🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36403 ترقیم الشثری: -- 37990
٣٧٩٩٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن مرداس الاسلمي قال: يذهب الصالحون، الاول فالاول حتى تبقى كحثالة التمر والشعير لا يعبا الله بهم شيئا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٥٦)، وأحمد (١٧٧٢٩)، وورد مرفوعًا عند البخاري (٦٤٣٤)، وأحمد (١٧٧٢٨).
حضرت مرداس اسلمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ نیک لوگ ایک ایک کرکے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کھجور اور جو کے بھوسہ کی طرح بھوسہ رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37990، ترقيم محمد عوامة 36403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36404 ترقیم الشثری: -- 37991
٣٧٩٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: سمعت زيد بن اسلم يقول في هذه الآية: ﴿الا تخافوا ولا تحزنوا﴾ قال: لا تخافوا ما امامكم، ولا تحزنوا (على) (١) ما خلفتم: ﴿وابشروا بالجنة التي كنتم توعدون﴾ [فصلت: ٣٠] ، قال: البشرى في ثلاثة مواطن: عند الموت، وفي القبر، وعند البعث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
حضرت سفیان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن اسلم کو اس آیت { لاَ تَخَافُوا مَا أَمَامَکُمْ } کے بارے میں کہتے سنا کہ جو تمہارے آگے آنے والا ہے اس سے خوف نہ کھاؤ۔ اور جو پیچھے چھوڑ آئے ہو اس پر غم نہ کرو۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ فرمایا: بشارت تین جگہوں پر ہوگی۔ موت کے وقت۔ قبر میں۔ جی اٹھنے کے وقت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37991، ترقيم محمد عوامة 36404)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36405 ترقیم الشثری: -- 37992
٣٧٩٩٢ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب قال: إذا اراد (الله) (١) (بعبد) (٢) خيرا فقهه في الدين، وزهده في الدنيا وبصره عيوبه، ومن اوتيهن فقد اوتي خير الدنيا والآخرة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [هـ].

حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتے ہیں اور دنیا سے بےرغبت بنا دیتے ہیں اور اس کو اپنے عیوب دکھا دیتے ہیں۔ جس شخص کو یہ چیزیں دے دی گئیں تو اس کو دنیا، آخرت کی خیر دے دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37992، ترقيم محمد عوامة 36405)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36406 ترقیم الشثری: -- 37993
٣٧٩٩٣ - حدثنا وكيع عن رجل من جعفي عن عدي بن حاتم قال: ما جاءت الصلاة قط إلا وانا إليها بالاشواق، ولا جاءت قط إلا وانا مستعد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي.
حضرت عدی بن حاتم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز جب بھی آتی ہے تو مجھے اس کا شوق ہوتا ہے اور نماز جب بھی آتی ہے تو میں تیار ہوتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37993، ترقيم محمد عوامة 36406)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36407 ترقیم الشثری: -- 37994
٣٧٩٩٤ - (حدثنا (قتيبة) (١) بن سعيد قال) (٢) : حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن ابي حازم انه قال: انظر (٣) الذي تحب ان يكون معك في الآخرة فقدمه اليوم، وانظر الذي تكره ان يكون معك ثم فاتركه اليوم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قبيصة).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [جـ، ع]: زيادة (إلى).

حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تم دیکھو کہ جس چیز کو تم آخرت میں اپنے ساتھ ہونا پسند کرتے ہو تو پھر تم اس کو آج ہی آگے بھیج دو۔ اور تم اس چیز کو دیکھو جس کا تم وہاں ساتھ ہونا پسند نہیں کرتے تو اس کو تم آج ہی ترک کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37994، ترقيم محمد عوامة 36407)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36408 ترقیم الشثری: -- 37995
٣٧٩٩٥ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن ابن السائب بن (بركة) (١) عن عمرو بن ميمون سمع ابا ذر يقول: كنت امشي خلف النبي ﷺ فقال:"الا ادلك على كنز من كنوز الجنة؟" قلت: بلى، قال:"لا حول ولا قوة إلا بالله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (يزيد)، واسمه (محمد بن السائب بن بركة).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ١٤٥ (٢١٣٨٤)، والنسائي (٩٨٤٢)، وابن ماجه (٣٨٢٥)، وابن حبان (٨٢٠)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٠٠، والحميدي (١٣٠)، والطيالسي (٤٧٨)، وهناد في الزهد (١٠٦٥)، والمروزي في زوائد الزهد (١١٢١)، والبزار (٤٠٢٠)، والدولابي ١/ ٨٠، وابن أبي عمر كما في المطالب (٣٤٤٧)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٦٦، وابن عدي ٣/ ٢٣٣، وابن معين في التاريخ ٣/ ١٣٥، والخطيب ١٠/ ٢٧٣، والطبراني في الدعاء (١٦٤٤)، وابن عساكر ٥٩/ ٣٣٤، والمزي ٢٥/ ٢٤٤.

حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا۔ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کا نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37995، ترقيم محمد عوامة 36408)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36409 ترقیم الشثری: -- 37996
٣٧٩٩٦ - حدثنا (١) ابن فضيل عن عاصم عن ابي عثمان (عن ابي موسى) (٢) قال: كنا مع النبي ﷺ فسمعني وانا خلفه وانا اقول: (لا) (٣) حول ولا قوة إلا بالله، ⦗٥٥٢⦘ (فقال:"يا عبد الله بن قيس الا ادلك على كنز من كنوز الجنة"، فقلت: بلى، قال:"لا حول ولا قوة إلا بالله") (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (زيد).
(٢) سقط في النسخ، وقد سبق الخبر بإثباتها ١٠/ ٣٧٦ برقم [٣١٦٤٤]، ورواه مسلم من طريق المؤلف بها.
(٣) سقط من: [أ].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٨)، ومسلم (٢٧٠٤).

حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میں آپ کے پیچھے تھا اور آپ نے مجھے سنا کہ میں کہہ رہا ہوں۔ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ کا نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37996]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37996، ترقيم محمد عوامة 36409)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36410 ترقیم الشثری: -- 37997
٣٧٩٩٧ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن كثير بن (زيد) (٢) (المدني) (٣) قال: حدثني المطلب بن عبد الله (بن حنطب) (٤) عن عامر بن سعد بن ابي وقاص قال: لقيت ابا ايوب الانصاري فقال (لي) (٥) : الا آمرك بما (امرني) (٦) به رسول الله ﷺ، ان اكثر من (٧) لا حول ولا قوة إلا بالله (فإنه) (٨) كنز من كنوز الجنة (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [ب]: (يزيد).
(٣) في [ب، جـ، ع، هـ]: (المديني).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ع]: (أمر بي).
(٧) في [جـ، ع]: زيادة (قول).
(٨) في [ع]: (فإنها).
(٩) حسن؛ كثير صدوق، أخرجه عبد بن حميد (٢٣١)، والطبراني (٤٨٠٩)، وانظر: المطالب (٣٤٢٥).

حضرت عامر بن سعد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری حضرت ابوایوب انصاری سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا۔ کیا میں تمہیں اس کام کا نہ کہوں جس کا مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا؟ یہ کہ میں لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ کثرت سے کہا کروں۔ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37997، ترقيم محمد عوامة 36410)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36411 ترقیم الشثری: -- 37998
٣٧٩٩٨ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الله بن عامر الاسلمي عن ابي الزناد عن سعيد بن سليمان عن زيد بن ثابت ان رسول الله ﷺ كان يقول:"الا ادلكم على كنز من كنوز الجنة (تكثرون) (١) من لا حول ولا قوة إلا بالله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يكثرون).
(٢) ضعيف؛ لحال عبد اللَّه بن عامر، وأخرجه عبد بن حميد (٢٤٩)، والطبراني (٤٨٠٩)، وفي الدعاء (١٦٥٥).

حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ ”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کا نہ بتاؤں؟ تم لوگ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ۔ کثرت سے پڑھا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37998، ترقيم محمد عوامة 36411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36412 ترقیم الشثری: -- 37999
٣٧٩٩٩ - حدثنا (عبيد الله) (١) بن موسى عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن (كميل) (٢) بن زياد عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"لا حول ولا قوة إلا بالله كنز من كنوز الجنة" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [س]: (كهيل).
(٣) صحيح؛ أخرجه النسائي (١٠١٩٠)، وأحمد ٢/ ٣٠٩ (٨٠٧١)، وعبد الرزاق (٢٠٥٤٧)، والحاكم ١/ ٥١٧، وإسحاق (٢٦٦)، والطيالسي (٢٤٥٦)، وابن فضيل في الدعاء (٥٥)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٠٠، والخطيب في تاريخ بغداد ٧/ ١٧٩، والبيهقي في الشعب (٦٥٩)، وابن عساكر ٥٠/ ٢٤٨، والمزي ٢٤/ ٢٢٢، والطبراني في الهناء (١٦٣٦).

حضرت ابوہریرہ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37999، ترقيم محمد عوامة 36412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں