🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. (مطرف بن الشخير)
حضرت مطرف ابن شخیر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36284 ترقیم الشثری: -- 37869
٣٧٨٦٩ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان عن ثابت ان مطرف بن الشخير قال: ليعظم جلال الله في صدوركم فلا يذكر الله عند مثل هذا، يقول احدكم للكلب: اخزاه الله، وللحمار او الشاة.
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت مطرف ابن الشخیر نے فرمایا: تمہارے سینوں میں اللہ کی عظمت ہونی چاہیے۔ چناچہ ایسی باتوں کے وقت خدا کا ذکر نہ کیا جائے کہ تم میں سے کوئی کتے کو یہ کہے یا گدھے کو یا بکری کو کہے۔ اللہ اس کو رسوا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37869]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37869، ترقيم محمد عوامة 36284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36285 ترقیم الشثری: -- 37870
٣٧٨٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف قال: عنا نتحدث انه لم يتحاب رجلان في الله إلا وكان افضلهما (اشدهما) (١) حبا ⦗٥٢٠⦘ لصاحبه، قال: فلما (سير) (٢) مذعور (و) (٣) عامر بن عبد الله، قال: لقي مذعور مطرفا فجعل يذاكره، قال مطرف: فجعلت اقول: اي اخي علام! تحبسني وقد تهورت النجوم وذهب الليل؟ (فيقول) (٤) : [اللهم (فيك) (٥) ، ثم يذاكره الساعة فيقول: (يا) (٦) اخي علام تحبسني؟ وقد تهورت النجوم وذهب الليل فقال] (٧) : اللهم (فيك) (٨) ، فلما اصبحنا اخبرت انه قد سير، فعرفت (ليلتين) (٩) فضله علي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أشد مما).
(٢) في [س]: (ستر).
(٣) في [هـ]: (أو).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٥) في [س]: (حبك).
(٦) سقط من: [س].
(٧) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٨) في [س]: (حبك).
(٩) كذا في النسخ، ولعلها: (ليلتئذ).

حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں یہ بات کرتے تھے کہ باہم اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو آدمیوں میں سے افضل آدمی وہ ہوتا ہے جو ان دونوں میں سے اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں: چناچہ جب حضرت مذعور اور حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت مذعور، حضرت مطرف سے ملے اور ان سے مذاکرہ شروع کردیا۔ حضرت مطرف کہتے ہیں۔ میں کہنے لگا۔ اے میرے بھائی! تم نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے۔ جبکہ ستارے ڈوب گئے اور رات جا رہی ہے؟ وہ فرمانے لگے۔ اے اللہ! تیرے لیے پھر انہوں نے حضرت مطرف سے ایک گھڑی اور مذاکرہ کیا۔ مطرف نے پھر کہا۔ اے میرے بھائی! آپ نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے جبکہ ستارے ڈوب چکے ہیں اور رات جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! تیرے لیے۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو مجھے خبر ملی کہ وہ چلے گئے ہیں۔ تب میں نے ان کی خود پر رات کی فضیلت پہچانی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37870، ترقيم محمد عوامة 36285)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36286 ترقیم الشثری: -- 37871
٣٧٨٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: حدثني غيلان بن جرير عن مطرف قال: ما ارملة جالسة على ذيلها باحوج إلى الجماعة مني.
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اپنے دروازوں پر بیٹھی بیوہ عورتوں سے بھی زیادہ میں جماعت کا محتاج ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37871، ترقيم محمد عوامة 36286)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36287 ترقیم الشثری: -- 37872
٣٧٨٧٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن ثابت قال: كان مطرف يقول: ما اوتي احد من الناس افضل من العقل.
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مطرف کہا کرتے تھے۔ لوگوں کو عقل سے افضل چیز کوئی نہیں دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37872، ترقيم محمد عوامة 36287)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36288 ترقیم الشثری: -- 37873
٣٧٨٧٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي قال: حدثنا غيلان بن جرير عن مطرف قال: رايت في المنام كاني خرجت اريد الجمعة، فاتيت على مقابر من الحي، فإذا اهل القبور جلوس، فجعلت اسلم وامضي، قالوا: يا (١) عبد الله اين تريد؟ قال: قلت: اريد الجمعة، قال: (ثم) (٢) قلت: تدرون ما الجمعة؟ قالوا: نعم، ⦗٥٢١⦘ ونعلم ما يقول الطير يومئذ، قال: قلت: ما يقول الطير يومئذ؟ (قالوا) (٣) : يقول سلام سلام يوم صالح.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: زيادة (أبا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (قال).

حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں جمعہ کے ارادے سے باہر نکلا ہوں اور میں محلہ کے قبرستان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اہل قبور بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو سلام کرکے گزرنا چاہا تو وہ کہنے لگے۔ اے عبداللہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا۔ میرا جمعہ کا ارادہ ہے۔ مطرف کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا: تمہیں معلوم ہے جمعہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دن پرندے کیا کہتے ہیں۔ مطرف کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: پرندے اس دن کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: پرندے کہتے ہیں۔ سلام، سلام، اچھا دن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37873، ترقيم محمد عوامة 36288)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36289 ترقیم الشثری: -- 37874
٣٧٨٧٤ - حدثنا وكيع عن قرة عن ابي العلاء يزيد بن عبد الله عن اخيه مطرف قال: إن الله ليرحم (برحمة) (١) العصفور.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (برحمته).
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ چڑیا کے رحم کی وجہ سے رحم فرماتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37874، ترقيم محمد عوامة 36289)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36290 ترقیم الشثری: -- 37875
٣٧٨٧٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت قال: سمعت مطرفا يقول: ما مررت باهل مجلس فسمعت احدا يثني علي خيرا، (قال) (١) : فياخذ (ذلك) (٢) في.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ، ع]: (ذاك).

حضرت ثابت کہتے ہیں میں نے حضرت مطرف کو کہتے سنا میں کسی مجلس والوں کے پاس نہیں گزرتا جن میں سے کوئی میرے لیے خیر کی بات کہہ رہا ہو۔ کہتے ہیں پس یہ مجھے دل میں اتر جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37875، ترقيم محمد عوامة 36290)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36291 ترقیم الشثری: -- 37876
٣٧٨٧٦ - حدثنا إسحاق الرازي عن ابي جعفر عن قتادة (عن مطرف) (١) قال: إن هذا الموت قد افسد على اهل النعيم نعيمهم، فاطلبوا نعيما لا موت فيه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اس موت نے اہل نعیم پر ان کی نعمتوں کو خراب کردیا ہے۔ پس تم (خدا سے) ایسی نعمت طلب کرو جس میں موت نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37876]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37876، ترقيم محمد عوامة 36291)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36292 ترقیم الشثری: -- 37877
٣٧٨٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا المعلى بن زياد قال: قال مورق العجلي: امر انا في طلبه منذ عشر سنين لم اقدر عليه، ولست بتارك طلبه ابدا، قال: وما هو يا ابا المعتمر؟ قال: الصمت عما لا يعنيني.
حضرت معلی رضی اللہ عنہ بن زیاد بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت مورق عجلی فرماتے ہیں کہ ایک کام ہے جس کو میں دس سال سے تلاش کر رہا ہوں لیکن میں اس پر قادر نہیں ہوا۔ اور میں اس کی تلاش کو ترک کرنے والا بھی نہیں۔ معلی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابوالمعتمر! وہ کیا ہے؟ مؤرق نے فرمایا: بےفائدہ کلام سے سکوت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37877، ترقيم محمد عوامة 36292)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36293 ترقیم الشثری: -- 37878
٣٧٨٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام عن حفصة (بنت) (١) سيرين قالت: كان مورق يزورنا، فزارنا يوما فسلم، فرددت ﵇، (قالت: ثم ساءلني وساءلته) (٢) ، قلت: كيف اهلك؟ (٣) كيف ولدك؟ ⦗٥٢٢⦘ (قال) (٤) : إنهم (لمتوافرون) (٥) ، قلت: فاحمد ربك، قال: إني والله قد خشيت ان يحبسوني على هلكة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابنة).
(٢) في [جـ]: (قال: ثم سالمني وسالمته)، وفي [هـ]: (قالت: ثم سايلني، وسايلته).
(٣) في [هـ]: زيادة (و).
(٤) في [جـ]: (قلت).
(٥) في [ع]: (متوافرون).

حضرت حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت مورق ہماری ملاقات کو آتے تھے۔ چناچہ وہ ایک دن ہمیں ملنے آئے اور انہوں نے سلام کیا۔ میں نے ان کو سلام کا جواب دیا۔ کہتی ہیں۔ پھر انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور میں نے ان سے کچھ پوچھا۔ میں نے پوچھا۔ آپ کے اہل خانہ کیسے ہیں؟ اور آپ کے بچے کیسے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا وہ خوب ہیں۔ میں نے کہا۔ پھر تو آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا: خدا کی قسم! میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے ہلاکت پر محبوس نہ کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37878، ترقيم محمد عوامة 36293)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں