مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. باب
ترقیم عوامۃ: 31046 ترقیم الشثری: -- 32426
٣٢٤٢٦ - حدثنا يزيد (١) قال: اخبرنا همام بن يحيى عن علي بن زيد عن ام محمد عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول:"يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك"، قلت: يا رسول الله، إنك (تدعو) (٢) بهذا الدعاء؟ قال:"يا عائشة او ما علمت ان قلب ابن آدم بين اصابع الله، إذا شاء ان يقلبه إلى (هدى) (٣) قلبه، وإن شاء ان يقلبه إلى (ضلالة) (٤) قلبه" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [و]: (ابن هارون).
(٢) في [جـ، ك]: (لتدعوا).
(٣) في [هـ]: (الهدى).
(٤) في [هـ]: (الضلالة).
(٥) مجهول؛ لجهالة أم محمد، أخرجه أحمد (٢٦١٣٣)، والنسائي في الكبرى (٧٧٣٧)، وأبو يعلى (٤٦٦٩)، وابن أبي عاصم في السنة (٢٢٤)، والطبراني في الدعاء (١٢٥٩)، والآجري في الشريعة ص ٣١٧، وإسحاق (١٣٦٩).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! آپ یہ دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! کیا تجھے معلوم نہیں ابن آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ جب چاہتے ہیں اس کے دل کو ہدایت کی طرف پھیر دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کے دل کو گمراہی و ضلالت کی طر ف پھیر دیتے ہیں؟!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32426]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32426، ترقيم محمد عوامة 31046)
ترقیم عوامۃ: 31047 ترقیم الشثری: -- 32427
٣٢٤٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم بن (عتيبة) (١) قال: سمعت ابن ابي ليلى يحدث عن النبي ﷺ انه كان يدعو بهذا الدعاء:" (٢) يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عيينة).
(٢) في [ك]: زيادة (اللهم).
(٣) مرسل؛ ابن أبي ليلى تابعي.
حضرت ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32427]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32427، ترقيم محمد عوامة 31047)
ترقیم عوامۃ: 31048 ترقیم الشثری: -- 32428
٣٢٤٢٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (ذر) (١) عن وائل بن مهانة قال: قال عبد الله: ما رايت من ناقص الدين والراي اغلب للرجال ذوي الامر على امرهم من النساء، قالوا: يا ابا عبد الرحمن، وما نقصان دينها؟ قال: تركها الصلاة ايام حيضها، قالوا: فما نقصان عقلها؟ قال: لا تجوز شهادة امراتين إلا بشهادة رجل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (زر).
(٢) مجهول؛ لجهالة وائل بن مهانة، أخرجه ابن حبان (٣٣٢٣)، والدارمي (١٠٠٧)، والحميدي (٩٢)، وأبو يعلى (٥١١٢)، والحاكم ٢/ ٢٠٧، والحارث (٢٩٧ بغية) والشاشي (٨٧١)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٣٢٥، والمزي في تهذيب الكمال ٦/ ٤٥، وابن أبي عمر في الإيمان (٣٥).
حضرت وائل بن مہانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے نہیں دیکھا کسی کو عورتوں سے زیادہ ناقص دین اور مشورہ دینے کے اعتبار سے اور ہوشیار مردوں پر ان کے معاملات میں غالب آنے کے اعتبار سے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن! ان کے دین میں کیا کمی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حیض کے دنوں میں ان کا نماز ترک کرنا۔ لوگوں نے عرض کیا: اور ا ن کی عقل کی کمی کیسے ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو عورتوں کی گواہی جائز نہیں مگر ایک آدمی کی گواہی کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32428]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32428، ترقيم محمد عوامة 31048)
ترقیم عوامۃ: 31049 ترقیم الشثری: -- 32429
٣٢٤٢٩ - حدثنا ابو اسامة عن حسن بن (عياش) (١) عن مغيرة قال: سئل إبراهيم عن الرجل يقول للرجل: امؤمن انت؟ قال: الجواب (فيه) (٢) بدعة، وما يسرني (اني) (٣) شككت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ،]: (عباس).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [أ، هـ]: (إن).
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی آدمی سے پوچھے! کیا تو مومن ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کا جواب دینا بدعت ہے۔ اور میں خوش نہیں ہوں کہ میں کہوں کہ مجھے ایمان میں شک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32429]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32429، ترقيم محمد عوامة 31049)
ترقیم عوامۃ: 31050 ترقیم الشثری: -- 32430
٣٢٤٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن حبيب بن الشهيد عن عطاء عن ابي هريرة: لا يزني (الزاني) (١) حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر وهو مؤمن (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، حـ، ط، هـ]: (الرجل).
(٢) صحيح.
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ اور چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32430]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32430، ترقيم محمد عوامة 31050)
ترقیم عوامۃ: 31051 ترقیم الشثری: -- 32431
٣٢٤٣١ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن الاعمش عن عمارة (بن) (١) عمير عن ابي (عمار) (٢) عن حذيفة قال: والله إن الرجل ليصبح بصيرا، ثم يمسي وما ينظر بشفر (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بنت).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عمارة).
(٣) حسن؛ أبو خالد صدوق.
حضرت ابو عمّار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! یقینا آدمی صبح کرے گا دیکھنے کی حالت میں، پھر وہ شام کرے گا اس حال میں کہ وہ پلک بھی نہیں دیکھ سکتا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32431]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32431، ترقيم محمد عوامة 31051)
ترقیم عوامۃ: 31052 ترقیم الشثری: -- 32432
٣٢٤٣٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن يسار قال: بلغ عمر ان رجلا بالشام يزعم انه مؤمن، قال: فكتب عمر: (ان) (١) اجلبوه علي فقدم على عمر فقال: انت الذي تزعم انك مؤمن، قال: (نعم) (٢) ، هل كان الناس على عهد رسول الله ﷺ إلا على ثلاثة منازل: مؤمن وكافر ومنافق؛ والله ما انا بكافر ولا (منافق) (٣) ، (قال) (٤) : فقال له عمر: ابسط يدك (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [جـ، ك]: (نافقت).
(٤) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٥) منقطع؛ سعيد بن يسار لم يسمع من عمر.
حضرت سعید بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہونچی کہ شام میں ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ یقینا وہ مومن ہے۔ راوی فرماتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی کہ اس کو میرے پاس حاضر کرو چناچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو ہی وہ شخص ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ تو مومن ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! کیا لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے نہیں تھے؟ مومن، منافق اور کافر، اللہ کی قسم میں کافر نہیں ہوں۔ اور نہ میں منافقت کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اپنا ہاتھ کشادہ کر۔ حضرت ابن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا؟ راوی کہتے ہیں: ہاں! انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32432]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32432، ترقيم محمد عوامة 31052)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32433
٣٢٤٣٣ - قال ابن إدريس (قلت: رضي بما قال؟) (١) قال: رضي بما قال.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32433، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31053 ترقیم الشثری: -- 32434
٣٢٤٣٤ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا ليث بن سعد عن يزيد (عن سعيد) (١) بن سنان عن انس عن النبي ﷺ قال:"يكون بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا، ويصبح كافرا ويمسي مؤمنا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ] وهذا الراوي اشتهر بسعد بن سنان وقد يسمى سعيد بن سنان. انظر: تهذيب الكمال ١٠/ ٢٦٦.
(٢) ضعيف؛ لضعف سعد بن سنان الكندي، أخرجه الترمذي (٢١٩٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٨، وأبو يعلى (٤٢٦٠)، والفريابي في صفة المنافق (١٠٤)، وابن عدي ٣/ ٣٥٦، وابن البخاري في مشيخته ٣/ ١٨٤٢، وابن عساكر ٥٤/ ٤٠٦، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٨/ ١٣٨، والسخاوي في البلدانيات (١٨)، والداني في الفتن (٤٨).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے قریب بہت سے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے حصہ کی طرح۔ جس میں آدمی صبح کرے گا مومن ہونے کی حالت میں اور شام کرے گا کافر ہونے کی حالت میں۔ اور صبح کرے گا کافر ہونے کی حالت میں اور شام کرے گا مومن ہونے کی حالت میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32434، ترقيم محمد عوامة 31053)
ترقیم عوامۃ: 31054 ترقیم الشثری: -- 32435
٣٢٤٣٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي (عمرو) (١) (السيباني) (٢) قال: قال حذيفة: إني لاعلم اهل دينين، اهل ذينك الدينين في النار: اهل دين يقولون: الإيمان كلام ولا عمل وإن قتل وإن زنا، واهل دين يقولون: [ (إن) (٣) كان] (٤) (اولونا) (٥) (رآه) (٦) -ذكر كلمة سقطت عني- (ليامرونا) (٧) ⦗٥٠⦘ بخمس صلوات (٨) يوم، (وإنما) (٩) (هما) (١٠) صلاتان صلاة العشاء وصلاة الفجر (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك] ورد: (عمر).
(٢) في [أ، هـ]: (الشيباني).
(٣) سقط من: [و].
(٤) في [ك]: سقط (إن كان).
(٥) في [أ، هـ]: (أو لو).
(٦) في [جـ، ك] ورد: (آراه).
(٧) في [و]: (لترأمرنا)، وفي [هـ]: (لتأمرونا).
(٨) في [أ، هـ]: زيادة (في).
(٩) في [أ، ب]: (فإنما).
(١٠) في [هـ]: (هي).
(١١) منقطع؛ يحيى بن أبي عمرو لا يروي عن حذيفة، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٥، وابن جرير في مسند ابن عباس (٩٦٤)، واللالكائي (١٧١٧)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٦٦٣)، والآجري (٢٩٨).
حضرت یحییٰ بن ابو عمرو السیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں دین کے دو گروہوں کے بارے میں جانتا ہوں یہ دونوں دین کے گروہ والے جہنم میں ہوں گے۔ ایک دین والا گروہ کہتا ہے! ایمان نام ہے کلام کا نہ کہ عمل کا۔ اگرچہ وہ قتل کرے اگرچہ وہ زنا کرے، اور ایک دین کے گروہ والے کہتے ہیں: ہم سے پہلے والے لوگ۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہاں ایک کلمہ کا ذکر کیا تھا جو مجھ سے ساقط ہوگیا۔ ہمیں پانچ نمازوں کا حکم دیتے تھے پورے دن میں۔ حالانکہ وہ صرف دو نمازیں ہیں، عشاء کی نماز اور فجر کی نماز۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32435، ترقيم محمد عوامة 31054)