مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37828 ترقیم الشثری: -- 39435
٣٩٤٣٥ - حدثنا وكيع (قال) (١) : حدثنا الاعمش عن ابي (الضحى) (٢) عن مسروق عن عبد الله: ﴿يوم نبطش البطشة الكبرى﴾ [الدخان: ١٦] ، قال: يوم بدر (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (الضحا).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠٠٧)، ومسلم (٢٧٩٨).
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت قرآنی { یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَی } کے بارے میں فرمایا: کہ یہ بدر کا دن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39435، ترقيم محمد عوامة 37828)
ترقیم عوامۃ: 37829 ترقیم الشثری: -- 39436
٣٩٤٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة بن (صعير) (١) (العذري) (٢) ان ابا جهل قال يوم بدر: اللهم اقطعنا للرحم وآتانا بما لا (يعرف) (٣) فاحنه الغداة، قال: فكان ذلك استفتاحا منه فنزلت ⦗٤٣٤⦘ هذه الآية: ﴿إن تستفتحوا فقد جاءكم الفتح وإن تنتهوا فهو خير لكم﴾ الآية [الانفال: ١٩] (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (صغير).
(٢) في [ب]: (العبدي).
(٣) في [س]: (نعرف).
(٤) حسن؛ صرح ابن إسحاق وهو صدوق بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (٢٣٦٦١)، والحاكم ٢/ ٣٢٨، والنسائي في الكبرى (١١٢٠١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٣١)، وابن هشام ٢/ ٢٨٠، والبيهقي في دلائل النبوة.
حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ عذری سے روایت ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا۔ اے اللہ! جو آدمی ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا اور غیر معروف کا زیادہ مرتکب ہے تو اس کو ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات ابو جہل کی طرف سے طلب فتح کی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ، وَإِنْ تَنْتَہُوا فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39436]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39436، ترقيم محمد عوامة 37829)
ترقیم عوامۃ: 37830 ترقیم الشثری: -- 39437
٣٩٤٣٧ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس بن ابي حازم عن عبد الله بن مسعود انه اتى ابا جهل يوم بدر وبه رمق قال: (قد) (١) اخزاك (الله) (٢) ، قال: هل اعمد من رجل قتلتموه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦١)، والبزار (١٨٩٥).
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بدر کے دن ابو جہل کے پاس آئے درآنحالیکہ اس میں ہلکی سی رمق باقی تھی۔ تو ابن مسعود نے فرمایا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔ ابو جہل نے کہا جن لوگوں کو تم نے قتل کیا ہے ان میں سب سے اہم میں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39437، ترقيم محمد عوامة 37830)
ترقیم عوامۃ: 37831 ترقیم الشثری: -- 39438
٣٩٤٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن إبراهيم بن سعد عن ابيه عن جده عن عبد الرحمن بن عوف قال: إني لفي الصف يوم بدر، فالتفت عن يميني وعن شمالي فإذا غلامان حديثا السن، فكرهت مكانهما فقال لي احدهما سرا من صاحبه: اي عم، ارني ابا جهل، قال: قلت: ما تريد منه؟ قال: إني جعلت لله علي إن رايته ان اقتله، قال: فقال الآخر ايضا سرا من صاحبه: اي عم ارني ابا جهل قال: قلت: وما تريد منه؟ قال: (١) جعلت لله علي إن رايته ان اقتله، قال: فما سرني بمكانهما غيرهما، قال: قلت: هو ذاك، قال: (و) (٢) اشرت لهما إليه فابتدراه وإنهما صقران وهما -ابنا عفراء- حتى ضرباه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: زيادة (إني).
(٢) سقط من: [ق، هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٤١)، ومسلم (١٧٥٢).
حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں، بائیں نظر دوڑائی تو دو کم عمر لڑکے دکھائی دیئے۔ میں نے ان کے کھڑا ہونے کو ناپسند کیا۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے خفیہ مجھ سے کہا۔ اے چچا جان! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان بن عوف فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے؟ لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے نے بھی اپنے ساتھی سے خفیہ کہا۔ اے چچا جان! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے؟ اس لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے خدا کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ (یہ بات سن کر) مجھے ان دونوں کی جگہ کسی اور کا ہونا پسند نہ آیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا: ابو جہل یہ ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے ان دونوں کے لئے ابو جہل کی طرف اشارہ کیا۔ پس وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے گویا کہ وہ شکرے ہیں۔ اور یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ابو جہل کو مار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39438، ترقيم محمد عوامة 37831)
ترقیم عوامۃ: 37832 ترقیم الشثری: -- 39439
٣٩٤٣٩ - حدثنا جعفر بن عون عن سفيان عن ابي إسحاق عن عمرو (بن) (١) ميمون عن عبد الله ان النبي ﷺ كان يقول:"اللهم عليك بقريش -ثلاثا- بابي جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وامية بن خلف وعقبة بن ابي (معيط) (٢) "، قال: قال عبد الله: فلقد رايتهم قتلى في قليب بدر (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (مغيط).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (في بير ما).
(٤) صحيح؛ جعفر ثقة، وأخرجه البخاري (٢٤٠)، ومسلم (١٧٩٤).
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! تو قریش کو پکڑ۔ تین بار۔ ابو جہل بن ہشام کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ، ولید بن عتبہ کو پکڑ، امیہ بن خلف کو پکڑ، اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ان کفار کو بدر کے کنویں میں مقتول دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39439]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39439، ترقيم محمد عوامة 37832)
ترقیم عوامۃ: 37833 ترقیم الشثری: -- 39440
٣٩٤٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن جرير بن حازم عن اخيه يزيد بن حازم عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لا نزل المسلمون بدرا واقبل المشركون (نظر) (١) رسول الله ﷺ إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل له احمر، فقال:"إن يك عند احد من القوم خير فعند صاحب الجمل الاحمر، إن يطيعوه يرشدوا"، فقال عتبة: اطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم، فإنكم إن فعلتم لم يزل (ذاك) (٢) في قلوبكم، ينظر الرجل إلى قاتل اخيه وقاتل ابيه، (فاجعلوا) (٣) (في جبنها) (٤) وارجعوا، قال: (فبلغت) (٥) ابا جهل فقال: انتفخ والله سحرة حيث راى محمدا (٦) واصحابه، والله ما ذاك به، وإنما ذاك لان ابنه معهم، وقد علم ان محمدا واصحابه اكلة جزور لو قد التقينا، قال: ⦗٤٣٦⦘ فقال عتبة: (سيعلم) (٧) مصفر استه (من) (٨) الجبان المفسد لقومه، اما والله إني لارى تحت القشع قوما ليضربنكم ضربا (٩) يدعون لكم البقيع، اما ترون كان رؤوسهم رؤوس الافاعي، وكان وجوههم السيوف، قال: ثم دعا اخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا (فصل (١٠) من الصف دعا إلى المبارزة (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (نزل).
(٢) في [س]: (ذلك).
(٣) في [أ، ب]: (فارجعوا).
(٤) في [ق، هـ]: (إلى جنبها).
(٥) في [أ، ب]: (فبلغ).
(٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [س]: (عن).
(٩) في [جـ، ق]: زيادة (ما).
(١٠) في [ي]: (نصل)، وفي [ب، م]: (اتصل)، وفي [أ]: (تصل).
(١١) مرسل؛ عكرمة تابعي.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا: اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا: بخدا! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں: عتبہ نے کہا: عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لئے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س؟ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39440، ترقيم محمد عوامة 37833)
ترقیم عوامۃ: 37834 ترقیم الشثری: -- 39441
٣٩٤٤١ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي قال: لما قدمنا المدينة فاصبنا من ثمارها اجتويناها واصابنا وعك، وكان رسول الله ﷺ يتخبر عن بدر. قال: فلما بلغنا ان المشركين قد (اقبلوا) (٢) سار رسول الله ﷺ إلى بدر، وبدر: بئر، فسبقنا المشركين إليها فوجدنا فيها رجلين منهم: رجل من قريش ومولى لعقبة بن ابي (معيط) (٣) ، فاما القرشي فانفلت (٤) ، واما المولى فاخذناه، فجعلنا نقول له: كم القوم؟ فيقول: هم -والله- كثير عددهم، شديد باسهم، فجعل المسلمون إذا قال (ذاك) (٥) (ضربوه) (٦) حتى انتهوا به إلى رسول الله ﷺ ⦗٤٣٧⦘ فقال له:"كم القوم؟" فقال: هم والله كثير عددهم، شديد باسهم، فجهد (القوم) (٧) على ان يخبرهم كم هم؟ فابى. ثم إن رسول الله ﷺ (ساله) (٨) :"كم (ينحرون؟) (٩) " فقال: عشرا كل يوم، فقال رسول الله ﷺ:"القوم الف كل جزور لمائة وتبعها". ثم إنه اصابنا من الليل طش من مطر، فانطلقنا تحت (الشجرة) (١٠) (الحجف) (١١) نستظل تحتها من المطر، قال: وبات رسول الله ﷺ ليلتئذ يدعو ربه. فلما طلع الفجر نادى:"الصلاة عباد الله"، فجاء الناس من تحت الشجر و (الحجف) (١٢) فصلى بنا رسول الله ﷺ وحرض (١٣) على القتال ثم قال:"إن جمع قريش عند هذه (الضلعة) (١٤) الحمراء من الجبل". فلما ان دنا القوم منا وصاففناهم إذا رجل منهم على جمل احمر يسير في القوم (فقال رسول الله ﷺ:"يا علي ناد لي حمزة") (١٥) ، وكان اقربهم إلى المشركين،"من صاحب الجمل الاحمر؟ وما (يقول) (١٦) لهم"، ثم قال (لهم) (١٧) رسول الله ﷺ:"إن يك في القوم احد فعسى ان يكون صاحب الجمل الاحمر". ⦗٤٣٨⦘ فجاء حمزة فقال: هو عتبة بن ربيعة وهو ينهى عن القتال ويقول لهم: يا قوم إني ارى قوما (مستميتين) (١٨) لا تصلون إليهم وفيكم (خير) (١٩) ، يا قوم اعصبوا اللوم براسي وقولوا: جبن عتبة، (وقد) (٢٠) علمتم اني لست باجبنكم، فسمع ذلك ابو جهل فقال: انت تقول هذا، لو غيرك قال هذا (اعضضته) (٢١) لقد (ملئت رئتك) (٢٢) وجوفك (رعبا) (٢٣) ، فقال عتبة: إياي تعيريا مصفر استه، ستعلم اليوم إينا اجبن. قال: فبرز عتبة واخوه شيبة وابنه الوليد حمية فقالوا: من يبارز، فخرج فتية من الانصار ستة، فقال عتبة: لا يزيد هؤلاء، ولكن يبارزنا من بني عمنا من بني عبد المطلب، قال: فقال رسول الله ﷺ:"قم يا علي، قم يا حمزة، قم يا عبيدة بن الحارث"، فقتل (الله) (٢٤) عتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة، وجرح عبيدة بن الحارث، فقتلنا منهم سبعين واسرنا (٢٥) سبعين. (قال) (٢٦) : فجاء رجل من الانصار قصير بالعباس اسيرا، فقال العباس: إن هذا والله ما اسرني، لقد (اسرني) (٢٧) رجل اجلح من احسن الناس وجها على ⦗٤٣٩⦘ فرس ابلق، ما اراه في القوم فقال الانصاري: انا اسرته يا رسول الله، فقال له:"اسكت لقد ايدك الله بملك كريم"، (قال علي) (٢٨) : فاسر من بني عبد المطلب: العباس، وعقيل، ونوفل بن الحارث (٢٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (اقتتلوا).
(٣) في [أ، ب]: (مغيط).
(٤) في [ق، هـ]: زيادة (إليها).
(٥) في [س]: (ذلك).
(٦) في [جـ]: (ضربوا).
(٧) في [هـ]: (النبي ﷺ).
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [س]: (ينجرون).
(١٠) في [أ، ب]: (الشجر).
(١١) في [س]: (الححف)، وفي [هـ]: (الجحف).
(١٢) في [س]: (الححف)، وفي [هـ]: (الجحف).
(١٣) في [أ، ب]: زيادة (نيا).
(١٤) في [أ، ب، ط]: (الصلعة).
(١٥) هكذا في [هـ]، وسقط في بقية النسخ.
(١٦) في [س]: (تقول).
(١٧) سقط من: [س].
(١٨) في [س]: (مستمينين).
(١٩) في [ي]: (خبر).
(٢٠) في [جـ]: بياض.
(٢١) في [س]: (أعضفته).
(٢٢) في [أ، ب]: (مليت رويتك)، وفي [س]: (روئتك).
(٢٣) في [جـ]: (رعبة).
(٢٤) في [س]: (إله).
(٢٥) في [أ، ب]: زيادة (منهم).
(٢٦) في [س]: (فقال).
(٢٧) سقط من: [س].
(٢٨) سقط من: [س].
(٢٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٩٤٨)، وأبو داود (٢٦٦٥)، والبزار (٧١٩)، والبيهقي ٣/ ٢٧٦، والطبري في تاريخه ٢/ ٤٢٤، وابن عساكر ٣٨/ ٢٤٨.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ میں آئے اور ہم نے وہاں کے پھل کھائے تو وہ ہمیں موافق نہ آئے اور ہمیں شدید بخار آگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پس جب ہمیں یہ بات پہنچی کہ مشرکین آ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف چل پڑے۔ بدر ایک کنویں کا نام ہے۔ سو ہم مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تو ہم نے وہاں مشرکین میں سے دو آدمیوں کو پایا۔ ایک آدمی قریش میں سے تھا اور ایک عقبہ بن ابی معیط کا آزاد کردہ غلام تھا۔ جو قریشی تھا وہ تو قریش کی طرف بھاگ گیا اور جو آزاد کردہ غلام تھا اس کو ہم نے پکڑ لیا۔ اور ہم نے اس سے یہ پوچھنا شروع کیا۔ کتنے لوگ ہیں؟ وہ جواب میں کہتا۔ بخدا! وہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ان کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جب اس نے یہ بات کہی تو مسلمانوں نے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کتنے لوگ ہیں؟ اس آدمی نے جواباً کہا: بخدا! یہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں اور شدید پکڑ والے ہیں۔ سو لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ وہ بتادے کہ مشرکین کی تعداد کتنی ہے لیکن اس آدمی نے (مسلسل) انکار کیا۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم کتنے اونٹ ذبح کرتے ہو؟ اس آدمی نے جواباً کہا: ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ ہر ایک اونٹ سو کے لگ بھگ کے لئے (کافی) ہوتا ہے۔ ٣۔ پھر ہمیں رات کے وقت ہلکی سی بارش محسوس ہوئی تو ہم درختوں اور ڈھالوں کی طرف بارش سے بچاؤ کرتے ہوئے چل دیے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات دعا مانگتے رہے۔ پس جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منادی فرمائی۔ اے بندگان خدا! نماز کا خیال کرو۔ پس لوگ درختوں اور ڈھالوں میں سے (نکل کر) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور لڑائی پر ابھارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہاڑوں کی اس سُرخ مثلث کے پاس قریش کی جماعت موجود ہے۔ ٤۔ پھر جب یہ لوگ ہمارے قریب ہوئے اور ہم نے صفیں ترتیب دیں تو ان میں سے ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار مشرکین میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ! حمزہ کو میری طرف سے آواز دو۔ یہ مشرکین کے زیادہ قریب تھے۔ کہ یہ سرخ اونٹ والا کون شخص ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا۔ اگر لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (صاحب خیر) یہی سرخ اونٹ والا شخص ہو۔ پھر حضرت حمزہ تشریف لائے اور فرمایا: یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اور یہ لوگوں کو لڑائی سے منع کر رہا ہے اور انہیں یہ کہہ رہا ہے۔ اے میری قوم! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو موت کی متمنی ہے اور تم ان تک اس حالت میں نہیں پہنچ سکتے کہ تم میں کوئی خیر (یعنی فتح) ہو۔ اے میری قوم! ملامت کو میرے سر باندھو اور یہ کہہ لینا۔ عتبہ بزدل ہوگیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔ ٥۔ پس یہ بات ابو جہل نے سُنی تو اس نے کہا۔ تُو یہ بات کہہ رہا ہے؟ اگر تمہارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کرتا تو میں اس کو کٹوا دیتا۔ تحقیق تیرا پھیپھڑا اور پیٹ رعب سے بھر دیا گیا ہے۔ عتبہ نے کہا۔ اے اپنی سرین کو پیلا کرنے والے! تو مجھے عار دلاتا ہے۔ عنقریب آج کے دن تو جان جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ بزدل ہے؟ ٦۔ راوی کہتے ہیں پھر عتبہ اور اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹاو لید، غیرت کھاتے ہوئے سامنے آئے اور کہنے لگے۔ کون مقابل آئے گا؟ تو انصاریوں سے چھ جوان باہر نکلے تو عتبہ نے کہا۔ ہمیں ان لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے مقابل ہمارے چچا زاد، بنی عبد المطلب میں سے کوئی آئے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے علی رضی اللہ عنہ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے حمزہ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے عبیدۃ بن الحارث! کھڑے ہو جاؤ۔“ پس اللہ تعالیٰ نے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کیا اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو زخم آگئے۔ اور ہم نے مشرکین میں سے ستر کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔ ٧۔ راوی کہتے ہیں: پھر انصار میں سے ایک پستہ قد آدمی عباس کو قید کر کے لائے۔ عباس کہنے لگے۔ بلاشبہ، بخدا! مجھے اس انصاری نے قید نہیں کیا۔ بلکہ مجھے ایک گنجے آدمی نے جو بہت خوبصورت چہرے والا تھا۔ قید کیا ہے اور وہ سفید و سیاہ داغ والے گھوڑے پر سوار تھا۔ مں ا اس آدمی کو (آپ کے) لشکر میں نہیں دیکھ رہا۔ انصاری نے عرض کیا۔ یا رسو [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39441]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39441، ترقيم محمد عوامة 37834)
ترقیم عوامۃ: 37835 ترقیم الشثری: -- 39442
٣٩٤٤٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن مصعب بن سعد عن ابيه قال: اصبت سيفا يوم بدر فاعجبني فقلت: يا رسول الله هبه لي، فنزلت: ﴿يسالونك عن الانفال﴾ الآية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (١٧٤٨)، وأحمد (١٥٦٧)، وتقدم ١٢/ ٣٧٠ برقم [٣٥٢٩٦].
حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن ایک تلوار ملی تو وہ مجھے پسند آئی۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ مجھے ہدیۃً دے دیجئے۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39442]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39442، ترقيم محمد عوامة 37835)
ترقیم عوامۃ: 37836 ترقیم الشثری: -- 39443
٣٩٤٤٣ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري ان ابا جهل هو الذي استفتح يوم بدر فقال: اللهم اينا كان افجر بك واقطع لرحمه فاحنه اليوم فانزل الله: ﴿إن تستفتحوا فقد جاءكم (الفتح) (١) ﴾ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) مرسل؛ الزهري تابعي، وأخرجه عبد الرزاق (٩٧٢٥)، وابن جرير ٩/ ٢٠٧، وقد ورد من طريق الزهري عن عبد اللَّه بن ثعلبة بن صعير كما تقدم ١٤/ ٣٥٩ [٣٩٤٣٦].
حضرت زہری: سے روایت ہے کہ ابو جہل ہی نے بدر کے دن فتح کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا۔ اے اللہ! ہم میں سے جو زیادہ گناہ گار اور زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہے تو اس کو آج (بدر) کے دن ہلاک کر دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا، فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39443]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39443، ترقيم محمد عوامة 37836)
ترقیم عوامۃ: 37837 ترقیم الشثری: -- 39444
٣٩٤٤٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن (ابي) (١) إسحاق عن العيزار بن حريث قال: نادى منادي رسول الله ﷺ يوم بدر: ليس لاحد من القوم -يعني امانا- إلا ابا البختري، فمن كان (اسره) (٢) فليخل سبيله، فإن رسول الله ﷺ قد امنه، فوجدوه قد قتل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ]: (أسيره).
(٣) مرسل؛ العيزار تابعي، وأخرجه ابن سعد ٢/ ٢٣.
حضرت عیزار بن حریث بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے ندا کی۔ لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کو بھی سوائے ابو البختری کے۔ امن نہیں حاصل ہے۔ پس جس کسی نے ابو البختری کو قید کیا ہے وہ اس کو رہا کر دے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دیا ہے۔ پھر لوگوں نے ان کو مقتول پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39444]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39444، ترقيم محمد عوامة 37837)