مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ما ذكر في تستر
تستر کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34514 ترقیم الشثری: -- 36087
٣٦٠٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة عن انس انه قال: شهدت فتح تستر مع الاشعري قال: فلم اصل صلاة الصبح حتى انتصف النهار وما سرني بتلك الصلاة الدنيا جميعا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تستر کی لڑائی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا۔ ایک دن میری صبح کی نماز قضا ہوگئی اور میں آدھا دن گزرنے تک نما زنہ پڑھ سکا۔ مجھے اس نماز کے بدلے ساری دنیا بھی مل جائے تو مجھے خوشی نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36087]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36087، ترقيم محمد عوامة 34514)
ترقیم عوامۃ: 34515 ترقیم الشثری: -- 36088
٣٦٠٨٨ - حدثنا ريحان بن سعيد قال: حدثني (مرزوق) (١) بن (عمرو) (٢) قال: حدثني ابو فرقد قال: كنا مع ابي موسى يوم فتحنا سوق الاهواز، فسعى رجل من المشركين، وسعى رجلان من المسلمين خلفه قال: فبينا هو يسعى ويسعيان إذ قال له احدهما: مترس، فقام الرجل فاخذاه، (فجاءا) (٣) به ابا موسى، وابو موسى يضرب اعناق الاسارى حتى انتهى الامر إلى الرجل، فقال احد الرجلين: إن هذا (٤) جعل له الامان، قال ابو موسى: وكيف جعل له الامان؟ قال: إنه كان يسعى ذاهبا في الارض فقلت له: مترس فقام، فقال (٥) ابو موسى: وما مترس؟ قال: لا تخف، قال: هذا امان، خليا سبيله، قال: (فخليا) (٦) سبيل الرجل (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (مروان).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (عمر).
(٣) في [أ]: (فجاءوا).
(٤) في [ط، هـ]: زيادة (قد).
(٥) في [جـ]: زيادة (له).
(٦) في [ب، س]: (فخلينا).
(٧) مجهول؛ لجهالة مرزوق، وأبي فرقد.
حضرت ابو فرقد فرماتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہواز کے بازار کو فتح کیا تو مشرکین کا ایک آدمی بھاگا۔ دو مسلمان بھی اس کے پیچھے بھاگے، دوڑتے ہوئے ایک مسلمان نے اس سے کہا ”مترس“ یہ سن کر وہ رک گیا، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ قیدیوں کے سر قلم کررہے تھے، جب اس آدمی کی باری آئی تو اسے پکڑنے والے مسلمانوں نے کہا کہ اسے امان دی گئی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ اسے کیسے امان دی گئی؟ اس آدمی نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اسے کہا ”مترس“ تو یہ کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ مترس کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے مت ڈرو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ یہ امان ہے۔ اس آدمی کو جانے دو۔ لہٰذا اس آدمی کو آزاد کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36088]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36088، ترقيم محمد عوامة 34515)
ترقیم عوامۃ: 34516 ترقیم الشثری: -- 36089
٣٦٠٨٩ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن ابيه عن (سديس) (١) العدوي قال: غزونا مع الامير (الابلة) (٢) ، فظفرنا (بها) (٣) (ثم انتهينا) (٤) ⦗٦٥⦘ (إلى) (٥) الاهواز (وبها ناس من الزط والاساوره فقاتلناهم قتالا شديدا) (٦) فظفرنا (بهم) (٧) واصبنا سبيا كثيرا فاقتسمناهم، فاصاب الرجل الراس والاثنين، فوقعنا على النساء، فكتب اميرنا إلى عمر بن الخطاب بالذي كان، فكتب إليه إنه لا طاقة لكم (بعمارة) (٨) الارض، خلوا ما في ايديكم من السبي، ولا تملكوا احدا منهم (احدا) (٩) واجعلوا عليهم من الخراج قدر ما في ايديهم من الارض فتركنا ما في ايدينا من السبي، فكم من ولد لنا غلبه الهماس؟ وكان فيمن اصبنا اناس من الزط يتشبهون بالعرب (يوفرون) (١٠) لحاهم وياتزرون ويحتبون في مجالسهم، فكتب فيهم إلى عمر، فكتب إليه عمر: ان ادنهم منك، فمن اسلم منهم فالحقه بالمسلمين، فلما (بلوا بالناس) (١١) لم يكن (عندهم) (١٢) (باس) (١٣) ، وكانت الاساورة اشد منهم باسا، فكتب فيهم إلى عمر فكتب إليه عمر: ان ادنهم منك فمن اسلم (منهم) (١٤) فالحقه بالمسلمين (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويوافق ما في الإصابة ٣/ ٢٥٣، وفي كتب التراجم: (شويس).
(٢) في [أ]: (الأيلة)، قال ابن الأثير في النهاية ١/ ١٦: "هي بضم الهمزة والباء وتشديد اللام: البلد المعروف قرب البصرة من جانبها البحري".
(٣) في [ب]: (به).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) في [هـ]: (بها).
(٨) في [أ، ب]: (بعمارض).
(٩) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٠) في [أ، ط، هـ]: (يؤثرون)، وفي [ب]: (يوقرون).
(١١) في [هـ]: (بلونا الناس).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (عنده).
(١٣) في [أ، ب]: (ناس).
(١٤) سقط من: [ط، هـ].
(١٥) مجهول؛ لجهالة عبد العزيز بن مهران.
حضرت سدیس عدوی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے امیر کے ساتھ ابلہ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہاں ہم کامیاب ہوئے، پھر ہم اہواز گئے، وہاں سوڈان اور اس اورہ کے لوگ تھے۔ ہم نے ان سے زبردست لڑائی کی اور ہم کامیاب ہوگئے۔ اس میں بہت سے قیدی ہمارے ہاتھ لگے اور ہم نے انہیں آپس میں تقسیم کرلیا۔ بعض لوگوں کو ایک اور بعض کو دو قیدی ملے۔ ہم نے اپنی مملوکہ عورتوں سے جماع بھی کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے ہمیں خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ تمہیں ان قیدیوں پر قبضہ جمانے کا کوئی حق نہیں، سب قیدیوں کو آزاد کردو اور تم ان میں سے کسی کے مالک نہیں ہو۔ ان کے پاس جتنی زمین ہے اس کے بقدر ان سے خراج لو۔ چناچہ اس حکم کے آنے کے بعد ہم نے سب قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جن سوڈانی لوگوں پر ہم غالب آئے تھے ان میں سے بہت سے عربوں کے مشابہ تھے۔ لمبی داڑھی رکھتے تھے، ازار باندھتے تھے اور ٹانگوں کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنے قریب کرو، ان میں سے جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ شامل کردو۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان میں سختی نہیں رہے گی۔ اس اورہ ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ان کے بارے میں بھی حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کو قریب کرو جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ ملا دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36089]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36089، ترقيم محمد عوامة 34516)
ترقیم عوامۃ: 34517 ترقیم الشثری: -- 36090
٣٦٠٩٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا ابو إسحاق عن المهلب قال: اغرنا على مناذر (١) ، واصبنا منهم، وكانه كان لهم عهد، فكتب عمر: ردوا ⦗٦٦⦘ ما اصبتم منهم، قال: فردوا حتى ردوا النساء الحبالى (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) فتح مناذر سنة ١٩ هـ كما في الإصابة ٢/ ٤٥٧، وعمر المهلب أربع عشرة سنة.
(٢) رجاله ثقات، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٣٧٧)، والبلاذري في الفتوح ص ٣٧١، وابن عساكر ٦/ ٢٨٩، وأسلم بن سهل في تاريخ واسط ص ٣٥.
