🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32696 ترقیم الشثری: -- 34202
٣٤٢٠٢ - [حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: ثنا إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم بن جابر قال: سمعت عبد الله يقول حين بويع عثمان: ما الونا عن اعلى هذا فوق] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب].
(٢) صحيح.

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی گئی تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو میں نے یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگوں نے اپنے میں سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کچھ کمی نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34202]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34202، ترقيم محمد عوامة 32696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32697 ترقیم الشثری: -- 34203
٣٤٢٠٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن زياد بن ابي المليح عن ابيه قال: قال ابن عباس: لو ان الناس اجمعوا على قتل عثمان لرجموا بالحجارة كما رجم قوم لوط (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ زياد قال عنه أبو حاتم: ليس بالقوي، وليث ضعيف.
حضرت ابو الملیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: اگر سب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر یکجا ہوجاتے تو ان پر ایسے ہی پتھر برسائے جاتے جیسا کہ قوم لوط پر برسائے گئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34203]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34203، ترقيم محمد عوامة 32697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32698 ترقیم الشثری: -- 34204
٣٤٢٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد الله بن عمر عن نافع ان رجلا يقال له (جهجاه) (١) تناول عصي كانت في يد عثمان فكسرها بركبته، فرمي عن ذلك الموضع بآكلة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (جلفجاه).
(٢) منقطع، نافع لم يدرك ذلك.

حضرت عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ ایک آدمی جس کو جھجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکڑی چھین کر اس کو اپنے گھٹنے کی مدد سے توڑ دیا تو اس کے اس جگہ میں عضو کو کھانے والی بیماری ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34204]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34204، ترقيم محمد عوامة 32698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32699 ترقیم الشثری: -- 34205
٣٤٢٠٥ - حدثنا ابن مبارك عن ابن لهيعة عن زياد بن ابي حبيب قال: قال كعب: كاني انظر إلى هذا وفي يده شهابان من نار -يعني قاتل عثمان- فقتله.
حضرت زیاد بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں اس کی طرف کہ اس کے دونوں ہاتھوں میں آگ کے انگارے ہیں یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جس نے ان کو قتل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34205]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34205، ترقيم محمد عوامة 32699)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32700 ترقیم الشثری: -- 34206
٣٤٢٠٦ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل اخبرنا قيس قال: اخبرنا ابو سهلة مولى عثمان قال: قال رسول الله ﷺ في مرضه:"وددت ان عندي بعض اصحابي"، فقالت عائشة: ادعو لك ابا بكر؟ (قالت) (١) : فسكت، فعرفت انه لا يريده، فقلت: ادعو لك عمر؟ فسكت، فعرفت انه لا يريده، قلت: فادعو لك ⦗٤٣⦘ عليا؟ فسكت، فعرفت انه لا يريده، قلت: فادعو لك عثمان بن عفان؟ قال:"نعم"، فدعوته، فلما جاء اشار إلي النبي ﷺ ان تباعدي، فجاء فجلس إلى النبي ﷺ فجعل رسول الله ﷺ يقول له:"ولون عثمان يتغير" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (قلت).
(٢) مرسل؛ أبو سهلة تابعي، أخرجه أحمد (٤٠٧)، والترمذي (٣٧١١)، وابن ماجه (١١٣)، وابن حبان (٦٩١٨)، والخلال في السنة (٤١٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٨، وابن سعد ٣/ ٦٦، وأبو يعلى (٤٨٠٥)، والحاكم ٣/ ٩٩، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٣٩١، والحميدي (٢٦٨)، وإسحاق (١٧٧٦)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٦).

حضرت ابو سھلہ رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ فرماتی ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا: کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے۔ میں نے عرض کیا: کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے۔ میں نے عرض کیا: میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پس میں نے ان کو بلوا دیا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ نے مجھے بتلایا: کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا: آپ رضی اللہ عنہ قتال کیوں نہیں کرتے؟! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م کا گما ن تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34206، ترقيم محمد عوامة 32700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34207
٣٤٢٠٧ - قال قيس: فاخبرني ابو سهلة قال: لما كان يوم الدار قيل لعثمان: الا تقاتل؟ فقال: إن رسول الله ﷺ عهد إلي عهدا، وإني صابر عليه، قال: ابو سهلة فيرون انه ذلك المجلس (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو سهلة صدوق.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34207، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32701 ترقیم الشثری: -- 34208
٣٤٢٠٨ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن اعظمكم عندي (غناء) (١) من كف سلاحه ويده (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (غناه).
(٢) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے میرے نزدیک مجھے سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا وہ شخص ہوگا جو اپنے ہتھیار اور ہاتھ کو جنگ کرنے سے روک دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34208، ترقيم محمد عوامة 32701)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32702 ترقیم الشثری: -- 34209
٣٤٢٠٩ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب و (حماد) (١) قالا: ثنا (عبد الله) (٢) بن عثمان عن إبراهيم عن عكرمة عن ابن عباس في قوله: ﴿هل يستوي هو ومن يامر بالعدل وهو على صراط مستقيم﴾ [النحل: ٧٦] قال: هو عثمان بن عفان (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: سقط (حماد).
(٢) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) صحيح.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { ہَلْ یَسْتَوِی ہُوَ وَمَنْ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34209، ترقيم محمد عوامة 32702)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32703 ترقیم الشثری: -- 34210
٣٤٢١٠ - حدثنا عفان قال: ثنا سعيد بن زيد قال: ثنا عاصم بن بهدلة قال: ثنا ابو وائل عن عائشة (قالت) (١) : كان عثمان يكتب وصية ابي بكر قالت: فاغمي عليه فعجل وكتب عمر بن الخطاب، فلما افاق قال (له) (٢) ابو بكر: من كتبت؟ قال: عمر بن الخطاب، قال: كتبت الذي اردت (ان) (٣) آمرك به، ولو كتبت نفسك كنت لها اهلا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (إنه).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (الذي).
(٤) ضعيف؛ لضعف عاصم في أبي وائل.

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت لکھ رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جلدی سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام لکھ دیا۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: تم نے کس کا نام لکھا؟ انہوں نے فرمایا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے وہی بات لکھی کہ میں نے یہی چاہا تھا کہ اس کے لکھنے کا تمہیں حکم دوں۔ اور اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس منصب کے اہل تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34210، ترقيم محمد عوامة 32703)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32704 ترقیم الشثری: -- 34211
٣٤٢١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن كليب بن وائل عن حبيب بن ابي مليكة قال: سال رجل ابن عمر عن عثمان فقال: شهد بدرا؟ فقال: لا، فقال: هل شهد بيعة الرضوان؟ فقال: لا، قال: فهل تولى يوم التقى الجمعان؟ قال: نعم، قال: ثم ذهب الرجل، فقيل لابن عمر: إن هذا يزعم انك (عبت) (١) عثمان، قال: ردوه (علي) (٢) ، (قال) (٣) : (فردوه) (٤) عليه، فقال (له) (٥) : هل عقلت ما قلت لك؟ قال: نعم، قال: سالتني هل شهد عثمان بدرا فقلت لك: لا، فقال: إن رسول الله ﷺ قال:"اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك (٦) "، فضرب له (بسهمه) (٧) وسالتني هل شهد بيعة الرضوان، قال: ⦗٤٥⦘ فقلت لك: لا، وإن رسول الله ﷺ بعثه إلى الاحزاب ليوادعونا (ويسالمونا) (٨) فابوا وإن رسول الله ﷺ بايع له وقال:"اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك ﷺ (٩) "، ثم مسح بإحدى يديه على الاخرى فبايع له، وسالتني هل كان عثمان تولى يوم التقى الجمعان قال: فقلت: نعم، وإن الله قال: ﴿إن الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا ولقد عفا الله عنهم﴾ [آل عمران: ١٥٥] ، فاذهب فاجهد علي جهدك (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عتبت).
(٢) زيادة في [م]: (عليّ).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [م]: (فرد)، وفي [أ، ب، جـ]: (فردّه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ] زيادة: ﷺ
(٧) في [م]: (بسهم).
(٨) في [أ، ب]: (يسالونا).
(٩) سقط من: [م].
(١٠) صحيح؛ أخرجه أبو داود (٢٧٢٠)، والحاكم ٣/ ٩٨، والطحاوي ٣/ ٢٤٤، والطبراني ١/ (١٢٥)، وأبو يعلى (٥٥٩٩)، والمزي ٥/ ٤٠٢، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٣١١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٤)، وأصله عند البخاري (٣٦٩٨).

حضرت حبیب بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا: کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا: کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! اس نے پوچھا: کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے (غزوہ احد)؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا: اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت الرضوان میں حاضر تھے؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا: اے اللہ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوا ل کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا: جی ہاں! اور یقینا اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ: بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34211، ترقيم محمد عوامة 32704)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں