مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
76. (باب أول ما فعل ومن فعله)
سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
ترقیم عوامۃ: 36951 ترقیم الشثری: -- 38547
٣٨٥٤٧ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن ابن ابي نجيح قال: اول من رايته يمشي بين الركن اليماني والحجر الاسود: عروة بن الزبير.
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عروہ بن زبیر کو چلتے ہوئے دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38547، ترقيم محمد عوامة 36951)
ترقیم عوامۃ: 36952 ترقیم الشثری: -- 38548
٣٨٥٤٨ - حدثنا ابو اسامة حدثنا عوف قال: (قلت) (١) للحسن: (من) (٢) اول من اعتق امهات الاولاد؟ قال: عمر، قلت: فهل يرقهن إن زنين؟ قال: لاها الله إذن (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (قيل).
(٢) سقط من: [س].
(٣) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر.
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے ان باندیوں کو کس نے آزاد کرنے کا حکم دیا جن سے اولاد ہوئی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے۔ میں نے سوال کیا کہ اگر وہ زنا کریں تو کیا وہ باندیاں رہیں گی؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے اللہ کی پناہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38548، ترقيم محمد عوامة 36952)
ترقیم عوامۃ: 36953 ترقیم الشثری: -- 38549
٣٨٥٤٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن مجاهد ان النبي ﷺ لقي قوما فيهم حاد يحدو، فلما راوا النبي ﷺ سكت حاديهم فقال:"من القوم؟" قالوا: من مضر، فقال النبي ﷺ:"وانا من مضر"، فقال:"ما شان حاديكم لا يحدو؟"، فقالوا: يا رسول الله ﷺ إنا اول العرب (حداء) (١) قال:"وما (ذاك) (٢) ؟" قالوا: إن ⦗١٣٧⦘ رجلا منا -وسموه- (عزب) (٣) في (إبل) (٤) له في ايام الربيع، فبعث غلاما له مع الإبل، فابطا الغلام ثم جاء فجعل يضربه بعصا على يده، فانطلق الغلام وهو يقول: وايداه وايداه، قال: فتحركت الإبل ونشطت، فقال له: امسك امسك، قال: فافتتح الناس الحداء (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (لحداء).
(٢) في [هـ]: (ذلك).
(٣) في [أ، ب]: (ضرب)، وفي [ط، هـ]: (غريب).
(٤) في [هـ]: (الإبل).
(٥) مرسل؛ مجاهد تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ٢١.
حضرت مجاہد فرماتے ہں ک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ایک ایسی قوم سے ہوئی جن میں ایک حدی خواں حدی پڑھ رہا تھا لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ یہ کون سی قوم ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ قیلہ مضر سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی مضر سے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا حدی خواں خاموش کیوں ہوگیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم عربوں میں سب سے پہلے حدی پڑھنے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہماری قوم کا ایک آدمی بہار کے موسم میں اپنے اونٹوں سے دور تھا۔ اس نے اپنے غلام کو اونٹ لینے بھیجا تو غلام نے دیر کردی۔ پھر وہ آدمی خود آیا اور غلام کو عصا سے اس کے ہاتھ پر مارنا شروع کردیا۔ تو غلام ”وایداہ! وایداہ!“ (ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ) کہتے ہوئے چلنے لگا۔ اس کا یہ جملہ سن کر اونٹ تیز تیز حرکت کرنے لگے اور نشاط میں آگئے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ کہتے رہو، یہ کہتے رہو۔ اس کے بعد سے لوگوں میں حدی کا رواج پڑگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38549، ترقيم محمد عوامة 36953)
ترقیم عوامۃ: 36954 ترقیم الشثری: -- 38550
٣٨٥٥٠ - حدثنا عبد الرحيم عن اشعث عن الشعبي والحكم عن إبراهيم (قال) (١) : إن اول من فرض العطاء عمر بن الخطاب، وفرض فيه الدية كاملة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (قالا).
(٢) ضعيف منقطع؛ لضعف أشعث، وإبراهيم لم يدرك عمر.
حضرت شعبی اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ سالانہ وظیفہ سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب نے مقرر فرمایا اور اس میں پوری دیت بھی لازم کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38550، ترقيم محمد عوامة 36954)
ترقیم عوامۃ: 36955 ترقیم الشثری: -- 38551
٣٨٥٥١ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بعث العلاء بن الحضرمي إلى رسول الله ﷺ بثمانمائة الف من خراج البحرين، وكان اول خراج قدم به على رسول الله ﷺ، فامر به (فنثر) (١) على حصير في المسجد، واذن المؤذن فخرج إلى الصلاة فصلى، ثم جاء إلى المال فمثل عليه قائما فلم يعط ساكتا ولم يمنع سائلا، فجعل الرجل يجيء فيقول: اعطني، فيقول:"خذ (قبضة) (٢) "، (ثم يجيء الرجل فيقول: اعطني، فيقول:"خذ قبضتين") (٣) ، ويجيء الرجل فيقول: اعطني، فيقول:"خذ ثلاث قبضات" فجاء العباس فقال: يا رسول الله اعطني من هذا المال، فإني اعطيت فداي وفداء عقيل يوم بدر، ولم يكن ⦗١٣٨⦘ لعقيل مال قال: فاخذ يبسط خميصة كانت عليه وجعل (يحثي) (٤) من المال، فحثى فيها ثم قام به فلم يطق حمله فقال: يا رسول الله احمل علي، فنظر إليه النبي ﷺ فتبسم حتى بدا ضاحكه، وقال:"انقص من المال وقم بقدر ما تطيق"، فلما ولى العباس قال: اما إحدى اللتين وعدنا الله فقد (انجز) (٥) لنا إحداهما، ونحن ننتظر الاخرى قوله تعالى: ﴿ (ياايها) (٦) النبي قل لمن في ايديكم من الاسرى إن يعلم الله في قلوبكم خيرا﴾ [الانفال: ٧٠] ، إلى آخر الآية، فقد انجزها الله لنا ونحن ننتظر الاخرى (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فنثرها).
(٢) في [جـ]: (قبضته).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (يحثو).
(٥) في [س]: (أنجد).
(٦) سقط من: [س].
(٧) مرسل؛ حميد بن هلال تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٥، ويعقوب في المعرفة ١/ ٥٠٣، والبلاذري ص ٩٢، وأخرجه الحاكم ٣/ ٢٢٩ من طريق حميد بن هلال عن أبي بردة عن أبي موسى مرفوعًا.
حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضرمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بحرین کے خراج میں سے آٹھ لاکھ درہم بھیجے۔ یہ پہلا خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس مال کو مسجد میں ایک چٹائی بچھا کر اس پر ڈال دیا گیا۔ مؤذن نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ اس مال کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے، آپ نے کسی خاموش کو مال نہ دیا اور کسی مانگنے والے کو محروم نہ فرمایا۔ ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ ایک مٹھی لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور وہ کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ دو مٹھیاں لے لو۔ پھر ایک آدمی آتا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ تم تین مٹھیاں لے لو۔ اتنے میں حضرت عباس آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اس مال میں سے عطا کیجئے۔ میں نے غزوہ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا۔ جبکہ عقیل کے پاس مال نہیں تھا۔ پھر حضرت عباس اپنے موجود چادر میں وہ مال بھرنے لگے۔ چادر بھرنے کے بعد جب وہ اٹھانے لگے تو ان سے اٹھایا نہ گیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھ پر اسے لدوا دیجئے۔ آپ ان کی طرف دیکھ کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مال کم کرلو اور اتنا اٹھاؤ جتنا اٹھاسکتے ہو۔ جب حضرت عباس چلے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جن دو چیزوں کا وعدہ فرمایا تھا ان میں سے ایک کو پورا کردیا۔ اور ہم دوسری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِمَنْ فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ الأَسْرَی إنْ یَعْلَمِ اللَّہُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا } اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کردیا اور ہم دوسری بات کے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38551، ترقيم محمد عوامة 36955)
ترقیم عوامۃ: 36956 ترقیم الشثری: -- 38552
٣٨٥٥٢ - حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن داود بن ابي هند عن ابن سيرين قال: اول من قاس إبليس وإنما عبدت الشمس والقمر بالمقاييس.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس تھا اور سورج اور چاند کی عبادت بھی قیاس کی وجہ سے کی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38552، ترقيم محمد عوامة 36956)
ترقیم عوامۃ: 36957 ترقیم الشثری: -- 38553
٣٨٥٥٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن الحسن بن محمد قال: اول ما تكلم الناس في القدر جاء رجل فقال: كان في قدر الله ان شرارة طارت فاحرقت البيت، فقال رجل: هذا من قدر الله، وقال آخر: ليس من قدر الله.
حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے تقدیر کے بارے میں بات کرنے والا وہ شخص تھا جس نے کہا کہ ایک چنگاری اڑی اور اس نے گھر کو جلا دیا۔ ایک آدمی نے کہا کہ یہ اللہ کی تقدیر تھی۔ دوسرے نے کہا کہ یہ اللہ کی تقدیر نہیں تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38553، ترقيم محمد عوامة 36957)
ترقیم عوامۃ: 36958 ترقیم الشثری: -- 38554
٣٨٥٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن عامر قال: اول من بايع تحت الشجرة ابو سنان (٢) وهب الاسدي اتى النبي ﷺ فقال: ابايعك، قال:"علام ⦗١٣٩⦘ تبايعني؟" قال: ابايعك على ما في نفسك، فبايعه (٣) الناس بعد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [ط، هـ]: زيادة (بن)، ولعله مما تقدم برقم [٣٨٥٣٠]، والصواب بحذفها كما هي رواية مجالد للخبر وهو من أوهامه وانظر: ما سيأتي برقم [٣٩٨٩٠]، وانظر: الكنى لمسلم ص ٤٠٢، والإصابة ٣/ ١٨٧، والاستيعاب ٢/ ٦٥٨.
(٣) في [أ، ب، س]: زيادة (ثم بايعه).
(٤) مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي ومجالد ضعيف، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٦٨٩)، وابن سعد ٢/ ١٠٠، والخلال في السنة (٣٦)، والبيهقي في الدلائل ٤/ ١٣٧، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، وابن جرير ٢٦/ ٨٦، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سب سے پہلے حضرت ابو سنان بن وہب اسدی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم کس چیز پر بیعت ہونا چاہتے ہو۔ عرض کیا جو چیز آپ کے دل میں ہے میں اس پر بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے انہیں بیعت فرمایا اور پھر دوسرے لوگ بعد میں بیعت ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38554]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38554، ترقيم محمد عوامة 36958)
ترقیم عوامۃ: 36959 ترقیم الشثری: -- 38555
٣٨٥٥٥ - حدثنا ابو اسامة حدثنا إسماعيل عن قيس سمع سعد بن ابي وقاص يقول: انا والله اول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله ﷿ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه النسائي (٨٢١٨)، والترمذي (٢٣٦٦)، وابن حبان (٦٩٨٩)، والحميدي (٧٨)، والشاشي (١٦٠)، وابن أبي عاصم في الأوائل (١١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤٠.
حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلانے والا میں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38555، ترقيم محمد عوامة 36959)
ترقیم عوامۃ: 36960 ترقیم الشثری: -- 38556
٣٨٥٥٦ - (حدثنا) (١) حسين عن زائدة حدثنا المختار بن فلفل قال: قال انس: قال النبي ﷺ:"انا اول شفيع في الجنة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكررت في: [ب].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٦)، وأحمد (١٢٤١٩)، وأصله عند البخاري (٦٥٦٥).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38556، ترقيم محمد عوامة 36960)