🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37926 ترقیم الشثری: -- 39535
٣٩٥٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن الشعبي عن عبد الله قال: كن النساء يوم (احد) (١) يجهزن على الجرحى ويسقين (الماء) (٢) ويداوين الجرحى (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع، ي]: (بدر).
(٢) في [س]: (الدواء).
(٣) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٤١٤)، وابن سعد ٣/ ١٦، وعبد الرزاق (٦٦٥٣).

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ احد کے دن (مسلمان) عورتیں، (کفار) زخمیوں کو مار رہی تھیں اور (مسلمانوں) کو پانی پلا رہی تھیں اور (مسلمان) زخمیوں کو دوائی دے رہی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39535]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39535، ترقيم محمد عوامة 37926)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37927 ترقیم الشثری: -- 39536
٣٩٥٣٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (اخبرنا) (١) ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ اخذ سيفا يوم (احد) (٢) فقال:"من ياخذ (مني هذا؟) (٣) " فبسطوا ايديهم، فجعل كل إنسان منهم يقول: (انا) (٤) انا، فقال: (من ياخذه بحقه؟) (٥) قال: فاحجم القوم، فقال سماك ابو دجانة: انا آخذه بحقه، قال: فاخذه، ففلق به هام المشركين (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (هذا مني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) هكذا في: [ق، هـ]، وسقط من بقية النسخ، وقد أخرجه بها مسلم (٢٤٧٠)، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٢٣٢.
(٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٧٠)، وأحمد (١٢٢٣٥).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا۔ اس کو مجھ سے کون لے گا؟ لوگوں نے ہاتھ آگے کئے۔ اور ہر آدمی کہنے لگا۔ میں، میں (لوں گا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ا تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں کون لے گا؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ رک گئے۔ اور سماک ابو دجانہ نے کہا۔ میں اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ابو دجانہ نے وہ تلوار پکڑ لی اور اس کے ذریعہ بہت سے مشرکین کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39536]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39536، ترقيم محمد عوامة 37927)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37928 ترقیم الشثری: -- 39537
٣٩٥٣٧ - حدثنا ابو معاوية عن هشام عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا راى احدا قال:"هذا جبل يحبنا ونحبه" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٧١٦٩)، ومالك في الموطأ (١٥٨٥)، والجندي في فضائل المدينة (١٠)، وابن شبه في أخبار المدينة (٢٦٨)، وورد من حديث هشام عن أبيه عن جده الزبير، أخرجه أبو نعيم في تاريخ أصبهان (٨١١).
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد کو دیکھتے تو ارشاد فرماتے۔ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39537]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39537، ترقيم محمد عوامة 37928)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37929 ترقیم الشثری: -- 39538
٣٩٥٣٨ - حدثنا هاشم بن القاسم (١) قال: حدثنا شعبة عن الحكم قال: لم يصل عليهم ولم يغسلوا يعني قتلى احد (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (عن أبيه).
(٢) مرسل؛ الحكم ليس صحابيًا.

حضرت حکم سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین پر نماز نہیں پڑھی گئی تھی اور نہ ہی ان کو غسل دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39538]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39538، ترقيم محمد عوامة 37929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37930 ترقیم الشثری: -- 39539
٣٩٥٣٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن عامر قال: اصيب يوم احد انف النبي ﷺ ورباعيته، وزعم ان طلحة وقى رسول الله ﷺ بيده ⦗٤٧٦⦘ فضرب فشلت (اصبعه) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أصابعه).
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢١٧، وابن عساكر ٢٥/ ٧٩.

حضرت عامر سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناک مبارک پر چوٹ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دندان مبارک زخمی ہوئے۔ اور راوی کا خیال یہ ہے کہ حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچاؤ کیا تھا۔ اور انہیں نیزے لگے اور ان کی انگلی شل ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39539]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39539، ترقيم محمد عوامة 37930)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37931 ترقیم الشثری: -- 39540
٣٩٥٤٠ - حدثنا عبد الله بن (بكر) (١) (التيمي) (٢) عن حميد عن انس عن ابي طلحة قال: كنت فيمن انزل عليه النعاس يوم احد حتى (سقط) (٣) سيفي من يدي مرارا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ع]: (بكير).
(٢) كذا في النسخ، وصوابه السهمي، كما في طبقات ابن سعد ٣/ ٥٠٥، وكتب التراجم.
(٣) سقط من: [ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٠٦٨)، والنسائي (١١١٩٩)، وأخرجه مسلم (١٠٨١١) من حديث أنس.

حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے۔ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ طاری ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ تلوار میرے ہاتھ سے گرگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39540]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39540، ترقيم محمد عوامة 37931)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37932 ترقیم الشثری: -- 39541
٣٩٥٤١ - حدثنا (اسود) (١) بن عامر قال: (حدثنا) (٢) حماد بن سلمة قال: (حدثنا) (٣) علي بن زيد وثابت عن انس ان النبي ﷺ لما رهقه المشركون يوم احد قال:"من يودهم عنا (وهو) (٤) في الجنة؟" فقام رجل من الانصار فقاتل حتى قتل، ثم قام آخر يردهم حتى قتل (حتى قتل) (٥) سبعة فقال النبي ﷺ:"ما انصفنا اصحابنا" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (الأسود).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (أخبرنا).
(٤) في [هـ]: (فهو).
(٥) سقط من: [أ، ب، ط، هـ]، والمعنى: أن الأول قتل فتقدم آخر فقتل، حتى قتل سبعة من الأنصار.
(٦) صحيح لغيره؛ أخرجه مسلم (١٧٨٩)، وأحمد (١٤٠٥٦).

حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب احد کے دن مشرکین نے ڈھانپ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان مشرکین کو ہم سے واپس کر دے گا وہ جنت میں جائے گا۔ پس انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور لڑے یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہوگئے۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور مشرکین کو ہٹانے لگے یہاں تک کہ وہ بھی قتل ہوگئے۔ حتی کہ سات لوگ قتل ہوگئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39541]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39541، ترقيم محمد عوامة 37932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37933 ترقیم الشثری: -- 39542
٣٩٥٤٢ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا موسى بن عبيدة قال: اخبرني عبد الله بن عبيدة عن ابي صالح مولى ام هانئ ان الحارث بن سويد بايع رسول الله ﷺ ⦗٤٧٧⦘ وآمن به، ثم لحق باهل مكة وشهد (احدا) (١) فقاتل المسلمين ثم (سقط) (٢) في يده فرجع إلى مكة، فكتب إلى اخيه (جلاس) (٣) بن سويد: يا اخي إني قد ندمت على ما كان مني فاتوب إلى الله، وارجع إلى الإسلام، فاذكر ذلك لرسول الله ﷺ فإن طمعت (لي) (٤) في توبة فاكتب (إلي) (٥) ، (فذكره) (٦) لرسول الله ﷺ فانزل الله: ﴿كيف يهدي الله قوما كفروا بعد إيمانهم﴾، قال: (فقال) (٧) قوم من اصحابه ممن كان عليه: (يتمتع) (٨) ثم (يراجع) (٩) إلى الإسلام فانزل الله: ﴿إن الذين كفروا بعد إيمانهم ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم واولئك هم الضالون﴾ [آل عمران: ٨٦، ٩٠] (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (بدرًا).
(٢) في [ع]: (أسقط).
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (قلاس)، وفي [ي]: (خلاس).
(٤) سقط من: [أ، ب، س، ق].
(٥) في [أ، ب]: (لي).
(٦) في [ق]: (فذكر ذلك).
(٧) في [أ، ب]: (فقام).
(٨) في [أ، ب، ق]: (يتمنع)، وفي [ي]: (نتمنع).
(٩) في [س]: (تراجع).
(١٠) مرسل ضعيف؛ أبو صالح تابعي ضعيف، وموسى ضعيف أيضًا.

ام ہانی کے مولیٰ ابو صالح سے روایت ہے کہ حارث بن سوید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا۔ پھر وہ اہل مکہ کے ساتھ مل گیا اور (انہی کی طرف سے) اُحد میں شریک ہوا۔ اور مسلمانوں سے قتال کیا پھر اس کو شرمندگی ہوئی اور وہ مکہ لوٹ گیا اور اپنے بھائی جُلاس بن سوید کو خط لکھا۔ اے میرے بھائی! جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے میں اس پر نادم ہوں پس میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اسلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تم یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کرو اور اگر تمہیں میری توبہ (کی قبولیت) کے بارے میں امید ہو تو مجھے خط لکھ دو۔ جلاس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { کَیْفَ یَہْدِی اللَّہُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ } تو اس پر اس کے سابقہ ساتھیوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے ہمارے خلاف اپنی قوم کی معاونت کرتا ہے پھر اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ، ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا، لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَأُولَئِکَ ہُمُ الضَّالُّونَ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39542، ترقيم محمد عوامة 37933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37934 ترقیم الشثری: -- 39543
٣٩٥٤٣ - حدثنا زيد بن حباب قال: اخبرنا موسى بن عبيدة قال: اخبرني محمد ابن كعب القرظي ان عليا لقي فاطمة يوم احد فقال: خذي السيف غير مذموم، فقال رسول الله ﷺ:"يا علي، إن كنت احسنت القتال اليوم فقد احسنه ابو دجانة (١) ومصعب بن عمير والحارث بن الصمة وسهل بن حنيف: ⦗٤٧٨⦘ (ثلاثة) (٢) من الانصار، ورجل من قريش" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (الأنصاري).
(٢) سقط من: [ق].
(٣) مرسل ضعيف؛ محمد بن كعب تابعي، وموسى بن عبيدة ضعيف.

حضرت محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاحد کے دن حضرت فاطمہ سے ملے اور فرمایا: تلوار پکڑو۔ اس حال میں کہ اس کی مذمت نہیں کی گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ! اگر آج کے دن … احد کے دن … تم نے بہترین لڑائی کی ہے تو تحقیق ابو دجانہ، مصعب بن عمیر اور حارث بن صمہ اور سہل بن حنیف نے بھی بہترین لڑائی کی ہے۔ (یعنی) تین انصاریوں نے اور ایک قریشی آدمی نے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39543، ترقيم محمد عوامة 37934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37935 ترقیم الشثری: -- 39544
٣٩٥٤٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: خذيه حميدا، فقال النبي ﷺ: ("إن كنت احسنت القتال اليوم فقد احسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وابو دجانة"، فقال النبي ﷺ) (١) :"من ياخذ هذا السيف بحقه؟" فقال ابو دجانة: انا، واخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه، فقال رسول الله ﷺ:"اعطيته حقه؟" قال: نعم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه سعيد بن منصور (٢٨٧٧)، وقد ورد الخبر من طريق عكرمة عن ابن عباس، أخرجه الحاكم ٣/ ٢٤، وأبو نعيم في الإمامة (٣٥)، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٩٣)، والطبراني (٦٥٠٧)، وورد آخره من حديث أنس عند مسلم (٢٤٧٠).

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی تلوار لے کر تشریف لائے اور فرمایا: (فاطمہ) تعریف کی ہوئی تلوار پکڑ لو۔ (اس پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے آج کے دن بہترین لڑائی لڑی ہے تو تحقیق سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت اور حارث بن صمَّہ اور ابو دجانہ نے بھی بہترین لڑائی لڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلے میں کون لے گا؟ حضرت ابو دجانہ نے کہا۔ میں (لوں گا) اور پھر انہوں نے تلوار پکڑی اور اس کو چلایا یہاں تک کہ جب ابو دجانہ وہ تلوار لے کر (واپس) آئے تو انہوں نے اس کو موڑ ڈالا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے تلوار کو اس کا حق دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39544، ترقيم محمد عوامة 37935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں