🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31299 ترقیم الشثری: -- 32687
٣٢٦٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليم) (١) بن (اخضر) (٢) قال: حدثنا ابن عون قال: كان مسلم بن يسار ارفع عند اهل البصرة (من الحسن) (٣) حتى خف مع ابن الاشعث وكف الآخر، فلم يزل ابو سعيد في علو منها وسقط الآخر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (سليمان).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (أحصر).
(٣) سقط من: [أ، ط]، وفي [هـ]: (من أبي سعيد).

ابن عون فرماتے ہیں کہ مسلم بن یسار اہل بصرہ میں حسن بصری سے زیادہ مقام کے حامل تھے یہاں تک کہ ابن الأشعث کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کا مرتبہ گھٹ گیا، اس لئے ابو سعید حسن بصری بلند مرتبہ ہی رہے اور دوسرے کا مقام گرگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32687]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32687، ترقيم محمد عوامة 31299)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31300 ترقیم الشثری: -- 32688
٣٢٦٨٨ - حدثنا زيد بن الحباب قال: اخبرني عبد الرحمن بن (ثوبان) (١) قال: (اخبرني) (٢) عمير بن هانئ قال: اخبرني منقذ صاحب الحجاج ان الحجاج لما قتل سعيد بن جبير مكث ثلاث ليال يقول: (٣) مالي ولسعيد بن جبير.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (نوف)، وفي [ط]: (نون).
(٢) في [ط، هـ]: (أخبر).
(٣) زيادة في [م]: (و).

عمیر بن ہانی فرماتے ہیں کہ مجھے حجاج کے ساتھی منقذ نے خبر دی کہ جب حجاج نے سعید بن جبیر کو قتل کیا تو تین رات تک یہی کہتا ہوا جاگتا رہا کہ سعید بن جبیر میرا کیسا دشمن ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32688]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32688، ترقيم محمد عوامة 31300)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31301 ترقیم الشثری: -- 32689
٣٢٦٨٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا شريك (عن محمد) (١) بن عبد الله المرادي عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال: بينا شاعر يوم صفين ينشد هجاء لمعاوية وعمرو بن العاص قال: وعمار يقول: (إلزق) (٢) (بالعجوزين) (٣) قال: فقال رجل: سبحان الله تقول هذا وانتم اصحاب رسول الله ﷺ فقال له عمار: إن شئت ان تجلس فاجلس، وإن شئت (ان) (٤) تذهب فاذهب (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [ط]: (عن محمد).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (الرق).
(٣) في [ط، هـ]: (الفجورين).
(٤) سقط في: [ط]: (أن).
(٥) حسن؛ شريك والمرادي وعبد اللَّه بن سلمة كلهم صدوق.

عبد اللہ بن سلیمہ فرماتے ہیں کہ صفین کی جنگ میں ایک شاعر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہجو کر رہا تھا اور عمار رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ دونوں بڑھیوں کے ساتھ چپکے رہو، کہ اس بات پر ایک آدمی نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا اور اگر جانا چاہے تو چلا جا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32689]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32689، ترقيم محمد عوامة 31301)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31302 ترقیم الشثری: -- 32690
٣٢٦٩٠ - حدثنا ابن علية عن حبيب (بن) (١) الشهيد عن محمد بن سيرين قال: كان ابن عمر يقول: رحم الله ابن الزبير اراد دنانير الشام، رحم الله مروان اراد دراهم العراق (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) صحيح.

محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عبد اللہ بن زبیر پر رحم فرمائے کہ وہ شام کے دینار چاہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ مروان پر رحم فرمائے کہ وہ عراق کے درہم چاہتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32690، ترقيم محمد عوامة 31302)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31303 ترقیم الشثری: -- 32691
٣٢٦٩١ - حدثنا ابن علية عن هشام عن الحسن قال: كتب زياد إلى الحكم بن عمرو الغفاري وهو على خراسان ان امير المؤمنين كتب ان (تصطفي) (١) له (البيضاء والصفراء) (٢) فلا تقسم بين الناس ذهبا ولا فضة، فكتب إليه: بلغني كتابك، تذكر ان امير المؤمنين كتب ان يصطفى له البيضاء والصفراء، واني وجدت كتاب الله قبل كتاب امير المؤمنين (و) (٣) انه والله: لو ان السماوات والارض كانتا رتقا على عبد ثم اتقى الله جعل الله له مخرجا، والسلام (عليكم) (٤) ، ثم قال للناس: اغدوا على مالكم، فغدوا فقسمه بينهم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يعطني)، وفي [أ، هـ]: (يصطغى).
(٢) تقديم وتأخير في: [جـ، ك، م].
(٣) سقط في: [جـ، ط].
(٤) ورد في [جـ، م]: (عليك).
(٥) صحيح.

حضرت حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو پیغام بھیجا جو خراسان کے عامل تھے کہ امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ کرلی جائے اور لوگوں کے درمیان تقسیم نہ کی جائے، انہوں نے جواب میں لکھا: مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ امیر المؤمنین نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ رکھ لیا جائے، اور میں نے امیر المؤمنین کے خط سے پہلے کتاب اللہ کو پڑھ لیا ہے، بخدا اگر آسمان و زمین کسی بندے پر بالکل بند بھی ہوجائیں پھر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ نکال دیں گے، والسلام علیکم، پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ صبح میرے پاس اپنے مال لاؤ، چناچہ وہ لائے تو آپ نے وہ سارا مال ان کے درمیان تقسیم کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32691، ترقيم محمد عوامة 31303)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31304 ترقیم الشثری: -- 32692
٣٢٦٩٢ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي قال: قال علي: ما (بال) (١) الزبير كانه رجل منا اهل البيت حتى ادركه (بنيه) (٢) عبد الله فلفته عنا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ورد في [م]: (يزال).
(٢) في [هـ]: (ابنه).
(٣) منقطع؛ عبد اللَّه بن محمد بن عمر بن علي لم يدرك عليًا بينهما طبقتان فأكثر.

عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ زبیر رضی اللہ عنہ ہمیشہ سے ہمارے ساتھ اس طرح رہے جیسے وہ ہمارے گھر کے ایک فرد ہوں یہاں تک کہ جب وہ اپنے بیٹے عبد اللہ کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان کی توجہ ہم سے ہٹا دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32692، ترقيم محمد عوامة 31304)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31305 ترقیم الشثری: -- 32693
٣٢٦٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابي (شراعة) (١) عن عبادة بن نسي قال: ذكروا الشعر عند النبي ﷺ فذكروا امرئ القيس فقال النبي ﷺ:"مذكور في الدنيا مذكور في الآخرة حامل لواء الشعر في جهنم يوم القيامة، او قال في النار" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سراعة).
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي شراعة.

عبادہ بن نُسیّ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے حضور 5 کے سامنے شعراء کا تذکرہ کیا، جب امرؤ القیس کا تذکرہ آیا تو آپ نے فرمایا: اس شاعر کا ذکر دنیا میں بھی لوگوں کی زبانوں پر رہے گا، آخرت میں بھی لوگوں کی زبانوں پر رہے گا، اور وہ قیامت کے دن جہنم میں شعر کا عَلَم اٹھائے ہوگا، یا فرمایا آگ میں شعر کا عَلَم اٹھائے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32693، ترقيم محمد عوامة 31305)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31306 ترقیم الشثری: -- 32694
٣٢٦٩٤ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق عن هنيدة بن خالد الخزاعي قال: اول راس اهدى في الإسلام راس ابن الحمق.
ھُنیدہ بن خالد خزاعی فرماتے ہیں کہ پہلا سر جو اسلام میں تحفۃً بھیجا گیا وہ ابن الحَمِق کا سر تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32694، ترقيم محمد عوامة 31306)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31307 ترقیم الشثری: -- 32695
٣٢٦٩٥ - حدثنا شريك عن ابي الجويرية الجرمي قال: كنت فيمن (سار) (١) إلى (اهل) (٢) الشام يوم (الخازر) (٣) (فالتقينا) (٤) (فهبت) (٥) الريح عليهم فادبروا فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى اصبحنا، قال: فقال إبراهيم -يعني ابن الاشتر (إني) (٦) : قتلت البارحة رجلا وإني وجدت منه ريح طيب، وما اراه إلا ابن مرجانة (٧) ، شرقت (رجلاه) (٨) وغرب راسه، او شرق راسه وغربت رجلاه، قال: فانطلقت، فإذا هو -والله- هو.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، ح، هـ]: (صار).
(٢) سقط في [ط]: (أهل).
(٣) في [ك]: (الجاذر)، وفي [أ، هـ]: (الحاذر).
(٤) في [أ، ط]: (فالتقيان).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فهب).
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) يقصد عبد اللَّه بن زياد.
(٨) ورد في [ط]: (رجلًا).

ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو جنگ خازر کے دن شام کی طرف جا رہا تھا، چناچہ ہمارا مقابلہ ہوا تو ہمارے مخالف فریق کے پڑاؤ میں تیز ہوا چل پڑی، وہ بھاگ کھڑے ہوئے، چناچہ ہم نے ان کو ساری رات صبح تک قتل کیا، ابراہیم بن اشتر کہنے لگے کہ میں نے گذشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا جس سے بہت خوشبو آرہی تھی اور میرا خیال ہے کہ وہ شخص ابن مرجانہ ہی ہوگا، میں نے اس کو اس طرح قتل کیا کہ اس کے دونوں پاؤں مشرق کی سمت گرے اور سر مغرب کی سمت، یا اس کا سر مشرق کی سمت گرا اور اس کے پاؤں مغرب کی سمت گرے، کہتے ہیں کہ میں نے چل کر دیکھا تو بخدا وہ شخص ابن مرجانہ ہی تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32695، ترقيم محمد عوامة 31307)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31308 ترقیم الشثری: -- 32696
٣٢٦٩٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني العلاء بن المنهال الغنوي قال: حدثني ابو الجهم القرشي عن ابيه قال: بلغ عليا (عني) (١) شيء فضربني اسواطا، ثم بلغه بعد ذلك ان معاوية كتب إليه، فارسل رجلين يفتشان منزله، فوجد الكتاب في منزله فقال لاحد الرجلين وهو من (العشيرة) (٢) : إنك من العشيرة فاستر علي، قال فاتيا عليا فاخبراه قال: فركب علي وركب ابي، فقال لابي: اما إنا (فتشنا) (٣) (عليه) (٤) ذلك فوجدناه باطلا، قال: ما ضربني فيه ابطل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (مني).
(٢) ورد في [ط]: (عشرة).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (فتشناه).
(٤) في [أ، ط، ح، هـ]: (عليك).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي الجهم القرشي وأبيه.

ابو جہم قریشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرے بارے میں کوئی بری خبر پہنچی تو انہوں نے مجھے کوڑے لگوائے، پھر ان کو خبر پہنچی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط لکھا ہے چناچہ انہوں نے دو آدمی میرا گھر تلاش کرنے بھیجے، انہوں نے میرے گھر میں وہ خط پالیا، تو میں نے ان میں سے ایک آدمی سے جو میرے خاندان سے تھا کہا کہ تو میرے خاندان کا ہے اس لئے میری پردہ پوشی کرنا، چناچہ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو بات بتائی، ابو جہم فرماتے ہیں کہ پھر میرے والد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نکلے تو انہوں نے ان سے فرمایا کہ ہم نے آپ کے بارے میں تحقیق کی ہے تو وہ بات باطل محض ثابت ہوئی ہے، میرے والد نے کہا کہ جس معاملے میں آپ نے مجھے کوڑے لگوائے ہیں وہ اس سے زیادہ بےاصل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32696، ترقيم محمد عوامة 31308)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں