مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35452 ترقیم الشثری: -- 37029
٣٧٠٢٩ - حدثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن منصور عن ابي وائل عن سمرة بن سهم قال: دخل معاوية على خاله فذكر مثل حديث ابي معاوية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة سمرة بن سهم، أخرجه أحمد (٢٢٤٩٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٥٦٠) والنسائي ٨/ ٢١٨، وابن ماجه (٤١٠٣)، وابن حبان (٦٦٨)، والطبراني (٧١٩٩)، والبيهقي في الشعب (١٠٣٩٢)، وانظر: ما قبله.
حضرت سمرہ بن سہم کہتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہاپنے ماموں کے ہاں تشریف لے گئے، اس کے بعد راوی نے گزشتہ واقعہ نقل فرمایا اور کہا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اس روایت میں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماموں کا یہ قول بھی نقل فرمایا ہے: اے کاش ہمارے چاروں طرف کامل دائمی فقر ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37029]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37029، ترقيم محمد عوامة 35452)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 37030
٣٧٠٣٠ - (وقال) (١) : زاد فيه سفيان الثوري بإسناده: يا ليته كان (بعرا) (٢) حولنا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (قال).
(٢) في [جـ]: (هرًا)، وفي [أ]: (مرًا)، وفي [س]: (معبرًا).
(٣) أخرجه الدينوري في القناعة (٤٠) عن سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37030، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 35453 ترقیم الشثری: -- 37031
٣٧٠٣١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن اشياخه قال: دخل سعد بن ابي وقاص على سلمان يعوده فبكى، قال: فقال له سعد: ما يبكيك ابا عبد الله؟ توفي رسول الله ﷺ وهو عنك راض، وتلقاه وترد عليه الحوض، فقال سلمان: اما إني لا ابكي جزعا من الموت، ولا حرصا على الدنيا، ولكن رسول الله ﷺ عهد إلينا فقال:" (لتكن) (١) بلغة احدكم مثل زاد الراكب"، قال: وحولي هذه ⦗٢٥٣⦘ (الاساود) (٢) ، قال: وإنما حوله وسادة وجفنة ومطهرة، فقال سعد: يا ابا عبد الله اعهد إلينا عهدا ناخذ به من بعدك، فقال: يا سعد اذكر الله عند همك إذا هممت، وعند حكمك إذا حكمت، وعند يدك إذا قسمت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لكن)، وفي [س، ع]: (ليكن).
(٢) في [ط، هـ]: (الأساودة).
(٣) مجهول؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٥٢)، وابن سعد ٤/ ٩٠، والحاكم ٤/ ٣١٧، وأبو عبيدة ٤/ ١٣٣ و ٤/ ١٣٧، وهناد في الزهد (٥٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٩١، والبيهقي في الشعب (١٠٣٩٥)، كما أخرجه أحمد (٢٣٧١١)، وابن حبان (٧٠٦)، وابن ماجه (٤١٠٤)، ووكيع في الزهد (٦٧)، وعبد الرزاق (٢٠٦٣٢)، وابن سعد ٤/ ٦١، والمروزي في زيادات زهد ابن المبارك (٩٦٦)، والطبراني (٦٠٦٩)، وابن أبي عاصم في الزهد (١٦٩)، والدولابي ١/ ٧٨.
حضرت ابو سفیان اپنے مشایخ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے وہ رونے لگے۔ راوی کہتے ہیں: تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: آپ کو کس بات نے رلا دیا؟ حالانکہ رسول اللہ e نے اس حال میں رحلت فرمائی کہ وہ آپ سے راضی تھے، آپ (روز قیامت) ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کریں گے اور حوض کوثر پر بھی ان کے پاس تشریف لے جائیں گے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: میں موت سے وحشت یا دنیا سے لگاؤ کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ (مجھے تو یہ بات غمگین کئے ہوئے ہے کہ رسول اللہ e نے ہمیں (یہ) وصیت فرمائی تھی: تمہارے گزر بسر کا انحصار صرف اتنی مقدار پر ہونا چاہئے جتنا ایک سوار (مسافر) کا توشہ ہوتا ہے۔ جب کہ میرے اردگرد یہ تکئے رکھے ہوئے ہیں (جو کہ مسافر کے توشہ سے زائد چیز ہے)۔ راوی کہتے ہیں: حالانکہ ان کے پاس صرف ایک تکیہ، ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا رکھا تھا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو عبداللہ! آپ بھی ہمیں کوئی وصیت فرمائیں جسے ہم آپ کے بعد اپنائے رکھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے سعد! (تین موقعوں پر) اللہ تعالیٰ کو (خصوصیت سے) یاد رکھو، (اول) اس وقت جب تمہیں کوئی غم لاحق ہو، (دوسرا) اس وقت جب تم کوئی فیصلہ کرنے لگو، اور (تیسر ١) اس وقت جب تم (شرکاء کے درمیان کوئی ایسی) تقسیم کرنے لگو (جس میں شرعا برابری لازم ہو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37031، ترقيم محمد عوامة 35453)
ترقیم عوامۃ: 35454 ترقیم الشثری: -- 37032
٣٧٠٣٢ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا معاوية (النصري) (١) عن نهشل عن الضحاك بن مزاحم عن الاسود قال: قال عبد الله: لو ان اهل العلم صانوا علمهم ووضعوه عند اهله لسادوا به اهل زمانهم، ولكنهم بذلوه لاهل الدنيا لينالوا به من دنياهم، فهانوا على اهلها، سمعت نبيكم ﷺ (٢) يقول:"من جعل الهموم هما واحدا كفاه الله هم آخرته، ومن تشعبت به الهموم واحوال الدنيا لم يبال الله في اي اوديتها وقع" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (البصري).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) ضعيف جدًا؛ نهشل متروك، أخرجه ابن ماجه (٢٥٧)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد الزهد (١١٩)، وابن أبي عاصم في الزهد (٢٧٤)، وابن أبي حاتم في العلل (١٨٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ١٠٥، والآجري في الأخلاق (٥٩)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ١٨٧.
