🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. كلام سلمان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35810 ترقیم الشثری: -- 37391
٣٧٣٩١ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) وابو معاوية عن الاعمش عن صالح بن خباب عن حصين بن عقبة قال: قال سلمان: علم لا يقال به (ككنز) (٢) لا ينفق منه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س]: (الأخوص).
(٢) في [س]: (لكثير).
(٣) حسن؛ حصين صدوق، أخرجه الدارمي (٥٥٥)، والبيهقي في المدخل (١٧٦)، وأبو خيثمة في العلم (١٢)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم (ص ١٢٢).

حضرت حصین بن عقبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان نے فرمایا: وہ علم جو بیان نہ کیا جائے اس خزانہ کے مثل ہے جس کو خرچ نہ کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37391]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37391، ترقيم محمد عوامة 35810)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35811 ترقیم الشثری: -- 37392
٣٧٣٩٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عمي موسى بن يسار ان سلمان كتب إلى ابي الدرداء ان في ظل العرش إماما مقسطا، وذا مال (إذا) (١) تصدق اخفى يمينه عن شماله، ورجلا دعته امراة (٢) ذات حسب ومنصب إلى نفسها فقال: اخاف الله رب العالمين، ورجلا نشا فكانت (صحته) (٣) وشبابه وقوته فيما يحب الله ويرضاه من العمل، ورجلا كان قلبه معلقا في المساجد من حبها، ورجلا ذكر الله ففاضت عيناه من الدمع من (خشية الله) (٤) ، ورجلين التقيا فقال احدهما لصاحبه: إني لاحبك في الله (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، خ، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (جميلة).
(٣) في [هـ]: (صحبته).
(٤) في [س]: (خشيته).
(٥) منقطع؛ موسى بن يسار لم يدرك سلمان.

حضرت موسیٰ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: عرش کے سایہ میں عادل امام ہوگا اور وہ مالدار شخص ہوگا کہ جب صدقہ کرے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھے اور وہ آدمی ہوگا جس کو خوبصورت اور حسب ونسب والی عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ مرد کہہ دے میں رب العالمین سے خوف کرتا ہوں اور وہ آدمی ہوگا جو اس طرح نشو و نما پائے کہ اس کی صحت، اس کا شباب اور اس کی موت اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے اعمال میں خرچ ہو اور وہ آدمی ہوگا جس کا دل مسجد کی محبت کی وجہ سے مسجدوں میں ہی اٹکا رہے اور وہ آدمی ہوگا جو اللہ کا ذکر کرے اور خدا کے خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اور وہ دو آدمی ہوں گے جو باہم ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہے: میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اور خط میں یہ بھی لکھا: علم، چشموں کی طرح ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جس کو چاہے اس سے نفع مند کرتے ہیں۔ اور وہ حکمت جو بولی نہ جائے اس کی مثال بےروح جسم کی طرح ہے اور عمل نہ کیے جانے والے علم کی مثال اس خزانہ کی طرح ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے اور عالم کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے لیے راستہ میں چراغ روشن کیا جائے۔ پس لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور ہر ایک اس کے لیے دعا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37392]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37392، ترقيم محمد عوامة 35811)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 37393
٣٧٣٩٣ - وكتب إليه: إنما العلم كالينابيع فينفع (به الله) (١) من شاء، ومثل حكمة لا يتكلم بها كجسد (٢) لا روح له، ومثل علم لا يعمل به كمثل كنز لا ينفق منه، ومثل العالم كمثل رجل اضاء له مصباح في طريق فجعل (الناس) (٣) يستضيئون به وكل يدعو (٤) له (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: تقديم وتأخير.
(٢) في [جـ]: زيادة (كمثل).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٥) في [هـ]: زيادة (بالخير).
(٦) منقطع؛ موسى بن يسار لم يدرك سلمان، أخرجه الدارمي (٥٥٧)، وابن عساكر ٢١/ ٤٤٠.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37393، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35812 ترقیم الشثری: -- 37394
٣٧٣٩٤ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن ابيه ان ⦗٣٧٧⦘ سلمان كان يقول: إن من الناس حامل داء وحامل شفاء، ومفتاح خير ومفتاح شر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ جعفر بن عبد اللَّه بن الحكم لم يدرك سلمان، أخرجه البيهقي في الشعب (١٧٥٤)، وابن عساكر ٢١/ ٤٤٢.
حضرت جعفر سے روایت ہے کہ حضرت سلمان فرمایا کرتے تھے۔ بعض لوگ بیماری کو اٹھانے والے ہوتے ہیں اور بعض لوگ شفا کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ خیر کی کنجی ہوتے ہیں اور بعض لوگ شر کی کنجی ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37394]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37394، ترقيم محمد عوامة 35812)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35813 ترقیم الشثری: -- 37395
٣٧٣٩٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش (عن شمر) (١) عن شهر بن حوشب قال: جاء سلمان إلى ابي الدرداء فلم يجده، فسلم على ام الدرداء وقال: اين اخي؟ قالت: في المسجد، وعليه عباءة له قطوانية، فالقت إليه خلق وسادة، فابى ان يجلس عليها ولوى عمامته فطرحها فجلس (عليها) (٢) ، قال: فجاء ابو الدرداء معلقا لحما بدرهمين، فقامت ام الدرداء فطبخته وخبزت، ثم جاءت بالطعام وابو الدرداء صائم، فقال سلمان: من ياكل معي؟ فقال: تاكل معك ام الدرداء، فلم يدعه حتى افطر، فقال سلمان لام الدرداء ورآها سيئة الهيئة: مالك؟ قالت: إن اخاك لا يزيد النساء، يصوم النهار ويقوم الليل، فبات عنده، فجعل ابو الدرداء يزيد ان يقوم فيحبسه، حتى كان قبل الفجر فقام (فتوضا) (٣) وصلى ركعات، (٤) فقال له ابو الدرداء: (حبستني) (٥) عن صلاتي، فقال له سلمان: صل ونم، وصم وافطر، فإن لاهلك عليك حقا، ولعينيك عليك حقا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (عليهما).
(٣) في [ب]: (وتوظأ).
(٤) في [جـ، ع]: زيادة (قال).
(٥) في [ع]: (أحبستني).
(٦) منقطع؛ شهر لا يروي عن سلمان وأبي الدرداء، أخرجه الطبراني في الأوسط (٧٦٣٧).

حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان، حضرت ابوالدرداء کے ہاں تشریف لے گئے لیکن انہیں موجود نہ پایا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو سلام کیا اور کہا: میرا بھائی کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا مسجد میں اور ان پر اہلیہ کا قطوانی چوغہ تھا۔ ام درداء رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف پرانا تکیہ پھینکا۔ انہوں نے اس پر بیٹھنے سے انکار کردیا اور اپنے عمامہ کو اتارا اور اس کو نیچے ڈال کر اس پر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ دو درہموں کا گوشت اٹھائے ہوئے۔ چناچہ حضرت ام درداء کھڑی ہوئیں انہوں نے اس کو پکایا اور روٹی پکائی۔ پھر کھانا لے کر آئی۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ حضرت سلمان نے کہا میرے ساتھ کون کھائے گا؟ انہوں نے کہا تمہارے ساتھ ام درداء کھائیں گی۔ حضرت سلمان نے ان کو روزہ افطار کروائے بغیر نہ چھوڑا۔ پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ام درداء سے کہا۔ آپ نے ان کی خستہ حالت دیکھی تھی۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ آپ کا بھائی عورتوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ چناچہ آپ نے ان کے ہاں رات گزاری۔ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاٹھنے کا ارادہ کرتے تو حضرت سلمان ان کو روک دیتے یہاں تک کہ فجر سے پہلے کا وقت ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے وضو کیا اور چند رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابوالدراء رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا۔ آپ نے مجھے میری نماز سے روکا ہے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے اہل خانہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37395، ترقيم محمد عوامة 35813)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35814 ترقیم الشثری: -- 37396
٣٧٣٩٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا عثمان بن غياث عن ابي عثمان النهدي عن سلمان وغيره من اصحاب محمد (١) قالوا: إن الرجل يجيء يوم القيامة قد عمل ⦗٣٧٨⦘ عملا يرجو ان ينجو به، قال: فما يزال الرجل (ياتيه) (٢) فيشتكي مظلمة فيؤخذ من حسناته فيعطاها حتى ما تبقى له حسنة، ويجيء المشتكي يشتكي مظلمة فيؤخذ من سيئاته فتوضع على سيئاته، ثم يكب في النار او يلقى في النار (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة ﷺ.
(٢) في [س]: (بأنبه).
(٣) صحيح.

حضرت سلمان اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر صحابہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے ایسے اعمال کیے ہوں گے جن کے ذریعہ اس کو نجات کی امید ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ لیکن کوئی نہ کوئی آدمی آکر اس کے مظالم کی شکایت کرتا رہے گا۔ پس اس کی نیکیوں سے لے کر اس شکایت کرنے والے کو دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور پھر اس کے مظالم کی شکایت کرنے والا آئے گا تو اس شکایت کرنے والے کی غلطیوں میں لے کر اس آدمی کے گناہوں پر رکھ دی جائیں گی پھر اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا یا اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37396]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37396، ترقيم محمد عوامة 35814)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35815 ترقیم الشثری: -- 37397
٣٧٣٩٧ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن التيمي عن ابي عثمان عن سلمان [قال: (لو بات) (٢) الرجلان احدهما يعطي (القنيات) (٣) البيض، وبات الآخر يقرا القرآن ويذكر الله لرايت ان ذاكر الله افضل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (معاد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) جمع قناة، وهي الرمح، وفي [ع]: (العنان)، وفي [ط، هـ]: (القيان).
(٤) صحيح؛ أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زوائد الزهد (ص ١٥١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٤.

حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی سفید غلام دے کر رات گزارے اور دوسرا آدمی قرآن کی تلاوت اور ذکر خدا کرتے ہوئے گزارے تو میرے خیال میں خدا کا ذکر کرنے والا افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37397]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37397، ترقيم محمد عوامة 35815)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35816 ترقیم الشثری: -- 37398
٣٧٣٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن مرة عن سالم بن ابي الجعد عن زيد بن صوحان] (١) عن سلمان انه كان إذا تعار من الليل قال: سبحان رب النبيين وإله المرسلين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [أ، ب].
(٢) مجهول؛ لجهالة زيد، أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٥٥٣)، وابن عساكر ٢١/ ٤٧٣ وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ١٣٤.

حضرت سلمان کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جب رات کو بےخواب ہوتے تو کہتے انبیاء کے پروردگار اور رسولوں کے الٰہ پاک ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37398، ترقيم محمد عوامة 35816)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35817 ترقیم الشثری: -- 37399
٣٧٣٩٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال: كان سلمان إذا اصاب شاة من المغنم ذبحها، فقدد لحمها، وجعل جلدها سقاء، وجعل صوفها حبلا، فإن راى رجلا قد احتاج إلى حبل لفرسه اعطاه، (وإن راى رجلا احتاج إلى سقاء اعطاه) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق.

حضرت عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان کو جب غنیمت میں سے بکری ملتی تو آپ اس کو ذبح کرتے پھر اس کے گوشت کے ٹکڑے کرتے اور اس کے چمڑے کا مشکیزہ بنا لیتے اور اس کے بالوں کی رسی بنا لیتے پھر اگر وہ کسی کو گھوڑے کی رسی کا محتاج دیکھتے تو آپ یہ رسی اس کو دے دیتے اور اگر کسی کو مشکیزہ کا محتاج دیکھتے تو اس کو مشکیزہ دے دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37399، ترقيم محمد عوامة 35817)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35818 ترقیم الشثری: -- 37400
٣٧٤٠٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن ابي البختري قال: صحب سلمان رجل من بني عبس فاتى (دجلة) (١) فقال له سلمان: اشرب، فشرب، ثم قال له: اشرب، فشرب، (ثم قال له: اشرب، فشرب) (٢) ، ثم قال له: يا اخا بني (عبس) (٣) اترى شربتك هذه نقصت من ماء دجلة شيئا؟ كذلك العلم لا ينفد، فابتغ من العلم ما ينفعك، ثم مر بنهر دن فإذا (اطعمة) (٤) وكدوس تذرى (٥) ، (فقال) (٦) : يا اخا بني عبس إن الذي (٧) كان يملك خزائنه ومحمد ﷺ (حي) (٨) ، وكانوا يمسون ويصبحون وما فيهم قفيز حنطة، ثم ذكر جلولاء وما فتح الله على المسلمين فيها، فقال: (يا) (٩) اخا بني عبس إن الله اعطاكم هذا وخولكموه قد كان يقدر عليه ومحمد حى (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (رحله).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ب]: (عسيس).
(٤) في [أ، ب]: (طعمه).
(٥) أي: حب يُنقى.
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [هـ]: زيادة (فتح هذا لكم وخولكموه ورزقكموه).
(٨) في [ع]: (جي).
(٩) سقط من: [أ، هـ].
(١٠) منقطع؛ أبو البختري لا يروي عن سلمان، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٨٢٢)، وهناد (٧٤٠)، وأحمد في الزهد ص ٢٩، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٨٨، والحارث (١١١/ بغية)، والبغوي في الجعديات (١٣١)، والطيالسي (٦٥٨)، والطبراني (٦١٧٣).

حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبس کا ایک آدمی حضرت سلمان کے ساتھ تھا۔ وہ دریائے دجلہ پر آیا تو حضرت سلمان نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ نے اس سے کہا۔ پانی پیو۔ اس نے پانی پیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا۔ اے بنو عبس کے بھائی! ؛ تو کیا دیکھتا ہے کہ تیرے اس گھونٹ نے اس دجلہ کے پانی میں کمی کی ہے؟ اسی طرح علم نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔ پس تو اپنے لیے نفع مند علم تلاش کر۔ پھر آپ کا گزر نہروں پر ہوا تو وہاں کچھ کھانے تھے اور دانے ہوا میں اڑائے جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے بنو عبس کے بھائی! وہ آدمی جو اس کے خزانوں کا مالک تھا جبکہ آپ زندہ تھے۔ وہ لوگ صبح وشام اس حال میں کرتے کہ ان میں ایک قفیز گندم نہ ہوتی۔ پھر آپ نے جلولاء اور اس کے بارے میں مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر فرمایا اور کہا: اے بنو عبس کے بھائی! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ عطا فرما دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس پر اس وقت بھی قادر تھا جب محمد 5 زندہ تھے [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37400، ترقيم محمد عوامة 35818)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں