مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32705 ترقیم الشثری: -- 34212
٣٤٢١٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ابي حصين عن (سعد) (١) بن عبيدة قال: سال رجل ابن عمر عن عثمان فذكر احسن اعماله ثم قال: لعل ذلك يسوؤك؟ فقال: اجل، (فقال) (٢) : ارغم الله بانفك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سعيد).
(٢) في [أ، ب، م]: (قال).
(٣) صحيح.
حضرت سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا: تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے اچھے اعمال کا ذکر فرمایا: پھر ارشاد فرمایا: شاید کہ تم ان کے بارے میں برا گمان رکھتے ہو؟ اس شخص نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34212، ترقيم محمد عوامة 32705)
ترقیم عوامۃ: 32706 ترقیم الشثری: -- 34213
٣٤٢١٣ - حدثنا (عبد الله) (١) بن إدريس عن محمد بن (٢) ايوب عن هلال بن ابي حميد قال: قال عبد الله (بن عكيم) (٣) : لا اعين على قتل خليفة بعد (٤) ⦗٤٦⦘ عثمان ابدا، قال: فقيل له: (واعنت) (٥) على دمه؟ قال: إني اعد ذكر مساوئه عونا على دمه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) زيادة في [أ، ب]: (قتل).
(٥) في [هـ]: (أعنت).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ١/ ٣١، ويعقوب في المعرفة ١/ ٨٨، والدولابي ١/ ٢٦٨، وابن سعد ٣/ ٨٠.
حضرت ھلال بن ابی حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عکیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: میں حضرت عثمان کے شہید ہوجانے کے بعد کبھی بھی خلیفہ کے قتل پر مدد نہیں کروں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے ان کے قتل پر مدد کی تھی؟ انہوں نے کہا: یقینا میں نے ان کے خون پر اتنی مدد کی کہ میں ان کی برائیاں شمار کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34213، ترقيم محمد عوامة 32706)
ترقیم عوامۃ: 32707 ترقیم الشثری: -- 34214
٣٤٢١٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى قال: سمعت عبد الله بن عامر يقول: لما (تشعب) (١) الناس في الطعن على عثمان قام ابي فصلى من الليل، (ثم نام) (٢) قال: (فقيل) (٣) له: قم (فاسال) (٤) الله (ان) (٥) يعيذك من الفتنة التي اعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام (٦) فمرض، قال: فما (رئي) (٧) خارجا حتى مات (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (شغب)، وفي [هـ]: (نشب).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (فقل).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فسل).
(٥) في [أ، ب]: سقطت.
(٦) في [هـ]: زيادة (فصلى).
(٧) في [أ، ب]: (رأى).
(٨) حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ٤٠٣ (٥٥٣٤)، والبخاري في الأوسط ١/ ٦٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٣٨٧، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٨، وابن شبه (١٩٤٥)، ونعيم في الفتن (٤٤١)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٠٤، وابن أبي الدنيا في المنامات (٢١٠).
حضرت یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں: کہ پس ان کو کہا گیا: کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34214، ترقيم محمد عوامة 32707)
ترقیم عوامۃ: 32708 ترقیم الشثری: -- 34215
٣٤٢١٥ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني معاوية بن صالح قال: حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: ثنا عبد الله بن قيس انه سمع النعمان بن بشير ارسله معاوية بن ابي سفيان بكتاب إلى عائشة فدفعه إليها فقالت لي: انا احدثك بحديث سمعته من رسول الله ﷺ، قلت: بلى، قالت: إني عنده ذات يوم انا وحفصة ⦗٤٧⦘ فقال:"لو كان عندنا (رجل) (١) يحدثنا"، فقلت: (يا رسول) (٢) الله ابعث (إلى) (٣) ابي بكر فيجيء فيحدثنا، قال: فسكت، فقالت حفصة: (يا رسول) (٤) الله ابعث (إلى) (٥) عمر فيحدثنا، فسكت، قالت: فدعا رجلا فاسر إليه دوننا فذهب، ثم جاء عثمان فاقبل عليه بوجهه فسمعته يقول:"يا عثمان، إن الله لعله ان يقمصك قميصا، فإن ارادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثا، قلت: يا ام المؤمنين اين كنت عن هذا الحديث؟ قالت: انسيته كاني لم اسمعه قط (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (رجلًا).
(٢) في [جـ]: (برسول).
(٣) في [م]: (إليّ).
(٤) في [جـ]: (برسول).
(٥) في [م]: (إليّ).
(٦) معلول، أخرجه ابن حبان (٦٩١٥)، والطيالسي (١٥٤٤)، وابن سعد ١/ ٤٦٨، والخلال في السنة (٤١٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٢)، وقد خالف الجماعة معاوية بن صالح فقالوا: عبد اللَّه بن عامر بدل قيس، أخرجه أحمد (٢٤٥٦٦)، والترمذي (٣٧٠٥)، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ١٠٦٩، والطبراني في الشاميين (١٩٣٤)، وأخرجه بنحوه الحاكم ٣/ ٩٩، وابن ماجه (١١٢).
حضرت عبد اللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دن میں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضور 5 کے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے عثمان: شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34215، ترقيم محمد عوامة 32708)
ترقیم عوامۃ: 32709 ترقیم الشثری: -- 34216
٣٤٢١٦ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرني موسى بن عبيدة عن إياس بن سلمة عن ابيه ان رسول الله ﷺ بايع لعثمان (إحدى) (١) يديه على الاخرى فقال الناس: هنيئا لابي عبد الله يطوف (بالبيت) (٢) آمنا، فقال رسول الله ﷺ:"لو مكث كذا وكذا سنة ما طاف حتى اطوف" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بإحدى).
(٢) سقط من: [جـ، م].
(٣) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٨٥٩٦)، وانظر: تفسير ابن كثير ٤/ ١٩٢، وأخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٥)، والطبراني (١٤٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٧٥، والروياني (١١٥٥)، وبنحوه ابن سعد ١/ ٤٦١.
حضرت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سلمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنا داہنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لی، تو لوگوں نے کہا: ابو عبد اللہ کے لیے تو خوش نصیبی ہے کہ وہ امن سے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اتنے اور اتنے سال بھی ٹھہرتا تو طواف نہ کرتا یہاں تک کہ میں طواف کرلیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34216، ترقيم محمد عوامة 32709)
ترقیم عوامۃ: 32710 ترقیم الشثری: -- 34217
٣٤٢١٧ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن سالم قال: قال عبد الله بن عمر: لقد عبتم على عثمان اشياء لو ان عمر فعلها ما عبتموها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه اللالكائي (٢٥٨٠).
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: البتہ تحقیق تم لوگ حضرت عثمان پر چند چیزوں کا عیب لگاتے ہو۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کاموں کو کیا ہوتا تو تم کبھی بھی ان پر عیب نہ لگاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34217، ترقيم محمد عوامة 32710)
ترقیم عوامۃ: 32711 ترقیم الشثری: -- 34218
٣٤٢١٨ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب قال: ثنا داود عن زياد بن عبد الله عن ام هلال ابنة وكيع عن امراة عثمان (قالت: اغفى عثمان) (١) ، فلما استيقظ قال: إن القوم يقتلونني، فقلت كلا يا امير المؤمنين، (فقال) (٢) : إني رايت رسول الله ﷺ وابا بكر وعمر، قال: فقالوا: افطر عندنا الليلة، او قالوا: (إنك) (٣) تفطر عندنا الليلة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت من: [أ، ب].
(٢) في [م]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة أم هلال، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (٥٣٦)، وابن سعد ٣/ ٧٤، وابن شبه في تاريخ المدينة (٢١٦٠)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٨٧، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان (٥٧٦).
حضرت ام ھلال بنت وکیع فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہاونگھ رہے تھے جب بیدار ہوئے تو فرمانے لگے: یقینا میری قوم مجھے قتل کر دے گی۔ تو میں نے کہا: ہرگز نہیں اے امیر المؤمنین! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے یوں فرمایا: آج رات تم ہمارے ساتھ افطار کرو یا یوں فرمایا: تم آج رات ہمارے ساتھ افطار کرو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34218، ترقيم محمد عوامة 32711)
ترقیم عوامۃ: 32712 ترقیم الشثری: -- 34219
٣٤٢١٩ - حدثنا محمد بن الحسن الاسدي قال: ثنا إبراهيم بن طهمان عن موسى بن عقبة عن جده ابي (حبيبة) (١) قال: دخلت الدار على عثمان وهو محصور، فسمعت ابا هريرة يقول: (سمعت رسول الله ﷺ يقول) (٢) :"إنكم ستلقون بعدي فتنة واختلافا"، قال: فقال له قائل: فما (تامرنا؟) (٣) فقال:"عليكم (بالامين) (٤) واصحابه"، وضرب على منكب عثمان (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حسنة).
(٢) سقطت من: [م].
(٣) في [جـ، م]: (تأمرني).
(٤) في [جـ]: (بأمير)، وفي [هـ]: (بالأمير).
(٥) حسن؛ أبو حبيبة وثقه العجلي، وذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع، وأخرجه أحمد (٨٥٤١)، والحاكم ٣/ ٩٩.
حضرت ابو حبیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا جب بلوائیوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ پس میں نے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں: کہ ایک پوچھنے والے نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر امیر اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت لازم ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ مارا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34219، ترقيم محمد عوامة 32712)
ترقیم عوامۃ: 32713 ترقیم الشثری: -- 34220
٣٤٢٢٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح قال: كان إذا ذكر قتل عثمان بكى (بكاء) (١) فكاني اسمعه يقول: هاه هاه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت من: [ب، م].
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر فرماتے تو رونے لگتے۔ گویا کہ میں اب بھی ان کے سسکنے کی آواز سن رہا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34220، ترقيم محمد عوامة 32713)
ترقیم عوامۃ: 32714 ترقیم الشثری: -- 34221
٣٤٢٢١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن خيثمة عن مسروق عن عائشة قال: قالت حين قتل عثمان: تركتموه كالثوب النقي من الدنس ثم قربتموه فذبحتموه كما يذبح الكبش، (إنما) (١) كان هذا قبل هذا، قال: فقال لها مسروق: (هذا عملك) (٢) انت كتبت إلى اناس تامرينهم بالخروج، قال: فقالت عائشة: لا والذي آمن به المؤمنون وكفر به الكافرون، ما كتبت إليهم (بسوداء) (٣) في بيضاء حتى جلست مجلسي هذا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي أخبار المدينة (٢١٥٥): (ألا)، وفي طبقات ابن سعد ٣/ ٨٢: (هلا)، وفي الاعتقاد للالكائي (٢٥٧٩): (فهلا).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (سوداء).
(٤) صحيح.
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے اس کو چھو ڑ دیا ہے جیسا کہ گندگی صاف کپڑے کو چھوڑ دیتی ہے۔ پھر تم نے ان کو قریب کر کے ذبح کردیا جیسا کہ کسی مینڈھے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی؟ تو حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا: یہ تو آپ رضی اللہ عنہ کے عمل کی وجہ سے ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کو خروج کا حکم دیا! راوی کہتے ہیں: کہ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس پر تمام مومن ایمان لائے اور کافروں نے جس کے ساتھ کفر کیا۔ میں نے کسی سفیدی پر سیاہی سے نہیں لکھا یہاں تک کہ میں اپنی اس جگہ پر بیٹھ گئی۔ امام اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34221، ترقيم محمد عوامة 32714)