🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. (كلام ابن مسعود ﵁)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35687 ترقیم الشثری: -- 37265
٣٧٢٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن زبيد) (١) عن مرة قال: قال عبد الله: إن الله يعطي الدنيا من يحب ومن لا يحب، ولا يعطي الإيمان إلا من يحب، فإذا احب الله عبدا اعطاه (٢) الإيمان (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ، س، ع]: (عن عبيد).
(٢) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٢٧٥)، وأحمد في الزهد (١١٣٤)، والطبراني (٨٩٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٥، واللالكائي (١٦٩٧)، والبيهقي في القدر (٣٦٨)، وورد مرفوعًا، أخرجه الحاكم ١/ ٨٨، والإسماعيلي في معجمه ٣/ ٧٢٧، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٦٦، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٧٤، وابن عساكر ٤٩/ ٨٧.

حضرت مرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور اس کو بھی دیتے ہیں جس سے محبت نہیں کرتے۔ لیکن جس سے محبت کرتے ہیں ایمان اسی کو دیتے ہیں۔ پس جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتے ہیں تو اس کو ایمان دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37265، ترقيم محمد عوامة 35687)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35688 ترقیم الشثری: -- 37266
٣٧٢٦٦ - حدثنا ابو اسامة عن ابي حنيفة سمعه من عون بن عبد الله عن ابن مسعود قال: (يعرض) (١) الناس يوم القيامة على ثلاثة دواوين: ديوان فيه الحسنات، وديوان فيه النعيم، وديوان فيه السيئات، فيقابل بديوان الحسنات ديوان النعيم، فيستفرغ النعيم الحسنات، وتبقى السيئات مشيئتها إلى الله تعالى، إن شاء عذب، وإن شاء غفر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تعرض).
(٢) منقطع؛ عون لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه أبو يوسف في الآثار (٩١٥).

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین دفتروں پر پیش کیا جائے گا۔ ایک دفتر جس میں نیکیاں ہوں گی اور ایک دفتر جس میں نعمتیں ہوں گی اور ایک دفتر جس میں گناہ ہوں گے۔ پس نعمتوں والے دفتر کو نیکیوں والے دفتر کے مقابل لایا جائے گا۔ چناچہ نیکیاں تو نعمتوں کے بدلے میں فارغ ہوجائیں گی اور خطائیں باقی رہ جائیں گی جو اللہ کی مشیت کے متعلق ہوں گی۔ اگر اللہ چاہے تو عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37266، ترقيم محمد عوامة 35688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35689 ترقیم الشثری: -- 37267
٣٧٢٦٧ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال: تعلموا (تعلموا) (١) ، فإذا علمتم فاعملوا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) ضعيف؛ يزيد بن أبي زياد ضعيف، أخرجه الدارمي (٣٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣١، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٧٩، والخطيب في اقتضاء العلم والعمل (٢٣)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٩.

حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں علم حاصل کرو علم حاصل کرو پھر جب علم حاصل کر چکو تو عمل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37267، ترقيم محمد عوامة 35689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35690 ترقیم الشثری: -- 37268
٣٧٢٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن معن قال: قال عبد الله: لا يشبه الزي الزي حتى تشبه (القلوب) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف ومعن بن عبد الرحمن لم يدرك جده ابن مسعود، أخرجه هناد (٨٦٢).

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: ظاہری شکل و صورت، ظاہری شکل و صورت سے مشابہت تب کھاتی ہے جب دل، دل کے مشابہ ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37268، ترقيم محمد عوامة 35690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35691 ترقیم الشثری: -- 37269
٣٧٢٦٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن محمد بن عجلان عن ابي عيسى قال: قال (عبد الله) (١) : إن من راس التواضع ان ترضى بالدون من شرف المجلس، وان تبدا بالسلام من لقيت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) مجهول منقطع؛ أبو عيسى مجهول ولم يثبت له سماع من ابن مسعود، انظر: الجرح والتعديل ٩/ ٤١٢، وتحفة التحصيل (ص ٣٧١)، وأخرجه هناد (٨٠٧).

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: بیشک تواضع کا بڑا حصہ یہ ہے کہ تم مجلس میں عزت کی جگہ سے کم درجہ جگہ پر راضی ہوجاؤ اور جس سے ملو سلام میں پہل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37269، ترقيم محمد عوامة 35691)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35692 ترقیم الشثری: -- 37270
٣٧٢٧٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله قال: انتم اكثر صياما واكثر صلاة واكثر (جهادا) (١) من اصحاب رسول الله ﷺ وهم كانوا خيرا منكم، قالوا: لم يا ابا عبد الرحمن؟ قال: كانوا ازهد في الدنيا وارغب في الآخرة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ، س، ع]: (اجتهاد)، وفي [هـ]: (اجتهادًا).
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٣٥٠، والطبراني (٨٧٦٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٦، والبيهقي في الشعب (١٠٦٣٦)، وهناد (٥٧٥)، وابن المبارك في الزهد (٥٠١).

حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ م سے روزوں میں، نمازوں میں، جہاد میں زیادہ ہو لیکن وہ تم سے بہتر تھے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! کیوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دنیا میں زیادہ بےرغبت تھے اور آخرت میں زیادہ رغبت کرنے والے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37270، ترقيم محمد عوامة 35692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35693 ترقیم الشثری: -- 37271
٣٧٢٧١ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن هارون بن عنترة عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه قال: قال عبد الله بن مسعود: إنما هذه القلوب اوعية، فاشغلوها بالقرآن ولا تشغلوها بغيره (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ هارون وعبد الرحمن ثقتان، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ١٣١، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ٦٦، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٤٨.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ دل تو صرف برتن ہیں۔ پس تم ان کو قرآن سے بھرو کسی اور چیز سے دلوں کو نہ بھرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37271، ترقيم محمد عوامة 35693)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35694 ترقیم الشثری: -- 37272
٣٧٢٧٢ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا عبد (الله) (١) بن (عابس) (٢) قال: حدثني (إياس) (٣) عن عبد الله انه كان يقول في خطبته: إن اصدق الحديث كلام الله، واوثق العرى (كلمة) (٤) التقوى، وخير الملل ملة إبراهيم، واحسن القصص هذا القرآن واحسن السنن سنة محمد ﷺ (٥) ، واشرف الحديث ذكر الله، وخير الامور عزائمها، وشر الامور محدثاتها، واحسن الهدي هدى الانبياء، واشرف الموت قتل الشهداء، واغر الضلالة: الضلالة بعد الهدى، وخير العلم ما نفع، وخير الهدى ما اتبع، وشر العمى عمى القلب، واليد العليا خير من اليد السفلى، وما قل وكفى خير مما كثر والهى، ونفس تنجيها خير من إمارة لا تحصيها، وشر (العذلة) (٦) عند حضرة الموت، وشر الندامة (ندامة) (٧) يوم القيامة، ومن الناس من لا ياتي الصلاة إلا (دبريا) (٨) ، ومن الناس من لا يذكر الله إلا ⦗٣٣٧⦘ (هاجرا) (٩) ، واعظم الخطايا اللسان الكذوب، وخير الغنى غنى النفس، (وخير) (١٠) الزاد التقوى، وراس الحكمة مخافة الله، وخير ما القي في القلب اليقين، والريب من الكفر، والنوح من عمل الجاهلية، والغلول من جمر جهنم، والكنز كي من النار، والشعر (مزامير) (١١) إبليس، والخمر جماع الإثم، والنساء حبائل الشيطان، والشباب شعبة من الجنون، وشر الكاسب كسب الربا، وشر المآكل اكل مال اليتيم، والسعيد من وعظ بغيره، والشقي من شقي في بطن امه، وإنما يكفي احدكم ما قنعت به نفسه، وإنما (يصير) (١٢) إلى موضع اربع اذرع، والامر بآخره، واملك العمل به خواتمه، وشر (الروايا) (١٣) روايا الكذب، وكل ما هو آت قريب، وسباب المؤمن فسوق، وقتاله كفر، واكل لحمه من معاصي (الله) (١٤) ، وحرمة ماله كحرمة دمه، ومن يتال على الله يكذبه، ومن يغفر يغفر الله له، ومن يعف يعف الله عنه، ومن يكظم الغيظ ياجره الله، ومن يصبر على (الرزايا) (١٥) يعقبه (١٦) الله، ومن يعرف البلاء يصبر عليه، ومن لا يعرفه ينكره، ومن (يستكبر) (١٧) (يضعه) (١٨) الله، ومن يبتغي السمعة يسمع الله به، ومن ينوي الدنيا (تعجزه) (١٩) ، ومن يطع الشيطان يعص الله، ⦗٣٣٨⦘ ومن يعص الله يعذبه (٢٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: (عبد اللَّه)، وفي مراجع التخريج (عبد الرحمن) وهو الصواب.
(٢) في [أ، هـ]: (عائش).
(٣) كذا في النسخ، وصوابه: (أبو إياس).
(٤) في [س]: (لحكمة).
(٥) سقط من: [س، ع].
(٦) أي: الملامة، في [ب، س]: (العزلة)، وفي [أ، هـ]: (العذيلة).
(٧) سقط من: [س].
(٨) وفي [هـ]: (دبرًا).
(٩) في [هـ]: (هجرًا).
(١٠) في [ب]: (ورأس).
(١١) في [ب]: (من أمر).
(١٢) في [ب، س]: (تصير).
(١٣) في [ب]: (الرؤايا).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [س]: (الزرايا).
(١٦) أي: يجعل العاقبة له.
(١٧) في [ع]: (يستكر).
(١٨) في [س]: (ضيعه).
(١٩) في [ب]: (يعجزه).
(٢٠) صحيح؛ أخرجه ابن عمر في المطالب العالية (٣١٢٥)، والبخاري في خلق أفعال العباد (ص ٤٢)، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٩، والبيهقي المدخل (٨٧٦)، والاعتقاد (ص ١٠٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٨، وهناد (٤٩٧)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٤٧٩)، والخطابي في غريب الحديث ٢/ ١٧.

حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے خطبہ میں کہا کرتے تھے: سب سے سچی بات کلام اللہ ہے اور مضبوط ترین کڑا کلمۃ التقویٰ ہے اور بہترین ملت، ملت ابراہیمی ہے اور خوبصورت قصوں میں سے یہ قرآن ہے اور خوبصورت راستہ، سنت محمد 5 ہے۔ سب سے زیادہ شرافت والی بات ذکر اللہ ہے۔ بہترین امور میں سے پختہ امر ہے۔ امور میں سے بدترین امور بدعات ہیں اور اچھی ہدایت، انبیاء کی ہدایت ہے۔ سب سے عزت والی موت شہداء کا قتل ہوتا ہے۔ سب سے خطرناک گمراہی، ہدایت کے بعد کی ضلالت ہے۔ بہترین علم وہ ہے جو نفع مند ہو اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے۔ بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے۔ ٢۔ اور اوپر کا ہاتھ، نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے جو چیز کم ہو اور کافی ہو اس چیز سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔ وَنَفْسٌ تُنْجِیہَا خَیْرٌ مِنْ أَمَارَۃٍ لاَ تُحْصِیہَا بدترین ملامت موت کے وقت کی ملامت ہے اور بدترین ندامت، قیامت کے دن کی ملامت ہے۔ اور بعض لوگ نماز کے لیے آخری وقت میں آتے ہیں۔ اور بعض اللہ کا ذکر غافل دل کے ساتھ کرتے ہیں۔ غلطیوں میں سے سب سے بڑی غلطی جھوٹی زبان ہے۔ بہترین تونگری، دل کی تونگری ہے۔ بہترین زاد تقویٰ ہے۔ حکمت کا بڑا حصہ، خوفِ خدا ہے۔ دلوں میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے اس میں سے بہترین چیز یقین ہے اور کفر کے بارے میں شک اور نوحہ، جاہلیت کا عمل ہے۔ خیانت (مالِ غنیمت میں) جہنم کا انگارہ ہے اور خزانہ جہنم کا داغنا ہے۔ ٣۔ شعر، شیطان کے باجوں میں سے ہے۔ شراب، گناہوں کا مجموعہ ہے۔ عورتیں، شیطان کی رسیاں ہیں۔ جوانی، جنون کا شعبہ ہے۔ بدترین کمائی، سود کی کمائی ہے اور بدترین کھانا یتیم کا کھانا ہے۔ خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بدبخت وہ ہے جو بطن مادر میں بدبخت لکھا گیا ہے۔ تم میں سے کسی کو اتنی مقدار کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کرلے۔ کیونکہ لوٹنا تو چار بالشت (زمین) کی طرف ہے۔ معاملہ، آخر کا معتبر ہوتا ہے۔ کسی شے پر عمل کا دار و مدار خاتمہ پر ہوتا ہے۔ بدترین روایت کرنے والے، جھوٹ کے روایت کرنے والے ہیں اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ ٤۔ مومن کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور اس کے گوشت کو کھانا خدا کی نافرمانیوں میں سے ہے۔ اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔ جو اللہ پر جرأت کرتا ہے اللہ اسے جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ اور جو معاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو معاف کردیتے ہیں اور جو درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی درگزر کرتے ہیں اور جو اپنے غصہ کو قابو کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اجر دیتے ہیں اور جو شخص رزایا پر صبر کرتا ہے اللہ اس کی اعانت کرتے ہیں اور جو آزمائش کو پہچانتا ہے وہ اس پر صبر کرتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ اس کو ناپسند کرتا ہے اور جو بڑا بنتا ہے اللہ اس کو گرا دیتے ہیں اور جو ناموری چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرتے ہیں اور جو دنیا کی چاہت کرتا ہے۔ دنیا اس کو تھکا دیتی ہے اور جو شیطان کی مانتا ہے خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے خدا اس کو عذاب دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37272، ترقيم محمد عوامة 35694)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35695 ترقیم الشثری: -- 37273
٣٧٢٧٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن زبيد بن الحارث عن مرة بن (شراحيل) (١) قال: قال عبد الله: ﴿اتقوا الله حق تقاته﴾ [آل عمرن: ١٠٢] ، (وحق تقاته) (٢) ان يطاع فلا يعصى، وان يذكر فلا ينسى، وان يشكر فلا يكفر، وإيتاء المال على حبه ان تؤتيه وانت صحيح شحيح، تامل العيش (وتخاف) (٣) الفقر، وفضل صلاة الليل على صلاة النهار كفضل صدقة السر على صدقة العلانية (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (شرحبيل).
(٢) سقط من: [جـ، س].
(٣) في [ب]: (ويخاف).
(٤) ضعيف؛ لحال ليث، وقد توبع، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٩٠٨)، والثوري في التفسير (ص ٧٩)، والطبراني (٨٥٠٢)، وأبو نعيم في حلية الأولياء ٧/ ٢٣٨، وابن المبارك في الزهد (٢٢)، والبيهقي في القضاء (ص ٢٣٠).

حضرت مرہ بن شراحیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: { اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ } اور حق تقاتہ یہ ہے کہ فرماں برداری کی جائے۔ نافرمانی نہ کی جائے۔ یاد کیا جائے، بھلایا نہ جائے اور شکر کیا جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔ اور مال کا محبت کے باوجود دینا یہ ہے کہ تم مال کو اس حالت میں خرچ کرو جبکہ تم صحت مند، تندرست ہو، تم عیش کرنا چاہتے ہو اور فقر سے ڈرتے ہو اور رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسی ہے جیسے مخفی صدقہ کی اعلانیہ صدقہ پر فضیلت ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37273]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37273، ترقيم محمد عوامة 35695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35696 ترقیم الشثری: -- 37274
٣٧٢٧٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن عبد الله قال: لا تنفع الصلاة إلا من اطاعها ثم قرا (عبد الله) (١) : ﴿إن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر ولذكر الله اكبر﴾ [العنكبوت: ٤٥] ، فقال عبد الله: ذكر الله العبد اكبر من ذكر العبد لربه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) ضعيف؛ عاصم هو ابن أبي النجود ضعيف في أبي وائل، وأخرجه ابن جرير ٢٠/ ١٥٧.

حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نماز اسی کو نفع دیتی ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: {إنَّ الصَّلاَۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللہِ أَکْبَرُ } پھر حضرت عبداللہ نے کہا: اللہ کا بندے کو یاد کرنا، بندہ کا اپنے ربّ کو یاد کرنے سے بڑا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37274، ترقيم محمد عوامة 35696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں