مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
ترقیم عوامۃ: 37917 ترقیم الشثری: -- 39525
٣٩٥٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حميد عن انس بن مالك ان عمه (١) غاب عن قتال بدر فقال: غبت عن اول قتال قاتله رسوله الله ﷺ المشركين (لئن اراني الله قتال المشركين) (٢) ، ليرين الله ما اصنع، فلما كان يوم احد انكشف المسلمون (فقال) (٣) : اللهم إني اعتذر إليك مما صنع هؤلاء -يعني المسلمين، وابرا إليك مما ( (جاء) (٤) به) (٥) هؤلاء -يعني المشركين، وتقدم فلقيه سعد باخراها ما دون احد، فقال سعد: انا معك، فلم استطع اصنع ما صنع، ووجد (فيه) (٦) بضع وثمانون (من) (٧) ضربة بسيف وطعنة (برمح) (٨) ورمية بسهم، (فكنا) (٩) نقول فيه وفي اصحابه نزلت: ﴿فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر﴾ [الاحزاب: ٢٣] (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: زيادة (أنس بن النضر).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) في [ب]: (جاز).
(٥) في [ي]: (صنع هؤلاء).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (وكنا).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٠٥)، ومسلم (١٩٠٣).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا، بدر کی لڑائی میں غیر موجود تھے تو وہ فرماتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی لڑائی لڑی ہے میں اس سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ بخدا! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے (اب) مشرکین کے ساتھ لڑائی دکھا دی تو میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا طرز عمل دکھا دوں گا۔ پس جب احد کا دن تھا اور مسلمان چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ! ان لوگوں (مسلمان) نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ اور یہ لوگ (مشرکین) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں آپ کے سامنے اس سے براءت کرتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) وہ آگے بڑھے۔ تو انہیں حضرت سعد ملے اور حضرت سعد نے کہا۔ میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کہتے ہیں، جو انہوں نے کیا وہ میں نہ کرسکا۔ ان کے جسم پر تلواروں کی ضربیں، نیزوں کے وار اور تیروں کے نشانات اَسّی سے کچھ اوپر پائے گئے تھے۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ { فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39525]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39525، ترقيم محمد عوامة 37917)
ترقیم عوامۃ: 37918 ترقیم الشثری: -- 39526
٣٩٥٢٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا همام عن قتادة عن الحسن و (سعيد) (١) بن المسيب ان قتلى احد غسلوا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (سعد).
(٢) مرسل؛ فيه شذوذ، الحسن وسعيد تابعيان، ونقل الكافة عن قتلى أحد أنهم لم يغسلوا.
حضرت حسن اور سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین کو غسل دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39526]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39526، ترقيم محمد عوامة 37918)
ترقیم عوامۃ: 37919 ترقیم الشثری: -- 39527
٣٩٥٢٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس بن ابي حازم قال: رايت يد طلحة بن عبيد الله شلاء، وقى بها النبي ﷺ يوم احد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٠٦٣)، وأحمد (١٣٨٦).
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ میں نے طلحہ بن عبید اللہ کے ہاتھ کو شل دیکھا۔ اس ہاتھ کے ذریعہ سے انہوں نے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی اور بچاؤ کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39527، ترقيم محمد عوامة 37919)
ترقیم عوامۃ: 37920 ترقیم الشثری: -- 39528
٣٩٥٢٨ - حدثنا عبد الوحيم بن (سليمان عن) (١) زكريا عن الشعبي قال: قتل حمزة بن عبد المطلب يوم احد، وقتل حنظلة بن الواهب الذي طهرته الملائكة يوم احد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي، وأخرجه البيهقي ٤/ ١٥.
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو احد کے دن قتل کیا گیا اور حنظلہ ابن الراہب کو، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا … اُحد کے دن قتل کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39528]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39528، ترقيم محمد عوامة 37920)
ترقیم عوامۃ: 37921 ترقیم الشثری: -- 39529
٣٩٥٢٩ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: عرضت على رسول الله صلى الله (١) عليه وسلم (٢) يوم احد وانا ابن اربع عشرة فاستصغرني، وعرضت عليه يوم الخندق وانا ابن خمس عشرة فاجازني (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) إلى هنا ينتهي سقط نسخة [ع] الذي بدأ من حديث رقم [٣٨٤٧٠] في آخر الزهد.
(٢) في [ع]: زيادة (عرضني).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخارى (٢٦٦٤)، ومسلم (١٨٦٨).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ مجھے احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ جبکہ میری عمر چودہ سال کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا اور (پھر) مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خندق کے دن پیش کیا گیا۔ جبکہ میری عمر پندرہ سال کی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (شرکتِ جہاد کی) اجازت مرحمت فرما دی۔ حضرت نافع کہتے ہیں۔ میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبد العزیز کو بیان فرمائی تو انہوں نے کہا: یہ (مقدارِ عمر) چھوٹے، بڑے کے درمیان حد فاصل ہے۔ پھر انہوں نے اپنے عامل کو یہ تحریر لکھ کر بھیجی کہ پندرہ سال والے کے لئے مقاتلین میں اور چودہ سال والے کے لئے ذریۃ میں حصہ مقرر کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39529]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39529، ترقيم محمد عوامة 37921)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39530
٣٩٥٣٠ - قال نافع: فحدثت به عمر بن عبد العزيز فقال: هذا حد بين الصغير والكبير، فكتب إلى عماله ان يفرضوا لابن خمس عشرة في المقاتلة، ولابن اربع عشرة في الذرية.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39530، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37922 ترقیم الشثری: -- 39531
٣٩٥٣١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا محمد بن عمرو عن (سعد) (١) بن المنذر قال: خرج رسول الله ﷺ إلى احد، فلما خلف ثنية الوداع (نظر) (٢) خلفه فإذا كتيبة خشناء، (فقال:"من هؤلاء؟") (٣) (قالوا) (٤) : عبد الله بن ابي بن سلول ومواليه من اليهود، قال:" (اوقد) (٥) اسلموا؟"، قالوا: لا، بل (هم) (٦) على دينهم، قال:"مروهم فليرجعوا فإنا لا نستعين بالمشركين (على المشركين) (٧) " (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (سعيد).
(٢) في [هـ]: (فنظر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٥) في [أ، ط، ق، هـ]: (أقد).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) مرسل؛ سعد بن المنذر تابعي، وقد ورد من حديث سعد بن المنذر عن أبي حميد الساعدي، أخرجه الحاكم ٢/ ١٢٢، وابن سعد ٢/ ٤٨، والبيهقي ٩/ ٣٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٠٦٨)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٢٦٣)، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ٤١٧.
حضرت سعد بن المنذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثنیۃ الوداع کو پار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیچھے ایک سخت رو لشکر دکھائی دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے حمایتی یہودی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں! بلکہ یہ اپنے دین پر ہی قائم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہہ دو کہ واپس چلے جاؤ۔ اس لئے کہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد طلب نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39531]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39531، ترقيم محمد عوامة 37922)
ترقیم عوامۃ: 37923 ترقیم الشثری: -- 39532
٣٩٥٣٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة ان قتادة بن النعمان سقطت عينه على وجنته يوم احد، فردها رسول الله ﷺ، فكانت احسن عين واحدها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عاصم بن عمر بن قتادة تابعي، وأخرجه ابن سعد ٣/ ٤٥٢، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٤١٢، وابن عساكر ٤٩/ ٢٨٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٥١، وورد الخبر من حديث عاصم عن أبيه عن جده، أخرجه أبو يعلى (١٥٤٩)، والطبراني ١٩/ (١٣)، وابن قانع ٢/ ٣٦٠، وابن عدي ٤/ ٢٨٣، وورد من حديث عاصم عن جده، أخرجه البيهقي في الدلائل ٣/ ٢٥١، وأبو نعيم في دلائل النبوة (١٢٦)، وابن عساكر ٤٩/ ٢٨٠، كما ورد من حديث عاصم عن جابر، أشار له ابن عبد البر في الاستيعاب ٣/ ١٢٧٥.
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ قتادہ بن نعمان کی آنکھ احد کے دن نکل کر ان کے رخسار پر گرگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ تو یہ آنکھ (دوسری آنکھ سے) زیادہ حسین اور تیز نظر والی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39532]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39532، ترقيم محمد عوامة 37923)
ترقیم عوامۃ: 37924 ترقیم الشثری: -- 39533
٣٩٥٣٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن معمر عن الزهري عن رجل عن جابر ان النبي ﷺ امر بالقتلى يوم احد (فزملوا) (١) بدمائهم وان يقدم اكثرهم اخذا لقرآن وان يدفن إثنان في قبر، قال: فدفنت ابي وعمي في قبر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فزلوا).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي عن جابر، وورد الحديث من طريق الزهري عن عبد الرحمن بن كعب ابن مالك عن جابر، أخرجه البخاري (١٣٤٣)، وأبو داود (٣١٣٨)، والترمذي (١٠٣٦)، والنسائي (٢٠٨٢)، وابن ماجه (١٥١٤)، وتقدم ٣/ ٣٢٥ برقم [١٢٠٠٩]، كما ورد من طريق الزهري عن ثعلبة بن عبد اللَّه بن صغير، وقيل: عبد اللَّه بن ثعلبة، أخرجه عبد الرزاق (٦٦٣٣)، وأحمد ٥/ ٤٣١ (٢٣٧٠٩)، وأبو يعلى (١٩٥١)، والبيهقي ٤/ ١١، والضياء ٩/ ١١٦ (١٠٥)، وورد من حديث أسامة عن الزهري عن أنس، أخرجه أحمد (١٢٣٠٠)، وأبو داود (٣١٣٦)، والترمذي (١٠١٦)، وتقدم ١٤/ ٣٩١ برقم [٣٩٥١٥]، ورقم [١٢٠١١]، ووهم أسامة فيه.
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن کے مقتولین کے بارے میں حکم فرمایا: تو ان کو ان کے خون سمیت کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا اور یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کیا جائے اور دو آدمیوں کو ایک قبر میں داخل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39533]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39533، ترقيم محمد عوامة 37924)
ترقیم عوامۃ: 37925 ترقیم الشثری: -- 39534
٣٩٥٣٤ - حدثنا زيد (بن حباب) (١) عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن ثابت ان رسول الله ﷺ قال يوم احد:"اقدم مصعب" فقال له عبد الرحمن: يا رسول الله الم يقتل مصعب قال:"بلى، ولكن ملك قام مكانه وتسمى باسمه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) مرسل؛ محمد بن ثابت من تابعي التابعين، وموسى بن عبيدة ضعيف.
حضرت محمد بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا: اے مصعب! آگے بڑھو! حضرت عبد الرحمان نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا مصعب قتل نہیں ہوگئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن ان کی جگہ ایک فرشتہ کھڑا ہے اور وہ انہی کے نام سے مسمّٰی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39534]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39534، ترقيم محمد عوامة 37925)