🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31055 ترقیم الشثری: -- 32436
٣٢٤٣٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابن عجلان عن عبد الله بن دينار عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الإيمان ستون او سبعون (او بضعة) (١) - (او) (٢) احد العددين- اعلاها شهادة ان لا إله إلا الله، وادناها إماطة الاذى عن الطريق والحياء شعبة من الإيمان" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [و].
(٢) في [أ، ب] ورد: (و).
(٣) حسن؛ ابن عجلان وأبو خالد صدوقان، أخرجه مسلم (٣٥)، وأحمد (٩٣٦١)، وأصله عند البخاري (٩).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایمان کے شعبے ساٹھ یا ستر یا ستر سے کچھ اوپر ہیں یا ان دو عددوں میں کوئی ایک عدد مراد ہے۔ اس میں افضل ترین شعبہ گواہی دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور سب سے ادنیٰ شعبہ راستہ سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32436]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32436، ترقيم محمد عوامة 31055)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31056 ترقیم الشثری: -- 32437
٣٢٤٣٧ - (١) حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"الحياء من الإيمان" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في (ط): زيادة (حدثنا وكيع قال: حدثنا العربي قال).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤)، ومسلم (٣٦).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حیا ایمان کا حصہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32437، ترقيم محمد عوامة 31056)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31057 ترقیم الشثری: -- 32438
٣٢٤٣٨ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) الاعمش عن سلمة بن كهيل عن حبة ⦗٥١⦘ (ابن جوين) (٢) العرني قال كنا مع سلمان (٣) وقد صافنا العدو فقال: هؤلاء المؤمنون وهؤلاء المنافقون وهؤلاء المشركون، فينصر الله المنافقين (بدعوة) (٤) المؤمنين، ويؤيد الله المؤمنين (بقوة) (٥) المنافقين (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) سقط من: [و].
(٣) في [ك]: زيادة (لرجل).
(٤) في [ط]: ورد (يدعوننا).
(٥) في [أ، جـ، ح، ط، ك، هـ]: (بدعوة).
(٦) ضعيف؛ لضعف حبة بن جوين.

حضرت حبہ بن جو ین العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمن کے سامنے صف بنائے کھڑے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: یہ لوگ مومنین ہیں، اور یہ منافقین ہیں اور یہ مشرکین ہیں۔ پس اللہ مومنین کی دعاؤں کی وجہ سے منافقین کی مدد فرمائیں گے، اور منافقین کی دعاؤں کی وجہ سے مومنین کی تائید کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32438، ترقيم محمد عوامة 31057)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31058 ترقیم الشثری: -- 32439
٣٢٤٣٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الاعمش عن ابي إسحاق عن ابي قرة قال: قال سلمان لرجل: لو قطعت (اعضاء) (١) ما بلغت الإيمان (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أعصى).
(٢) حسن؛ أبو قرة وثقه ابن حبان وروى عنه إثنان وقال ابن سعد: "معروف".

حضرت ابو قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: اگر تیرے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیا جائے تب بھی تو ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32439]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32439، ترقيم محمد عوامة 31058)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31059 ترقیم الشثری: -- 32440
٣٢٤٤٠ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عمرو بن مرة (١) عن البراء قال: قال رسول الله ﷺ:"اوثق عرى الإسلام الحب في الله والبغض في الله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن معاوية بن سويد)، وانظر: ما سيأتي ١٣/ ٢٢٩.
(٢) ضعيف منقطع؛ ليث بن أبي سليم ضعيف، وعمرو بن مرة لا يروي عن البراء، أخرجه أحمد (١٨٥٢٤)، والطيالسي (٧٤٧)، والبيهقي في الشعب (١٤)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٣١، وأخرجه مرسلًا وكيع في الزهد (٣٢٩).

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی مضبوط ترین بنیاد کسی سے اللہ کی خوشنودی کے لیے محبت کرنا ہے، اور اللہ ہی کی خوشنودی میں کسی سے بغض رکھنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32440، ترقيم محمد عوامة 31059)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31060 ترقیم الشثری: -- 32441
٣٢٤٤١ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن زبيد عن مجاهد قال: اوثق عرى الإيمان الحب في الله والبغض (فيه) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، و] ورد: (في اللَّه).
حضرت زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی مضبوط ترین بنیاد، کسی سے اللہ کی خوشنودی کے لیے محبت کرنا اور اللہ ہی کی خوشنودی میں کسی سے بغض رکھنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32441]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32441، ترقيم محمد عوامة 31060)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31061 ترقیم الشثری: -- 32442
٣٢٤٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١) : اخبرنا داود عن زرارة بن اوفى ⦗٥٢⦘ عن تميم الداري قال: اول ما يحاسب به العبد (يوم القيامة) (٢) (صلاة) (٣) المكتوبة، فإن اتمها، وإلا قيل: إنظروا (هل) (٤) له من تطوع فاكملت الفريضة من تطوعه، فإن لم تكمل الفريضة (٥) ، ولم يكن له تطوع اخذ بطرفيه فقذف به في النار (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [و].
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (الصلاة).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: سقط (هل).
(٥) في [ط]: زيادة (من تطوعه فإن لم تكتمل الفريضة).
(٦) صحيح؛ أخرجه البيهقي ٢/ ٣٨٧، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٦٩٥١)، وأبو داود (٨٦٦)، وابن ماجه (١٤٢٦)، والحاكم ١/ ٢٦٣، والدارمي (١٣٥٥).

حضرت زراہ بن اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: قیامت میں آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک ورنہ کہا جائے گا: دیکھو کیا اس کے پاس نفلوں کا بھی کوئی ذخیرہ ہے؟ اگر ہوا تو پھر اس کے نفلوں سے فرض کی تکمیل کردی جائے گی۔ اور اگر اس کے فرائض مکمل نہ ہوئے اور اس کے پاس نفلوں کا ذخیرہ بھی نہ ہوا۔ تو پھر اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا جائے گا۔ اور اس طرح سے اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32442]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32442، ترقيم محمد عوامة 31061)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31062 ترقیم الشثری: -- 32443
٣٢٤٤٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون (قال) (٢) : اخبرنا ابو معشر عن محمد (ابن) (٣) صالح الانصاري ان رسول الله ﷺ لقي عوف بن مالك فقال: كيف اصبحت يا عوف بن مالك؟ قال: اصبحت مؤمنا حقا، (فقال) (٤) رسول الله ﷺ:"إن لكل قول حقيقة، فما حقيقة ذلك؟" (فقال) (٥) : يا رسول الله (الم اظلف) (٦) نفسي عن الدنيا، (اسهرت) (٧) ليلي واظمات هواجري وكاني انظر إلى عرش ربي، وكاني انظر إلى اهل الجنة يتزاورون فيها، وكاني انظر إلى اهل النار يتضاغون فيها، فقال رسول الله ﷺ:"عرفت وآمنت فالزم" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط، ك، هـ]: (يونس).
(٢) سقط من: [و].
(٣) سقط من: [و].
(٤) في [ط]: (قال).
(٥) في [و]: (قال).
(٦) أي: لم أمنعها وأكفها عما لا يجمل، وفي [و]: (أطلقت)، وفي [هـ]: (أطلب).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (سهرت).
(٨) مرسل ضعيف؛ أبو معشر ضعيف، ومحمد بن صالح تابعي.

حضرت محمد بن صالح الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو فرمایا: اے عوف بن مالک! تو نے کس حال میں صبح کی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا میں نے اپنے نفس کو دنیا سے نہیں روکا؟ میں نے راتوں میں خود کو جگایا: اور شدید گرمی کی دوپہر میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنت میں باتیں کر رہے ہیں، اور گویا کہ میں اہل جہنم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو نے پہچان لیا یا فرمایا تو ایمان لایا پس اس کو لازم پکڑے رکھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32443]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32443، ترقيم محمد عوامة 31062)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31063 ترقیم الشثری: -- 32444
٣٢٤٤٤ - (١) (حدثنا) (٢) هشيم (قال) (٣) : اخبرنا داود عن (زرارة) (٤) بن اوفى عن تميم الداري بمثل (حديث) (٥) يزيد إلا انه لم يذكر فيه: ويؤخذ بطرفيه فيقذف به في النار (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [ك، و]: (نا).
(٣) سقط من: [و].
(٤) في [جـ]: (رزازة).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ط، هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه البيهقي ٢/ ٣٨٧، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٦٩٥١)، وأبو داود (٨٦٦)، وابن ماجه (١٤٢٦).

حضرت زراہ بن اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر راوی نے ماقبل حدیث یزید کو ذکر کیا مگر یہ جملہ ذکر نہیں کیا، اور اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32444]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32444، ترقيم محمد عوامة 31063)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31064 ترقیم الشثری: -- 32445
٣٢٤٤٥ - حدثنا ابن نمير قال حدثنا مالك بن مغول عن زبيد قال: قال رسول الله ﷺ:"كيف اصبحت يا حارث بن مالك؟" قال: اصبحت مؤمنا حقا، قال:"إن لكل قول حقيقة (١) "، قال: اصبحت عزفت نفسي عن الدنيا (واسهرت) (٢) ليلي واظمات نهاري، (وكاني) (٣) انظر إلى عرش ربي قد ابرز للحساب، (وكاني) (٤) انظر إلى اهل الجنة يتزاورون في الجنة، (وكاني) (٥) اسمع عواء اهل النار، قال: فقال له:"عبد نور الإيمان في قلبه، (إن) (٦) عرفت فالزم" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (فما حقيقة ذلك).
(٢) في [و]: (فأسهرت).
(٣) في [و]: (ولكأنما).
(٤) في [و]: (ولكأني).
(٥) في [و]: (ولكأني).
(٦) في [جـ]: (إذ).
(٧) مرسل؛ زبيد تابعي، وورد من حديث حارث بن مالك أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٢٨٧٣)، وعبد بن حميد (٤٤٥)، والطبراني (٣٣٦٧)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٩١) والزهد (٩٧٣)، وابن عساكر ٥٤/ ١٧٩، كما ورد من حديث أنس، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٤٢، والعقيلي ٤/ ٤٥٥، والبزار (٣٢/ كشف)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٩٠).

حضرت زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حارث بن مالک رضی اللہ عنہ تم نے کس حال میں صبح کی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرے نفس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی، پس میں نے راتوں میں خود کو جگایا۔ اور دن میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ حساب لینے کے لیے ظاہر ہوگیا۔ اور گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل جہنم کی چیخ و پکار کی آواز سن رہا ہوں، راوی کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: یہ ایسا بندہ ہے کہ ایمان نے اس کے دل میں نور کو بھر دیا ہے۔ اگر تو نے اس کو پہچان لیا تو پھر اس کو لازم پکڑو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32445، ترقيم محمد عوامة 31064)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں