیم عوامۃ: 24295 ترقیم الشثری: -- 25382
٢٥٣٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ميمون عن ابن عباس قال: لا (تشرب) (١) نبيذ الجر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (يشرب).
(٢) صحيح.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ تم گھڑے کی نبیذ نہ پیو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25382، ترقيم محمد عوامة 24295)