مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. من كره العلم، ولم يرخص فيه؟
جو لوگ ریشم کی نشانی لگانے کو (بھی) مکروہ سمجھتے ہیں اور اس کی اجازت نہیں دیتے
ترقیم عوامۃ: 25187 ترقیم الشثری: -- 26296
٢٦٢٩٦ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل ابن سميع عن مسلم البطين عن ابي عمرو الشيباني قال: جاء شيخ فسلم على علي وعليه جبة من طيالسة في مقدمها ديباج، فقال علي: ما هذا (النتن) (٢) تحت (لحيتك) (٣) ؟ فنظر الشيخ يمينا وشمالا، فقال: ما ارى شيئا، قال: يقول رجل: إنما يعني الديباج، قال: يقول الرجل: إذن نلقيه، (ولا) (٤) (نعود) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٢) في [أ، ح]: (الشيء).
(٣) في [هـ]: (طيتك).
(٤) في [ز]: (لا).
(٥) في [أ، ح]: (تعود).
(٦) حسن؛ إسماعيل بن سميع صدوق.
حضرت ابو عمرو شیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا اور اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اس بوڑھے نے شال کے کپڑے کا ایک جُبہ پہنا ہوا تھا۔ جس کے آگے دیباج لگا ہوا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری داڑھی کے نچے ب یہ کیا بدبودار چیز ہے؟ اس پر بوڑھے شخص نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور کہا مجھے تو کچھ نظر نہیں آیا۔ راوی کہتے ہیں کسی نے کہا: ان کی مراد دیباج ہے۔ اس آدمی نے کہا: تب تو ہم اس کو پھینک دیں گے اور دوبارہ نہیں پہنیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26296، ترقيم محمد عوامة 25187)
ترقیم عوامۃ: 25188 ترقیم الشثری: -- 26297
٢٦٢٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن عبد الله بن مرة عن حذيفة (امر) (١) رجلا عليه طيلسان عليه ازرار ديباج، فقال: متقلد قلائد الشيطان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في الأصل، وفي كنز العمال (٢٠/ ٤٠): (رأى).
(٢) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن مرہ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو شال اوڑھے دیکھا کہ اس پر دیباج کے بٹن ہیں تو انہوں نے فرمایا: شیطان کے ہار کے ساتھ ہار پہنے ہوئے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26297، ترقيم محمد عوامة 25188)
ترقیم عوامۃ: 25189 ترقیم الشثری: -- 26298
٢٦٢٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن هشام عن الحسن ومحمد انهما كرها العلم في الثوب (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ہشام، حضرت حسن اور حضرت محمد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات کپڑے میں نشان کو ناپسند سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26298، ترقيم محمد عوامة 25189)
ترقیم عوامۃ: 25190 ترقیم الشثری: -- 26299
٢٦٢٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن مجاهد ان ابن عمر اشترى عمامة فراى فيها علما فقطعه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عمامہ خریدا تو آپ نے اس میں نشان دیکھا، پس آپ نے اس نشان کو کاٹ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26299، ترقيم محمد عوامة 25190)
ترقیم عوامۃ: 25191 ترقیم الشثری: -- 26300
٢٦٣٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحكم بن عطية عن النضر ابن عبد الله ان قيس بن عباد وفد إلى معاوية فكساه (ريطة) (١) ففتق علمها وارتدى بها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (ربطة).
(٢) حسن؛ النضر صدوق.
حضرت نضر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ قیس بن عباد، حضرت معاویہ کے پاس وفد میں آئے۔ اور انہوں نے ایک ملائم کپڑا آپ کو پہننے کو دیا۔ آپ نے اس کے نشان کو علیحدہ کرلیا اور اس کو چادر کے طور پر اوڑھ لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26300]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26300، ترقيم محمد عوامة 25191)
ترقیم عوامۃ: 25192 ترقیم الشثری: -- 26301
٢٦٣٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن (عبيدة) (١) ابن يسار عن جابر بن عبد الله قال: كنا نقطع الاعلام (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبيد).
(٢) مجهول؛ خالد بن يسار مجهول.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نشانات (ریشم) کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26301، ترقيم محمد عوامة 25192)