🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31309 ترقیم الشثری: -- 32697
٣٢٦٩٧ - حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شيبان عن الاعمش عن ابي الضحى قال: حدثني من سمع عمر يقول إذا راى المغيرة بن شعبة: ويحك يا مغيرة والله ما رايتك قط إلا خشيت (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي عن عمر.
ابو الضحیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے ایک صاحب نے بیان کیا جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے کہ جب آپ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو فرماتے کہ مغیرہ! تیرا ناس ہو جب بھی میں نے آپ کو دیکھا میں ڈر ہی گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32697، ترقيم محمد عوامة 31309)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31310 ترقیم الشثری: -- 32698
٣٢٦٩٨ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا شيبان عن الاعمش عن عبد الله بن سنان قال: خرج إلينا ابن مسعود ونحن في المسجد (فقال) (١) : يا (اهل) (٢) الكوفة فقدت من بيت مالكم الليلة مائة الف لم ياتني بها كتاب من امير المؤمنين (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [أ، ب]: (وقال).
(٢) ورد في [أ، ب، ط]: (يأيها).
(٣) صحيح.

عبد اللہ بن سنان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں تھے کہ ہمارے پاس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا اے کوفہ والو! آج رات تمہارے بیت المال میں سے ایک لاکھ درہم غائب ہوگئے جن کے بارے میں میرے پاس امیر المؤمنین کا کوئی خط بھی نہیں آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32698، ترقيم محمد عوامة 31310)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31311 ترقیم الشثری: -- 32699
٣٢٦٩٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (فطر) (١) قال: حدثنا منذر الثوري عن محمد بن علي ابن الحنفية قال: اتقوا هذه الفتن فإنه لا (يستشرف) (٢) (إليها) (٣) احد إلا (انتسغته) (٤) ، الا إن هؤلاء القوم لهم اجل ومدة، لو اجمع من في الارض ان (يزيلوا) (٥) (ملكهم) (٦) لم يقدروا على ذلك حتى يكون الله هو الذي ياذن فيه، اتستطيعون ان تزيلوا هذه الجبال.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قطر).
(٢) في [ب، جـ، م]: (شرف).
(٣) في [ك]: (لها).
(٤) أي: ذهبت به وطعنت فيه، وفي [أ، ب، ط، م]: (انتسفته)، وفي [ك]: (التسفته)، وفي [جـ]: (انتشفته)، وفي [هـ]: (استبقته).
(٥) في [أ، ب]: (تركوا).
(٦) في [ط]: (أهلكهم).

محمد بن حنفیہ سے روایت ہے فرمایا کہ ان فتنوں سے بچو کیونکہ جو بھی ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے یہ اس کو بربا د کردیتے ہیں، آگاہ رہو! بیشک اس قوم کا ایک وقت اور ایک مدت مقرر ہے اگر تمام زمین والے اس مدت میں ان کی سلطنت زائل کرنا چاہیں تو نہیں کرسکیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کی اجازت دے دیں، کیا تم ان پہاڑوں کو ٹلا سکتے ہو؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32699، ترقيم محمد عوامة 31311)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31312 ترقیم الشثری: -- 32700
٣٢٧٠٠ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثني ابو بكر بن عمرو بن عتبة عن جابر بن سمرة قال: بعثني سعد اقسم بين الزبير و (خباب) (١) ارضا، فتراميا بالجندل فرجعت فاخبرت سعدا ذلك، فضحك حتى ضرب برجله وقال: في ارض مثل هذا المسجد او قل ما يزيد عليه، قال: فهلا رددتهما (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (جناب).
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن عمرو بن عتبة حيث لم يوثقه أحد، وإن روى عنه جماعة.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک زمین کو تقسیم کرنے کے لئے بھیجا تو وہ ایک دوسرے کو کنکر مارنے لگے، میں نے واپس آ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی تو وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا اور فرمایا کہ وہ زمین اس مسجد جتنی یا اس سے ذرا بڑی ہوگی، پھر فرمایا کہ تم نے ان کو روک کیوں نہیں دیا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32700، ترقيم محمد عوامة 31312)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31313 ترقیم الشثری: -- 32701
٣٢٧٠١ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثنا سعيد بن شيبان عمن حدثه عن (عدي) (١) بن حاتم قدم إليه لحم (جداولا) (٢) فقال: انهشوا نهشا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (علي).
(٢) في [ك]: (جدادلا).
(٣) مجهول؛ لإبهام الرواي عن عدي.

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کے پاس گوشت کے پارچے لائے گئے، انہوں نے حاضرین سے فرمایا اس کو نوچ کر کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32701، ترقيم محمد عوامة 31313)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31314 ترقیم الشثری: -- 32702
٣٢٧٠٢ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما بويع لعلي اتاني فقال: إنلث امرؤ (محبب) (١) في اهل (الشام) (٢) ؟ وقد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت (الصهر) (٣) فقلت: اما بعد فوالله لا ابايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلى ام كلثوم فسلم عليها و (توجه) (٤) إلى مكة فاتي (علي) (٥) ﵀ فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: واتيت ام كلثوم فاخبرت فارسلت إلى ابيها: ما هذا الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة، فتراجع الناس (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [ط]: (مجيب).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (السماء).
(٣) في [أ، ط]: (النسب)، وفي [هـ]: (النهب).
(٤) في [ط]: (يوجب).
(٥) سقط في [ط]: (علي).
(٦) صحيح.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اہل شام تم سے محبت کرتے ہیں اور میں تمہیں ان پر عامل بناتا ہوں تم ان کے پاس چلے جاؤ، میں نے ان سے رشتہ داری اور سسرالی رشتے کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ بخدا! میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہی نہیں کرتا، کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے چھوڑا اور نکل گئے، بعد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام کلثوم کے پا س آئے، ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف چل دیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ آئے اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف چلے گئے ہیں، چناچہ انہوں نے لوگوں سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور کہا کوئی آدمی تیزی سے جائے اور اپنی چادر ان کے اونٹ کی گردن میں ڈال دے، کہتے ہیں کہ ام کلثوم کے پاس کسی نے خبر پہنچائی تو انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ وہ میرے پاس آئے، مجھ سے سلام کیا اور مکہ کی طرف گئے ہیں، چناچہ یہ سن کر لوگ واپس لوٹ آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32702، ترقيم محمد عوامة 31314)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31315 ترقیم الشثری: -- 32703
٣٢٧٠٣ - [حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: كنا نفخر على الناس باربعة: بفقيهنا و (قاصنا) (٢) ومؤذننا وقارئنا، ففقيهنا ابن عباس، ومؤذننا ابو محذورة، (وقاصنا) (٣) عبيد بن عمير، وقارئنا عبد الله بن السائب] (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (سابور).
(٢) ورد في: [أ، ب، جـ، ط]: (قاضينا).
(٣) في [أ، ب، ط، م]: (قاضينا).
(٤) تكرر الخبر في: [جـ].

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں پر چار آدمیوں کے ذریعے فخر کیا کرتے تھے، اپنے فقیہ کے ذریعے، اپنے واعظ کے ذریعے، اور اپنے مؤذن اور قاری کے ذریعے، ہمارے فقیہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے، ہمارے مؤذن ابو محذورہ تھے، ہمارے واعظ عبیدبن عمیر تھے، اور ہمارے قاری عبد اللہ بن سائب تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32703، ترقيم محمد عوامة 31315)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31316 ترقیم الشثری: -- 32704
٣٢٧٠٤ - حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: لما اجمع ابن الزبير على هدمها خرجنا إلى منى ننتظر العذاب -يعني هدم الكعبة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (سابور).
(٢) صحيح.

مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے منہدم کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ہم منیٰ کی طرف نکل گئے اور ہم عذاب کا انتظار کر رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32704، ترقيم محمد عوامة 31316)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31317 ترقیم الشثری: -- 32705
٣٢٧٠٥ - حدثنا (١) ابن عيينة عن منصور (بن) (٢) صفية عن (امه) (٣) قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب فقالوا له: هذه اسماء، فاتاها فذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإنما الارواح عند الله، (فاصبري واحتسبي) (٤) فقالت: ما يمنعني من الصبر وقد اهدي راس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (أم)، وفي [هـ]: (أمها).
(٤) تقديم وتأخير في: [م].
(٥) صحيح.

حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے! انہوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32705، ترقيم محمد عوامة 31317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31318 ترقیم الشثری: -- 32706
٣٢٧٠٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ايوب عن ابن ابي مليكة قال: اتيت اسماء بعد قتل عبد الله بن الزبير فقالت: بلغني انهم (صلبوا) (١) عبد الله منكسا وعلقوا معه الهرة، والله لوددت اني لا اموت حتى يدفع إلي فاغسله واحنطه واكفنه ثم ادفنه، (فما لبثوا) (٢) ان جاءه كتاب (عبد الملك) (٣) ان يدفع إلى اهله، قال: فاتيت به اسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [ط]: (هلكوا).
(٢) ورد في [أ، ب، ط]: (فاكتبوا).
(٣) ورد في [ط]: (عبد اللَّه).
(٤) صحيح.

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، وہ فرمانے لگیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ لوگوں نے عبد اللہ کو الٹا کر کے سولی چڑھایا ہے، اور اس کے ساتھ ایک بلی کو بھی لٹکایا ہے، بخدا میں چاہتی ہوں کہ میری موت سے پہلے مجھے اس کی نعش دی جائے تو میں اس کو غسل دوں خوشبو لگاؤں، کفن دوں اور دفن کر دوں، کچھ ہی دیر بعد عبد الملک کا خط آگیا کہ ان کی نعش کو ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے، چناچہ ان کو حضرت اسماء کے پاس لایا گیا، انہوں نے ان کو غسل دیا، خوشبو لگائی، کفن دیا اور دفنا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32706، ترقيم محمد عوامة 31318)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں