مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
7. في الرخصة في النبيذ، ومن شربه
نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
ترقیم عوامۃ: 24365 ترقیم الشثری: -- 25455
٢٥٤٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن سفيان العطار قال: سال رجل ماهان الحنفي (فقال) (١) : يا ابا سالم! ما تقول في النبيذ؟ فقال: اقول في النبيذ: إن من حرم ما احل الله كمن احل ما حرم الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [ز].
حضرت سفیان عطار سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ماہان حنفی سے سوال کیا اور کہا۔ اے ابو سالم! آپ نبیذ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا۔ میں نبیذ کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کو حرام کہے وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال کہنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25455]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25455، ترقيم محمد عوامة 24365)
ترقیم عوامۃ: 24366 ترقیم الشثری: -- 25456
٢٥٤٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الجريري عن ابي ⦗٢٦٨⦘ العلاء (قال) (١) : انتهى قول رسول الله ﷺ في الاشربة إلى ان قال:" (لا) (٢) تشربوا ما يسفه احلامكم، (وما) (٣) يذهب اموالكم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ز، هـ]: (لا).
(٤) مرسل؛ أبو العلاء تابعي.
حضرت ابو العلاء سے روایت ہے، و ہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول مشروبات میں یہاں تک پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز تمہاری عقلوں کو خراب کر دے اور تمہارے اموال کو ختم کر دے اس کو نہ پیو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25456]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25456، ترقيم محمد عوامة 24366)
ترقیم عوامۃ: 24367 ترقیم الشثری: -- 25457
٢٥٤٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن محمد انه كان لا ينبذ إلا (في) (١) سقاء موكى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت محمد کے بارے میں روایت ہے کہ وہ صرف منہ باندھے ہوئے مشکیزہ سے نبیذ پیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25457]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25457، ترقيم محمد عوامة 24367)
ترقیم عوامۃ: 24368 ترقیم الشثری: -- 25458
٢٥٤٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ملازم (بن) (١) عمرو عن عجيبة بن عبد الحميد عن عمه قيس بن طلق عن ابيه طلق بن علي قال: جلسنا عند النبي ﷺ فجاء وفد عبد القيس فقال:"ما لكم قد اصفرت الوانكم، وعظمت بطونكم، وظهرت عروقكم؟" قال: قالوا: اتاك سيدنا فسالك عن شراب كان لنا موافقا فنهيته عنه، (وكنا) (٢) بارض (محمة) (٣) ، قال:"فاشربوا ما طاب لكم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (عن) في: [ز].
(٢) (وكان) في: [جـ].
(٣) أي: ذات حمى، وفي [أ، ب، هـ]: (مخمة).
(٤) حسن؛ عجيبة بن عبد المجيد وقيس بن طلق صدوقان، أخرجه الطبراني (٨٢٥٦)، وابن حزم في المحلى (٧/ ٤٨٣)، وقد فسر ابن أبي شيبة قوله: "ما طاب لكم": يعني مما حل، كما في إتحاف الخيرة (٥١٢٢) نقلًا عن مسنده. وانظر: ما تقدم برقم: [٢٥٣٥٤].
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان سے) پوچھا۔ ”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تمہارے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں اور تمہارے پیٹ بڑھے ہوئے ہیں اور تمہاری رگں ھ نکلی ہوئی ہیں؟“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا تھا جو ہمارے موافق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس سے منع کردیا تھا۔ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں بخار کی وبا بہت عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشروب تمہیں موافق آئے تم وہی پی لو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25458، ترقيم محمد عوامة 24368)
ترقیم عوامۃ: 24369 ترقیم الشثری: -- 25459
٢٥٤٥٩ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا خير في النبيذ إذا كان حلوا] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب نبیذ میٹھی ہو تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25459، ترقيم محمد عوامة 24369)
ترقیم عوامۃ: 24370 ترقیم الشثری: -- 25460
٢٥٤٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الاعمش عن سعيد بن مسروق قال: دعانا رجل إلى طعام فاكلنا، ثم اتانا بشراب، فشرب القوم ولم (اشرب) (١) ، قال: فنظر إلي بكر -يعني ابن ماعز- نظرة ظننت انه (يمقتني) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (نشرب)، وفي [أ، ط]: (يشرب).
(٢) (مقتني) في: [جـ، ز].
حضرت سعید بن مسروق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ہماری کھانے کی دعوت کی چناچہ ہم نے کھانا کھایا۔ پھر وہ آدمی ہمارے پاس مشروب لایا۔ پس سب لوگوں نے وہ مشروب پیا۔ لیکن میں نے نہیں پیا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر بکر بن ساعد نے میری طرف اس طرح دیکھا کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ مجھ سے بیزار ہوگئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25460، ترقيم محمد عوامة 24370)
ترقیم عوامۃ: 24371 ترقیم الشثری: -- 25461
٢٥٤٦١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد عن هشام عن الحسن قال: إذا دخلت على اخيك فسله عن شرابه، فإن (كان) (١) نبيذ (سقاء) (٢) فاشرب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (سقى).
حضرت حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جب تم اپنے (مسلمان) بھائی کے پاس جاؤ۔ تو تم اس سے اس کے مشروب کے بارے میں سوال کرو۔ پس اگر اس کا مشروب مشکیزہ کی نبیذ ہو تو تم اس کو پی لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25461]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25461، ترقيم محمد عوامة 24371)
ترقیم عوامۃ: 24372 ترقیم الشثری: -- 25462
٢٥٤٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن ابي مسكين عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: (مر) (٣) عمر بن الخطاب على ثقيف فاستسقاهم، فقالوا: اخبؤا نبيذكم فسقوه ماء، فقال: اسقوني من نبيذكم يا معشر ثقيف، قال: فسقوه، فامر الغلام فصب ثم امسك بيده ثم قال: يا معشر ثقيف إنكم تشربون من هذا الشراب الشديد، فايكم رابه من شرابه شيء فليكسره بالماء (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (عبدة) في: [ط].
(٢) في [أ، هـ]: (هذيل).
(٣) في [جـ]: (أمر).
(٤) منقطع؛ هزيل لم يدرك عمر.
حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب قبیلہ بنو ثقیف پر سے گزرے تو آپ نے ان سے پانی طلب کیا۔ انہوں نے (باہم ایک دوسرے سے) کہا۔ تم اپنی نبیذ چھپالو اور ان کو پانی پلا دو۔ اس پر حضرت عمر نے کہا۔ اے گروہ ثقیف! تم مجھے اپنی نبیذ میں سے پلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس انہوں آپ کو نبیذ پلائی۔ حضرت عمر نے غلام کو حکم دیا اس نے پانی ڈالا پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روک دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے گروہ ثقیف! تم اس سخت مشروب کو پیتے ہو۔ پس تم میں جس کسی کو یہ کسی درجہ شک میں ڈالے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو پانی سے توڑ ڈالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25462]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25462، ترقيم محمد عوامة 24372)