حضرت اسود کہتے ہیں: عبد اللہ نے فرمایا: اگر اہل علم اپنے علم کی حفاظت کریں، اور اس (علم) کو ان ہی لوگوں میں پھیلائیں جو اس کے اہل ہیں، تو وہ اس کے باعث اہل زمانہ پر حکومت کریں۔ لیکن انہوں نے وہ علم اہل دنیا میں لٹا ڈالا تاکہ اس کے ذریعہ ان سے ان کی دنیا (کا مال و دولت اور فوائد) حاصل کریں۔ تو وہ اہل دنیا میں رسوا ہو (کر رہ) گئے۔ میں نے تمہارے نبی e کو (یہ) فرماتے سنا ہے: جس نے اپنی تمام فکروں میں سے ایک (دین کی فکر) کو اختیار کرلیا، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کے لئے کافی ہوجائیں گے۔ اور جس شخص کو (دنیاوی) فکروں اور دنیا کے حالات نے (الجھا کر) متفرق (خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا) کر ڈالاتو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ وہ (مصائب و گمراہی کی) کس وادی میں جا پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37032]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37032، ترقيم محمد عوامة 35454)
ترقیم عوامۃ: 35455 ترقیم الشثری: -- 37033
٣٧٠٣٣ - حدثنا ابن إدريس عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن ابي جعفر قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الإيمان إذا دخل القلب انفسح له القلب وانشرح وذكر هذه الآية: ﴿فمن يرد الله ان يهديه يشرح صدره للإسلام﴾ [الانعام: ١٢٥] ". ⦗٢٥٤⦘ (قالوا) (١) : يا رسول الله وهل لذلك من آية يعرف (بها؟) (٢) قال:"نعم الإنابة إلى دار الخلود، (والتجافي) (٣) عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل الموت" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [س]: (المتجافي).
(٤) مرسل؛ أبو جعفر المدائني عبد اللَّه بن مسور تابعي متروك، وأخرجه ابن أبي حاتم (٧٨٧٢)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ١/ ٤٥٣، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣٦٠، وسعيد بن منصور ٢/ ١١، وورد عن عبد اللَّه بن مسور عن أبيه في تاريخ أصبهان ١/ ٤٦٤.
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب ایمان دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کھل جاتا ہے اور اس میں انشراح پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی { فَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ } لوگوں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے اسے پہچانا جائے؟ آپ نے فرمایا اس کی علامت آخرت کی طرف رجوع، دھوکے کے گھر سے بیزاری اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37033]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37033، ترقيم محمد عوامة 35455)
ترقیم عوامۃ: 35456 ترقیم الشثری: -- 37034
٣٧٠٣٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عمرو بن قيس عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن (مسعود) (١) قال: تلا رسول الله ﷺ: ﴿ (فمن) (٢) يرد الله ان يهديه يشرح صدره للإسلام﴾، فقالوا: يا رسول الله وما هذا الشرح؟ قال:"نور يقذف به في القلب فينفسح له القلب"، قال: فقيل: فهل لذلك من امارة يعرف بها؟ قال:"نعم"، (قيل: وما هي؟) (٣) قال:"الإنابة إلى دار الخلود، والتجافي عن دار الغرور، والاستعداد للموت قبل لقاء الموت" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في جميع النسخ، ولعلها: (مسور) كما عند ابن أبي حاتم.
(٢) في [ط، هـ]: (من).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) منقطع معلول؛ عمرو بن مرة لا يروي عن ابن مسعود، وورد من طريق زيد بن أبي أنيسة عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن ابن مسعود، وأخرجه ابن جرير ٨/ ٢٧، وابن عساكر ٤/ ٤٦٢، وأخرجه ابن أبي حاتم (٧٨٧٢) بإسناد عن أبي خالد عن عمرو بن قيس عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن المسور ولعله أصوب، وورد من حديث عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن عبد اللَّه ابن مسعود عند البغوي في التفسير ٤/ ٧٦، والثعلبي ٨/ ٢٢٩، والبيهقي في الزهد (٩٧٤).
حضرت عبداللہ بن مسور فرماتے ہیں کہ حضور 5 نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی { فمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ } لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ شرح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جب یہ دل میں آتا ہے تو دل کھل جاتا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے اسے پہچانا جائے؟ آپ نے فرمایا اس کی علامت آخرت کی طرف توجہ، دھوکے کے گھر سے بیزاری اور مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37034]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37034، ترقيم محمد عوامة 35456)
ترقیم عوامۃ: 35457 ترقیم الشثری: -- 37035
٣٧٠٣٥ - حدثنا ابو معاوية ويعلى عن الاعمش (عن) (١) زيد بن وهب عن ابي ذر قال: قال (لي) (٢) النبي ﷺ:"انظر يا ابا ذر ارفع رجل تراه في المسجد"، قال: فنظرت فإذا برجل عليه حلة فقلت: هذا، قال: فقال:"انظر اوضع رجل تراه في المسجد"، قال: فنظرت فإذا (رجل) (٣) عليه اخلاق، فقلت: هذا، فقال: هذا خير من ملا الارض من هذا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ، ب]: (برجل)، وفي [س]: (نظر).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٣٩٦)، وهناد في الزهد (٨١٥)، والبزار (٣٩٧٩)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١١٥، وانظر ما بعده.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ دیکھ تمہیں مسجد میں سب سے زیادہ عالی شان شخص کون نظر آرہا ہے؟ میں نے غور کیا تو مسجد میں ایک آدمی ایسا تھا جس کے بدن پر عمدہ لباس تھا۔ میں نے کہا یہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مسجد میں سب سے زیادہ کم تر شخص کون سا ہے؟ میں نے غور کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کے جسم پر بوسیدہ لباس ہے میں نے عرض کیا کہ یہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر پہلے جیسوں سے ساری زمین بھی بھر جائے تو یہ دوسرا ان سب سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37035]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37035، ترقيم محمد عوامة 35457)
ترقیم عوامۃ: 35458 ترقیم الشثری: -- 37036
٣٧٠٣٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة عن ابي ذر عن النبي ﷺ بمثله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ ولا يبعد من مثل الأعمش أن يروي الحديث من طريقين، أخرجه أحمد (٢١٣٩٥)، ووكيع في الزهد (١٤٤)، وابن حبان (٦٨١)، والبزار (٤٠١٨)، وانظر ما قبله.
ایک اور راوی سے یونہی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37036]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37036، ترقيم محمد عوامة 35458)
ترقیم عوامۃ: 35459 ترقیم الشثری: -- 37037
٣٧٠٣٧ - حدثنا ابو معاوية عن (سليمان) (١) بن فروخ عن الضحاك بن مزاحم قال: اتى النبي ﷺ (رجل) (٢) (فقال) (٣) : يا رسول الله من ازهد الناس في الدنيا؟ فقال:"من لم ينس المقابر والبلى، وترك افضل زينة الدنيا، وآثر ما يبقى على ما يفنى، ولم يعد غدا من ايامه، وعد نفسه من الموتى" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (الأعمش).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) مرسل مجهول؛ الضحاك تابعي، وسليمان مجهول، أخرجه البيهقي في الشعب (١٠٥٦٥).
حضرت ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دنیا کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے بڑا زاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص قبروں اور بوسیدہ ہونے کو نہ بھولے۔ اور دنیا کی زینت میں سے افضل کو چھوڑ دے، اور باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دے اور کل کے دن کو اپنے ایام (حیوۃ) میں سے شمار نہ کرے اور اپنے کو مردوں میں شمار کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37037]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37037، ترقيم محمد عوامة 35459)
ترقیم عوامۃ: 35460 ترقیم الشثری: -- 37038
٣٧٠٣٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن زياد بن جراح عن عمرو بن ميمون ان النبي ﷺ قال لرجل:"اغتنم خمسا قبل خمس: حياتك قبل موتك، ⦗٢٥٦⦘ وفراغك قبل شغلك، وغناك قبل فقرك، وشبابك قبل هرمك، وصحتك قبل سقمك" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عمرو بن ميمون تابعي، أخرجه وكيع في الزهد (٧)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٤٨، والبغوي في التفسير ٣/ ٤٥٥، وابن المبارك في الزهد (٢)، والبيهقي في الشعب (١٠٢٥٠)، والبغوي في مسند الشهاب (٧٢٩)، والمزي ٩/ ٤٤٣، وابن عساكر ١٤/ ٢٩٧، والخطيب في الفقيه المتفقه ٢/ ١٧١.
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو: اپنی زندگی کو موت سے پہلے، اور اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے، اپنی تونگری کو اپنے فقر سے پہلے، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے اور اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے۔ (غنیمت جانو) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37038]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37038، ترقيم محمد عوامة 35460)