🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

120. ما يدعى به في الصلاة على الجنائز
جنازہ کی نماز میں یوں دعا کی جائے گی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30395 ترقیم الشثری: -- 31761
٣١٧٦١ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: حدثني حبيب ابن عبيد الكلاعي عن جبير بن نفير الحضرمي عن عوف بن مالك الاشجعي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول على الميت:"اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، واكرم نزله، واوسع مدخله، واغسله بالماء والثلج والبرد، ونقه من الخطايا كما تنقي الثوب الابيض من الدنس، اللهم ابدله دارا خيرا من داره، وزوجا خيرا من زوجه، واهلا خيرا من اهله، وادخله الجنة، ونجه من النار"، او قال:"قه عذاب (النار) (١) "، حتى تمنيت ان اكون انا هو (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (القبر).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٩٦٣)، وأحمد (٢٣٩٧٥).

حضرت عوف بن مالک الاشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت پر یوں دعا فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اس کی مغفرت فرما۔ اور اس پر رحم فرما۔ اور اس کو عافیت بخش اور اس سے درگزر فرما۔ اور اپنے مہمان کا اکرام فرما۔ اور اس کے داخل ہونے والی جگہ کو وسعت دے دے اور اس کو پانی سے اور برف سے اور ٹھنڈے پانی سے دھو دے۔ اور اس کو گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے جیسا سفید کپڑے کو گندگی سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! اس کے گھر سے بہتر گھر کا بدل عطا فرما۔ اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی کا اسے بدل عطا فرما۔ اور اس اہل و عیال سے بہتر اہل و عیال کا اسے بدل عطا فرما۔ اور اس کو جنت میں داخل فرما۔ اور اسے جہنم سے نجات دے یا یوں فرمایا: اور اس کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ یہاں تک کہ میں تمنا کرنے لگا کہ وہ مردہ میں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31761]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31761، ترقيم محمد عوامة 30395)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30396 ترقیم الشثری: -- 31762
٣١٧٦٢ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) هشام الدستوائي عن يحيى بن ⦗٣٣٩⦘ ابي كثير عن (٢) إبراهيم الانصاري عن ابيه انه سمع رسول الله ﷺ (يقول) (٣) : في الصلاة على الميت:"اللهم اغفر لحينا وميتنا، وشاهدنا وغائبنا، وذكرنا وانثانا وصغيرنا وكبيرنا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (حدثني).
(٢) زيادة في [هـ]: (أبي)، وهو الموافق لمصادر التخريج وكتب التراجم وتقدم ٣/ ٢٩٢ برقم [١١٦٩٣].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة إبراهيم الأنصاري، أخرجه أحمد (١٧٥٤٣)، والترمذي (١٠٢٤)، والنسائي ٥/ ٧٤، والبيهقي ٤/ ٤١، والطبراني في الدعاء (١١٦٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٨٧)، والدولابي في الكنى ١/ ١٤، وابن الجارود (٥٤١).

حضرت ابراہیم انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک میت پر نماز جنازہ میں یوں دعا کرتے ہوئے سنا ہے؟ اے اللہ! بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو، اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31762]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31762، ترقيم محمد عوامة 30396)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30397 ترقیم الشثری: -- 31763
٣١٧٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن (الجلاس) (١) عن عثمان بن (شماس) (٢) قال: كنا عند ابي هريرة فمر به مروان فقال: بعض حديثك عن رسول الله ﷺ، ثم مضى ثم رجع (فقلنا) (٣) الآن يقع به، فقال: كيف (سمعت) (٤) رسول الله ﷺ يصلي على الجنازة؟ قال: سمعته يقول (٥) :"انت (هديتها) (٦) للإسلام وانت قبضت روحها، تعلم سرها وعلانيتها، (جئنا) (٧) شفعاء فاغفر لها" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا قال شعبة وقال غيره: (عن أبي الجلاس).
(٢) هكذا قال شعبة وقال غيره: (علي بن شماخ).
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، ط].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) زاد في [هـ]: (في الصلاة على الجنازة اللهم).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط]: (هديتنا).
(٧) في [هـ]: (جئناك)، وهو الموافق لما سبق في كتاب الجنائز ٣/ ٢٩٢ [١١٦٩٤].
(٨) مجهول؛ لجهالة عثمان بن شماس، أخرجه أحمد (٧٤٧٧)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٧٦)، والطبراني في الدعاء (١١٨٤)، وعبد بن حميد (١١٤٥٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٢٤، والبيهقي ٤/ ٤٢، والمزي ٥/ ١٨٠، كما أخرجه أبو داود (٣٢٠٠)، والدولابي ١/ ١٣٩.

حضرت عثمان بن شماس فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ کے پاس تھے۔ کہ مروان کا ان کے پاس سے گزر ہوا۔ تو وہ آپ سے کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، پھر وہ چلا گیا، پھر تھوڑی دیر بعد لوٹا، توہم نے کہا: اب یہ ان کے ساتھ بیٹھ جائے گا، پس وہ کہنے لگا، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ پر کیا دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے: تو نے ہی اس کو اسلام کی ہدایت دی اور تو نے ہی اس کی روح کو قبض کیا۔ تو ہی اس کی پوشیدہ باتوں کو اور کھلی ہوئی باتوں کو جانتا ہے، ہم تو تیرے پاس اس کی شفاعت کرنے والے بن کر آئے ہیں، پس تو اس کی مغفرت فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31763]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31763، ترقيم محمد عوامة 30397)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30398 ترقیم الشثری: -- 31764
٣١٧٦٤ - حدثنا وكيع عن ابن ابي ليلى عن رجل من اهل مكة عن ابي سلمة قال: كان رسول الله ﷺ يقول في الصلاة على الجنازة:"اللهم اغفر لحينا وميتنا وذكرنا وانثانا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا، اللهم من احييته منا فاحيه على (الإيمان) (١) ومن توفيته منا فتوفه على (الإسلام) (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الإسلام).
(٢) في [هـ]: (الإيمان).
(٣) مرسل مجهول؛ أبو سلمة تابعي، والرجل مبهم، أخرجه أحمد (١٧٥٨٠)، وعبد الرزاق (٦٤١٩)، والطبراني في الدعاء (١١٧١)، وورد متصلًا من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة أخرجه أحمد (٨٧٩٥)، وأبو داود (٣٢٠١)، والترمذي (١٠٢٤)، وابن ماجه (١٤٩٧)، والنسائي في الكبرى (١٠٩١٩)، وابن حبان (٣٠٧٠)، وأبو يعلى (٦٠٠٩)، والطبراني في الدعاء (١١٧٢)، والبيهقي ٤/ ٤١، كما ورد من حديث أبي سلمة عن عائشة، أخرجه النسائي (١٠٩١٨)، والحاكم ١/ ٥١١، والبيهقي ٤/ ٤١، وورد من طريق أبي سلمة عن عبد اللَّه بن سلام أخرجه النسائي (١٠٩٢١)، وورد من طريق أبي سلمة عن الرحمن بن عون أخرجه البزار (١٠٤٥).

حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! تو بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو۔ اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو پس ایمان پر اس کو زندہ رکھنا: اور ہم میں سے تو جس کو موت دے تو پس ایمان پر اس کو موت دینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31764]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31764، ترقيم محمد عوامة 30398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30399 ترقیم الشثری: -- 31765
٣١٧٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن ابي مالك قال: كان ابو بكر إذا صلى على الميت قال: اللهم عبدك [ (اسلم) (١) [الاهل] (٢) والمال] (٣) (والعشيرة) (٤) والذنب عظيم وانت غفور رحيم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أسلمه).
(٢) ساقط من: [ك].
(٣) في [أ، ب، ط]: (المال والأهل).
(٤) في [أ]: (والصغيرة).
(٥) منقطع؛ أبو مالك لم يدرك أبا بكر.

حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر جب کسی میت پر نماز جنازہ پڑھاتے تو یوں فرماتے! اے اللہ! تیری بندہ ہے، گھر والوں اور مال اور خاندان نے اس کو سپرد کیا، اور بہت گناہ ہیں، اور تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31765]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31765، ترقيم محمد عوامة 30399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30400 ترقیم الشثری: -- 31766
٣١٧٦٦ - حدثنا ابو الاحوص عن طارق عن سعيد بن المسيب قال: كان عمر ⦗٣٤١⦘ يقول في الصلاة (١) إن كان امسى قال: اللهم امسى عبدك، وإن كان صباحا قال: اللهم اصبح عبدك قد تخلى من الدنيا وتركها لاهلها، واستغنيت عنه وافتقر إليك، كان يشهد ان لا إله إلا انت وان محمدا عبدك ورسولك، فاغفر (له) (٢) (ذنبه) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عليه).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ط، هـ]: (ذنوبه).
(٤) منقطع؛ سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر.

حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اگر شام ہوتی تو نماز جنازہ میں یوں دعا کرتے: اے اللہ! تیرے بندے نے شام کی۔ اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو یوں دعا کرتے! اے اللہ! تیرے بندے نے صبح کی، تحقیق اس نے دنیا کو چھوڑ دیا، اور اس نے دنیا کو دنیا والوں کے لیے چھوڑ دیا، اور تو اس سے بےنیاز ہے اور وہ تیرا محتاج ہے، وہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یقینا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، پس تو اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31766]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31766، ترقيم محمد عوامة 30400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30401 ترقیم الشثری: -- 31767
٣١٧٦٧ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور عن عبد الله (بن) (١) عبد الرحمن بن ابزى قال: كان علي يقول في الصلاة على الميت: اللهم اغفر لاحيائنا وامواتنا، والف بين قلوبنا، واصلح ذات بيننا، واجعل قلوبنا على قلوب خيارنا، اللهم اغفر له، (اللهم ارحمه) (٢) ، اللهم ارجعه إلى خير (مما) (٣) كان فيه، اللهم عفوك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (ما).
(٤) منقطع؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزي لم يسمع من علي.

حضرت عبداللہ بن عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اے اللہ! تو بخش دے ہمارے زندوں کو اور ہمارے مردوں کو۔ اور ہمارے دلوں کے درمیان جوڑ پیدا فرما۔ اور ہم لوگوں کے آپس کے معاملات درست فرما۔ اور ہمارے دلوں کو ہمارے بہترین لوگوں کے دلوں جیسا بنا دے، اے اللہ! تو اس کو معاف فرما دے اے اللہ! تو اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! تو اس کو لوٹا دے ایسی بھلائی کی طرف جس میں وہ پہلے تھا۔ اے اللہ! تیری معافی کے طلب گار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31767]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31767، ترقيم محمد عوامة 30401)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30402 ترقیم الشثری: -- 31768
٣١٧٦٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد قال: كنت في جنازة (غنيم) (١) فحدثني رجل (عنه) (٢) انه قال: سمعت ابا موسى صلى على ميت فكبر فقال: اللهم اغفر له كما استغفرك واعطه ما سالك وزده من فضلك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عثيم)، في [س]: (عليم).
(٢) في [هـ]: (منهم).
(٣) مجهول؛ لإبهام الرجل.

حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں حضرت غنیم کے جنازہ میں حاضر تھا تو ایک شخص نے مجھے ان کے حوالے سے بیان کیا کہ حضرت غنیم نے فرمایا: میں نے حضرت ابو موسیٰ کو ایک میت پر نماز جنازہ کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سنا پھر آپ نے یوں دعا کی: اے اللہ! تو اس کو بخش دے جیسا کہ اس نے تجھ سے بخشش مانگی، اور اس کو عطا فرما وہ چیز جس کا اس نے تجھ سے سوال کیا، اور اس میں اپنے فضل سے زیادتی فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31768]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31768، ترقيم محمد عوامة 30402)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30403 ترقیم الشثری: -- 31769
٣١٧٦٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة قال: قال عبد الله بن سلام: الصلاة على الجنازة ان تقول: اللهم اغفر لحينا وميتنا، وصغيرنا وكبيرنا، وذكرنا وانثانا، وشاهدنا وغائبنا، اللهم من توفيته منا فتوفه على الإيمان، ومن (ابقيته) (١) منا فابقه على الإسلام (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أحييته).
(٢) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق.

حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے ارشاد فرمایا: نماز جنازہ میں تو یہ دعا کر: اے اللہ! تو بخش دے ہمارے ہر زندہ کو اور ہمارے ہر متوفی کو، اور ہمارے ہر چھوٹے کو اور ہمارے ہر بڑے کو، اور ہمارے ہر مرد کو اور ہماری ہر عورت کو اور ہمارے ہر حاضر کو اور ہمارے ہر غیر حاضر کو۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو موت دے تو پس اس کو ایمان پر موت دینا۔ اور ہم میں سے جس کو تو باقی رکھے تو اسلام پر اس کو باقی رکھنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31769]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31769، ترقيم محمد عوامة 30403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30404 ترقیم الشثری: -- 31770
٣١٧٧٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن زيد العمي عن ابي الصديق الناجي قال: (سالت) (١) ابا سعيد عن الصلاة على الجنازة، (فقال) (٢) : كنا نقول: اللهم (انت) (٣) ربنا وربه خلقته ورزقته (٤) احييته (وكفيته) (٥) فاغفر لنا وله، ولا تحرمنا اجره ولا تضلنا بعده (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (قال).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (و).
(٥) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (وكفته).
(٦) ضعيف؛ لضعف زيد العمي.

حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید سے نماز جنازہ کے متعلق سوا ل کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہم یوں دعا کرتے تھے: اے اللہ! آپ ہمارے پروردگار ہیں اور اس کے بھی پروردگار ہیں، آپ ہی نے اس کو پیدا کیا اور آپ ہی نے اس کو رزق دیا، اور آپ ہی نے اس کو زندہ کیا اور آپ ہی نے اس کو کفایت فرمائی، پس آپ ہماری اور اس کی مغفرت فرما دیجئے۔ اور ہمیں اس کے اجر سے محروم مت فرمائیے اور ہمیں اس کے بعد گمراہ مت کیجیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31770]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31770، ترقيم محمد عوامة 30404)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں