مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
ترقیم عوامۃ: 37907 ترقیم الشثری: -- 39515
٣٩٥١٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن اسامة بن زيد قال: حدثنا الزهري عن انس بن مالك ان رسول الله ﷺ مر بحمزة يوم احد وقد مثل به، فوقف عليه ⦗٤٦٧⦘ فقال:"لو (لا) (٢) اني اخشى ان تجد صفية في نفسها لتركته حتى تاكله (العافية) (٣) ، فيحشر من بطونها"، ثم دعا بنمرة، فكانت إذا مدت على راسه بدت رجلاه، وإذا مدت على رجليه بدا راسه، فقال رسول الله ﷺ:"مدوها على راسه، واجعلوا على رجليه الحرمل"، وقلت الثياب، وكثرت القتلى، فكان الرجل والرجلان (والثلاثة) (٤) يكفنون في الثوب، وكان (النبي) (٥) ﷺ يسال:"ايهم اكثر قرآنا" فيقدمه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (الخباب).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [ب، ق]: (العاديه).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [ق، هـ].
(٦) معلول؛ غلط فيه أسامة، صوابه أنه من حديث جابر، انظر: علل الترمذي ١/ ١٤٦، وحديث أنس، وأخرجه أحمد (١٢٣٠٠)، وأبو داود (٣١٣٦)، والترمذي (١٠١٦)، والحاكم ١/ ٣٦٥، وابن سعد ٣/ ١٤، والشافعي ١/ ٢٠٤، والطحاوي ١/ ٥٠٢، والدارقطني ٤/ ١١٦، وعبد بن حميد (١١٦٤)، وأبو يعلى (٣٥٦٨)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٢٦، والطبراني (٢٩٣٨)، والبيهقي ٤/ ١٠.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے۔ درآنحالیکہ انھیں مثلہ کیا گیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حضرت صفیہ اپنے دل میں یہ بات رکھ لیں گی تو میں حمزہ کو (یونہی) چھوڑ دیتا تاکہ اس کو چرند پرند اور مویشی کھا جائیں پھر یہ قیامت کو ان کے پیٹ سے اکٹھے ہو کر زندہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفید و سیاہ دھاریوں والا کمبل منگوایا۔ وہ کمبل جب حمزہ کے سر مبارک پر ڈالا جاتا تو آپ کے پاؤں کھل جاتے اور جب اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی طرف کھینچا جاتا تو آپ کا سر کھل جاتا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ یہ کمبل ان کے سر کی طرف کھینچ لو اور ان کے پاؤں پر اسپند بوٹی ڈال دو۔ کپڑے کم پڑگئے اور مقتولین زیادہ ہوگئے۔ پس ایک، دو اور تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے تھے۔ ان میں زیادہ قرآن والا (حافظ) کون ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مقدم فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39515، ترقيم محمد عوامة 37907)
ترقیم عوامۃ: 37908 ترقیم الشثری: -- 39516
٣٩٥١٦ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الرحمن ابن كعب بن مالك ان جابر بن عبد الله اخبره ان النبي ﵊ كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في الثوب الواحد، ثم يقول:"ايهم اكثر اخذا للقرآن"، فإذا اشير له إلى احدهما قدمه في اللحد، وقال:"انا شهيد على هؤلاء يوم القيامة"، وامر بدفنهم بدمائهم، (ولم يصل عليهم) (١) ولم يغسلوا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٣٤٣)، وأبو داود (٣١٣٨).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکھٹا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے۔ ان میں سے قرآن مجید کو زیادہ جاننے والا کون ہے؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قبر میں پہلے اتارتے اور فرماتے۔ میں ان لوگوں پر قیامت کے دن گواہ ہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتولین کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر جنازہ بھی نہیں پڑھایا اور انہیں غسل بھی نہیں دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39516]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39516، ترقيم محمد عوامة 37908)
ترقیم عوامۃ: 37909 ترقیم الشثری: -- 39517
٣٩٥١٧ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: حدثنا اسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: رجع رسول الله ﷺ يوم احد، فبينما نساء بني عبد الاشهل يبكين على هلكاهن (فقال) (١) :"لكن حمزة لا بواكي له"، (فجئن) (٢) نساء الانصار يبكين على حمزة (ورقد) (٣) فاستيقظ، فقال:"يا ويحهن إنهن لههنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [ق]: (فجاء).
(٣) سقط من: [ق، هـ].
(٤) حسن؛ أسامة بن زيد الليثي صدوق، أخرجه أحمد (٥٥٦٣)، وابن ماجه (١٥٩١)، وابن سعد ٣/ ١٧، وأبو يعلى (٣٥٧٦)، والطحاوي ٤/ ٢٩٣، والطبراني (٢٩٤٤)، والحاكم ٣/ ١٩٤، والبيهقي ٤/ ٧٠.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کے دن جب واپس تشریف لائے تو بنی عبد الاشہل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہیں۔ تو انصار کی عورتیں، حضرت حمزہ پر رونے کے لئے آگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، جاگ اٹھے اور فرمایا: اے ہلاکت والیو! یہ عورتیں ابھی تک یہاں ہیں، ان کو حکم دو کہ یہ واپس ہوجائیں اور آج کے بعد کسی ہلاک ہونے والے پر نہ روئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39517]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39517، ترقيم محمد عوامة 37909)
ترقیم عوامۃ: 37910 ترقیم الشثری: -- 39518
٣٩٥١٨ - حدثنا ابو معاوية (عن الاعمش) (١) عن شقيق عن خباب قال: هاجرنا مع رسول الله ﷺ نبتغي وجه الله، فوجب اجرنا على الله، فمنا من مضى لم ياكل من اجره شيئا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد، فلم يوجد له شيء يكفن فيه إلا نمرة، كانوا إذا وضعوها على راسه خرجت رجلاه، وإذا وضعوها على رجليه خرج راسه، فقال رسول الله ﷺ:"اجعلوهما مما يلي راسه، واجعلوا على رجليه من (الإذخر) (٢) "، ومنا من (اينعت) (٣) له ثمرته فهو (يهدبها) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ]: (الآخر).
(٣) في [أ، ب]: (إنبعث).
(٤) في [ق]: (يهديها).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٧٦)، ومسلم (٩٤٠).
حضرت خباب سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی اور ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی تھے۔ پس ہمارا اجر تو اللہ پر واجب ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا۔ انہی میں سے مصعب بن عمیر ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ان کو کفن دینے کے لئے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ ہوا۔ جب صحابہ کرام یہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کُھل جاتے تھے۔ اور جب اس کو پاؤں کی طرف کھینچتے تھے تو آپ کا سر مبارک کھل جاتا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چادر اس کے سر کی طرف کردو اور اس کے پاؤں پر اذخر (بوٹی) ڈال دو۔ اور ہم میں سے بعض وہ تھے جن کے لئے ان کے (اجر کے) پھل پک گئے سو وہ انہیں کاٹ رہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39518]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39518، ترقيم محمد عوامة 37910)
ترقیم عوامۃ: 37911 ترقیم الشثری: -- 39519
٣٩٥١٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني محمد بن صالح قال: حدثني يزيد بن (زيد) (٢) مولى ابي اسيد البدري عن ابي اسيد قال: انا مع رسول الله ﷺ (على) (٣) قبر حمزة، فمدت النمرة على راسه فانكشفت رجلاه، فجذبت على رجليه فانكشف راسه، فقال رسول الله ﷺ:"مدوها على راسه، واجعلوا على رجليه شجر الحرمل" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [ق]: (زياد).
(٣) سقط من: [ي]، وفي [هـ]: (في).
(٤) مجهول؛ لجهالة يزيد بن زيد، أخرجه الطبراني (٢٩٤٠) و ١٩/ (٥٨٧)، وابن سعد ٣/ ١٥، والبخاري في التاريخ ٨/ ٣٣٥، والشاشي (١٥٢٠).
حضرت ابی اسید سے روایت ہے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت حمزہ کی قبر پر تھے۔ پس چادر حضرت حمزہ کے سر کی طرف کھینچی گئی تو آپ کے پاؤں کھل گئے۔ پھر چادر آپ کے پاؤں کی طرف کھینچی گئی تو آپ کا سر مبارک کھل گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چادر ان کے سر کی طرف کھینچ دو اور ان کے پاؤں پر حرمل کے پتے ڈال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39519]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39519، ترقيم محمد عوامة 37911)
ترقیم عوامۃ: 37912 ترقیم الشثری: -- 39520
٣٩٥٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق (١) عن ابيه عن اشياخ من الانصار قالوا: اتي رسول الله ﷺ (يوم احد) (٢) (بعبد الله) (٣) بن عمرو بن (حرام) (٤) وعمرو بن جموح قتيلين، فقال:"ادفنوهما في قبر واحد، فإنهما كانا متصافيين في الدنيا" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال: أخبرني أبي عن رجال من بني سلمة).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (لعبد اللَّه).
(٤) في [ب، ي]: (حزام).
(٥) مجهول؛ ابن إسحاق صدوق وصوح بالتحديث، وهولاء الأشياخ لم تثبت صحبتهم، وأخرجه ابن جرير في التاريخ ٢/ ٧٣، وابن هشام في السيرة ٤/ ٤٨، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٢٩١.
انصار کے کچھ شیوخ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام اور عمرو بن جموح کو مقتول حالت میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو ایک قبر میں دفن کردو اس لئے کہ یہ دنیا میں باہم مخلص تعلق رکھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39520]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39520، ترقيم محمد عوامة 37912)
ترقیم عوامۃ: 37913 ترقیم الشثری: -- 39521
٣٩٥٢١ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق قال: اخبرني ابي عن رجال من بني سلمة قالوا: لما صرف معاوية عينه التي تمر على قبور الشهداء جرت عليهما فبرز قبرهما، فاستصرخ عليهما فاخرجناهما يتثنيان تثنيا كانما ماتا ⦗٤٧٠⦘ بالامس، عليهما بردتان قد غطوا بهما على وجوههما وعلى ارجلهما من نبات الإذخر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة الرجال، وانظر: تاريخ المدينة لابن شبه (٣٧٠).
بنو سلمہ کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے شہداء کی قبر کے پاس سے گزرنے والا چشمہ جاری فرمایا تو وہ چشمہ دو شہیدوں کی قبر پر سے گزرا تو ان کی قبر کھل گئی۔ پس لوگوں نے ان کے بارے میں فریاد کی تو ہم نے ان دونوں کو باہر نکالا۔ وہ دونوں یوں لپٹے ہوئے تھے کہ گویا کل ہی مرے ہیں۔ ان پر دو چادریں تھیں۔ جن کے ذریعہ سے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر کی بوٹی پڑی ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39521]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39521، ترقيم محمد عوامة 37913)
ترقیم عوامۃ: 37914 ترقیم الشثری: -- 39522
٣٩٥٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن الاسود) (١) (بن) (٢) قيس عن (نبيح) (٣) عن جابر قال: قال لي ابي عبد الله: اي ابني لولا (نسيات) (٤) اخلفهن من بعدي من اخوات وبنات لاحببت ان اقدمك امامي، ولكن كن في نظاري المدينة قال: فلم البث ان جاءت بهما عمتي قتيلين -يعني: اباه وعمه-، قد عرضتهما على بعير (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (عن).
(٣) في [س]: (بلبح).
(٤) في [جـ]: (نساء)، وفي [أ، ق، هـ]: (بنيات).
(٥) صحيح.
حضرت جابر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبد اللہ نے کہا۔ اے میرے بیٹے! اگر یہ چھوٹی بہنیں اور بیٹیاں، جنہیں میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں، نہ ہوتی تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تجھے اپنے سے آگے کرتا۔ لیکن (اب) تم مدینہ میں میرے نظیر بن کر رہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جلد ہی میری پھوپھی ان دونوں کو … ان کے والد اور چچا کو … مقتول حالت میں لے آئی۔ ان دونوں کو اس نے اونٹ پر ڈالا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39522]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39522، ترقيم محمد عوامة 37914)
ترقیم عوامۃ: 37915 ترقیم الشثری: -- 39523
٣٩٥٢٣ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: قتل رجل من المشركين يوم احد (فاراد) (١) المشركون ان يدوه فابى فاعطوه حتى بلغ الدية فابى (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (فلما).
(٢) ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احد کے دن مشرکین میں سے ایک آدمی قتل کردیا گیا تو مشرکین نے اس کی دیت دینے کا ارادہ کیا، ورثاء کی طرف سے انکار ہو تو انہوں نے دیت کے بقدر دینے کا فیصلہ کیا لیکن پھر بھی انکار ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39523]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39523، ترقيم محمد عوامة 37915)
ترقیم عوامۃ: 37916 ترقیم الشثری: -- 39524
٣٩٥٢٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا إبراهيم بن إسماعيل قال: اخبرني عبد الرحمن بن ثابت وداود بن الحصين عن فارسي مولى بني معاوية انه ضرب رجلا يوم احد فقتله (وقال) (١) : خذها وانا الغلام الفارسي، فقال رسول الله ﷺ: ⦗٤٧١⦘"ما منعك ان تقول الانصاري وانت منهم، إن مولى القوم منهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فقال).
(٢) مضطرب؛ ورد عن داود بأسانيد متعددة، انظرها: في الإصابة ٢/ ٤٨٥ و ٤/ ٥٢٩ و ٥/ ٢٤٧ و ٥/ ٥٤٥ و ٧/ ٢٧٨، وأخرجه أحمد (٢٢٥١٥)، وأبو داود (٥١٢٣)، وابن ماجه (٤٧٨٤)، والدولابي ١/ ٤٥، وأبو يعلى (٩١٠)، وابن أبي حاتم في الجرح ٩/ ٤١٦، والمزي ٣٤/ ٩٤، وابن قانع ٢/ ١٥٧.
بنی معاویہ کے ایک آزاد کردہ غلام فارسی سے روایت ہے کہ انہوں نے احد کے دن ایک آدمی کو مارا اور قتل کردیا، اور کہا، اس کو پکڑ لو۔ میں تو فارسی غلام ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیں ن انصاری کہنے سے کس نے روکا۔ حالانکہ تم انہی میں سے ہو۔ قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں سے شمار ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39524]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39524، ترقيم محمد عوامة 37916)