مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35819 ترقیم الشثری: -- 37401
٣٧٤٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن نافع بن جبير بن مطعم ان حذيفة وسلمان قالا لامراة اعجمية: اهاهنا مكان طاهر (نصلي) (١) فيه؟ فقالت: ⦗٣٨٠⦘ طهر قلبك وصل حيث شئت، فقال احدهما لصاحبه: فقهت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يصلي).
(٢) منقطع؛ نافع لا يروي عن سلمان وحذيفة، وورد بطريق آخر ضعيف، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٥٠)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٦، والدينوري في المجالسة (٢٥٩٠).
حضرت نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان نے ایک عجمی عورت سے کہا کیا یہاں پر کوئی پاک جگہ ہے جہاں پر ہم نماز پڑھیں؟ اس عورت نے کہا تم اپنے دل کو پاک کرلو اور جہاں چاہو نماز پڑھو۔ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ عورت تو سمجھ دار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37401، ترقيم محمد عوامة 35819)
ترقیم عوامۃ: 35820 ترقیم الشثری: -- 37402
٣٧٤٠٢ - حدثنا ابو اسامة عن (عوف) (١) عن ابي عثمان قال: قال لي سلمان الفارسي: إن السوف مبيض الشيطان ومفرخه، فإن استطعت ان لا تكون اولى من يدخلها ولا آخر من يخرج منها فافعل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (عون).
(٢) صحيح.
حضرت ابوعثمان سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا بازار شیطان کے انڈے دینے اور بچہ نکلنے کی جگہ ہے۔ پس اگر تو یہ کرسکے کہ تو بازار میں پہلا داخل ہونے والا نہ ہو اور نکلنے والوں میں سے آخری نہ ہو تو تو یہ کام کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37402، ترقيم محمد عوامة 35820)
ترقیم عوامۃ: 35821 ترقیم الشثری: -- 37403
٣٧٤٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن عمار بن زريق عن ابي إسحاق عن اوس بن ضمعج قال: قلنا لسلمان: (يا ابا عبد الله) (١) الا تحدثنا، قال: ذكر الله (اكبر) (٢) ، وإطعام الطعام، وإفشاء السلام، والصلاة والناس نيام (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يا أبا عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ب]: (أكثر).
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، أخرجه أبو نعيم ١/ ٢٠٤.
حضرت اوس بن ضمعج سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت سلمان سے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! آپ ہمیں حدیث کیوں نہیں بیان کرتے؟ انہوں نے کہا ذکر خدا بہت بڑا ہے۔ کھانا کھلانا، سلام کو پھیلانا اور لوگوں کے سوتے ہوئے نماز پڑھنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37403، ترقيم محمد عوامة 35821)
ترقیم عوامۃ: 35822 ترقیم الشثری: -- 37404
٣٧٤٠٤ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن سليمان التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: إن الله يستحي ان يبسط إليه عبد يديه يساله بهما خيرا فيردهما خائبتين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (معاد بن معاد).
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ١/ ٦٧٥، وأحمد ٥/ ٤٣٨ (٢٣٧٦٥)، والخطيب ٧/ ٤٣٢، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن حبان (٨٧٩)، وابن ماجه (٣٨٦٥)، والترمذي (٣٥٥٦).
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیا آتی ہے کہ بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے اور ان کے ذریعہ خیر کا سوال کرے اور اللہ تعالیٰ ان کو ناکام واپس کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37404]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37404، ترقيم محمد عوامة 35822)
ترقیم عوامۃ: 35823 ترقیم الشثری: -- 37405
٣٧٤٠٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن سليمان بن ميسرة والمغيرة بن شبيل عن طارق بن شهاب قال: كان لي اخ اكبر مني يكنى ابا عزرة، وكان يكثر ذكر سلمان، فكنت (اشتهي) (١) لقاءه لكثرة ذكر اخي إياه، قال: فقال لي ذات ⦗٣٨١⦘ يوم: هل لك في (ابي عبد الله؟) (٢) (قد نزل) (٣) القادسية، قال: وكان سلمان إذا قدم من الغزو نزل القادسية، وإذا قدم من الحج نزل المدائن غازيا، قال: قلت: نعم، قال: فانطلقنا حتى دخلنا عليه (في) (٤) بيت بالقادسية، فإذا هو جالس، بين (رجليه) (٥) خرقة، (وهو) (٦) يخيط زنبيلا او يدبغ إهابا، قال: فسلمنا عليه وجلسنا، قال: (فقال) (٧) : يا ابن اخي عليك (بالقصد) (٨) فإنه ابلغ (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أشهي).
(٢) في [ع]: (أبي عبيد).
(٣) في [ع]: (قال: نزلت).
(٤) في [س، ع]: تكررت.
(٥) في [ع]: (يديه).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [جـ]: (قال).
(٨) في [أ، ب]: (بالفصط).
(٩) صحيح؛ أخرجه الطبراني (٦٠٥١)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٩).
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک مجھ سے بڑا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعزرہ تھی۔ وہ حضرت سلمان کا ذکر بڑی کثرت سے کرتا تھا۔ تو اپنے بھائی سے حضرت سلمان کا بہت زیادہ ذکر سن کر مجھے آپ سے ملاقات کا شوق تھا۔ راوی کہتے ہیں ایک دن میرے بھائی نے مجھے کہا کیا تمہیں ابوعبداللہ سے ملنے کا شوق ہے؟ وہ قادسیہ مقام میں فروکش ہیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت سلمان جب جہاد سے واپس آتے تو قادسیہ میں اترتے اور جب حج سے واپس آتے تو مدائن میں پڑاؤ ڈالتے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: ہاں (شوق ہے)۔ راوی کہتے ہیں پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم قادسیہ میں ان کے گھر میں اترے۔ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے ایک کپڑے کا ٹکڑا تھا۔ وہ ٹوکری سی رہے تھے یا چمڑے کو دباغت دے رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں پس ہم نے انہیں سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا: اے بھتیجے! تم پر ارادہ لازم ہے کیونکہ یہ مؤثر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37405]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37405، ترقيم محمد عوامة 35823)
ترقیم عوامۃ: 35824 ترقیم الشثری: -- 37406
٣٧٤٠٦ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن عمر بن قيس عن عمرو بن ابي قرة الكندي قال: عرض ابي على سلمان اخته (ان يزوجه، فابى) (١) وزوجه مولاة له يقال (لها) (٢) : (بقيرة) (٣) ، قال: فبلغ ابا قرة انه كان بين حذيفة وسلمان شيء، فاتاه يطلبه فاخبرانه في مبقلة له، فتوجه إليه فلقيه معه زنبيل فيه بقل، قد ادخل عصاه في عروة الزنبيل، وهو على عاتقه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (لقرة).
(٤) حسن؛ عمرو بن أبي قرة صدوق، أخرجه أبو داود (٤٦٥٩)، وأحمد (٢٣٧٧٢)، والبخاري في الأدب المفرد (٢٣٤).
حضرت عمرو بن ابی قرہ کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے حضرت سلمان کو یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی بہن سے شادی کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اپنی آزا دکردہ لونڈی جس کا نام بقیرہ تھا اس سے شادی کرلی۔ راوی کہتے ہیں ابوقرہ کو یہ بات پہنچی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان کے درمیان کوئی معاملہ تھا۔ چناچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، سلمان کے پاس ان کو بلانے آئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی سبزیوں کے اگانے کی جگہ میں ہیں چناچہ وہ اس طرف گئے تو وہ ان سے ملے۔ ان کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں سبزی تھی۔ اپنی لاٹھی کو انہوں نے ٹوکری کے کڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ لاٹھی ان کی گردن پر تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37406]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37406، ترقيم محمد عوامة 35824)
ترقیم عوامۃ: 35825 ترقیم الشثری: -- 37407
٣٧٤٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي عثمان عن سلمان قال: تعطي الشمس يوم القيامة حر عشر سنين، ثم تدنى من جماجم الناس حتى تكون قاب قوسين، قال: فيعرقون حتى يرشح العرق في الارض قامة، ثم يرتفع حتى (يغرغر) (١) الرجل -قال سلمان: حتى يقول: الرجل غرغر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (لغرعر).
(٢) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٥٠)، وابن المبارك في الزهد (٣٤٧)، وهناد (٣٣٢)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧).
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج کو دس سال کی حرارت دی جائے گی پھر اس کو لوگوں کی کھوپڑیوں کے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ یہ غلیل کے دو کناروں کے برابر ہوجائے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر ان لوگوں کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ پسینہ زمین میں قد کے برابر ہوجائے گا پھر اوپر اٹھے گا یہاں تک کہ آدمی غرارہ کرنے لگے گا۔ حضرت سلمان نے فرمایا: یہاں تک کہ آدمی کہے گا: غر غر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37407]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37407، ترقيم محمد عوامة 35825)
ترقیم عوامۃ: 35826 ترقیم الشثری: -- 37408
٣٧٤٠٨ - حدثنا ابو خالد عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن هبيرة قال: كتب ابو الدرداء إلى سلمان: (اما بعد، فإني ادعوك إلى الارض المقدسة وارض الجهاد، قال: فكتب إليه سلمان: اما بعد) (١) ، فإنك قد كتبت إلي تدعوني إلى الارض المقدسة وارض الجهاد، ولعمري ما الارض تقدس اهلها ولكن المرء يقدسه عمله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع؛ عبد اللَّه بن هبيرة لم يدرك أبا الدرداء، أخرجه ابن عساكر ١/ ١٥٠، واللالكائي (١٧١٨)، والدينوري في المجالسة (١٢٣٨)، كما رواه مالك في الموطأ (١٤٥٩)، وأبو نعيم ١/ ٢٠٥، بدون ذكر ابن هبيرة، وورد بطريق آخر، أخرجه البيهقي في الشعب (٨٤٠٠)، والخطابي في الغريب ٢/ ٣٥٥.
حضرت عبداللہ بن ہبیرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان کو خط لکھا۔ اما بعد! پس بیشک میں تمہیں ارض مقدس اور ارض جہاد کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت سلمان نے ان کو تحریر فرمایا۔ اما بعد! پس بیشک آپ نے یہ تحریر فرمایا کہ آپ مجھے ارض مقدس اور ارض جہاد کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ میری عمر کی قسم! کوئی زمین اپنے اہل کو پاک نہیں بناتی بلکہ آدمی کو اس کے عمل پاک کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37408]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37408، ترقيم محمد عوامة 35826)