🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. (باب أول ما فعل ومن فعله)
سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36971 ترقیم الشثری: -- 38567
٣٨٥٦٧ - حدثنا وكيع حدثنا شريك عن ابي فزارة عن ميمون بن مهران قال: قلت لابن عمر: من اول من سماها العتمة؟ قال: الشيطان (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ شريك صدوق.
حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ سب سے پہلے عتمہ کا نام کس نے دیا آپ نے فرمایا کہ شیطان نے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38567، ترقيم محمد عوامة 36971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36972 ترقیم الشثری: -- 38568
٣٨٥٦٨ - حدثنا (عبد الله) (١) عن إبراهيم بن (إسماعيل) (٢) بن مجمع عن يعقوب ابن مجمع عن ابيه مجمع بن (يزيد) (٣) قال: اول من رايته يصلي في النعلين عتبة بن عويم بن ساعدة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولعل الصواب: (عبيد اللَّه) بن موسى العبسي.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (سمعان).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (زيد).
(٤) مجهول؛ لجهالة يعقوب بن مجمع.

حضرت مجمع بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے جوتیوں پر عتبہ بن عویم بن ساعدہ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38568، ترقيم محمد عوامة 36972)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36973 ترقیم الشثری: -- 38569
٣٨٥٦٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن قال: إن اول من (ابدا) (١) الهبة: عثمان بن عفان، واول من سال الطالب (البينة) (٢) ان ⦗١٤٢⦘ غريمه مات ودينه عليه: عثمان بن عفان (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (لبينة).
(٣) صحيح.

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے ہبہ حضرت عثمان بن عفان نے شروع کیا۔ سب سے پہلے مقروض کے مرنے کے بعدقرض کے طالب کے لئے گواہی حضرت عثمان بن عفان نے طلب کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38569، ترقيم محمد عوامة 36973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36974 ترقیم الشثری: -- 38570
٣٨٥٧٠ - حدثنا مالك قال: حدثنا مسعود بن سعد عن ابي إسحاق عن نافع عن ابن عمر قال: اول من جمع الناس على الصلاة في رمضان عمر بن الخطاب ﵁ (١) جمعهم على ابي بن كعب (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: ﵀.
(٢) صحيح.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے رمضان میں نمازوں کو حضرت عمر بن خطاب نے جمع کیا۔ آپ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب پر جمع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38570، ترقيم محمد عوامة 36974)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36975 ترقیم الشثری: -- 38571
٣٨٥٧١ - حدثنا مالك (١) (حدثنا) (٢) مسعود بن سعد عن (مجالد) (٣) عن الشعبي قال: اول العرب كتب -يعني بالعربية- حرب بن امية بن عبد شمس، قيل: (ممن) (٤) تعلم ذلك؟ قال: من اهل الحيرة، قال: (ممن) (٥) تعلم اهل الحيرة؟ قال: (من) (٦) اهل الانبار (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (عن).
(٣) في [س]: (مجاهد).
(٤) في [جـ، س]: (فممن)، وفي [أ]: (فمن)، وفي [ب]: (ومن).
(٥) سقط من: [س].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) ضعيف منقطع؛ الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ عربوں میں سے سب سے پہلے حرب بن امیہ بن عبد شمس نے لکھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے لکھنا کہاں سے سیکھا؟ آپ نے فرمایا کہ اہل حیرہ سے۔ سوال ہوا کہ اہل حیرہ نے لکھنا کہاں سے سیکھا؟ فرمایا اہل انبار سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38571، ترقيم محمد عوامة 36975)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36976 ترقیم الشثری: -- 38572
٣٨٥٧٢ - حدثنا الفضل حدثنا رباح بن (ابي) (١) معروف عن عطاء قال: (طاف) (٢) الحارث (بن عبد الله) (٣) بن ابي ربيعة مع (عبد الملك) (٤) بن مروان حتى ⦗١٤٣⦘ إذا كان في الطواف السابع (دنا) (٥) إلى البيت يلتزمه فاخذ الحارث بيده، فالتفت إليه فقال: مالك يا (حارث) (٦) ؟ قال: يا امير المؤمنين، تدري من اول من فعل هذا؟ عجوز من عجائز قومك، قال: فكف ولم (يلتزمه) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [جـ]: (عطان).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [هـ]: (مالك).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [جـ]: (يا جار).
(٧) في [هـ]: (تلتزم).

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ نے عبد الملک بن مروان کے ساتھ طواف کیا جب وہ ساتویں چکر میں تھے تو بیت اللہ کے قریب ہوکر اس سے چمٹ گئے۔ حارث نے انہیں اپنے ہاتھ سے پکڑا تو عبد الملک بن مروان نے کہا کہ اے حارث کیا بات ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! آپ جانتے ہیں کہ ایسا سب سے پہلے کس نے کیا تھا؟ آپ کی قوم کی بوڑھی نے۔ پھر عبد الملک بن مروان پیچھے ہٹ گئے اور کعبہ سے نہ چمٹے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38572، ترقيم محمد عوامة 36976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36977 ترقیم الشثری: -- 38573
٣٨٥٧٣ - حدثنا الفضل عن سفيان عن فراس عن الشعبي عن عبد الله بن (عمرو) (١) قال: اول كلمة قالها إبراهيم ﵇ حين طرح في النار: حسبي الله ونعم الوكيل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمر).
(٢) صحيح إلى عبد اللَّه بن عمرو، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٤٠، وابن جرير ٤/ ١٨٢، وفراس (٦).

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں پھینکا گیا تو سب سے پہلے انہوں نے یہ جملہ کہا کہ اللہ میرے لئے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38573، ترقيم محمد عوامة 36977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36978 ترقیم الشثری: -- 38574
٣٨٥٧٤ - حدثنا الفضل اخبرنا الحارث بن زياد قال: سمعت عطاء قال: اول جبل جعل على الارض ابو قبيس.
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ زمین پر سب سے پہلا پہاڑ جبل ابی قبیس بنایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38574، ترقيم محمد عوامة 36978)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36979 ترقیم الشثری: -- 38575
٣٨٥٧٥ - (حدثنا الفضل) (١) حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم قال: قال المغيرة بن شعبة: إن اول يوم عرفت فيه رسول الله ﷺ اني (٢) امشي مع ابي جهل بمكة، فلقينا رسول الله ﷺ فقال له:"يا ابا الحكم، هلم إلى الله وإلى رسوله وإلى كتابه ادعوك إلى الله"، فقال: يا محمد، ما انت بمنته عن سب آلهتنا، هل تريد إلا ان نشهد ان قد بلغت، فنحن نشهد ان قد بلغت، قال: فانصرف عنه رسول الله ﷺ فاقبل علي فقال: والله إني لاعلم ان ما يقول حق، ولكن بني قصي قالوا: فينا ⦗١٤٤⦘ الحجابة، فقلنا: نعم، (ثم قالوا: فينا القرى، فقلنا: نعم) (٣) ، ثم قالوا: فينا الندوة، فقلنا: نعم، ثم قالوا: فينا السقاية، فقلنا: نعم، ثم اطعموا واطعمنا حتى إذا تحاكت الركب قالوا: منا نبي والله لا افعل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: زيادة (كنت).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) منقطع؛ زيد لا يروي عن المغيرة.

حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس وقت پہچانا جب میں مکہ میں ابو جہل کے ساتھ چل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ملے اور آپ نے ابو جہل سے کہا کہ اے ابو الحکم! اللہ کی طرف آؤ، اللہ کے رسول کی طرف آؤ اور اللہ کی کتاب کی طرف آؤ، میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس نے جواب دیا اے محمد! تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے ہو۔ اگر تم اس بات کی گواہی چاہتے ہو کہ تم نے پیغام پہنچادیا تو ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تم نے پیغام پہنچا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے تو ابوجہل میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ حق سچ ہے لیکن بنو قصی والوں نے کہا کہ ہم میں کعبہ کی دربانی ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کی مہمانی ہے۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم میں سرداروں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں حاجیوں کو پانی پلانے کا اعزاز ہے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے بھی کھلایا اور ہم نے بھی کھلایا اور اب جب لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم میں نبی ہے۔ خدا کی قسم ہم ہرگز اس کو نہیں مانیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38575، ترقيم محمد عوامة 36979)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36980 ترقیم الشثری: -- 38576
٣٨٥٧٦ - حدثنا الفضل حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم قال: قال رسول الله ﷺ:"قد عرفت اول الناس بحر (البحائر) (١) رجل من بني مدلج كانت له (ناقتان) (٢) فجدع آذانهما وحرم (البانهما) (٣) وظهورهما، ولقد رايته وإياهما (في النار) (٤) تخبطانه (باخفافهما) (٥) ، (وتقضمانه) (٦) بافواههما، ولقد عرفت اول الناس (سيب) (٧) السوائب ونصب النصب وغير عهد إبراهيم: عمرو بن لحي، ولقد رايته يجر قصبه في النار يؤذي اهل النار جر قصبه" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (العجائر).
(٢) في [أ، ب]: (ناقة).
(٣) في [هـ]: (ألبانها).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [جـ]: (بإخفاقه).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (يعظانه)، وفي [س]: (تعضان).
(٧) في [هـ]: (سبب).
(٨) مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، وهشام له أوهام، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٩٧، وابن جرير ٧/ ٨٦.

حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جس نے سب سے پہلے بحیرہ جانور (بتوں کے نام پر چڑھاوے کے لئے مخصوص کیا جانے والا جانور) بنایا وہ بنو مدلج کا ایک آدمی تھا جس کی دو اونٹنیاں تھیں، اس نے ان دونوں کے کان کاٹے اور ان کے دودھ کو اور ان پر سواری کو حرام قرار دیا۔ میں اس شخص کو اور اس کی اونٹنیوں کو جہنم میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسے اپنے پاؤں سے کچل رہی ہیں اور اپنے منہ سے اسے کاٹ رہی ہیں۔ میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس نے سائبہ جانور بنائے اور بتوں کے حصے مقرر کئے اور حضرت ابراہیم کی شریعت کو بدل دیا۔ وہ عمرو بن لحی تھا۔ میں اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں اپنے بانس کو کھینچ رہا ہے اور اس کی وجہ سے اہل جہنم کو تکلیف ہورہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38576، ترقيم محمد عوامة 36980)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں