🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. (كلام ابن مسعود ﵁)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35667 ترقیم الشثری: -- 37245
٣٧٢٤٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن بيان عن قيس قال: قال عبد الله: لوددت اني اعلم ان الله غفر لي ذنبا من ذنوبي، واني لا ابالي اي ولد آدم ولدني (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات محبوب ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ مجھے بنو آدم کی کس اولاد نے جنم دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37245، ترقيم محمد عوامة 35667)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35668 ترقیم الشثری: -- 37246
٣٧٢٤٦ - [حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال عبد الله: إن من اكثر الناس خطا يوم القيامة اكثرهم خوضا في الباطل] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) حسن؛ حصين صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٤٧)، والبيهقي في الشعب (١٠٨٠٨)، وأحمد في الزهد (ص ١٦٠)، وابن المبارك (٣٧٨)، وهناد (١١١٩)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٧٦).

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: بیشک جنت ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور بیشک جہنم خواہشات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ پس جو شخص پردہ سے (پرے) جھانک لیتا ہے تو وہ ماوراء میں چلا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37246، ترقيم محمد عوامة 35668)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35669 ترقیم الشثری: -- 37247
٣٧٢٤٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال عبد الله: (و) (١) إن الجنة حفت بالمكاره، وإن النار حفت بالشهوات، فمن اطلع (الحجاب) (٢) واقع ما وراءه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، س، ع].
(٢) سقط من: [س، ع]، وفي [هـ]: (بحجاب).
(٣) حسن؛ حصين بن عقبة صدوق، أخرجه الطبراني (٨٥٤٦)، وهناد (٢٤٣).

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: بیشک قیامت کے دن سب سے زیادہ خطاؤں والا وہ شخص ہوگا جو باطل میں زیادہ غور وخوض کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37247، ترقيم محمد عوامة 35669)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35670 ترقیم الشثری: -- 37248
٣٧٢٤٨ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن عبد الرحمن بن عبد الله عن ابيه ⦗٣٣٠⦘ قال: مثل المحقرات من الاعمال (مثل) (١) قوم نزلوا منزلا ليس به حطب ومعهم لحم، فلم يزالوا يلقطون حتى جمعوا ما انضجوا به لحمهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (من).
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه هناد (٨٩٣)، والطبراني (٨٧٩٦)، والبيهقي في الشعب (٧٢٦٢).

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: چھوٹے چھوٹے عملوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی جگہ پڑاؤ ڈالیں جہاں پر ایندھن نہ ہو اور ان لوگوں کے پاس گوشت ہو۔ پس یہ لوگ مسلسل چنتے رہیں یہاں تک کہ یہ اتنا ایندھن جمع کرلیں جس پر یہ اپنا گوشت پکا لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37248، ترقيم محمد عوامة 35670)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35671 ترقیم الشثری: -- 37249
٣٧٢٤٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: مرض عبد الله مرضا فجزع فيه، فقلنا: ما رايناك جزعت في (مرض ما جزعت في) (١) مرضك هذا؟ قال: إنه (اخذني) (٢) (وقرب) (٣) (بي) (٤) من الغفلة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (أخرى)، وفي [ع]: (إحدى)، وفي [س]: (أحدني).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (أقرب).
(٤) في [س]: (لي).
(٥) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ١٥٨، والبيهقي في شعب الإيمان (٩٩٣٦)، وعبد الرزاق (٢٠٣١٦)، وابن المبارك في الزهد (١٤٦٣)، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (٢٣١).

حضرت علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کو ایک خاص مرض لاحق ہوا جس میں انہوں نے جزع کرنا شروع کیا۔ ہم نے عرض کیا ہم نے آپ کو کسی مرض میں ایسی جزع کرتے نہیں دیکھا جیسی آپ نے اس مرض میں جزع کی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مرض مجھ پر غالب ہوگیا اور غفلت کو میرے قریب کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37249، ترقيم محمد عوامة 35671)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35672 ترقیم الشثری: -- 37250
٣٧٢٥٠ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن القاسم قال: قال عبد الله: لا تعجلوا بحمد الناس وبذمهم، فإن الرجل يعجبك اليوم ويسوءك غدا، ويسوءك اليوم ويعجبك غدا، وإن العباد يغيرون، والله يغفر الذنوب يوم القيامة، والله ارحم (بعبده يوم ياتيه) (١) من ام واحد فرشت له في الارض (في) (٢) ثم قامت تلتمس فراشه بيدها، فإن كانت لدغة كانت بها، وإن كانت شوكة كانت بها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بعباده يوم تأتيه).
(٢) أي: أرض خالية، وفي [س]: (فيء).
(٣) ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف والقاسم لم يدرك ابن مسعود، أخرجه الطبراني (٨٩٢٩)، وابن المبارك في الزهد (٨٩٩)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٨، والبيهقي في الشعب (٦٦٠٢).

حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کی حمد اور لوگوں کی مذمت کی وجہ سے جلد بازی نہ کرو۔ کیونکہ آج کے دن ایک آدمی تمہیں پسند کرے گا اور کل کے دن یہی آدمی تمہیں برا سمجھے گا۔ اور آج (اگر) برا سمجھے گا تو کل تمہیں اچھا سمجھے گا۔ کیونکہ لوگ بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ جس دن بندہ اللہ کے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اس ماں سے زیادہ رحم کرنے والے ہوں گے جو ماں بچے کے لیے خالی زمین میں فرش بچھائے پھر اس کے بچھونے کو اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر تلاش کرنے لگے چناچہ اگر کوئی ڈسنا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا اور اگر کوئی کانٹا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37250، ترقيم محمد عوامة 35672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35673 ترقیم الشثری: -- 37251
٣٧٢٥١ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن المسعودي عن القاسم قال: قال عبد الله: وددت اني من الدنيا فرد (كالغادي) (١) الراكب الرائح (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (كالغازي).
(٢) ضعيف منقطع؛ المسعودي اختلط والقاسم لم يدرك ابن مسعود، أخرجه ابن عساكر ٣٣/ ١٧٢.

حضرت قاسم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں دنیا میں ایک ایسے فرد کی طرح ہوں جو صبح کو آئے سوار ہو اور چلا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37251، ترقيم محمد عوامة 35673)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35674 ترقیم الشثری: -- 37252
٣٧٢٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال عبد الله: كفى بخشية الله علما، وكفى بالاغترار به جهلا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف منقطع؛ أخرجه الطبراني (٨٩٢٧)، وأحمد في الزهد (١٥٨)، وابن المبارك (٤٦)، والبيهقي في الشعب (٧٤٦)، وابن بطة في إبطال الحيل (ص ١٤)، وابن أبي يعلى في طبقات الحنابلة ٢/ ١٤٩.
حضرت قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: خدا کے خوف کے لیے علم ہی کافی ہے اور خدا کے بارے میں دھوکہ کے لیے جہالت ہی کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37252، ترقيم محمد عوامة 35674)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35675 ترقیم الشثری: -- 37253
٣٧٢٥٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: قال عبد الله: والذي لا إله غيره ما اصبح عند آل عبد الله شيء يرجون ان يعطيهم الله به خيرا او يدفع عنهم به سوء إلا ان الله قد علم ان عبد الله لا يشرك به شيئا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٢، وابن عساكر ٣٣/ ١٦٧.
حضرت حارث بن سوید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟ آل عبداللہ نے کبھی اس حال میں صبح نہیں کی کہ ان کے پاس کوئی چیز ہو جس کے ذریعہ سے یہ امید رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعہ سے خیر دیں یا اس کے ذریعہ ان سے کوئی برائی دور کریں مگر یہ کہ خدا جانتا ہے کہ عبداللہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37253، ترقيم محمد عوامة 35675)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35676 ترقیم الشثری: -- 37254
٣٧٢٥٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شمر بن عطية (عن) (١) مغيرة بن سعد بن الاخرم عن ابيه قال: قال عبد الله: والذي لا إله غيره، ما يضره عبد يصبح على الإسلام ويمسي عليه: ماذا (اصابه) (٢) من الدنيا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ، ع]: (بن).
(٢) في [أ، هـ]: (أصحابه).
(٣) مجهول؛ لجهالة سعد بن الأخرم، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٢، وهناد (٥٩٨)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٢٥٧).

حضرت عبداللہ کہتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! جو بندہ صبح اس حال میں کرے کہ وہ مسلمان ہو اور شام اس حال میں کرے کہ وہ مسلمان ہو تو اس کو دنیا کی جو حالت بھی ملے، اس کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37254، ترقيم محمد عوامة 35676)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں