🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32724 ترقیم الشثری: -- 34232
٣٤٢٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن عمرو عن ابي سلمة قال: قال نافع بن عبد الحارث: دخل رسول الله ﷺ حائطا من حيطان المدينة، وقال لي:"امسك علي الباب"، فجاء حتى جلس على القف، ودلى رجليه في البئر، ⦗٥٣⦘ فضرب الباب فقلت من هذا؟ قال: ابو بكر، قلت: يا رسول الله، هذا ابو بكر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب فقلت: من هذا؟ (فقال) (١) : عمر، قلت: يا رسول الله، هذا عمر، فقال:"ائذن له وبشره بالجنة" قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، [ثم ضرب الباب، فقلت: من هذا؟ قال: عثمان، قلت: يا رسول الله هذا عثمان قال:"ائذن له وبشره بالجنة (مع) (٢) بلاء"، قال: فاذنت له وبشرته بالجنة، فدخل فجلس مع رسول الله ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر] (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (قال).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (معها).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) منقطع؛ أبو سلمة لم يدرك نافعًا، والخبر فيه شذوذ ونكارة، حيث رواه الجماعة كابن أبي الزناد، وصالح بن كيسان، ويونس بن يزيد من حديث أبي الزناد عن أبي سلمة عن عبد الرحمن بن نافع بن عبد الحارث عن أبي موسى، وانظر: علل الدارقطني ٧/ ٢٣٣، وتفسير القرطبي ١٢/ ٢١٧، وحديث الباب أخرجه أحمد (١٥٣٧٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٣٧)، وأبو داود (٥١٨٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٣٢)، والمزي ١٧/ ٤٥٥، والخطيب في الجامع ١/ ١٦١.

حضرت نافع بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا: کہ مجھ پر دروازہ بند کردو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ کنویں کے گرد بنی ہوئی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پس دروازہ بجایا گیا تو میں نے پوچھا: کون شخص ہے؟ اس نے کہا: ابوبکر ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ پس وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا: کون شخص ہے؟ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! یہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو آنے کی اجازت دی اور جنت کی خوش خبری بھی سنا دی۔ پس وہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا: کون شخص؟ وہ کہنے لگا! عثمان رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! یہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی اجازت دے دو۔ اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ آزمائش کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو بھی اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دی۔ پس وہ داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34232، ترقيم محمد عوامة 32724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32725 ترقیم الشثری: -- 34233
٣٤٢٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن حسين عن الحسن قال: لما عرض عمر ابنته على عثمان قال رسول الله ﷺ:"الا ادل عثمان على من هو خير منها وادلها على من هو خير لها من عثمان"، قال: فتزوجها رسول الله ﷺ وزوج عثمان (ابنته) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.

حضرت سفیان بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کا رشتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں راہنمائی نہ کروں اس شخص پر جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے۔ اور میں اس کی راہنمائی نہ کروں عثمان کے لئے اس عورت پر جو اس عورت سے بہتر ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے خود نکاح کرلیا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی بیٹی سے کروا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34233]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34233، ترقيم محمد عوامة 32725)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32726 ترقیم الشثری: -- 34234
٣٤٢٣٤ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين انه ذكر عنده عثمان فقال (رجل) (١) : إنهم يسبونه، فقال: ويحهم يسبون رجلا دخل على النجاشي في نفر من اصحاب (محمد) (٢) ﷺ (٣) فكلهم (اعطى) (٤) الفتنة غيره، قالوا: وما الفتنة التي اعطوها؟ قال: كان لا يدخل عليه (احد) (٥) إلا اوما براسه فابى عثمان، فقال: ما منعك ان تسجد كما سجد اصحابك؟ فقال: ما كنت لاسجد لاحد دون الله ﷿ (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: بياض، وسقط من: [أ، جـ].
(٢) في [ط، هـ]: (رسول اللَّه).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [هـ]: (أعطاه).
(٥) سقط من: [أ].
(٦) سقط من: [م].
(٧) مرسل؛ ابن سيرين تابعي.

حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو ایک آدمی کہنے لگا۔ یقینا لوگ تو ان کو گالیاں دیتے ہیں! اس پر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو نجاشی بادشاہ پر داخل ہوا محمد 5 کے اصحاب کے ایسے گروہ میں سے کہ سب ان کے علاوہ فتنہ میں پڑگئے تھے! لوگوں نے پوچھا: کہ وہ لوگ کس فتنہ میں پڑے تھے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص بھی اس بادشاہ پر داخل ہوتا تو وہ سر جھکا کر اس کو سلام کرتا۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، تو اس بادشاہ نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جیسا کہ تمہارے ساتھیوں نے سجدہ کیا؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ عزو جل کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34234]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34234، ترقيم محمد عوامة 32726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں