مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36413 ترقیم الشثری: -- 38000
٣٨٠٠٠ - حدثنا الحسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن ابي رزين عن معاذ بن جبل عن النبي ﷺ (قال) (١) :"لا حول ولا قوة إلا بالله (كنز من كنوز الجنة) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [س].
(٣) منقطع؛ أبو رزين لا يروي عن معاذ، أخرجه أحمد (٢١٩٩٦)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٣٥٧)، وعبد بن حميد (١٢٨)، والطبراني ٢٠/ (٣٧١).
حضرت معاذ بن جبل، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38000، ترقيم محمد عوامة 36413)
ترقیم عوامۃ: 36414 ترقیم الشثری: -- 38001
٣٨٠٠١ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن ابي حازم [قال: (انظر) (١) كل عمل كرهت الموت (من) (٢) اجله فاتركه، (ثم لا يضرك متى ما مت) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (انظروا).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم ہر اس عمل کو دیکھو جس کی وجہ سے تم موت کو ناپسند کرتے ہو۔ پس تم اس کو چھوڑ دو۔ پھر تم جب بھی مرو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38001، ترقيم محمد عوامة 36414)
ترقیم عوامۃ: 36415 ترقیم الشثری: -- 38002
٣٨٠٠٢ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن ⦗٥٥٤⦘ ابي حازم] (١) انه قال: يسير الدنيا (يشغل) (٢) عن كثير الآخرة، ثم قال: إنك تجد الرجل يشغل نفسه بهم غيره، حتى (لهو) (٣) اشد اهتماما من صاحب الهم (بهم) (٤) نفسه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (شغل).
(٣) في [جـ، ع]: (لهم).
(٤) في [أ، ب]: (يهم).
حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ تھوڑی سی دنیا، بہت زیادہ آخرت سے مشغول کردیتی ہے۔ پھر فرمایا: تم ایسے آدمی کو پاؤ گے جو غیر کی فکر میں اپنے آپ سے مشغول ہوگا۔ جبکہ اس کو دوسرے کی فکر سے زیادہ اپنے نفس کی فکر رکھنی چاہیے تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38002، ترقيم محمد عوامة 36415)
ترقیم عوامۃ: 36416 ترقیم الشثری: -- 38003
٣٨٠٠٣ - حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا يعقوب عن ابي (حازم) (١) انه قالت: جد الرجل يعمل بالمعاصي فإذا قيل له تحب الموت؟ قال: لا، وكيف وعندي ما عندي، فيقال له: افلا تترك ما تعمل به من المعاصي؟ (فقال) (٢) : ما اريد تركه وما احب ان اموت حتى اتركه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حاتم).
(٢) في [جـ]: (فيقول).
حضرت ابوحازم کے بارے میں روایت ہے وہ کہا کرتے تھے کہ تم ایک آدمی کو دیکھتے ہو جو گناہ کر رہا ہے۔ پس جب اس سے کہا جائے تمہیں موت پسند ہے؟ وہ کہتا ہے۔ نہیں اور کیسے پسند ہو جبکہ میرے پاس جو ہے وہ ہے۔ پھر اس سے کہا جائے۔ کیا تم ان گناہ کے عملوں کو ترک نہیں کرتے؟ تو وہ کہتا ہے میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں مر جاؤں۔ یہاں تک کہ میں ان کو چھوڑ دوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38003، ترقيم محمد عوامة 36416)
ترقیم عوامۃ: 36417 ترقیم الشثری: -- 38004
٣٨٠٠٤ - [حدثنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا إبراهيم عن ابي سهل عن (الحسن) (١) في قوله: ﴿إن جهنم كانت مرصادا﴾ [النبا: ٢١] ، قال: ترصدهم والله، قال: وبينما رجل يمر إذا استقبله آخر (فقال) (٢) : ابلغك ان بالطريق رصدا، قال: (نعم، قال) (٣) : فخذ (حذرك) (٤) إذن] (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسين).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) في [جـ]: (جوازك).
(٥) ورد هذا الخبر في [أ، ب] بعد الخبر رقم: [٣٨٠١٤] وتقدم على الخبر الذي قبله في: [ط، هـ].
حضرت حسن سے ارشادِ خداوندی {إنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! جہنم، مجرموں کا گھات لگائے گی۔ فرمایا کہ اسی دوران ایک آدمی گزر رہا ہوگا کہ اس کے سامنے ایک آدمی آئے گا اور (اس سے) کہے گا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ راستہ میں گھات لگا ہوا ہے؟ وہ کہے گا۔ ہاں۔ پہلا آدمی کہے گا۔ پھر تم اپنا بچاؤ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38004، ترقيم محمد عوامة 36417)
ترقیم عوامۃ: 36418 ترقیم الشثری: -- 38005
٣٨٠٠٥ - حدثنا حسين بن علي قال: رايت ابا سنان يوم جمعة (وعيناه) (١) تسيلان (وشفتاه) (٢) تحرك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عينان).
(٢) في [جـ]: (وشفتيه).
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسنان کو جمعہ کے دن دیکھا کہ ان کی آنکھیں بہہ رہی تھیں اور ان کے ہونٹ حرکت کررہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38005، ترقيم محمد عوامة 36418)
ترقیم عوامۃ: 36419 ترقیم الشثری: -- 38006
٣٨٠٠٦ - حدثنا وكيع عن جعفر (عن ميمون) (١) قال: لا يكون الرجل تقيا حتى يحاسب نفسه (٢) محاسبة الرجل (شريكه) (٣) ، حتى ينظر من اين مطعمه (ومشربه ومكسبه) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [هـ]: زيادة (أشد من).
(٣) [س]: (شريك).
(٤) في [جـ]: (ومكسبه ومشربه).
حضرت میمون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی تب تک متقی نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے نفس سے اس سے بھی سخت محاسبہ نہ کرے جیسا وہ اپنے شریک سے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دیکھے کہ اس کا کھانا، اس کا پینا، اس کا لباس کہاں سے ہے؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38006، ترقيم محمد عوامة 36419)
ترقیم عوامۃ: 36420 ترقیم الشثری: -- 38007
٣٨٠٠٧ - حدثنا (وكيع) (١) عن سفيان عن منصور عن سعيد بن جبير في قوله: ﴿من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم اعمالهم فيها﴾ (٢) [هود: ١٥] ، قال: من عمل للدنيا وفيه في الدنيا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وزيادة فيها: (عن جعفر عن ميمونة).
(٢) في [جـ]: زيادة ﴿وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ﴾.
حضرت سعید بن جبیر سے ارشادِ خداوندی { مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ إلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیہَا وَہُمْ فِیہَا لاَ یُبْخَسُونَ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں جو شخص دنیا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کو دنیا میں ہی اس کا پورا بدلہ دے دیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38007، ترقيم محمد عوامة 36420)
ترقیم عوامۃ: 36421 ترقیم الشثری: -- 38008
٣٨٠٠٨ - حدثنا سفيان بن عيينة (١) قال: قالوا لابن (المنكدر) (٢) : اي العمل احب إليك؟ قال: إدخال السرور على المؤمن، قالوا: فما بقي مما (تستلذ؟) (٣) قال: الإفضال على الإخوان.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن رجل).
(٢) في [جـ]: (الكدر).
(٣) في [أ، ب، ع]: (يستلذ).
حضرت سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن المنکدر سے پوچھا آپ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ انہوں نے فرمایا: مومن کو خوش کرنا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون سی چیز باقی رہ گئی ہے جس سے آپ لذت حاصل کریں؟ انہوں نے فرمایا: بھائیوں کا اکرام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38008، ترقيم محمد عوامة 36421)
ترقیم عوامۃ: 36422 ترقیم الشثری: -- 38009
٣٨٠٠٩ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن عمارة بن عمير قال: دخل قيس بن (السكن) (١) المسجد فجعل ينظر ويقول: اجدب المسجد (اجدب المسجد) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س، ع]: (سكن).
(٢) سقط من: [أ، ب].
حضرت عمارہ بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن سکن مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھنے لگ گئے پھر فرمایا: مسجد قحط زدہ ہوگئی، مسجد قحط زدہ ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38009، ترقيم محمد عوامة 36422)