مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37838 ترقیم الشثری: -- 39445
٣٩٤٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي هاشم الواسطي عن ابي مجلز عن قيس بن عباد قال: سمعت ابا ذر يقسم لنزلت هؤلاء الآيات في هؤلاء الرهط الستة يوم بدر: علي وحمزة وعبيدة بن الحارث، وعتبة وشيبة (ابني) (١) ربيعة والوليد بن (عتبة) (٢) ﴿هذان خصمان اختصموا في ربهم﴾ [الحج: ١٩] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (ابن).
(٢) في [أ، ب]: (عبيد).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٨)، ومسلم (٣٠٣٣).
حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے ابو ذر کو قسم کھا کر کہتے سُنا کہ یہ (آئندہ) آیات بدر کے دن ان چھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ، حمزہ اور عبیدہ بن الحارث، اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ (آیات یہ ہیں) { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39445، ترقيم محمد عوامة 37838)
ترقیم عوامۃ: 37839 ترقیم الشثری: -- 39446
٣٩٤٤٦ - حدثنا قراد ابو نوح قال: حدثنا عكرمة بن عمار العجلي قال: حدثنا سماك الحنفي ابو زميل قال: حدثنا ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم بدر نظر رسول الله ﷺ إلى اصحابه وهم ثلاثمائة ونيف، ونظر إلى المشركين فإذا هم الف وزيادة، فاستقبل النبي ﷺ القبلة ثم مد يديه وعليه رداؤه وإزاره، ثم قال:"اللهم (اين) (١) ما وعدتني، اللهم إن تهلك هذه العصابة من اهل الإسلام لا تعبد في الارض ابدا". قال: فما زال يستغيث ربه ويدعوه حتى سقط رداؤه فاتاه ابو بكر قال: فاخذ رداءه فرداه ثم التزمه من ورائه ثم قال: يا نبي الله كفاك مناشدتك ربك، فإنه سينجز لك ما وعدك، فانزل الله: ﴿إذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم اني ممدكم بالف من الملائكة مردفين﴾ [الانفال: ٩] . فلما كان يومئذ والتقوا، هزم الله المشركين فقتل منهم سبعون رجلا، (واسر منهم سبعون رجلا) (٢) ، فاستشار رسول الله ﷺ ابا بكر وعمر وعليا، فقال ابو بكر: يا نبي الله، هؤلاء بنو العم والعشيرة والإخوان، فإني ارى ان تاخذ منهم الفدية، فيكون ما اخذنا منهم قوة على الكفار، وعسى الله ان يهديهم فيكونوا لنا عضدا، ⦗٤٤١⦘ فقال رسول الله ﷺ:"ما ترى يا ابن الخطاب؟" قلت: والله ما ارى الذي راى ابو بكر، ولكن ارى ان تمكنني من فلان -قريبا لعمر- فاضرب عنقه، وتمكن عليا من عقيل فيضرب عنقه، وتمكن حمزة من اخيه فلان فيضرب عنقه، حتى يعلم الله انه ليس في قلوبنا هوادة للمشركين، هؤلاء صناديدهم وائمتهم وقادتهم، فهوى نبي الله ﷺ ما قال ابو بكر، ولم يهو ما قلت فاخذ منهم الفداء. فلما كان من الغد قال عمر: غدوت إلى النبي ﷺ فإذا هو (قاعد) (٣) وابو بكر يبكيان، قال: قلت: (يا رسول) (٤) الله (٥) اخبرني ماذا يبكيك انت وصاحبك؟ فإن وجدت بكاء بكيت، وإن لم اجد بكاء تباكيت لبكائكما، فقال النبي ﷺ:"الذي عرض على اصحابكم من الفداء، لقد عرض علي عذابكم ادنى من هذه الشجرة" -لشجرة قريبة وانزل الله: ﴿ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض تريدون عرض الدنيا..﴾ إلى قوله: ﴿لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما اخذتم (من الفداء) (٦) (عذاب) (٧) عظيم﴾ [الانفال: ٦٨، ٦٨] ، ثم احل لهم الغنائم، فلما كان يوم احد من العام المقبل (عرفوا) (٨) بما صنعوا يوم بدر من اخذهم الفداء فقتل منهم سبعون، وفر اصحاب النبي ﷺ (٩) (عن النبي ﷺ) (١٠) وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على راسه وسال الدم على وجهه وانزل الله: ﴿اولما اصابتكم مصيبة قد اصبتم مثليها قلتم انى هذا قل هو من عند انفسكم إن الله على كل شيء قدير﴾ [آل عمران: ١٦٥] ⦗٤٤٢⦘ باخذكم الفداء (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (أنجز لي).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ]: (فلعد).
(٤) في [جـ]: (برسول اللَّه).
(٥) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [ب].
(٨) في [ق، هـ]: (عوقبوا).
(٩) في [س]: ﵊.
(١٠) سقط من: [ق، هـ].
(١١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٦٣)، وأحمد (٢٠٨)، وسبق بعضه ١٠/ ٣٥٠ برقم [٣١٥٦٢].
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا۔ تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو دیکھا تو وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک قبلہ کی جانب کرلیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اور ازار بند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا۔ اے اللہ! آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ کہاں ہے؟ اے اللہ! اگر اہل اسلام میں سے یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو (پھر) آپ کی اس دھرتی پر کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اللہ سے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک گرگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکر حاضر ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر پکڑ لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (دوبارہ) چادر پہنائی۔ پھر حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے ساتھ لگ گئے پھر کہا: اے پیغمبر خدا! آپ نے اپنے پروردگار سے جو مطالبہ کرلیا ہے کافی ہے۔ آپ کا پروردگار عنقریب آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُرْدِفِینَ }۔ ٢۔ پھر جب یہ دن (بدر کا) آیا اور باہم آمنا سامنا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی پس ان میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا گیا اور ستر آدمیوں کو ان میں سے قیدی بنایا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! یہ (قیدی) لوگ (ہمارے) چچا زاد، قوم اور بھائیوں میں سے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ پس ان سے ہم جو (فدیہ) لیں گے وہ کفار پر قوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو یہ لوگ ہمارے لئے دست وبازو بن جائیں گے۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا! میری رائے وہ نہیں ہے جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں شخص، عمر کا رشتہ دار، کو میرے حوالہ کریں تاکہ میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ عقیل کو کریں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی رحمدلی نہیں ہے۔ یہ لوگ مشرکین کے سرغنہ، لیڈر اور راہنما ہیں۔ ٤۔ جو بات حضرت ابوبکر نے پیش فرمائی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آگئی اور جو بات میں نے عرض کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ پسند نہ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین سے فدیہ وصول کرلیا۔ ٥۔ پھر اگلا دن ہوا تو حضرت عمر فرماتے ہیں۔ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے بتائیے! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ اگر مجھے رونے کی بات معلوم ہوئی تو میں بھی روؤں گا وگرنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بتکلف ہی رو لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے جو فدیہ کے بارے میں میرے سامنے رائے پیش کی تو تحقیق مجھے اس درخت (قریب میں موجود درخت کی طرف اشارہ فرمایا) سے بھی قریب تمہارا عذاب پیش کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سے لے کر { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ } یعنی فدیہ { عَذَابٌ عَظِیمٌ} پھر صحابہ کے لئے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا۔ ٦۔ پھر جب اگلے سال احد کا دن آیا تو صحابہ کرام نے بدر کے دن جو فدیہ لیا تھا اس کا صحابہ کو بدلہ دیا گیا۔ پس صحابہ میں ستر شہید ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھاگ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والی رباعی ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر موجود خود ٹوٹ گئی اور خون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے رُخ مبارک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39446، ترقيم محمد عوامة 37839)
ترقیم عوامۃ: 37840 ترقیم الشثری: -- 39447
٣٩٤٤٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن ابيه ان رقية بنت رسول الله ﷺ توفيت، (فخرج) (١) النبي ﵊ (٢) إلى بدر وهي امراة عثمان، فتخلف عثمان واسامة بن زيد يومئذ، فبينما هم يدفنونها إذ سمع عثمان تكبيرا، فقال: يا اسامة، انظر ما هذا التكبير؟ فنظر فإذا هو زيد بن حارثة على ناقة رسول الله ﷺ الجدعاء يبشر بقتل اهل بدر من المشركين، فقال المنافقون: لا والله ما هذا بشيء، ما هذا إلا الباطل، حتى (جيء) (٣) بهم مصفدين مغللين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: بياض.
(٢) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٣) في [ق]: (أتي).
(٤) مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه الحاكم ٤/ ٤٧، والبخاري في التاريخ الأوسط ١/ ١٨، وابن شبه في تاريخ المدينة (٣٢١)، وأخرجه البيهقي ٩/ ١٧٤ من حديث عروة عن أسامة بن زيد.
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔ یہ حضرت عثمان کی اہلیہ تھیں۔ پس حضرت عثمان اور حضرت اسامہ بن زید اس دن پیچھے رہ گئے۔ پھر جب یہ لوگ حضرت زید کو دفن کر رہے تھے تو اس دوران حضرت عثمان نے تکبیر کی آواز سُنی۔ تو حضرت عثمان نے کہا: اے اسامہ! یہ تکبیر کی آواز کیسی؟ حضرت اسامہ نے دیکھا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء (ناک کٹی) اونٹنی پر سوار تھے اور اہل بدر مشرکوں کی ہلاکت کی بشارت دے رہے تھے۔ (اس پر) منافقین نے کہا: بخدا! یہ کوئی (معتبر) بات نہیں ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے۔ یہاں تک کہ مشرکین کو مقید کر کے اور خوب کس کر لایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39447، ترقيم محمد عوامة 37840)
ترقیم عوامۃ: 37841 ترقیم الشثری: -- 39448
٣٩٤٤٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن ابن سيرين عن عبيدة السلماني قال: اسر يوم بدر من المشركين سبعون رجلا، وقتل (منهم) (١) سبعون، فجمع رسول الله ﷺ الانصار فخيرهم فقال:"ما شئتم إن شئتم اقتلوهم، ويقتل منكم عدتهم، وإن شئتم اخذتم فداءهم فتقويتم به في سبيل الله"، قالوا: يا رسول الله ناخذ الفداء نتقوى به في سبيل الله ويقتل منا عدتهم، (قال: فقتل منهم عدتهم) (٢) يوم احد (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) مرسل ضعيف؛ عبيدة تابعي، وأشعث ضعيف، أخرجه عبد الرزاق (٩٤٠٢)، وابن سعد ٢/ ٢٢، وابن جرير في التفسير ٤٦/ ١٠ و ٤/ ١٦٦.
حضرت عبیدہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن مشرکین میں سے ستر افراد قید کئے گئے اور ستر مشرکین قتل کئے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور ان کو (قیدیوں کے بارے میں) اختیار دیا اور فرمایا۔ جو تم چاہو گے (وہی ہوگا) اگر تم چاہو گے تو تم انہیں قتل کردو اور تم میں سے ان کی تعداد کے بقدر قتل کئے جائیں گے۔ اور اگر چاہو تو تم فدیہ لے لو۔ تاکہ تم اس کے ذریعہ راہ خدا میں تقویت پاؤ۔ انصار نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم فدیہ لیتے ہیں جس کے ذریعہ ہم راہ خدا میں تقویت حاصل کریں گے اور ہم میں اس کے بقدر قتل کئے جائیں۔ راوی کہتے ہیں: پس کفار کی تعداد کے بقدر صحابہ میں سے یوم احد کو قتل ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39448، ترقيم محمد عوامة 37841)
ترقیم عوامۃ: 37842 ترقیم الشثری: -- 39449
٣٩٤٤٩ - حدثنا ابو داود (الحفري) (١) عن ابن ابي زائدة عن سفيان عن هشام عن بن سيرين عن (عبيدة) (٢) عن علي عن النبي ﵊ (٣) بنحو حديث عبد الرحيم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الحضري).
(٢) في [جـ]: (عبدة).
(٣) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٤) صحيح؛ أخرجه الترمذي (١٥٦٧)، والنسائي (٨٦٦٢)، وابن حبان (٤٧٩٥)، وابن سعد ٢/ ٢٢، والدارقطني في العلل ٤/ ٣٢، والضياء في المختارة ٢/ (٦٢٣).
حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عبد الرحیم کی حدیث کی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39449، ترقيم محمد عوامة 37842)
ترقیم عوامۃ: 37843 ترقیم الشثری: -- 39450
٣٩٤٥٠ - حدثنا ابو معاوية قال: حدثنا الاعمش عن ابي إسحاق عن زيد بن يثيع قال: كان ابو بكر مع رسول الله ﷺ يوم بدر على (العريش) (١) ، قال: فجعل النبي ﵊ (٢) يدعو يقول:"اللهم انصر هذه العصابة فإنك إن لم تفعل لم تعبد في الارض"، فقال ابو بكر: (٣) بعض مناشدتك ربك فوالله لينجزن (لك) (٤) الذي وعدك (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (العرش).
(٢) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٣) في [ب، س]: زيادة (خل).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) مرسل؛ زيد تابعي، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٩/ ١٩٠.
حضرت زید بن یثیع سے روایت ہے کہ بدر کے دن حضرت ابوبکر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چھپر پر تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگنی شروع کی اور فرمایا: ”اے اللہ! اس جماعت کی مدد فرما۔ اگر تو مدد نہیں کرے گا تو دھرتی پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ حضرت ابوبکر نے عرض کیا: یہ آپ کی اپنے رب کے ساتھ مناجات ہیں۔ بخدا! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا فرمائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39450، ترقيم محمد عوامة 37843)
ترقیم عوامۃ: 37844 ترقیم الشثری: -- 39451
٣٩٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن عبد الله ابن ابي بكر عن يحيى بن (عبد الله بن عبد الرحمن) (٢) بن (اسعد) (٣) بن زرارة قال: قدم باسارى بدر، وسودة بنت زمعة زوج النبي ﵊ (٤) ⦗٤٤٤⦘ عند آل عفراء في (مناحتهم) (٥) على (عوف) (٦) ومعوذ ابني عفراء، وذلك قبل ان يضرب عليهن الحجاب، قالت: قدم بالاسارى فاتيت منزلي، فإذا انا بسهيل بن عمرو في ناحية الحجوة، مجموعة يداه إلى عنقه، فلما رايته ما ملكت نفسي (ان قلت:) (٧) ابا يزيد اعطيتم بايديكم، الا متم كراما؟ قالت: فوالله ما (نبهني) (٨) إلا قول رسول الله ﷺ من داخل البيت:"اي سودة، اعلى الله (وعلى) (٩) رسوله؟" قلت: يا رسول الله والله إن ملكت نفسي حيث رايت ابا يزيد ان قلت ما قلت (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (عباد عن عبد الرحيم).
(٣) في [ق، هـ، ي]: (سعد).
(٤) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (مناخهم).
(٦) في [جـ]: (غوف)، وفي [أ، ب، ط]: (عوذ).
(٧) في [س]: (حيث رأيت).
(٨) في [س]: (نهنني)، وفي [أ، ب]: (ينتهمني)، وفي [ي]: (تهنهني).
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) مرسل؛ يحيى تابعي، وأخرجه أبو داود (٢٦٧٩)، والحاكم ٣/ ٢٢، وابن هشام في السيرة ٣/ ١٩٤، وابن جرير في التاريخ ٢٠/ ٣٩، والطبرانى ٢٤/ (٩٢)، والبيهقي ٩/ ٨٩، واين الأثير في أسد الغابة ٣/ ٤٣٩، والمزي ٣٥/ ٢٠٢.
حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا۔ اس وقت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ، حضرت سودہ بنت زمعہ، عفراء کے بیٹوں عوف اور معوِّذ کی سوگ منانے والی عورتوں کے ساتھ آل عفراء کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ یہ عورتوں پر حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ کہتی ہیں: قیدیوں کو لایا گیا۔ تو میں اپنے گھر کی طرف آئی تو مجھے اچانک، حجرہ کے کونے میں سہیل بن عمرو دکھائی دیا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جمع (باندھے) کئے ہوئے تھے۔ پس جب میں نے اس کو دیکھا۔ تو میرا خود پر قابو نہ رہا اور میں نے کہہ دیا۔ ابو یزید! تم نے اپنے ہاتھوں سے (اپنا آپ) حوالہ کردیا ہے۔ تم لوگ عزت کی موت کیوں نہ مرگئے۔ حضرت سودہ فرماتی ہیں۔ بخدا! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھر سے آنے والی آواز کے سوا کسی نے تنبیہ نہیں کی۔ کہ ”اے سودہ! کیا اللہ اور اس کے رسول سے بھی اوپر؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ بخدا! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میرا خود پر قابو نہ رہا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39451، ترقيم محمد عوامة 37844)
ترقیم عوامۃ: 37845 ترقیم الشثری: -- 39452
٣٩٤٥٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش (عن عمرو بن مرة) (١) عن ابي عبيدة عن عبد الله قال: لما كان يوم بدر قال رسول الله ﷺ:"ما تقولون (في) (٢) هؤلاء الاسارى؟" قال ابو بكر: يا رسول الله قومك و (اصلك) (٣) (استبقهم) (٤) واستتبهم، لعل الله ان يتوب عليهم، وقال عمر: يا رسول الله، كذبوك واخرجوك، قدمهم نضرب اعناقهم، وقال عبد الله بن رواحة: يا رسول الله ⦗٤٤٥⦘ [ (انت) (٥) في واد كثير الحطب فاضرم الوادي عليهم نارا ثم القهم فيه، فقال العباس: قطع الله] (٦) رحمك، قال: فسكت رسول الله ﷺ فلم يرد عليهم. ثم قام (٧) فدخل، فقال اناس: ياخذ يقول ابي بكر، وقال اناس: ياخذ يقول عمر، وقال اناس: ياخذ يقول عبد الله بن رواحة. ثم خرج رسول الله ﷺ فقال:"إن الله ليلين قلوب رجال فيه حتى تكون الين من اللبن، وإن الله ليشدد قلوب رجال فيه حتى تكون اشد من الحجارة وإن مثلك يا ابا بكر مثل إبراهيم قال: ﴿فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم﴾ [إبراهيم: ٣٦] ، وإن مثلك يا ابا بكر كمثل عيسى قال: ﴿إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك انت العزيز الحكيم﴾ [المائدة: ١١٨] ، وإن مثلك يا عمر مثل موسى قال: ﴿ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الاليم﴾ [يونس: ٨٨] ، وإن مثلك يا عمر مثل نوح قال: ﴿رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا﴾ [نوح: ٢٦] ، انتم عالة، فلا ينفلتن احد منهم إلا بفداء او ضربة عنق". فقال ابن مسعود: يا رسول الله إلا (سهيل) (٨) بن بيضاء فإني قد سمعته يذكر الإسلام، قال: (فسكت) (٩) رسول الله ﷺ، فما رايتني في يوم اخوف ان تقع علي حجارة من السماء مني في ذلك اليوم حتى قائل رسول الله ﷺ إلا سهيل بن بيضاء، فانزل الله: ﴿ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض﴾ [الانفال: ٦٧] ، ⦗٤٤٦⦘ إلى آخر الآية (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: تكرر.
(٢) سقط من: [س].
(٣) في المسند: (أهلك).
(٤) في [هـ]: (استقبهم).
(٥) في [هـ]: (أنت).
(٦) هكذا في [ق، هـ]، وبنحوه مصادر التخريج، وسقط في باقي النسخ.
(٧) في [جـ، ي]: زيادة (رجل).
(٨) في المسند: (٣٦٣٤): (سهل)، وخطأ ابن سعد ٤/ ٢١٣ من قال سهيل، لأنه من المتقدمين بالإسلام المظهرين له وقد هاجر وشهد بدرًا مع المسلمين.
(٩) في [أ]: (فسألت).
(١٠) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبد اللَّه بن مسعود، أخرجه أحمد (٣٦٣٢)، والترمذي (١٧١٤)، والحاكم ٣/ ٢١، والبيهقي ٦/ ٣٢١، والطبري في التاريخ ٢/ ٤٧٦، والطبراني (١٠٢٥٩)، وأبو عبيد في الأموال (٣٠٦)، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٣٦، وأبو يعلى (٥١٨٧)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٢٠٤.
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کی اسیران بدر کے بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ لوگ) آپ کی قوم و قبیلہ کے ہیں۔ آپ ان کی بقاء اور ان کی توبہ کے طلب گار بنیے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرلے (یعنی ہدایت دے دے)۔ اور حضرت عمر نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور انہوں نے آپ کو (شہر سے) باہر نکالا۔ انہیں آگے کریں تاکہ ہم ان کی گردن زنی کریں۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ ان پر اس وادی کو آگ سے دہکا دیں پھر آپ انہیں اس دہکتی آگ میں ڈال دیں۔ (اس پر) عباس نے کہا۔ اللہ تیرے رشتہ کو کاٹ دے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اور صحابہ کو کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر کا قول لیں گے اور (بعض) لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کا قول لیں گے۔ اور (بعض) لوگوں نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا قول لیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان (قیدیوں) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوگئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے بارے میں سخت کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں اور اے ابوبکر! تیری مثال تو حضرت ابراہیم کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔ اور تیری مثال۔ اے ابوبکر! حضرت عیسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ }۔ اور تیری مثال، اے عمر! موسیٰ کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا تھا۔ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ } اور اے عمر! تیری مثال حضرت نوح کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا۔ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا }۔ تم لوگ (اس وقت) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ۔ حضرت ابن مسعود نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! سہیل بن بیضاء کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت اختیار فرما لیا۔ ”پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ (کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ) گرپڑیں۔“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ سہیل بن بیضاء کو استثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } آخر آیت تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39452، ترقيم محمد عوامة 37845)
ترقیم عوامۃ: 37846 ترقیم الشثری: -- 39453
٣٩٤٥٣ - حدثنا عبدة عن شعبة عن الحكم قال: لم يقتل رسول الله ﷺ يوم بدر صبرا إلا عقبة بن ابي (معيط) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (مغيط).
(٢) مرسل؛ الحكم تابعي.
حضرت حکم سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن قید کر کے صرف عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39453، ترقيم محمد عوامة 37846)
ترقیم عوامۃ: 37847 ترقیم الشثری: -- 39454
٣٩٤٥٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن شعبة عن ابي بشر عن سعيد بن جبير ان النبي ﷺ (١) لم يقتل يوم بدر صبرا إلا ثلاثة: (عقبة) (٢) بن ابي (معيط) (٣) والنضر ابن الحارث وطعيمة بن عدي، وكان النضر اسره المقداد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: ﵊.
(٢) في [ب]: (عتبة).
(٣) في [أ، ب]: (مغيط).
(٤) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي، أخرجه ابن جرير في التفسير ٩/ ٢٣١، وابن عساكر ٦٠/ ١٦٧، وأحمد في العلل ١/ ١٣٠، وأبو عبيد في الأموال (٣٤٥)، وأبو داود في المراسيل (٣٣٧)، وورد متصلًا من حديث سعيد عن ابن عباس، أخرجه الطبراني في الأوسط (٣٨٠١)، والضياء في المختارة ٧/ (٨٠).
حضرت سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن تین آدمیوں کو قید کر کے قتل فرمایا۔ عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث اور طعیمہ بن عدی کو۔ اور نضر بن حارث کو مقداد نے قید کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39454، ترقيم محمد عوامة 37847)