مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36423 ترقیم الشثری: -- 38010
٣٨٠١٠ - حدثنا ابن عيينة عن مالك بن مغول عن ابي حصين قال: قال لي: لو رايت (اقواما) (١) (رايتهم) (٢) لتقطعت كبدك عليهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (قومًا).
(٢) في [جـ]: (لرأيتهم).
حضرت مالک بن مغول، حضرت ابوحصین کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کہا: اگر تم ان لوگوں کو دیکھ لیتے جن کو میں نے دیکھا ہے تو تم ان پر اپنا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے کرلیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38010، ترقيم محمد عوامة 36423)
ترقیم عوامۃ: 36424 ترقیم الشثری: -- 38011
٣٨٠١١ - حدثنا ابن عيينة عن ابي حازم قال: اكتم حسناتك اكثر (مما) (١) تكتم سيئاتك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ما).
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اپنی نیکیوں کو اس سے زیادہ چھپاؤ کہ جتنا تم اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38011، ترقيم محمد عوامة 36424)
ترقیم عوامۃ: 36425 ترقیم الشثری: -- 38012
٣٨٠١٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن قيس قال: من قرا مائتي آية وهو ينظر في المصحف لم يجئ احد في ذلك اليوم بافضل منه.
حضرت عمرو بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص قرآن پاک کی دو صد آیات کی تلاوت اس طرح کرتا ہے کہ وہ قرآن کو دیکھ رہا ہوتا ہے تو کوئی آدمی اس دن اس شخص سے افضل کام کرنے والا نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38012]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38012، ترقيم محمد عوامة 36425)
ترقیم عوامۃ: 36426 ترقیم الشثری: -- 38013
٣٨٠١٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: ما رايت احدا اعلم بفتيا من جابر ابن زيد، وسمعته يقول: ما املك من الدنيا شيئا إلا حمارا.
حضرت عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید سے بڑا عالم فتویٰ نہیں دیکھا اور میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ میں دنیا میں سے صرف ایک گدھے کا مالک ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38013، ترقيم محمد عوامة 36426)
ترقیم عوامۃ: 36427 ترقیم الشثری: -- 38014
٣٨٠١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن العلاء بن المسيب عن ابي الضحى في قوله: ﴿الا إن اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون﴾ [يونس: ٦٢] ، قال: هم الذين إذا رؤوا، ذكر الله.
حضرت ابوالضحی سے ارشاد خداوندی { ألاَّ إنَّ أَوْلِیَائَ اللہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جب دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38014]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38014، ترقيم محمد عوامة 36427)
ترقیم عوامۃ: 36428 ترقیم الشثری: -- 38015
٣٨٠١٥ - حدثنا حفص بن غياث عن مالك بن مغول عمن حدثه قال: قال عبد الله: من سره ان يعلم ماله عند الله فلينظر ما للناس عنده (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي عن عبد اللَّه.
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ اللہ کے پاس موجود اپنی حالت کو دیکھے تو اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس لوگوں کی کیا حالت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38015]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38015، ترقيم محمد عوامة 36428)
ترقیم عوامۃ: 36429 ترقیم الشثری: -- 38016
٣٨٠١٦ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: حدثنا شعبة عن الحكم عن مجاهد: ﴿إلا ان تقطع قلوبهم﴾ [التوبة: ١١٠] قال: الموت.
حضرت مجاہد سے {إِلاَّ أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُہُمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: یہ موت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38016]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38016، ترقيم محمد عوامة 36429)
ترقیم عوامۃ: 36430 ترقیم الشثری: -- 38017
٣٨٠١٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن طارق عن سالم: ﴿واعبد ربك حتى ياتيك اليقين﴾ [الحجر: ٩٩] قال: (اليقين) (١) الموت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يعني).
حضرت سالم سے { وَاعْبُدْ رَبَّک حَتَّی یَأْتِیَک الْیَقِینُ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: الْیَقِینُ سے مراد موت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38017، ترقيم محمد عوامة 36430)
ترقیم عوامۃ: 36431 ترقیم الشثری: -- 38018
٣٨٠١٨ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا الربيع بن المنذر عن ابيه (ان) (١) الربيع بن خثيم جاؤوه (برمل) (٢) او اشتري له رمل، فطرح في بيته او في داره -يعني يجلس عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عن).
(٢) في [أ]: (برفل)، وفي [ط]: (برسل).
حضرت ربیع بن منذر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم کے پاس لوگ کنکریاں لے کر آئے یا ان کے لیے کنکریاں خریدی گئیں پس یہ ان کے گھر یا ان کے کمرہ میں ڈالی گئیں۔ یعنی وہ اس پر بیٹھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38018]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38018، ترقيم محمد عوامة 36431)
ترقیم عوامۃ: 36432 ترقیم الشثری: -- 38019
٣٨٠١٩ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سرية الربيع بن خثيم قالت: كان عمل الربيع سرا.
حضرت ربیع بن خثیم کی سریہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حضرت ربیع کا عمل مخفی ہوتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38019، ترقيم محمد عوامة 36432)