مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35471 ترقیم الشثری: -- 37049
٣٧٠٤٩ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن عن النبي ﷺ قال:" (لو شاء الله لجعلكم اغنياء كلكم لا فقير فيكم، و) (١) لو شاء (الله) (٢) لجعلكم فقراء ⦗٢٦٠⦘ كلكم لا غني فيكم، ولكن ابتلى بعضكم ببعض" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [س، ع].
(٣) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب لوگوں کو غنی بنا دیتا کہ تم میں کوئی فقیر نہ ہوتا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب لوگوں کو فقیر بنا دیتا کہ تم میں کوئی غنی نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37049]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37049، ترقيم محمد عوامة 35471)
ترقیم عوامۃ: 35472 ترقیم الشثری: -- 37050
٣٧٠٥٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا ابو رجاء عن محمد بن مالك عن البراء قال: كنا مع النبي ﷺ في جنازة، فلما انتهى إلى القبر جثى النبي ﷺ على القبر، قال: فاستدرت فاستقبلته قال: فبكى حتى بل (الثرى) (١) ، ثم قال:"إخواني لمثل هذا فليعمل العاملون فاعدوا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الثرا).
(٢) ضعيف؛ لضعف محمد بن مالك، أخرجه أحمد (١٨٦٠١)، وابن ماجه (٤١٩٥)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٢٩، والطبراني في الأوسط (٢٦٠٩)، والبيهقي ٣/ ٣٦٩، والخطيب في التاريخ ١٤٠/ ١، والقزويني في التدوين ١/ ١٨٣.
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر دو زانو بیٹھ گئے۔ … راوی کہتے ہیں … میں بھی مڑ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرلیا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ زمین تر ہوگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بھائیو! اس کے مثل عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ پس تم تیاری کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37050]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37050، ترقيم محمد عوامة 35472)
ترقیم عوامۃ: 35473 ترقیم الشثری: -- 37051
٣٧٠٥١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد عن عبد الملك ابن عمير قال: (اخبرت) (١) ان (ابن) (٢) مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"ايها الناس، إنه ليس من شيء يقربكم من الجنة ويبعدكم من النار إلا قد امرتكم به، وليس شيء يقربكم من النار ويبعدكم من الجنة إلا قد نهيتكم عنه، وإن الروح (الامين) (٣) نفث في روعي انه ليس من نفس تموت حتى (تستوفي) (٤) رزقها، فاتقوا الله واجملوا في الطلب، ولا يحملكم استبطاء الرزق على ان تطلبوه بمعاصي الله، فإنه لا ينال (ما عند الله) (٥) إلا بطاعته" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (خبرت).
(٢) في [س]: (لابن).
(٣) في [ح]: (القدس).
(٤) في [ب]: (يستوفي).
(٥) في [س، ط، هـ]: (عنده).
(٦) مجهول؛ لإبهام شيخ عبد الملك.
حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اے لوگو! کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جنت سے قریب کرے اور جہنم سے تمہیں دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اس چیز کا حکم دے دیا ہے۔ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جہنم سے قریب کرے اور جنت سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اس چیز سے منع کردیا ہے۔ اور روح الامین نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جو اپنا رزق پورا کرنے سے پہلے موت کا شکار ہوجائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور طلب رزق میں اچھا طریقہ اختیار کرو۔ اور رزق کا سست رو ہو کر آنا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کو اللہ کی نافرمانیوں سے تلاش کرو۔ کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کو اللہ کی اطاعت کے ذریعہ ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37051]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37051، ترقيم محمد عوامة 35473)
ترقیم عوامۃ: 35474 ترقیم الشثری: -- 37052
٣٧٠٥٢ - حدثنا ابو اسامة عن عوف (عن الحسن) (١) قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذكر اصحاب الاخدود تعوذ بالله من جهد البلاء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اصحاب الاخدود کا ذکر ہوتا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت ابتلاء سے خدا کی پناہ مانگتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37052]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37052، ترقيم محمد عوامة 35474)
ترقیم عوامۃ: 35475 ترقیم الشثری: -- 37053
٣٧٠٥٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد قال: حدثني اخي نعمان عن مصعب بن سعد عن حفصة بنت عمر قال: قالت لابيها: يا امير المؤمنين ما عليك لو لبست الين من ثوبك هذا، واكلت اطيب من طعامك هذا، قد فتح الله عليك الارض، واوسع عليك الرزق، قال: ساخاصمك إلى نفسك اما تعلمين ما كان يلقى رسول الله ﷺ من شدة العيش، وجعل يذكرها شيئا مما كان يلقى رسول الله ﷺ حتى ابكاها، قال: قد قلت لك: إنه كان لي صاحبان سلكا طريقا فإني إن سلكت غير طريقهما سلك بي غير طريقهما، فإني والله لاشاركنهما في مثل عيشهما الشديد، لعلي ادرك معهما عيشهما الرخي، -يعني بصاحبيه النبي ﷺ وابا بكر رضي الله (١) عنه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (تعالى).
(٢) مجهول؛ النعمان بن أبي خالد مجهول، أخرجه عبد بن حميد (٢٥)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ١١٢، والبيهقي في الشعب (١٠٦٠٧).
حضرت مصعب بن سعد، حضرت حفصہ بنت عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا اے امیر المومنین! اگر آپ اپنے ان کپڑوں سے نرم کپڑے پہنیں اور اپنے اس کھانے سے اچھا کھانا کھائیں تو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زمین کی فتوحات کو کھول دیا ہے اور آپ پر رزق کو وسعت دے دی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ جھگڑے میں تمہیں ہی فیصل بناتا ہوں۔ کیا تم اس بات کو نہیں جانتی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی کی کتنی سختی کا سامنا کرنا پڑا تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش آنے والے واقعات یاد دلانے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آپ نے حضرت حفصہ کو رلا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے جو دو ساتھی تھے وہ ایک راستہ چل گئے ہیں پس اگر میں ان کے راستے کے علاوہ راستہ پر چلوں گا تو میری وجہ سے ان کے راستہ کے علاوہ راستہ چلا جائے گا۔ پس میں … خدا کی قسم … البتہ ضرور بالضرور ان کی سخت زندگی کی طرح ان کے ساتھ شریک ہوں گا۔ شاید کہ میں ان کے ساتھ ان کی آسودہ زندگی میں بھی پایا جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اپنے دو ساتھیوں سے مراد، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37053]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37053، ترقيم محمد عوامة 35475)
ترقیم عوامۃ: 35476 ترقیم الشثری: -- 37054
٣٧٠٥٤ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني عبد الرحمن بن شريح قال: حدثني شرحبيل بن (يزيد) (٢) (المعافري) (٣) قال: سمعت محمد بن هدية الصدفي يقول: سمعت عبد الله بن عمر (و) (٤) يقول سمعت رسول الله ﷺ يقول:"اكثر ⦗٢٦٢⦘ منافقي امتي قراؤها" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [جـ]: (زيد).
(٣) في [س]: (الغفاري).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٥) حسن؛ شرحبيل بن يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٦٦٣٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٩٥٨)، والفريابي في صفة المنافق (٣٧)، والفسوي في المعرفة ٢/ ٥٢٨، وابن بطة في الإبانة (٩٤٢)، وابن المبارك في الزهد (٤٥١)، والبخاري في التاريخ ٢١/ ٥٧، وابن وضاح في البدع (ص ٨٨)، والبغوي ١/ ٧٥.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا: میری امت کے منافقین میں سے اکثر امت کے قراء ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37054]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37054، ترقيم محمد عوامة 35476)
ترقیم عوامۃ: 35477 ترقیم الشثری: -- 37055
٣٧٠٥٥ - حدثنا يحيى بن يمان عن اشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير رفعه ﴿الا إن اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون﴾ [يونس: ٦٢] : يذكر الله لرؤيتهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير ١١/ ١٣١، وورد من حديث سعيد عن ابن عباس مرفوعًا أخرجه الضياء ١٠/ ١٠٧، والطبراني ١٢/ (١٢٣٢٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٧٦، والنحاس في معاني القرآن ٣/ ٣٠٢.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے { ألا إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ } کی تفسیر میں یہ بات مرفوعاً روایت ہے کہ ان کو دیکھ کر خدا کی یاد آتی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37055]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37055، ترقيم محمد عوامة 35477)
ترقیم عوامۃ: 35478 ترقیم الشثری: -- 37056
٣٧٠٥٦ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثني سعيد بن مسلم بن (بانك) (١) قال: سمعت عامر بن عبد الله بن الزبير قال: حدثني عوف بن الحارث عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"يا عائشة، إياك ومحقرات الاعمال، فإن لها من الله طالبا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (بابك)، وفي [س]: (مالك)، وفي [هـ]: (يانك).
(٢) حسن؛ خالد صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٤١٥)، وابن ماجه (٤٢٤٣)، وابن حبان (٥٥٦٨)، والدارمي (٢٧٢٦)، وإسحاق (١١٢٠)، والطبراني في الأوسط (٢٣٩٨)، والبيهقي في الشعب (٧٢٦١)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٠٠٥)، وأبو نعيم ٣/ ١٦٨، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان (٣٧٤).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تم چھوٹے چھوٹے اعمال … گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ۔ کیونکہ ان کے لیے بھی اللہ کی طرف سے طلب کرنے والا ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37056، ترقيم محمد عوامة 35478)
ترقیم عوامۃ: 35479 ترقیم الشثری: -- 37057
٣٧٠٥٧ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عمرو بن مرة -زاد جرير عن معاوية ابن سويد- عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ:"اوثق عرى الإيمان الحب في الله والبغض في الله" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (١٨٥٢٤)، والطيالسي (٧٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٤)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٣١، وأخرجه مرسلا وكيع في الزهد (٣٢٩).
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایمان کے کڑوں میں سے مضبوط ترین کڑا اللہ کے لیے محبت ہے اور اللہ کے لیے بغض ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37057]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37057، ترقيم محمد عوامة 35479)
ترقیم عوامۃ: 35480 ترقیم الشثری: -- 37058
٣٧٠٥٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن مورق (١) العجلي قال: قرا رسول الله ﷺ ﴿الهاكم التكاثر (١) حتى زرتم المقابر﴾ قال: فقال رسول الله ﷺ:"ليس لك من مالك إلا ما اكلت (فافنيت) (٢) ، (او) (٣) (لبست) (٤) (فابليت) (٥) ، او تصدقت (فامضيت) (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في التاريخ الكبير ١/ ٢٠٧: (أبو خالد الأحمر عن حميد عن مورق).
(٢) في [هـ]: (فأفيت).
(٣) في [ط، هـ]: (و).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) في [هـ]: (فأمضت).
(٧) مرسل؛ مورق ليس من الصحابة.
حضرت مؤرق عجلی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ } کی تلاوت کی۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے تمہارے مال میں سے صرف وہی کچھ مال ہے جو تم نے کھالیا اور ختم کردیا۔ یا تم نے پہن لیا اور پرانا کردیا یا تم نے صدقہ کردیا اور (آگے) چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37058]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37058، ترقيم محمد عوامة 35480)