🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. ما ذكر فيمن سأل النبي ﷺ أن يعلمه ما يدعو به فعلمه
اس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے وہ دعا سکھا دیں جسے میں پڑھ سکوں، تو انہوں نے اسے سکھا دیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29962 ترقیم الشثری: -- 31321
٣١٣٢١ - حدثنا (١) علي بن مسهر ومروان بن معاوية عن موسى الجهني عن مصعب بن سعد عن ابيه قال: جاء اعرابي إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله علمني شيئا اقوله قال:"قل: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، (له الملك) (٢) ، الله اكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، سبحان الله رب العالمين، لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز (الحكيم) (٣) "، قال: فقال الاعرابي: هذا لربي فما لي؟ قال:"قل: اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني (٤) " (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [هـ]: (الحليم).
(٤) في [هـ]: زيادة (وعافني).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٩٦)، وأحمد (١٥٦١).

حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مجھے کوئی ایسا ذکر بتادیں جو پڑھتا رہا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ پاک ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی پر لگنے کی طاقت صرف اللہ کی ذات کی طرف سے ہے جو زبردست غالب حکمت والا ہے۔ حضرت سعد فرماتے ہیں دیہاتی نے پوچھا: یہ تو میرے رب کے لیے ہے اور میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہہ: اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے ہدایت دے، اور مجھے رزق عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31321، ترقيم محمد عوامة 29962)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29963 ترقیم الشثری: -- 31322
٣١٣٢٢ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مسعر عن ابي العنبس (عن ابي العدبس) (١) عن (ابي) (٢) مرزوق عن ابي غالب عن ابي امامة قال: خرج رسول الله ﷺ فكانا اشتهينا ان يدعو لنا فقال:"اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وادخلنا الجنة ونجنا من النار واصلح لنا شاننا كله"، فكانا اشتهينا ان (يزيدنا) (٣) فقال:"قد جمعت لكم الامر" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (ابن).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط]: (ليزيد).
(٤) مجهول: أبو العدبس مجهول، فيه اضطراب، أخرجه أحمد (٢٢١٨١)، وأبو داود (٥٢٣٠)، وابن ماجه (٣٨٣٦)، وابن حبان في المجروحين ٣/ ١٥٩، والطبراني (٨٥٧٢)، والبيهقي في الشعب (٨٩٣٦)، والقاضي في الشفا ١/ ١٣٠، والمزي ٤/ ٣١١، والرامهرمزي في المحدث ص ٢٩٦، وتمام (١١٨٦)، والخرائطي في مساوئ الأخلاق (٨٣١)، وعبد الغني في الترغيب في الدعاء (٧٧).

حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے پس گویا ہم چاہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہماری مغفرت فرما، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہوجا، اور ہم سے قبول فرما، اور ہمیں جنت میں داخل فرما دے، اور ہمیں آگ سے چھٹکارا عطا فرما، اور ہمارے سارے معاملے کو درست فرما دے پھر ہم نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید دعا فرمائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے سارے مسئلوں کو اکٹھا کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31322، ترقيم محمد عوامة 29963)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29964 ترقیم الشثری: -- 31323
٣١٣٢٣ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا زكريا بن ابي زائدة حدثنا منصور بن المعتمر قال: (حدثنا) (١) ربعي بن (حراش) (٢) عن عمران بن حصين انه قال: جاء حصين إلى النبي ﷺ قبل ان يسلم فقال: يا محمد، ما تامرني (ان) (٣) اقول؟ قال:"تقول اللهم إني اعوذ بك من شر نفسي، واسالك ان تعزم لي على (ارشد) (٤) امري"، قال: ثم إن حصينا (اسلم) (٥) بعد، ثم اتى النبي ﷺ فقال: إني ⦗١٨٥⦘ كنت سالتك المرة الاولى، وإني الآن اقول ما تامرني، قال:"قل اللهم اغفر لي ما اسررت وما اعلنت وما اخطات وما (تعمدت) (٦) وما جهلت وما علمت" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (حدثني).
(٢) في [ط]: (حريش).
(٣) في [ط]: (لن).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك]: (رشد).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [س]: (عمدت).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٩٩٢)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٩٩٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٥٢٥)، والقضاعي (١٤٨٠)، والطبراني (٣٥٥١)، ومن حديث عمران عن أبيه، أخرجه ابن حبان (٨٩٩)، والحاكم ١/ ٥١٠، وعبد بن حميد (٤٧٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٥٤)، وبنحوه من حديث عمران أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٣/ ١، والبزار (٣٥٧٩)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ٤٢٣، وابن خزيمة في التوحيد ١/ ٢٧٧.

حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ حضرت حصین اسلام لانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے گے: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دعا پڑھا کرو، اے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے میرے صحیح معاملہ پر پختہ کردیں۔ راوی فرماتے ہیں: پھر اس کے بعد حضرت حصین نے اسلام قبول کرلیا۔ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: میں نے پہلی مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا اور اب میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کرتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دعا پڑھ: اے اللہ! تو میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے پوشیدہ طور پر کیے، اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور جو میں نے غلطی سے کیے، اور جو میں نے جان بوجھ کر کیے، اور جو میں نے ناواقفیت سے کیے، اور جو میں نے جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31323، ترقيم محمد عوامة 29964)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29965 ترقیم الشثری: -- 31324
٣١٣٢٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء عن ابي داود (الاودي) (١) عن بريدة قال: قال لي رسول الله ﷺ:"الا اعلمك كلمات من اراد الله به خيرا علمه إياهن، ثم لم ينسه اياهن ابدا، (قال: قل: اللهم إني ضعيف (فقو) (٢) (في رضاك (٣) ضعفي) (٤) ، وخذ إلى الخير بناصيتي، واجعل الإسلام منتهى رضائي، اللهم إني ضعيف (فقوني) (٥) ، وذليل فاعزني، وفقير فارزقني" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، ك]: (الأيدي).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) زيادة في [أ، ب، جـ، ك]: (فقد).
(٤) في [ط]: (ضعفي في رضاك).
(٥) في [ط]: (فتوني).
(٦) ضعيف جدًا، أبو داود متروك، أخرجه الحاكم ١/ ٥٢٧، وابن فضيل في الدعاء (٨)، والطبراني في الأوسط (٦٥٨٥)، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ١٦٦، والزامهرمزي في المحدث ص ٣٤٣، والبيهقي في الدعوات (٢٣٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٥٦، وأبو يعلى في المسند الكبير كما في المطالب العالية (٣٣٤٨)، وجعله ابن عساكر ٤٣/ ٣٤٠ من مسند البراء بن عازب.

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا میں تجھے چند ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو یہ کلمات سکھاتا ہے پھر کبھی اس سے ان کلمات کو بھلاتا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو: اے اللہ! میں کمزور ہوں تو اپنی خوشنودی میں میری کمزوری کو طاقت سے بدل دے، اور میری پیشانی کو بھلائی کی طرف پکڑ لے، اور اسلام کو میری خوشنودی کی انتہا بنا دے۔ اے اللہ! میں کمزور تو مجھے قوی بنا دے، اور میں ذلیل ہوں تو مجھے عزت بخش دے، اور میں فقیر ہوں تو مجھے رزق عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31324، ترقيم محمد عوامة 29965)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29966 ترقیم الشثری: -- 31325
٣١٣٢٥ - حدثنا يونس بن محمد حدثنا ليث بن سعد عن يزيد بن ابي حبيب عن ابي الخير عن عبد الله بن عمرو عن ابي بكر انه قال لرسول الله ﷺ: علمني دعاء ادعو به، قال:"قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر (الذنوب) (١) إلا انت، فاغفر لي مغفرة من عندك، وارحمني، إنك انت الغفور الرحيم" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الذنب).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٨٣٤)، ومسلم (٢٧٠٥)، وأحمد (٨).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھلا دیں جو میں مانگا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ دعا مانگو: اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا ہے، اور صرف تو ہی گناہ کو بخش سکتا ہے پس تو مجھے بخش اپنی خاص بخشش کے ساتھ اور مجھ پر رحم فرما۔ بیشک تو بخشنے والا، رحم والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31325]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31325، ترقيم محمد عوامة 29966)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29967 ترقیم الشثری: -- 31326
٣١٣٢٦ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن علي بن صالح عن ابي إسحاق عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن علي (قال) (١) : قال لي النبي ﷺ:"الا اعلمك كلمات إذا قلتهن غفر لك مع انه مغفور لك؛ لا إله إلا الله الحليم الكريم، لا إله إلا الله العلي العظيم، سبحان رب السماوات السبع ورب العرش (العظيم) (٢) ، الحمد لله رب العالمين" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ك]: (الكريم).
(٣) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (٧١٢)، وعبد بن حميد (٧٤)، وابن أبي عاصم (١٣١٦)، والنسائي في الكبرى (٧٦٧٨)، وابن حبان (٦٩٢٨)، والترمذي (٣٥٠٤).

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا: کیا میں تجھے چند ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تو ان کو پڑھے گا تو تیری بخشش کردی جائے گی۔ باوجود یہ کہ تو بخشا بخشایا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا بردبار، سخی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو کہ بلند وبالا، عظمت والا ہے، پاک ہے ساتوں آسمانوں کا رب، اور عرش کریم کا رب ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31326، ترقيم محمد عوامة 29967)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29968 ترقیم الشثری: -- 31327
٣١٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن الجريري (١) عن ابي الورد بن ثمامة عن اللجلاج عن معاذ قال: مر رسول الله ﷺ على رجل وهو يقول: اللهم إني اسالك الصبر فقال رسول الله ﷺ:"سالت الله البلاء (فاساله) (٢) المعافاة"، ومر على رجل ⦗١٨٧⦘ وهو يقول: اللهم إني اسالك تمام النعمة، فقال:"يا ابن آدم وهل تدري ما تمام النعمة؟" قال: يا رسول الله دعوة دعوت بها رجاء الخير، قال:"فإن من تمام النعمة دخول الجنة، و (العوز) (٣) من النار"، ومر على رجل وهو يقول: يا ذا الجلال والإكرام، (فقال: (قد استجيب لك فاسال) (٤) " (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: زيادة (عن عبد اللَّه).
(٢) في [جـ]: (فسله).
(٣) في [أ، ب]: (العوز)، وفي [هـ]: (الفوز).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٥) حسن؛ أبو الورد صدوق، أخرجه أحمد (٢٠١٧)، والترمذي (٣٥٢٧)، والبخاري في الأدب المفرد (٧٢٥)، وعبد بن حميد (١٠٧)، والشاشي (١٣٧٥، ١٣٧٦)، والبزار (٢٦٣٤)، والطبراني في الكبير ٢٠/ (٩٩)، والبيهقي في الدعوات (١٩٧)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٢٠٤، والخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ١٢٦.

حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے پس تو اس سے صحت و عافیت کا سوال کر۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور آدمی پر بھی گزر ہوا جو یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں آپ سے مکمل نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو جانتا ہے کہ مکمل نعمت کیا ہے؟ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اس دعا سے میں نے خیر کے ارادہ کی امید کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس یقینا مکمل نعمت جنت مں ت داخل ہونا اور جہنم سے بچنا ہے۔ اور ایک اور آدمی پر گزر ہوا تو وہ یہ دعا کر رہا تھا: اے بزرگی اور اکرام و انعام والے! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری دعا قبول کی جائے گی پس تو سوال کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31327، ترقيم محمد عوامة 29968)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29969 ترقیم الشثری: -- 31328
٣١٣٢٨ - [حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن يزيد (الرقاشي) (١) عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"الظوا بـ: يا ذا الجلال والإكرام"] (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (العرقاسي).
(٢) سقط الخبر من: [أ، جـ، ح، ط، هـ].
(٣) ضعيف؛ لضعف يزيد الرقاشي، أخرجه الترمذي (٣٥٢٤)، وأبو يعلى (٣٨٣٣)، والضياء في المختارة (٢٠٦٤)، وتمام (٥٦٧)، وابن عدي ٧/ ١٠٢، والطبراني في الدعاء (٩٤).

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا ذا الجلال والاکرام (اے بزرگی اور بخشش والے) کا ورد کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31328، ترقيم محمد عوامة 29969)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29970 ترقیم الشثری: -- 31329
٣١٣٢٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: (حدثنا مسعر قال) (١) : حدثنا إسحاق بن راشد عن عبد الله بن الحسن ان عبد الله بن جعفر دخل على ابن له مريض (يقال) (٢) له صالح، فقال (له) (٣) : قل لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان (٤) رب العرش ⦗١٨٨⦘ العظيم، الحمد لله رب العالمين، اللهم اغفر لي، اللهم ارحمني، اللهم تجاوز عني، اللهم اعف عني، فإنك عفو غفور، ثم قال: هؤلاء الكلمات علمنيهن عمي ذكر ان النبي ﷺ علمهن إياه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من النسخ، ومن روى الحديث عن المؤلف أثبتها.
(٢) في [ط]: (قال).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) زيادة في [جـ، ك]: (اللَّه).
(٥) صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٤٨١)، والطبراني في الدعاء (١٠١٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٢)، والبيهقي في الدعوات (٢٠٥)، وابن عساكر ٢٧/ ٣٦٥.

حضرت عبد اللہ بن الحسن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر اپنے ایک بیٹے کے پاس تشریف لے گئے جو بیمار تھا اور اس کو صالح کہا جاتا تھا۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا: تو یہ کلمات کہہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو کہ بڑا برد بار، سخی ہے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اے اللہ! تو میری مغفرت فرما۔ اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! تو مجھے معاف فرما، یقینا تو معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن جعفر نے فرمایا: یہ کلمات مجھے میرے چچا نے سکھلائے تھے اور انہیں یہ کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھلائے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31329، ترقيم محمد عوامة 29970)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29971 ترقیم الشثری: -- 31330
٣١٣٣٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن حسان بن عطية عن شداد بن (اوس) (١) انه قال: احفظوا عني ما اقول (لكم) (٢) ، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا (كنز) (٣) الناس الذهب والفضة (فاكنزوا) (٤) هذه الكلمات: اللهم إني اسالك (الثبات) (٥) في الامر، والعزيمة على الرشد، واسالك شكر نعمتك، واسالك حسن عبادتك، واسالك قلبا سليما ولسانا صادقا، واسالك من خير ما تعلم، واعوذ بك من شر ما تعلم، واستغفرك لما تعلم، (انك) (٦) انت علام الغيوب" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أويس).
(٢) سقط من: [أ، هـ].
(٣) في [جـ]: (أكثر).
(٤) في [جـ]: (فأكثروا)، وفي [ط]: (فانكنزوا).
(٥) في [جـ]: (الباب).
(٦) في [جـ]: (أنت).
(٧) منقطع؛ حسان بن عطية لم يسمع من شداد، أخرجه أحمد (١٧١١٤)، وابن حبان (٩٣٥)، والحاكم ١/ ٥٠٨، والطبراني (٧١٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٦، والخرائطي في فضيلة الشكر (٥)، وبنحوه أخرجه النسائي في الكبرى (١٢٢٧)، وابن حبان (١٩٨٤)، والطبراني (٧١٣٥)، وابن عساكر ٥٦/ ٢٧٤.

حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں تم لوگ میری اس بات کو جو میں کہنے لگا ہوں اس کو یاد کرلو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے! جب لوگ سونا اور چاندی سے خزانہ بھرنے لگیں تو تم ان کلمات سے خزانہ بھرنا، اے اللہ! میں آپ سے دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں آپ کی نعمت کے شکر کرنے کا، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی بہترین عبادت کرنے کا، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں تندرست دل کا اور سچی زبان کا، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس بھلائی کا جو آپ جانتے ہیں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جس کو آپ جانتے ہیں، اور میں آپ سے بخشش طلب کرتا ہوں اس گناہ سے جس کو آپ جانتے ہیں۔ بیشک تو غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31330، ترقيم محمد عوامة 29971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں