صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لاَ نَفَقَةَ لَهَا:
باب: مطلقہ بائنہ کے نفقہ نہ ہونے کابیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3707
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حدثنا قُرَّةُ ، حدثنا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، حدثنا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبِ ابْنِ طَابٍ، وَسَقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ، فَسَأَلْتُهَا: عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ؟ قَالَت: طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا، " فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي ".
قرہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں سیار ابوالحکم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے ابن طاب کی تازہ کھجوروں سے ہماری ضیافت کی، اور ہمیں عمدہ جَو کے ستو پلائے، اس کے بعد میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے گھرانے میں عدت گزاروں۔ (ابن مکتوم ان کے عزیز تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3707]
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، تو انہوں نے ابن طاب نامی کھجوروں سے ہماری ضیافت کی اور بہترین جو کے ستوؤں سے ہماری تواضع کی، تو میں نے ان سے پوچھا: جسے تین طلاقیں مل چکی ہوں وہ عدت کہاں گزارے؟ انہوں نے جواب دیا: میرے خاوند نے مجھے تیسری طلاق دے دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”اپنے خاندان میں عدت گزارنے“ کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3707]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3708
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، قَالَ: " لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ ".
سلمہ بن کہیل نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے ایسی عورت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جسے تین طلاقیں دے دی گئی ہوں، آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ خرچ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3708]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا مطلقہ ثلاثہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ سکنیٰ ہے اور نہ نفقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3708]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3709
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَت: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَاعْتَدِّي عَنْدَهُ ".
یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی، (کہا:) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے (وہاں سے) نقل مکانی کا ارادہ کیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ، اور ان کے ہاں عدت گزارو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3709]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تینوں طلاقیں دے دیں تو میں نے اس کے ہاں سے منتقل ہونا چاہا، اس لیے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے چچا زاد عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں منتقل ہو جا اور اس کے ہاں عدت گزار۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3709]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3710
وَحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حدثنا أَبُو أَحْمَدَ ، حدثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً "، ثُمَّ أَخَذَ الْأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ، فقَالَ: وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ، هَذَا قَالَ عُمَرُ: لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1،
ابواحمد نے ہمیں خبر دی، (کہا:) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں اسود بن یزید (نخعی) کے ساتھ (کوفہ کی) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ (کا حق) نہیں دیا۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا: تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے، ہم نہیں جانتے کہ اس نے (اس مسئلے کو) یاد رکھا ہے یا بھول گئی، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے۔ (اور یہ آیت تلاوت کی) اللہ عزوجل نے فرمایا: ”تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3710]
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں (کوفہ کی) بڑی مسجد میں اسود بن یزید کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور امام شعبی رحمہ اللہ بھی ہمارے ساتھ تھے، تو شعبی نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رہائش اور نفقہ نہ دلوایا، تو اسود نے کنکریوں کی مٹھی لے کر ان پر ماری اور کہا: ”تم پر افسوس! تو ایسی حدیث بیان کرتا ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (یہ حدیث سن کر) کہا تھا: ”ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑیں گے، ہمیں معلوم نہیں ہے، شاید اس نے حدیث یاد رکھی ہے یا بھول گئی ہے، اس کے لیے رہائش اور نفقہ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3711
وَحدثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، بِقِصَّتِهِ.
سلیمان بن معاذ نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ عمار بن رزیق سے روایت کردہ ابواحمد کی حدیث کے ہم معنی حدیث مکمل قصے سمیت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3711]
امام صاحب مذکورہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3711]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3712
وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، " فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، قَالَت: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَلْتِ، فَآذِنِينِي، فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو جَهْمٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ "، فقَالَت: بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ، فقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ "، قَالَت: فَتَزَوَّجْتُهُ، فَاغْتَبَطْتُ.
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے ابوبکر بن ابوجہم بن سخیر عدوی سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ رہائش دی نہ خرچ۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جب (عدت سے) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔“ سو میں نے آپ کو اطلاع دی۔ معاویہ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے ان کی طرف پیغام بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو فقیر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، اور رہا ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا ہے، البتہ اسامہ بن زید ہے۔“ انہوں نے (ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا: اسامہ! اسامہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے۔“ کہا: تو میں نے ان سے شادی کر لی، اس کے بعد مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3712]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تیسری طلاق دے دی، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکنیٰ اور نفقہ نہ دلوایا، وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیری عدت گزر جائے، تو مجھے اطلاع دینا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، اور مجھے معاویہ، ابو جہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے نکاح کا پیغام بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو فقیر آدمی ہے اس کے پاس کچھ مال نہیں ہے، اور رہا ابو جہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، لیکن اسامہ بن زید ٹھیک ہے۔“ تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے کراہیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اسامہ! اسامہ رضی اللہ عنہ (یعنی وہ کم تر حیثیت کا مالک ہے اور میں خاندانی ہوں)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت تیرے حق میں بہتر ہے۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر میں نے اس سے شادی کر لی اور قابلِ رشک بن گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3712]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3713
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ: عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، بِطَلَاقِي وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ، وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ، فَقُلْتُ: أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا، وَلَا أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ، قَالَ: لَا، قَالَت: فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " كَمْ طَلَّقَكِ "، قُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: " صَدَقَ، لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِي ثَوْبَكِ عَنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي "، قَالَت: فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ: مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْجَهْمِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ، وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ، أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا، وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ "،
عبدالرحمٰن نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبکر بن ابی جہم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں: میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کو میری طلاق کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے۔ میں نے کہا: کیا میرے لیے صرف یہی خرچ ہے؟ کیا میں تم لوگوں کے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا: ”وہ تمہیں کتنی طلاقیں دے چکے ہیں؟“ میں نے جواب دیا: تین۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، تمہارے لیے خرچ نہیں ہے۔ اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، وہ نابینا ہیں تم ان کے ہاں اپنا اوڑھنے کا کپڑا اتار سکو گی۔ جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ انہوں نے (آکر) کہا: مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے، ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو فقیر اور مفلوک الحال ہے، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں پر بہت سختی کرتے ہیں۔۔ یا وہ عورتوں کو مارتے ہیں، یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی۔۔ البتہ تم اسامہ بن زید کو قبول کر لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3713]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کے ذریعے مجھے طلاق بھیجی اور اس کے ہاتھ پانچ صاع کھجور اور پانچ صاع جو بھی بھیجے، میں نے پوچھا: کیا مجھے یہی خرچ ملے گا؟ اور کیا میں تمہارے مکان میں عدت نہیں گزار سکوں گی؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تو میں نے اپنے کپڑے درست کیے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ٹھیک کہا، تجھے نفقہ نہیں ملے گا۔ اپنے چچا زاد ابن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت گزار، کیونکہ وہ نابینا ہے، تو وہاں اپنے پردے کے کپڑے اتار سکے گی اور جب تیری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے پیغامِ نکاح بھیجنے والوں نے پیغامِ نکاح بھیجا، ان میں معاویہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہما بھی تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو فقیر اور پتلے حال والا ہے اور ابو جہم عورتوں سے سختی سے پیش آتا ہے یا عورتوں کو مار پیٹ یا اس قسم کا کام کرتا ہے، لیکن تو اسامہ بن زید کو قبول کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3714
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا أَبُو عَاصِمٍ ، حدثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَسَأَلْنَاهَا، فقَالَت: كُنْتُ عَنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَخَرَجَ فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، وَزَادَ، قَالَت: فَتَزَوَّجْتُهُ فَشَرَّفَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ، وَكَرَّمَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ،
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی، (کہا:) ہمیں سفیان ثوری نے ابوبکر بن ابی جہم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے، ہم نے ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، وہ نجران کی لڑائی میں نکلے، آگے انہوں نے عبدالرحمٰن کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا: (فاطمہ نے) کہا: تو میں نے ان (اسامہ) سے شادی کر لی، اللہ نے ابوزید (اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے مجھے شرف بخشا، اللہ نے ابوزید کی وجہ سے مجھے عزت دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3714]
ابوبکر بن ابی جہم بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: میں ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی اور وہ نجران کی لڑائی میں شرکت کے لیے چلا گیا۔ اور آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: تو میں نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو زید کے ذریعے مقام شرف و مرتبہ بخشا اور اللہ نے مجھے ابو زید کے ذریعے عزت بخشی (ابو زید حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3714]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3715
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَاتًّا بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ابوبکر (بن ابی جہم) نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں اور ابوسلمہ، ابن زبیر کے زمانہ خلافت میں، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں، آگے سفیان کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3715]
ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ، ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے خاوند نے انہیں «طَلَاقًا بَتَّةً» ”طلاق بتہ (کاٹنے والی)“ دے دی، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3715]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1480 ترقیم شاملہ: -- 3716
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا حَسَنُ بْنُ صَالِح ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَت: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً ".
عبداللہ بن یسار (بہی) نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچ نہیں رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3716]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تینوں طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور نفقہ مقرر نہ کیا (کچھ بھی نہ دلوایا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3716]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة