مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34222
٣٤٢٢٢ - قال الاعمش: فكانوا يرون انه كتب على لسانها.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34222، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 32715 ترقیم الشثری: -- 34223
٣٤٢٢٣ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن جعفر بن إياس عن يوسف بن ماهك (١) عن محمد بن حاطب قال: سمعت عليا يخطب يقول: ﴿إن الذين سبقت لهم منا الحسنى اولئك عنها مبعدون﴾ [الانبياء: ١٠١] ، قال: عثمان منهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) عند الطبري في التفسير ١٧/ ٩٦: (عن يوسف بن سعد وليس بابن ماهك)، وكلاهما ثقة، وانظر: تاريخ ابن عساكر ٣٩/ ٤٦٠، وأمالي المحاملي (١٩٥)، وشرح مشكل الآثار ٣/ ٢١، وفضائل الصحابة لأحمد (٧٧١)، وقد رواه ابن أبي عاصم في السنة (١٢١٦) عن المؤلف وقال: (ابن ماهك).
(٢) صحيح.
حضرت محمد بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی (بیشک وہ لوگ کہ (فیصلہ) ہوچکا ہے پہلے ہی جن کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا یہ اس سے دور رکھے جائیں گے) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہان ہی لوگوں میں سے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34223]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34223، ترقيم محمد عوامة 32715)
ترقیم عوامۃ: 32716 ترقیم الشثری: -- 34224
٣٤٢٢٤ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا هشام عن محمد بن سيرين عن عقبة بن اوس السدوسي عن عبد الله ابن (عمر) (١) قال: يكون (في) (٢) هذه الامة اثنا عشر خليفة: ابو بكر اصبتم اسمه، وعمر بن الخطاب قرن من حديد اصبتم اسمه، وعثمان بن عفان ذو النورين (اوتي) (٣) كفلين من رحمته قتل مظلوما، اصبتم اسمه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وورد (ابن عمرو) عند ابن عساكر ٣٩/ ٤٧٦ و ٦٥/ ٤٠٨، وعند الذهبي في تاريخ الإسلام ٣/ ٤٧٩.
(٢) في [م]: (على).
(٣) في [أ، ب، جـ، م]: (أي).
(٤) صحيح.
حضرت عقبہ بن اوس السَّدوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: کہ اس امت میں بارہ (12) خلیفہ ہوں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ، تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق ہوچکی۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو بہت امانت دار ہوں گے۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق بھی حاصل ہوچکی اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ذوالنورین جنہیں رحمت کی دو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اور ظلماً قتل کیا گیا۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی بھی تصدیق حاصل ہوچکی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34224، ترقيم محمد عوامة 32716)
ترقیم عوامۃ: 32717 ترقیم الشثری: -- 34225
٣٤٢٢٥ - حدثنا حسين بن علي عن مجمع قال: دخل عبد الرحمن بن ابي ليلى على الحجاج فقال لجلسائه: إذا اردتم ان تنظروا إلى رجل يسب امير المؤمنين عثمان فهذا عندكم -يعني عبد الرحمن (١) ، فقال عبد الرحمن: معاذ الله ايها الامير ان اكون اسب عثمان، إنه ليحجزني عن ذلك آية في كتاب الله قال الله: ﴿للفقراء المهاجرين الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله اولئك هم الصادقون﴾ [الحشر: ٨] ، فكان عثمان منهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب] زيادة: (ابن أبي ليلى).
حضرت مجمع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے تو وہ اپنے ہم نشینوں سے کہنے لگا: اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جو امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرتا ہو تو یہ شخص یعنی عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو۔ اس پر حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ نے فرمایا: اے امیر! اللہ کی پناہ، اس بات سے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کروں۔ یقینا کتاب اللہ میں پائی جانے والی اس آیت مبارکہ نے مجھے اس کام سے روک دیا اور محفوظ رکھا۔ اللہ نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ: نیز وہ مال) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو نکال باہر کیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنی جائدادوں سے۔ جو تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی خوشنودی، اور مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی سچے لوگ ہیں) حضرت عثمان ان لوگوں میں سے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34225، ترقيم محمد عوامة 32717)
ترقیم عوامۃ: 32718 ترقیم الشثری: -- 34226
٣٤٢٢٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني ابن لهيعة قال: حدثني يزيد بن عمرو المعافري قال: سمعت (ابا ثور) (١) الفهمي يقول: قدم عبد الرحمن بن عديس (البلوي) (٢) وكان ممن بايع تحت الشجرة فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه ثم ⦗٥١⦘ ذكر عثمان فقال ابو ثور: فدخلت على عثمان وهو محصور فقلت: إن فلانا ذكر كذا وكذا، فقال عثمان: ومن اين وقد اختبات عند الله عشرا: إني لرابع في الإسلام، وقد زوجني رسول الله ﷺ ابنته ثم ابنته، وقد بايعت رسول الله ﷺ بيدي هذه اليمنى فما مسست بها ذكري، ولا تغنيت ولا تمنيت، ولا شربت خمرا في جاهلية ولا إسلام، وقد قال رسول الله ﷺ:"من يشتري هذه (الزنقة) (٣) ويزيدها في المسجد: له بيت في الجنة"، فاشتريتها وزدتها في المسجد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م] (الأثور)، وفي [أ، ب، هـ]: (الأنور).
(٢) في [أ، ب]: (العلوي).
(٣) في [أ، هـ]: (الربعة)، والمراد الجدار المائل.
(٤) ضعيف؛ لضعف ابن لهيعة، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٨) والآحاد المثاني (١٢٧٦)، والبزار (٤٤٨)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٧، وابن شبه (٢٠١١)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٤٨٨.
حضرت یزید بن عمرو المعاصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ثور الفھمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ عبد الرحمن بن عدیس جو کہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ بلوائیوں کے پاس آیا اور منبر پر چڑھا: حمدو ثنا کے بعد اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ تو حضرت ابو ثور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محاصرے کے دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے اور ایسے کہہ رہا ہے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسی بات کیسے ہوسکتی ہے؟ حالانکہ میں نے اللہ کے پاس دس خصوصیات ذخیرہ کی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہ میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے اپنی ایک بیٹی کا نکاح کیا، پھر دوسری بیٹی کا نکاح کیا اور تحقیق میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے رسول اللہ سے بیعت کی تو پھر کبھی بھی میں نے اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اور نہ ہی میں نے کبھی عشق و معشوقی کی۔ اور نہ ہی کبھی اس چیز کی میں نے کبھی تمنا و آرزو کی۔ اور میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں کبھی شراب پی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کون شخص اس راستہ کے حصہ کو خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کرے گا تو اس کے لیے اس کے بدلہ جنت میں گھر ہوگا؟ پس میں نے اس جگہ کو خرید کر مسجد کی توسیع کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34226]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34226، ترقيم محمد عوامة 32718)
ترقیم عوامۃ: 32719 ترقیم الشثری: -- 34227
٣٤٢٢٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا مسعر قال: (حدثني) (١) عبد الرحمن بن (ابلجان) (٢) قال: ذكر عند ابن عمر عثمان وعمر فقال ابن عمر: ارايت لو كان لك بعيران احدهما قوي والآخر ضعيف اكنت (تقتل) (٣) الضعيف (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، م، هـ]: (ملحان)، وانظر: المقتنى ١/ ٢٨٢، فتح الباب في الكنى ١/ ٤٠٩، تاريخ ابن عساكر ٤٤/ ٢٧٢.
(٣) في [أ، ب]: (تقبل).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن أبلجان.
حضرت مسعر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ملحان رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تیری کیا رائے ہے کہ اگر تیرے پاس دو اونٹ ہوں جن میں سے ایک قوی ہو اور دوسرا ا کمزور ہو تو کیا تم کمزور اونٹ کو قتل کردو گے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34227]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34227، ترقيم محمد عوامة 32719)
ترقیم عوامۃ: 32720 ترقیم الشثری: -- 34228
٣٤٢٢٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ابي سلمان قال: سالت ابن عمر عن عثمان فقال: مسعر إما قال: (تحسبه) (١) ، او قال: نحسبه من خيارنا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (نحسبه).
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي سليمان.
حضرت مسعر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلیمان رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رحمہ اللہ کے متعلق سوال کیا۔ راوی فرماتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا: کہ تم ان کو ہم میں سب سے بہتر سمجھو یا یوں فرمایا: ہم لوگ ان کو اپنے میں سب سے بہترین اور افضل سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34228، ترقيم محمد عوامة 32720)
ترقیم عوامۃ: 32721 ترقیم الشثری: -- 34229
٣٤٢٢٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمران بن عمير عن كلثوم قال: سمعت ابن مسعود يقول: ما احب اني رميت عثمان بسهم -قال (مسعر) (١) : اراه اراد قتله- ولا ان لي مثل احد ذهبا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ]، وانظر: تاريخ دمشق ٣٩/ ٣٥٥، والفتن لنعيم (٤٨٢)، والسنة للخلال ٢/ ٣٢٧.
(٢) مجهول؛ لجهالة عمران بن عمير.
حضرت کلثوم فرماتی ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ یوں فرماتے تھے: کہ میں پسند نہیں کرتا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کے ارادے سے ایک تیر بھی ماروں جس کے بدلہ اگرچہ مجھے احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34229، ترقيم محمد عوامة 32721)
ترقیم عوامۃ: 32722 ترقیم الشثری: -- 34230
٣٤٢٣٠ - حدثنا محمد بن القاسم الاسدي عن الاوزاعي عن حسان بن عطية ان النبي ﷺ قال لعثمان:"غفر الله لك ما قدمت وما اخرت، وما اسررت وما اعلنت وما اخفيت وما ابديت، وما هو كائن إلى يوم القيامة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل، ضعيف جدًا؛ حسان بن عطية تابعي، أخرجه ابن عدي ٦/ ٢٤٩، وابن عساكر ٣٩/ ٥٧.
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا۔ اللہ تمہارے ان گناہوں کو بخش دے جو تم نے پہلے کیے اور جو تم بعد میں کرو گے اور جو تم نے پوشیدگی میں کیے اور جو تم نے اعلانیہ طور پر کیے۔ اور جو تم نے چھپائے اور جو تم نے ظاہر کیے اور جو کچھ قیامت کے دن تک کرو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34230]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34230، ترقيم محمد عوامة 32722)
ترقیم عوامۃ: 32723 ترقیم الشثری: -- 34231
٣٤٢٣١ - حدثنا (١) محمد بن بشر قال: ثنا مسعر قال: حدثني ابو عون عن محمد ابن حاطب قال: ذكر عثمان فقال الحسن بن علي: هذا امير المؤمنين ياتيكم الآن فيخبركم قال: فجاء علي فقال: كان عثمان من الذين: ﴿وآمنوا (وعملوا الصالحات) (٢) (٣) ثم اتقوا وآمنوا ثم اتقوا واحسنوا والله يحب المحسنين﴾ [المائدة: ٩٣] ، حتى اتم الآية (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (أبو عبد الرحمن قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا).
(٢) سقطت من: [أ، ب، م].
(٣) في [س]: زيادة (اتقوا).
(٤) صحيح.
حضرت محمد بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رحمہ اللہ کا ذکر کیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: یہ امیر المؤمنین ابھی تمہارے پاس آئیں گے تو وہ ہی تم لوگوں کو ان کے بارے میں بتائیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ اور فرمایا: کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہان لوگوں میں سے تھے پھر یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: وہ لوگ ایمان پر قائم رہے اور اچھے کام کیے پھر حرام چیزوں سے بچے اور احکام الٰہی کو مانا پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھے کام کیے۔ اور اللہ دوست رکھتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34231]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34231، ترقيم محمد عوامة 32723)