حضرت مہلب فرماتے ہیں کہ ہم نے اہل مناذر پر چڑھائی کی اور ان پر غلبہ پا لیا۔ ان کا مسلمانوں کے ساتھ عہد تھا۔ جس کی وجہ سے حضرت عمر نے ہمیں خط میں لکھا کہ تم نے ان کا جو کچھ حاصل کیا ہے واپس کردو حتی کہ ان کی وہ عورتیں بھی واپس کردوجو حاملہ ہوچکی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36090]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36090، ترقيم محمد عوامة 34517)
ترقیم عوامۃ: 34518 ترقیم الشثری: -- 36091
٣٦٠٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثني عطاء بن السائب عن ابي زرعة بن (عمرو) (١) (بن) (٢) جرير ان رجلا كان ذا صوت ونكاية على العدو مع ابي موسى، فغنموا مغنما فاعطاه ابو موسى نصيبه ولم يوفه، فابى ان ياخذه إلا (جميعا) (٣) فضربه عشرين سوطا وحلقه، فجمع شعره (وذهب) (٤) إلى عمر فدخل عليه فقال جرير: وانا اقرب الناس منه، فاخرج شعره من (ضبنه) (٥) فضرب (بها) (٦) صدر عمر فقال: اما والله لولاه، فقال عمر: صدق لولا النار، فقال: مالك؟ فقال: كنت رجلا ذا صوت ونكاية على العدو، فغنمنا مغنما، واخبره بالامر، وقال: حلق راسي وجلدني عشرين سوطا يرى انه لا يقتص منه، فقال عمر: لان يكون الناس كلهم على مثل صرامة هذا احب من جميع (ما اتى) (٧) (علي) (٨) ، قال: فكتب عمر إلى ابي موسى: سلام (عليكم) (٩) ، اما بعد: فإن فلان بن فلان اخبرني بكذا وكذا، وإني اقسم عليك إن كنت فعلت به ما فعلت في ملا من الناس لما جلست في ملا منهم فاقتص منك، وإن كنت فعلت به ما فعلت في ⦗٦٧⦘ خلاء فاقعد له في خلاء فيقتص منك، فقال له الناس: اعف عنه، فقال: لا والله لا ادعه لاحد من الناس، فلما (دفع) (١٠) إليه الكتاب قعد للقصاص فرفع راسه إلى السماء وقال: قد عفوت عنه (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عمر).
(٢) في [أ، هـ]: (عن).
(٣) في [هـ]: (جمعًا).
(٤) في [هـ]: (مذهب).
(٥) في [أ، هـ]: (ضببه).
(٦) في [جـ]: (به).
(٧) في [ب]: (ما كان وفي)، وفي [س]: (ما أفي).
(٨) في [جـ]: (علينا).
(٩) في [ب، جـ]: (عليك).
(١٠) في [ط، هـ]: (رفع).
(١١) صحيح؛ رواية حماد عن عطاء قبل اختلاطه.
حضرت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھیوں میں ایک آدمی بہت بہادر اور دلیر تھا۔ جب مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ پورا نہ دیا۔ اس نے کم حصہ لینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے لگوائے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بال ان کے سینے پر مارے اور کہا کہ خدا کی قسم! اگر وہ نہ ہوتی! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے کہ اگر جہنم نہ ہوتی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ساری بات بتائی اور کہا کہ حضرت ابو موسیٰ کا خیال ہے کہ ان سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان برابری کرنا میرے نزدیک مال غنیمت کے حصول سے بہتر ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں سلام کے بعد فرمایا کہ فلاں بن فلاں نے مجھے یہ خبر دی ہے اور میں تمہیں قسم دے کر کہتاہوں کہ اگر تم نے اس کے ساتھ یہ زیادتی لوگوں کے سامنے کی ہے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اسے بدلہ دو اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں اسے بدلہ دو۔ لوگوں نے حضرت عمر سے درخواست کی کہ انہیں معاف فرمادیجئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں انصاف کو کسی کے لئے پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جب خط انہیں ملا تو وہ بدلے کے لئے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا لیکن اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36091، ترقيم محمد عوامة 34518)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36092
٣٦٠٩٢ - وقال حماد ايضا: فاعطاه ابو موسى بعض سهمه، وقد قال ايضا جرير: وانا اقرب القوم (منه) (١) ، (قال: وقال) (٢) ايضا: قد عفوت عنه لله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [جـ]: تقديم وتأخير (وقال: قال).
(٣) منقطع؛ حماد لم يدرك أبا موسى.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36092، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34519 ترقیم الشثری: -- 36093
٣٦٠٩٣ - حدثنا عفان قال: (ثنا) (١) ابو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن سماك بن سلمة ان المسلمين لما فتحوا تستر وضعوا بها وضائع المسلمين، وتقدموا لقتال عدوهم، قال: فغدر بهم دهقان تستر فاحمى لهم تنورا، وعرض عليهم لحم الخنزير و (الخمر) (٢) او التنور، قال: فمنهم من اكل فترك، قال: فعرض على (نهيت) (٣) ابن الحارث (الضبي) (٤) فابى، فوضع في التنور، قال: ثم إن المسلمين رجعوا فحاصروا اهل المدينة حتى صالحوا الدهقان، فقال ابن اخ (لنهيت) (٥) لعمه: يا عماه هذا قاتل (نهيت) (٦) ، قال: يا ابن اخي إن له ذمة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [أ، هـ]: (الحمير).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
(٤) في [ب]: (الصبي).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
(٦) في [أ، ط، هـ]: (نهيب)، وانظر: المحرر الوجيز ١/ ٤٢٠.
حضرت سماک بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے تستر کو فتح کیا اور دشمن سے قتال کے لئے آگے بڑھ گئے تو وہاں کے ایک مالدار آدمی نے مسلمان مجاہدین سے غداری کی اور انہیں گرفتار کرلیا۔ پھر اس نے ایک تنور جلایا اور ان کے ساتھ خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور ان سے کہا کہ یا تو یہ کھالو یا تنور میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ چناچہ جس نے شراب پی لی اور خنزیر کا گوشت کھالیا اسے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نہیب بن حارث کے سامنے یہ چیزیں پیش کی گئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اور اس پر انہیں تنور میں ڈال دیا گیا مسلمان جب جنگی مہمات سے واپس آئے اور شہر کا محاصرہ کیا اور تستر والوں سے صلح ہوئی تو اس مالدار آدمی سے بھی صلح ہوگئی۔ ایک دن حضرت نہیب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جان یہ آدمی نہیب کا قاتل ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے عہد میں آچکے ہیں اس لئے اب ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جب اس سارے واقعہ کی اطلاع حضرت عمر کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیب پر رحم فرمائے اگر وہ مجبوری میں جان بچانے کے لئے وہ چیزیں کھالیتے تو کوئی گناہ نہ ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36093، ترقيم محمد عوامة 34519)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36094
٣٦٠٩٤ - قال سماك: بلغني ان عمر بلغه ذلك فقال: يرحمه الله وما عليه لو كان اكل (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ سماك لم يدرك عهد عمر.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36094، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34520 ترقیم الشثری: -- 36095
٣٦٠٩٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (العلاء) (١) بن المنهال قال: حدثنا عاصم ابن كليب الجرمي قال: حدثني ابي قال: حاصرنا (توج) (٢) وعلينا رجل من بني سليم يقال: له مجاشع بن مسعود، قال: فلما فتحناها، قال: وعلى قميص (خلق) (٣) قال: فانطلقت إلى قتيل من القتلى (الذين) (٤) قتلنا (من العجم) (٥) ، قال: فاخذت قميص بعض اولئك القتلى، قال: وعليهم الدماء، قال: فغسلته بين احجار ودلكته حتى انقيته ولبسته ودخلت القرية، فاخذت إبرة وخيوطا (فخطت) (٦) قميصي، فقام مجاشع فقال: يا ايها الناس لا تغلوا شيئا، من غل شيئا جاء به يوم القيامة ولو كان مخيطا، قال: فانطلقت إلى ذلك القميص فنزعته وانطلقت إلى قميصي فجعلت افتقه، حتى والله يا بني جعلت اخرق قميصي توقيا على الخيط ان (ينقطع) (٧) فانطلقت بالقميص والإبرة (والخيوط) (٨) الذي كنت اخذته من المقاسم فالقيته فيها، ثم ما ذهبت من الدنيا حتى رايتهم يغلون (الاوساق) (٩) ، فإذا قلت: اي شيء؟ قالوا: نصيبنا من الفيء اكثر من هذا (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (العلي).
(٢) في [أ، ب]: (نوح)، وفي [هـ]: (بوج).
(٣) في [أ، ب]: (حلق).
(٤) في [أ، ب]: (الذي).
(٥) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٦) في [أ، هـ]: (فخيط).
(٧) في [ب، هـ]: (يقطع).
(٨) في [هـ]: (الخيط).
(٩) في [أ، جـ، ط، هـ]: (الأسواق).
(١٠) حسن؛ كليب صدوق.
حضرت کلیب جرمی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے توج نامی علاقے کا محاصرہ کیا تو ہماری قیادت بنوسلیم کے مجاشع بن مسعود کے ہاتھ تھی۔ جب ہم نے توج کو فتح کیا تو اس وقت میرے بدن پر ایک پرانی قمیص تھی۔ میں ایک عجمی مقتول کے پاس گیا اور میں نے اس کی قمیص اتاری، اسے دھویا اور صاف کرکے پہن کے بستی میں داخل ہوا۔ بستی میں سے میں نے ایک سوئی اور دھاگا لیا اور اپنی قمیص کو سی لیا۔ اس کے بعد حضرت مجاشع نے مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو! کسی قسم کی خیانت نہ کرو، جس نے خیانت کی اسے قیامت کے دن خیانت کا حساب چکانا ہوگا خواہ وہ ایک سوئی ہی کیوں نہ ہو۔ پھر میں نے اس قمیص کو اتارا اور اپنی قمیص کے اس حصہ کو دوبارہ پھاڑ دیا جو اس دھاگے سے سیا تھا۔ پھر میں نے وہ سوئی اور دھاگا وہیں رکھ دیئے جہاں سے اٹھائے تھے۔ پھر میں نے اپنی زندگی میں وہ زمانہ دیکھاجب لوگ وسق کے وسق میں خیانت کرتے تھے، اگر ان سے کہا جائے کہ یہ کیا کررہے ہو تو کہتے ہیں کہ غنیمت میں ہمارا حصہ اس سے زیادہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36095، ترقيم محمد عوامة 34520)
ترقیم عوامۃ: 34521 ترقیم الشثری: -- 36096
٣٦٠٩٦ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عبد الرحمن عن ابيه قال: لما قدم (على) (١) عمر فتح تستر وتستر من ارض البصرة، سالهم: هل من (مغربة) (٢) قالوا: رجل من المسلمين لحق بالمشركين فاخذناه، قال: ما صنعتم به؟ قالوا: قتلناه، قال: افلا ادخلتموه بيتا واغلقتم عليه بابا واطعمتموه كل يوم رغيفا (ثم) (٣) (استتبتموه) (٤) ثلاثا، فإن تاب وإلا قتلتموه ثم قال: اللهم لم اشهد ولم آمر ولم ارض إذ بلغني او حين بلغني (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (معربة).
(٣) في [هـ]: (حتى).
(٤) في [ب]: (استبتموه).
(٥) منقطع ضعيف؛ محمد بن عبد الرحمن هو ابن أبي ليلى، سيئ الحفظ ولم يسمع أباه.
حضرت محمد بن عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تستر کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی عجیب بات پیش آئی؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک مسلمان مرتد ہوکر مشرکین سے جاملا، ہم نے اس پکڑ لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے پھر اس کا کیا کیا؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے قید میں کیوں نہ رکھا، تمہیں چاہئے تھا کہ اسے تین دن قید میں رکھتے، اسے روزانہ ایک روٹی دیتے اور اسلام میں واپس آنے کا کہتے۔ اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک وگرنہ تم اسے قتل کردیتے۔ پھر حضرت عمر نے دعا کی کہ اے اللہ! تو گواہ رہنا میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا اور میں اس پر راضی بھی نہیں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36096، ترقيم محمد عوامة 34521)