مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. كلام ابن عمر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35770 ترقیم الشثری: -- 37350
٣٧٣٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن سالم بن ابي الجعد عن جابر قال: ما منا احد ادرك (الدنيا) (١) إلا مال بها ومالت به، غير عبد الله بن عمر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدني).
(٢) صحيح.
حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم میں سے کوئی آدمی نہیں تھا جس نے دنیا کو پایا مگر یہ کہ وہ اس کی طرف مائل ہوگیا اور دنیا اس کی طرف مائل ہوگئی سوائے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37350، ترقيم محمد عوامة 35770)
ترقیم عوامۃ: 35771 ترقیم الشثری: -- 37351
٣٧٣٥١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن ابن عمر قال: لا يصيب احد من (الدنيا) (١) إلا نقص من درجاته عند الله وإن كان عليه كريما (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدني).
(٢) صحيح؛ أخرجه هناد (٥٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٣٠١، والبيهقي في الشعب (١٠٦٧٧)، وابن البخاري في مشيخته ٢/ ١٤٨٠، وابن عساكر ٣١/ ١٥٣.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس آدمی کو بھی دنیا ملے گی تو وہ اس کے خدا کے ہاں درجات میں کمی کردے گی اگرچہ یہ بندہ اللہ کے ہاں معزز ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37351]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37351، ترقيم محمد عوامة 35771)
ترقیم عوامۃ: 35772 ترقیم الشثری: -- 37352
٣٧٣٥٢ - [حدثنا يحيى بن يمان عن ابن جريج عن ابن طاوس عن ابيه قال: ما رايت احدا انقى من ابن عمر] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، هـ].
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.
حضرت ابن طاوس، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ متقی شخص نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37352]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37352، ترقيم محمد عوامة 35772)
ترقیم عوامۃ: 35773 ترقیم الشثری: -- 37353
٣٧٣٥٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن ليث عن رجل عن ابن عمر قال: لا يكون رجل من اهل العلم حتى لا يحسد من فوقه ولا يحقر من دونه، (و) (١) لا (يبتغي) (٢) بعلمه ثمنا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، س]: (ينبغي).
(٣) مجهول؛ لإبهام الراوي عن ابن عمر، أخرجه الدارمي (٢٩٠)، وأبو نعيم ١/ ٣٠٦.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی اہل علم میں سے تب ہوتا ہے جب وہ اپنے سے اوپر والوں پر حسد نہ کرے اور اپنے سے نیچے والوں کو حقیر نہ سمجھے اور اپنے علم کے ذریعہ، مال نہ تلاش کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37353، ترقيم محمد عوامة 35773)
ترقیم عوامۃ: 35774 ترقیم الشثری: -- 37354
٣٧٣٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم بن ابي الجعد عن ابن ⦗٣٦٦⦘ عمر قال: لا يبلغ (عبد) (١) حقيقة الإيمان حتى يعد الناس حمقى في دينه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عند).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٠٠)، ووكيع في الزهد (٢٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٠٦، وورد مرفوعًا عند ابن ماجه (٤٢١٥)، والترمذي (٢٤٥١).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ لوگ اس کو اس کے دین کے بارے میں پاگل شمار نہ کرنے لگیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37354]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37354، ترقيم محمد عوامة 35774)
ترقیم عوامۃ: 35775 ترقیم الشثری: -- 37355
٣٧٣٥٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن عبد الملك بن (ابي) (١) سليمان عن سعيد بن جبير قال: دخلت على ابن عمر فإذا هو مفترش ذراعيه (٢) ، متوسد وسادة حشوها ليف (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) كذا في النسخ، وصحيح مسلم: (برذعة له).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٩٣)، وابن عبد البر في الاستذكار ٦/ ٩٨.
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی کہنیاں بچھائے ہوئے تھے اور ایسے تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس میں گھاس بھرا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37355]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37355، ترقيم محمد عوامة 35775)
ترقیم عوامۃ: 35776 ترقیم الشثری: -- 37356
٣٧٣٥٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عمرو بن قيس عن عطية عن ابن عمر قال: يستقبل المؤمن عند خروجه من قبره احسن صورة رآها قط، فيقول لها: من انت؛ فتقول (له) (١) : انا (التي) (٢) كنت معك في (الدنيا) (٣) ، لا افارقك حتى ادخلك الجنة. (٤)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (الذي).
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) ضعيف؛ لضعف عطية العوفي، وقد أخرج ابن أبي حاتم نحوه من طريق أبي خالد عن عمر وابن قيس عن ابن مرزوق من كلامه كما في تفسير ابن كثير ٣/ ١٣٨.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے قبر سے نکلنے کے وقت اس کی دیکھی ہوئی صورتوں میں سے بہترین صورت اس کا استقبال کرے گی۔ مومن اس سے کہے گا۔ تم کون ہو؟ وہ مومن سے کہے گی میں وہی ہوں جو دنیا میں تیرے ساتھ تھی۔ میں تمہیں جنت میں داخل کروانے تک نہیں چھوڑوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37356]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37356، ترقيم محمد عوامة 35776)
ترقیم عوامۃ: 35777 ترقیم الشثری: -- 37357
٣٧٣٥٧ - [حدثنا عبد الله بن المبارك عن محمد عن قتادة قال: (قيل لابن عمر) (١) : كان اصحاب النبي ﷺ بعضهم على بعض، نعم، والإيمان اثبت في قلوبهم من الجبال الرواسي] (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي تفسير الثعلبي ٩/ ١٥٥، والقرطبي ١٧/ ١١٦: (قيل لعمر).
(٢) سقط الخبر في: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٣) منقطع؛ قتادة لا يروي عن ابن عمر.
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی کیا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ لیکن ان کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37357، ترقيم محمد عوامة 35777)
ترقیم عوامۃ: 35778 ترقیم الشثری: -- 37358
٣٧٣٥٨ - حدثنا عبد الله بن (نمير) (١) عن عاصم عمن حدثه قال: كان ابن عمر إذا رآه احد ظن ان به شيئا من تتبعه آثار النبي ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (مبارك).
(٢) مجهول؛ لإبهام شيخ عاصم، أخرجه أبو نعيم ١/ ٣١٠.
ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب کوئی آدمی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرتے دیکھتا تو وہ یہ گمان کرتا کہ ان پر کسی شے کا اثر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37358، ترقيم محمد عوامة 35778)
ترقیم عوامۃ: 35779 ترقیم الشثری: -- 37359
٣٧٣٥٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عمرو ان ابن عمر قال: ما وضعت لبنة ولا غرست نخلة منذ قبض رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نميد بن راعيينة).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٤٤)، وابن سعد ٤/ ١٧٠، وأبو نعيم ١/ ٣٠٣.
حضرت عمرو سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے۔ جب سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی ہے میں نے ایک اینٹ، اینٹ پر نہیں رکھی اور نہ ہی کوئی درخت لگایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37359، ترقيم محمد عوامة 35779)