مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31289 ترقیم الشثری: -- 32677
٣٢٦٧٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني عبد الله بن الوليد قال: اخبرني عمر ابن ايوب قال: اخبرني ابو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلا عند (عمرو) (١) بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاء رجل بالفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الامير يقرئك السلام ويقول: إنا لم ندع قارئا شريفا إلا وقد وصل إليه منا معروف، (فاستعن) (٢) بهذين على (نفقة) (٣) شهرك هذا، فقال عمرو: اقرا على الامير السلام وقل (٤) : إنا والله ما قرانا القرآن نريد به الدنيا، ورده عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عمر).
(٢) في [هـ]: (فاستعين).
(٣) في [أ]: (فقد)، وفي [ب]: (تفقد).
(٤) في [هـ]: زيادة (له).
ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے پاس ٹھہرا ہو اتھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ان کے پاس ایک آدمی مصعب بن زبیر کی طرف سے درہم لے کر آیا اور کہا کہ امیر آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کسی صاحب شرافت قاری کو بھی اپنی جانب سے بھلائی سے محروم نہیں کیا، آپ یہ دو ہزار درہم لے لیں اور اس مہینے کے خرچ میں اس سے مدد حاصل کرلیں، حضرت عمرو نے جواب میں فرمایا کہ امیر کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ واللہ! ہم نے دنیا حاصل کرنے کی نیّت سے قرآن نہیں پڑھا، یہ کہہ کر وہ دراہم واپس کردیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32677]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32677، ترقيم محمد عوامة 31289)
ترقیم عوامۃ: 31290 ترقیم الشثری: -- 32678
٣٢٦٧٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عاصم بن محمد عن حبيب بن ابي ثابت قال: (بينا) (١) انا جالس في المسجد الحرام وابن عمر جالس في ناحية، وابناه ⦗١٤٦⦘ عن يمينه وشماله، وقد خطب الحجاج بن يوسف الناس (فقال) (٢) : الا ان ابن الزبير نكس كتاب الله، نكس الله قلبه، فقال ابن عمر: الا إن ذلك ليس بيدك ولا بيده، فسكت الحجاج (هنيهة) (٣) ، إن شئت قلت طويلا وإن شئت قلت ليس بطويل، ثم قال: الا إن الله قد علمنا (و) (٤) كل مسلم، وإياك ايها الشيخ انه يفعل، قال: فجعل ابن عمر يضحك فقال لمن حوله: اما إني قد تركت (التي) (٥) فيها الفصل ان اقول: كذبت (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فبينا).
(٢) سقطت من [أ، ب]: (فقال).
(٣) في [هـ]: (هنيئة).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٥) في [ك]: (إلي).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن خزيمة (١٠٢٧).
حبیب بن ابی ثا بت فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم مسجدِ حرام میں بیٹھے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، اور ان کے دائیں بائیں ان کے صاحبزادے بیٹھے ہوئے تھے، حجاج بن یوسف نے لوگوں سے خطبے میں کہا تھا: خبردار! بیشک عبد اللہ بن زبیر نے کتاب اللہ کو بگاڑ دیا ہے اللہ تعالیٰ ا س کے دل کو بگاڑے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خبردار! نہ یہ تمہارے اختیار میں ہے نہ ان کے اختیار میں ہے۔ حجاج اس بات پر تھوڑی دیر خاموش رہا، اتنا کہ اگر میں اس خاموشی کو طویل کہوں تو بھی کہہ سکتا ہوں اور اگر کہوں کہ زیادہ طویل خاموشی نہیں تھی تب بھی درست ہوگا، پھر کہنے لگا: اے بڈھے! آگاہ ہو جاؤ! بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں، تمہیں اور ہر مسلمان کو علم بخشا ہے اگر وہ علم تجھے نفع دے، راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنسنے لگے، اور اردگرد کے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں نے فضیلت والی بات چھوڑ دی، یہ کہ میں کہتا کہ تو نے جھوٹ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32678، ترقيم محمد عوامة 31290)
ترقیم عوامۃ: 31291 ترقیم الشثری: -- 32679
٣٢٦٧٩ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن كامل (عن) (١) حبيب قال: كان العباس اقرب (٢) شحمة آذان إلى السماء (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، س، ك]: (بن).
(٢) في [هـ]: زيادة (الناس).
(٣) منقطع؛ حبيب لم يدرك العباس.
حضرت کامل بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کی بنسبت آسمان کی طرف زیادہ قریب کان کی لو والے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32679، ترقيم محمد عوامة 31291)
ترقیم عوامۃ: 31292 ترقیم الشثری: -- 32680
٣٢٦٨٠ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا يونس (بن) (١) ابي إسحاق عن الوليد بن العيزار قال: (بينا) (٢) عمرو بن العاص في ظل الكعبة إذ راى الحسين بن علي مقبلا فقال: هذا احب اهل الارض إلى اهل السماء (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: ورد (بينما).
(٣) صحيح.
ولید بن عیزار فرماتے ہیں کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کعبہ کے سائے میں تھے کہ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو تشریف لاتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ شخص زمین والوں میں آسمان والوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32680، ترقيم محمد عوامة 31292)
ترقیم عوامۃ: 31293 ترقیم الشثری: -- 32681
٣٢٦٨١ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الواحد بن ايمن قال: قلت لسعيد بن جبير: إنك قادم على الحجاج فانظر ماذا (تقول) (١) ، لا تقل ما يستحل به دمك، قال: إنما يسالني كافر انا او مؤمن، فلم اكن لاشهد على نفسي بالكفر، وانا لا (ادري) (٢) انجو منه ام لا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [ط]: (تقل).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (ندري).
عبد الواحد بن ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ آپ حجاج کے پاس جا رہے ہیں تو ذرا دھیان سے بات کرنا، کہیں ایسی بات نہ کہہ بیٹھنا جس سے وہ تمہارے خون کو مباح سمجھ کر قتل کر ڈالے، انہوں نے فرمایا: وہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم کافر ہو یا مؤمن؟ میں تو اپنی ذات پر کفر کی گواہی نہیں دے سکتا، اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں کہ میں اس کے شر سے نجات پاؤں گا یا نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32681، ترقيم محمد عوامة 31293)
ترقیم عوامۃ: 31294 ترقیم الشثری: -- 32682
٣٢٦٨٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن النعمان قال: كتب عمر إلى معاوية الزم الحق يلزمك الحق (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ النعمان لم يدرك عمر.
نعمان سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ آپ حق کے ساتھ ساتھ رہیے اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32682، ترقيم محمد عوامة 31294)
ترقیم عوامۃ: 31295 ترقیم الشثری: -- 32683
٣٢٦٨٣ - حدثنا معتمر عن عمران بن حدير عن عبد الملك بن عبيد قال: قال عمر: نستعين بقوة المنافق وإثمه عليه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن عبيد.
عبد الملک بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم منافق کی قوت سے مدد حاصل کرلیتے ہیں اور اس کا گناہ اسی پر رہتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32683]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32683، ترقيم محمد عوامة 31295)
ترقیم عوامۃ: 31296 ترقیم الشثری: -- 32684
٣٢٦٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن ابن شبرمة قال: سمعت الفرزدق يقول: كان ابن حطان من اشعر الناس.
ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے فرزدق کو یہ کہتے سنا کہ ابن حطان قابل ترین شعراء میں سے تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32684]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32684، ترقيم محمد عوامة 31296)
ترقیم عوامۃ: 31297 ترقیم الشثری: -- 32685
٣٢٦٨٥ - [حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري قال: كنت إذا لقيت عبيد الله بن عبد الله (فكانما) (١) افجر به بحرا] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قل: إنما)؛ وانظر: سنن الدارمي (٦١٧)، وفتح الباري ١٢/ ١٨٦.
(٢) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
زہری فرماتے ہیں کہ جب میں عبید اللہ بن عبد اللہ رحمہ اللہ سے ملتا تو مجھے ایسا لگتا کہ ان کی باتوں سے میرے اندر علم کے سمندر جاری ہوگئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32685]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32685، ترقيم محمد عوامة 31297)
ترقیم عوامۃ: 31298 ترقیم الشثری: -- 32686
٣٢٦٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن حمزة (١) ابي عمارة قال: قال عمر بن عبد العزيز لعبيد الله بن عبد الله: مالك (و) (٢) للشعر؟ قال: هل يستطيع المصدور إلا ان ينفث؟.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ب]: (عن).
(٢) سقط في [ط]: (و).
حمزہ بن ابی عمارہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے فرمایا کہ آپ کا شعر سے کیا تعلق؟ انہوں نے فرمایا کہ تپ دق کا مریض پھونکنے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32686]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32686، ترقيم محمد عوامة 31298)