مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35461 ترقیم الشثری: -- 37039
٣٧٠٣٩ - حدثنا عبد الله بن نمير عن (ابان) (١) بن إسحاق عن الصباح بن محمد الاحمسي عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"استحيوا من الله حق الحياء"، قال: قلنا: إنا لنستحي (٢) يا رسول الله (ﷺ؟) (٣) قال:"ليس ذلك، ولكن من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الراس وما حوى، وليحفظ (البطن وما وعى) (٤) ، وليذكر الموت والبلى، ومن اراد الآخرة ترك زينة الدنيا، فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع، هـ]: (محمد)، والتصويب من مسند ابن أبي شيبة (٣٤٣)، وكتب التخريج والتراجم.
(٢) في [أ]: زيادة (من اللَّه).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٤) في [أ، ب]: (النظر وما دعا).
(٥) ضعيف؛ الصباح ضعيف، أخرجه أحمد (٣٦٧١)، والترمذي (٢٤٥٨)، والحاكم ٤/ ٤٢٣، وأبو يعلى (٥٠٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٧٣٠)، والطبراني (١٠٢٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٠٩.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسا کہ حیا کا حق ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو حیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حیا نہیں بلکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کرے جیسا کہ حیا کا حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ پیٹ اور اس میں موجود اعضاء کی حفاظت کرے، اور اس کو چاہیے کہ وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد کرے اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے تو وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ کام کرلے تو پس تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے میں حق ادا کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37039، ترقيم محمد عوامة 35461)
ترقیم عوامۃ: 35462 ترقیم الشثری: -- 37040
٣٧٠٤٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حميد عن انس ان رسول الله ﷺ كانت له ناقة يقال لها (العضباء) (١) لا (تسبق) (٢) ، فجاء اعرابي على قعود فسبقها فشق ⦗٢٥٧⦘ على المسلمين فقالوا: يا رسول الله سبقت (العضباء) (٣) ، فقال رسول الله ﷺ:"إنه حق (ان) (٤) لا يرتفع منها شيء إلا وضعه"، -يعني الدنيا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الغضباء).
(٢) في [س]: (تستبق).
(٣) في [هـ]: (الغضباء).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٢٨٧١)، وأحمد (١٢٠١٠).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کو عضباء کہا جاتا تھا۔ اس اونٹنی سے آگے نہیں گزرا جاسکتا تھا۔ پس ایک اعرابی ایک جوان اونٹ پر بیٹھ کر آیا اور اس اونٹنی سے آگے نکل گیا۔ تو یہ بات مسلمانوں کو بہت شاق گزری۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پر سبقت کردی گئی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک یہ بات اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ اس دنیا سے جو چیز بھی بلندی حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیچا (بھی) کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37040، ترقيم محمد عوامة 35462)
ترقیم عوامۃ: 35463 ترقیم الشثری: -- 37041
٣٧٠٤١ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك (عن) (١) النعمان بن بشير قال: (سمعته) (٢) يقول: الستم في طعام وشراب ما شئتم، لقد (رايت) (٣) نبيكم ﷺ (٤) (وما) (٥) يجد من الدقل (٦) ما يملا به بطنه (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [ب]: (سمعت).
(٣) في [س]: (رأى).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [هـ]: (ما).
(٦) الدقل: رديء التمر اليابس.
(٧) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٩٧٧)، وأحمد (١٨٣٠٥٦).
حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو یہ کہتے سنا: کیا تم اپنی چاہت والے کھانے اور مشروبات میں نہیں ہو؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ ان کے پاس گھٹیا اور خشک کھجوریں بھی اتنی مقدار میں موجود نہیں تھیں کہ جس کے ذریعہ سے وہ اپنا پیٹ بھر لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37041، ترقيم محمد عوامة 35463)
ترقیم عوامۃ: 35464 ترقیم الشثری: -- 37042
٣٧٠٤٢ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن ابي (بردة) (١) قال: دخلت على عائشة فاخرجت لي إزارا غليظا من الذي يصنع باليمن وكساء من هذه الاكسية التي تدعونها (الملبدة) (٢) فاقسمت لي: لقبض رسول الله ﷺ (فيهما) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (برزة).
(٢) في [ب]: (المبلدة).
(٣) في [س]: (فيها).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٨١٨)، ومسلم (٢٠٨٠).
حضرت ابوبردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے ایک موٹا ازار نکال کر دکھایا۔ یہ ازار ان کپڑوں سے بنا ہوا تھا جو یمن میں بنائے جاتے ہیں۔ اُن چادروں میں سے ایک چادر نکالی جس کو تم پیوند لگی چادر کہتے ہو۔ پھر مجھے قسم کھا کر کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک انہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37042، ترقيم محمد عوامة 35464)
ترقیم عوامۃ: 35465 ترقیم الشثری: -- 37043
٣٧٠٤٣ - حدثنا (عبد الله) (١) بن إدريس عن محمد بن (عمارة) (٢) عن عبد الله ابن عبد الرحمن (بن) (٣) معمر عن رجل من بني سالم او (فهم) (٤) ان النبي ﷺ اتي بهدية، فنظر فلم يجد شيئا يجعلها فيه، فقال:"ضعه بالحضيض، فإنما هو عبد ياكل كما ياكل العبد، ويشرب كما يشرب العبد، ولو كانت الدنيا تزن عند الله جناح بعوضة ما (سقى) (٥) (منها) (٦) كافرا شربة ماء" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (محمد بن عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عمار)، وفي [هـ]: (عمر).
(٣) في [جـ]: (عن).
(٤) في [س]: (فهيم)، وفي المطبوع من مسند المؤلف: (فهر).
(٥) في [أ، ب]: (أسقى).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) مرسل؛ ابن معمر لا يروي عن أحد من الصحابة، وقد أخرجه المصنف في المسند (٩٦٣)، كما في المطالب (٣٨٣١)، وأخرجه من غير ذكر الرجل المبهم: ابن أبي الدنيا في ذم الدنيا (٣٦٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٤٦٩).
قبیلہ بنو سالم … یا فہم … کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہدیہ لایا گیا۔ پس آپ نے (اردگرد) دیکھا تو آپ کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس میں آپ اس کو رکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو زمین پر (ہی) رکھ دو۔ سو یہ بھی ایک بندہ ہے جو اور بندوں کی طرح کھاتا ہے۔ اور اسی طرح پیتا ہے جس طرح اور بندے پیتے ہیں۔ اور اگر دنیا کا وزن اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے بقدر بھی ہوتا تو کوئی کافر دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پی سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37043، ترقيم محمد عوامة 35465)
ترقیم عوامۃ: 35466 ترقیم الشثری: -- 37044
٣٧٠٤٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (محمد بن عمرو قال: حدثنا ابو سلمة) (١) قال: قال معاذ بن جبل: اي رسول الله اوصني، قال:"اعبد الله كانك تراه، واعدد نفسك من الموتى، واذكر الله عند كل حجر وشجر، وإذا عملت السيئة فاعمل بجنبها حسنة، السر بالسر والعلانية بالعلانية" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أبو معاوية)، وسقط ما بين القوسين، وفي [س]: سقط (محمد بن عمرو).
(٢) منقطع؛ أبو سلمة لم يدرك معاذ، أخرجه هناد (١٠٧٢)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٢٢)، والطبراني ٢٠/ (٣٧٤).
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! آپ مجھے کوئی وصیت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی عبادت یوں کرو کہ گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اور تم اپنے نفس کو مردوں میں شمار کرو۔ اور اللہ کا ذکر ہر درخت اور پتھر کے پاس کرو، اور جب تم کوئی گناہ کر بیٹھو تو اس کے پیچھے ہی کوئی نیکی کرلو۔ پوشیدہ کے بدلہ پوشیدہ اور اعلانیہ کے بدلہ اعلانیہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37044، ترقيم محمد عوامة 35466)
ترقیم عوامۃ: 35467 ترقیم الشثری: -- 37045
٣٧٠٤٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثنا ابو سلمة قال: كان رسول الله ﷺ يقول:"اكثروا ذكر هاذم (١) اللذات" -يعني الموت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الرواية بالذال، أي: قاطع اللذات.
(٢) مرسل؛ أبو سلمة تابعي، وانظر: ما بعده.
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تم لذتوں کو توڑنے والی چیز … یعنی موت … کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37045، ترقيم محمد عوامة 35467)
ترقیم عوامۃ: 35468 ترقیم الشثری: -- 37046
٣٧٠٤٦ - [حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن إبراهيم قال: حدثنا محمد ابن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"اكثروا ذكر هاذم اللذات" -يعني الموت] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، س، ع].
(٢) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، ومحمد بن إبراهيم والد المؤلف ثقة، وقد روى عنه بواسطة مما يدلك على ثقة المؤلف واحتياطه، والخبر أخرجه أحمد (٧٩٢٥)، والنسائي ٤/ ٤ (١٩٥٠)، والترمذي (٢٣٠٧)، وابن ماجه (٤٢٥٨)، وابن حبان (٢٩٩٢)، والحاكم ٤/ ٣٢١، ونعيم بن حماد في زوائد الزهد (١٤٦)، والطبراني في الأوسط (٨٥٦٠)، والخطيب ١/ ٣٨٤، والقضاعي في مسند الشهاب (٦٦٩)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٥٩)، وابن النجار في تكملة تاريخ بغداد ١٦/ ٢٨٣، وابن الجوزي في العلل (١٤٧٩)، وابن عدي ٥/ ٢٢٢، والمزي ٢٤/ ٣٢٠، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٨٢.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لذتوں کو توڑنے والی چیز … یعنی موت … کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37046، ترقيم محمد عوامة 35468)
ترقیم عوامۃ: 35469 ترقیم الشثری: -- 37047
٣٧٠٤٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن (سابط) (١) قال: ذكر رجل عند النبي ح فاحسن عليه الثناء، فقال النبي ﷺ:"كيف ذكره للموت؟" فلم يذكر ذلك، (فقال) (٢) :"ما هو كما تذكرون" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (سامة).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) مرسل؛ ابن سابط تابعي.
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا اور اس کی اچھی تعریف کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا موت کو یاد کرنے کا رویہ کیسا ہے؟“ تو یہ بات ان کے حوالہ سے ذکر نہیں کی گئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ایسا نہیں ہے جیسا تم نے ذکر کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37047، ترقيم محمد عوامة 35469)
ترقیم عوامۃ: 35470 ترقیم الشثری: -- 37048
٣٧٠٤٨ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن ابي جعفر الرازي عن الربيع قال: قال رسول الله ﷺ:"كفى بالموت مزهدا في الدنيا ومرغبا في الآخرة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الربيع بن أنس تابعي، وأخرجه البيهقي في الشعب (١٠٥٥٥).
حضرت ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا سے بےرغبتی دلانے اور آخرت کا شوق دلانے کے لیے موت ہی کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37048، ترقيم محمد عوامة 35470)