🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31280 ترقیم الشثری: -- 32667
٣٢٦٦٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن ابي إسحاق قال: رايت حجر ابن عدي وهو يقول: (هاه) (١) بيعتي لا اقيلها ولا استقيلها، سماع الله والناس -يعني بقوله: المغيرة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حجر بن عدی کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہائے میری بیعت! جس کو میں ختم کرسکتا ہوں نہ اس سے سبکدوشی طلب کرسکتا ہوں، کہ وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی سنی ہوئی ہے، لوگوں سے ان کی مراد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32667]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32667، ترقيم محمد عوامة 31280)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31281 ترقیم الشثری: -- 32668
٣٢٦٦٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا قطبة بن عبد العزيز عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن ابي الجعد قال: كتب اصحاب محمد ﷺ عيب عثمان، فقالوا: من يذهب به إليه؟ فقال عمار: انا، فذهب به إليه، فلما قراه قال: ارغم الله (بانفك) (١) ، فقال عمار: وبانف ابي بكر وعمر، قال: فقام (ووطئه) (٢) حتى غشي عليه، قال: وكان عليه (تبان) (٣) قال: ثم بعث (إليه) (٤) الزبير وطلحة، فقالا له: اختر إحدى ثلاث: إما ان تعفو، وإما ان تاخذ (الارش) (٥) ، وإما ان تقتص، ⦗١٤٣⦘ قال: فقال عمار: لا اقبل منهن شيئا حتى القى الله (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فأنفك).
(٢) في [جـ]: (فوطئه).
(٣) في [هـ]: (ــبان) بدون نقاط.
(٤) في [ط، هـ]: (إلى).
(٥) في [ط]: (الإرث).
(٦) منقطع؛ سالم لم يدرك ذلك.

حضرت سالم بن ابی الجعد روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی عیب لکھا، اس کے بعد وہ پوچھنے لگے یہ تحریر ان کے پاس کون لے کر جائے گا؟ حضرت عمار نے فرمایا میں لے کر جاؤں گا، وہ لے کر گئے، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر پڑھی تو فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی ناک خاک آلود کرے، حضرت عمار نے اس پر فرمایا: تو پھر حضرت ابوبکر و عمر کی ناک کو بھی، کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور ان کو گرا لیا اور پاؤں سے روندنے لگے یہاں تک کہ وہ بےہوش ہوگئے، اس وقت انہوں نے جان گیا پہن رکھا تھا، پھر حضرت عثمان نے ان کے پاس حضرت زبیر اور طلحہ کو بھیجا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تین باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو، یا تو معاف کردو یا تاوان لے لو یا بدلہ لے لو، حضرت عمار نے فرمایا میں ان میں سے کچھ قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن آدم کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے حسن بن صالح کے سامنے یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان پر ان کے اس فعل سے زیادہ کوئی الزام نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32668]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32668، ترقيم محمد عوامة 31281)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32669
٣٢٦٦٩ - قال ابو بكر: سمعت يحيى بن آدم قال: ذكرت هذا الحديث (لحسن) (١) بن صالح فقال: ما كان على عثمان (اكبر) (٢) مما صنع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الحسن).
(٢) في [م]: (أكثر).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32669، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31282 ترقیم الشثری: -- 32670
٣٢٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن ابي (حيان) (١) عن حماد قال: قلت لإبراهيم: إن (الكتب تجيء) (٢) من قبل قتيبة (فيها) (٣) الباطل والكذب، فإذا اردت ان احدث جليسي افعل؟ قال: لا، بل انصت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عثمان).
(٢) في [أ، هـ]: (الليث يجيء).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (فيه).

حماد فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا کہ قتیبہ کی طرف سے خط آتے ہیں جن میں باطل اور جھوٹی باتیں بھی ہوتی ہیں، جب میں اپنے کسی ہمنشین کو اس کے بارے میں بیان کرنا چاہوں تو کر دوں؟ فرمایا نہیں! بلکہ خاموش رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32670]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32670، ترقيم محمد عوامة 31282)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31283 ترقیم الشثری: -- 32671
٣٢٦٧١ - حدثنا حسين بن علي عن إسرائيل قال: قال رجل لعثمان بن ابي العاص: ذهبتم بالدنيا والآخرة، قال: وما ذاك؛ قال: لكم اموال تصدقون منها وتصلون منها وليست لنا اموال، قال: لدرهم (ياخذه) (١) احدكم فيضعه في حق افضل من عشرة آلاف (ياخذها) (٢) احدنا (غيضا) (٣) من قبض (فلا) (٤) يجد لها مسا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يأخذكم).
(٢) في [هـ]: (يأخذ).
(٣) في [أ، ب]: (عنفيًا)، وفي [هـ]: (عنيفًا).
(٤) في [ط، هـ]: (ولا).
(٥) منقطع؛ إسرائيل لم يدرك عثمان بن أبي العاص.

اسرائیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عثمان بن ابی العاص سے کہا کہ تم دنیا اور آخرت دونوں ہی لے گئے، انہوں نے پوچھا کیسے؟ کہنے لگا آپ کے پاس مال ہیں جن میں سے آپ صدقہ کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، اور ہمارے پاس مال نہیں ہیں، آپ نے فرمایا ایک درہم جس کو تم میں سے کوئی شخص لے کر حق طریقے سے خرچ کرتا ہے ان دس ہزار دراہم سے افضل ہے جو ہم میں سے کوئی بہت زیادہ میں سے لیتا ہے لیکن اس میں اس کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32671]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32671، ترقيم محمد عوامة 31283)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31284 ترقیم الشثری: -- 32672
٣٢٦٧٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن يحيى بن الحصين عن طارق بن شهاب قال: كان بين خالد بن الوليد وبين سعد كلام، قال: فتناول رجل خالدا عند سعد قال سعد: (مه) (١) إن ما بيننا لم يبلغ ديننا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح.

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی تھی، ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت خالد کی برائی کی تو آپ نے فرمایا خاموش ہو جاؤ، ہمارا جھگڑا اتنا زیادہ نہیں کہ ہمارے دین تک پہنچ جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32672]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32672، ترقيم محمد عوامة 31284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31285 ترقیم الشثری: -- 32673
٣٢٦٧٣ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد الله) (١) بن عمر قال: حدثني من سمع سالما قال: كان عمر إذا نهى الناس عن شيء جمع اهل بيته فقال: إني نهيت الناس (عن) (٢) كذا وكذا، (و) (٣) إن الناس (لينظرون) (٤) إليكم نظر الطير إلى اللحم، وايم الله لا (اجد) (٥) احدا منكم فعله إلا اضعفت له العقوبة ضعفين (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، س، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (أو).
(٤) في [جـ، ك، م]: (ينظرون).
(٥) في [م]: (أخذ).
(٦) مجهول؛ لإبهام الراوي عن سالم، أخرجه أبو نعيم في مسند الشاميين (٣١٧١)، والخطيب في تاريخ بغداد ٤/ ٢١٨، وابن عساكر ٤٤/ ٢٦٨، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٨، وعبد الرزاق (٢٠٧١٣)، وابن شبه (١٢٧٠).

عبید اللہ بن عمر سالم کے ایک شاگرد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو کسی چیز سے منع فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے فرماتے کہ میں نے لوگوں کو فلاں فلاں کام سے منع کردیا ہے اور لوگ تمہاری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے پرندہ گوشت کی طرف دیکھتا ہے، اور خدا کی قسم! تم میں سے جس کو بھی میں یہ کام کرتے دیکھوں گا اس کو دوسروں سے دوگنی سزا دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32673]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32673، ترقيم محمد عوامة 31285)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31286 ترقیم الشثری: -- 32674
٣٢٦٧٤ - حدثنا ابن نمير عن الصباح بن ثابت قال: كان ابي يسمع الخادم يسب الشاة، فيقول: تسبين شاة تشربين من لبنها.
صباح بن ثابت فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد خادمہ کو سنتے کہ بکری کو برا بھلا کہتی ہے تو فرماتے کہ تم اسی بکری کو برا بھلا کہتی ہو جس کا دودھ پیتی ہو! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32674]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32674، ترقيم محمد عوامة 31286)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31287 ترقیم الشثری: -- 32675
٣٢٦٧٥ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن مالك بن دينار سمعه يقول: قال سالم بن عبد الله: قال لي عمر بن عبد العزيز: اكتب (إلي) (١) بسنة عمر، قال: ⦗١٤٥⦘ قلت: إنك إن عملت بما عمل عمر فانت افضل من عمر، إنه ليس لك مثل زمان عمر، ولا رجال مثل رجال عمر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [جـ]: (إلى).
سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ میرے پاس لکھ بھیجو، میں نے کہا: اگر آپ اس طرح عمل کرلیں جس طرح حضرت عمر نے عمل کیا تو آپ حضرت عمر سے افضل ٹھہریں گے، کیونکہ نہ تو آپ کا زمانہ ہی حضرت عمر والا زمانہ ہے اور نہ آپ کیساتھ حضرت عمر کے ساتھیوں جیسے آدمی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32675]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32675، ترقيم محمد عوامة 31287)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31288 ترقیم الشثری: -- 32676
٣٢٦٧٦ - حدثنا حفص بن غياث عن عثمان بن واقد عمن حدثه قال: سمعت ابن عمر يقول وهو ساجد في الكعبة نحو الحجر وهو يقول: إني اعوذ بك من شر ما (يسوط) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (تسوط) ورد في: [م]، وفي الفتن لنعيم (٤٧٠): (ما تسوط به قريش).
(٢) مجهول؛ لإبهام الرواي عن ابن عمر.

عثمان بن واقد ایک بیان کرنے والے کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حطیم کعبہ میں حجر اسود کے قریب سجدے میں یہ دعا کر رہے تھے اے اللہ! میں ان فتنوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں جو قریش برپا کر رہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32676]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32676، ترقيم محمد عوامة 31288)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں