مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (غزوة خيبر)
غزوہ خیبر
ترقیم عوامۃ: 38038 ترقیم الشثری: -- 39653
٣٩٦٥٣ - حدثنا علي بن هاشم قال: (حدثنا) (١) (٢) ابن ابي (ليلى) (٣) [عن المنهال والحكم وعيسى (عن) (٤) عبد الرحمن بن ابي (ليلى) (٥) ] (٦) قال: قال علي: ما كنت معنا يا ابا (ليلى) (٧) بخيبر؟ قلت: بلى والله، لقد كنت معكم، قال: فإن رسول الله ﷺ بعث ابا بكر (فسار) (٨) بالناس فانهزم حتى رجع (٩) ، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله ﷺ:"لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله (يفتح الله له) (١٠) ليس بفرار"، قال: فارسل إلي فدعاني فاتيته -وانا ارمد إلا ابصر (شيئا) (١١) - [ (فدفع) (١٢) إلي الراية فقلت: يا رسول الله كيف وانا ارمد لا ابصر (شيئا؟) (١٣) ] (١٤) قال: فتفل في عيني، ثم قال:"اللهم اكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: (عن).
(٢) في [س]: زيادة (المنهال عن).
(٣) في [جـ]: (ليلا).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) في [جـ]: (ليلا).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٧) في [جـ]: (ليلا).
(٨) في [ع]: (سار).
(٩) في [هـ]: زيادة (إليه).
(١٠) سقط من: [ب]، وفي [ي]: (يفتح له اللَّه).
(١١) في [جـ]: بياض.
(١٢) في [س]: (فدعا).
(١٣) سقط من: [س].
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٥) ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى فهو سيئ الحفظ، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٧، وأحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، وسبق ١٢/ ٦٢ برقم [٣٤٢٥١].
حضرت عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے ابو لیلیٰ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے؟ میں نے عرض کای: کیوں نہیں! بخدا میں تو تمہارے ساتھ تھا۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور وہ لوگوں کو لے کر (میدان کی طرف) چلے لیکن پسپا ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بھیجا وہ بھی لوگوں کے ہمراہ پسپا ہوگئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس آگئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (اب) میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا آدمی نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف آدمی بھیجا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ میں آشوب چشم میں مبتلا تھا۔ اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ مجھے آپ) کیسے دے رہے ہیں؟ جبکہ مجھے تو آشوب چشم ہے اور میں کچھ نہیں دیکھ رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اے اللہ! تو ان کو سردی اور گرمی سے کافی ہوجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ مجھے اس کے بعد کبھی سردی یا گرمی نے تکلیف نہیں دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39653]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39653، ترقيم محمد عوامة 38038)
ترقیم عوامۃ: 38039 ترقیم الشثری: -- 39654
٣٩٦٥٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن ابي حبيب عن ابي مرزوق (مولى) (١) تجيب قال: غزونا مع (رويفع) (٢) بن (ثابت) (٣) الانصاري نحو المغرب، ففتحنا قرية يقال: لها جربة، قال: فقام (فينا) (٤) خطيبا فقال: إني لا اقول فيكم إلا ما سمعت رسول الله ﷺ قال فينا يوم خيبر:"من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسقين ماءه زرع غيره، ولا يبيعن مغنما حتى يقسم، ولا يركبن دابة من فيء المسلمين، فإذا اعجفها ردها فيه، ولا (يلبس) (٥) ثوبا (من فيء المسلمين) (٦) حتى إذا (اخلقه) (٧) رده (فيه) (٨) " (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تكررت.
(٢) في [جـ]: (روفع).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ي]: (تلبس).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [هـ]: (أخلفه).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) حسن؛ ابن إسحاق وأبو مرزوق صدوقان، صحر ابن إسحاق بالتحديث عند أبي داود (٢١٥٩)، والبيهقي ٩/ ١٢٤، أخرجه أحمد (١٦٩٩٠)، والدارمي (٢٤٨٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٩٣)، والطبراني (٤٤٨٢)، وابن سعد ٢/ ١١٥، وابن عساكر ١٢/ ٣٨، وابن قانع ١/ ٢١٧، وسبق ١٢/ ٢٢٢ برقم [٣٤٧٤٨].
تجیب کے غلام حضرت ابو مرزوق سے روایت ہے کہ ہم نے رویفع بن ثابت انصاری کے ہمراہ مغرب کی طرف ایک غزوہ لڑا۔ اور ہم نے ایک بستی … جس کو جَربَہْ کہا جاتا تھا … کو فتح کرلیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم میں ایک خطیب صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔ میں تم سے وہی بات کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی اور وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خیبر کے دن ارشاد فرمائی تھی۔ (وہ بات یہ ہے) ”جو شخص اللہ پر، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس کا پانی ہرگز دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے اور وہ غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے قبل کچھ نہ بیچے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی کے کسی جانور پر اس طرح سوار ہو کہ جب وہ جانور کمزور ہوجائے تو یہ اس کو واپس مال فئی میں داخل کر دے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی سے اس طرح کوئی کپڑا پہنے کہ جب وہ کپڑے پرانا کر دے تو اس کو مال فئی میں واپس کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39654]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39654، ترقيم محمد عوامة 38039)
ترقیم عوامۃ: 38040 ترقیم الشثری: -- 39655
٣٩٦٥٥ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني سماك الحنفي ابو زميل قال: حدثني عبد الله ابن عباس قال: (حدثني) (١) عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم خيبر اقبل نفر من اصحاب (رسول الله) (٢) ﷺ قالوا: ⦗١٩⦘ فلان شهيد، (فلان شهيد) (٣) حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال رسول الله ﷺ:"كلا، إني رايته في النار في بردة غلها، او في عباءة غلها"، ثم قال رسول الله ﷺ:" (يا ابن الخطاب) (٤) اذهب فناد في الناس: انه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون"، (قال: فخرجت فناديت انه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (حدثنا).
(٢) في [جـ، ع، ي]: (النبي).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [س]: (اذهب يا ابن الخطاب).
(٥) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٦) حسن؛ عكرمة صدوق، أخرجه مسلم (١١٤)، وأحمد (٢٠٣).
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ خیبر کا دن تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا ایک گروہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوا اور وہ لوگ کہنے لگے۔ فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا (یہ) فلاں بھی شہید ہے۔ تو (اس پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں! میں نے اس آدمی کو جہنم میں دیکھا ہے اس چادر میں یا اس عباء میں جو اس نے مال غنیمت سے خیانت کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابن خطاب! جاؤ اور لوگوں میں یہ منادی کردو کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس میں وہاں سے نکلا اور میں نے منادی کی، کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39655]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39655، ترقيم محمد عوامة 38040)
ترقیم عوامۃ: 38041 ترقیم الشثری: -- 39656
٣٩٦٥٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا رافع بن سلمة الاشجعي قال: حدثني حشرج بن زياد الاشجعي عن جدته ام ابيه انها غزت مع رسول الله ﷺ عام خيبر سادسة ست نسوة، فبلغ (٢) رسول الله ﷺ فبعث إلينا، فقال:"بامر من خرجتن؟" وراينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول الله خرجنا ومعنا دواء نداوي به، ونناول السهام، ونسقي السويق، ونغزل الشعر، نعين به في سبيل الله، فقال لنا:"اقمن"، فلما ان فتح الله عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [ق]: زيادة (ذلك).
(٣) مجهول؛ لجهالة حشرج بن زياد، أخرجه أحمد (٢٢٣٣٢)، وأبو داود (٢٧٢٩)، والنسائي في الكبرى (٨٨٧٩)، والبيهقي ٦/ ٣٣٢.
حضرت حشرج بن زیاد اشجعی اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چھ عورتوں کے ساتھ خیبر کے دن جہاد میں شرکت کی، پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف قاصد بھیجا اور پوچھا کہ تم کس کے کہنے پر (جہاد میں) نکلی ہو؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوال میں غصہ محسوس کیا تو ہم نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم (جہاد میں) نکلی ہیں اور ہمارے پاس دوائیں بھی ہیں جن کے ذریعہ ہم علاج کریں گی۔ اور ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی اور ہم وہ شعر کہیں گی۔ جن کے ذریعہ سے ہم راہ خدا میں (مجاہدین کی) مدد کریں گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ پھر تم (یہیں) رہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیبر کی جنگ میں فتح نصیب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو جس طرح حصہ دیا، اسی طرح ہمیں بھی حصہ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39656]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39656، ترقيم محمد عوامة 38041)
ترقیم عوامۃ: 38042 ترقیم الشثری: -- 39657
٣٩٦٥٧ - حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن (زيد) (١) قال: حدثني عمير مولى آبي اللحم قال: شهدت (خيبر) (٢) وانا عبد مملوك، فلما فتحوها اعطاني رسول الله ﷺ سيفا فقال:"تقلد هذا"، واعطاني من (خرثي) (٣) المتاع، ولم ⦗٢٠⦘ يضرب لي بسهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (يزيد)، وتقدم الخبر على الصواب ١٢/ ٤٠٦ برقم [٣٥٤٢٢].
(٢) سقط من: [س].
(٣) أي: الأثات، وفي [أ]: (خربي)، وفي [ب]: (خرئ)، وفي [ق]: (خرئي)، وفي [جـ]: (خرتي).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٩٤٠)، وأبو داود (٢٧٣٠)، والترمذي (١٥٥٧)، وابن ماجه (٢٨٥٥)، والنسائي في الكبرى (٧٥٣٥)، وابن حبان (٤٨٣١)، والحاكم ١/ ٣٢٧، والطيالسي (١٢١٥)، وعبد الرزاق (٩٤٥٤)، وأبو عبيد في الأموال (٨٨٢)، وابن زنجوية (٨٨٩)، والدارمي (٢٤٧٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٦٧١)، وابن الجارود (١٠٨٧)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٢٩٤)، والطبراني ١٧/ (١٣١)، والبيهقي ٩/ ٣١، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٢٨٤.
حضرت عمیر مولیٰ ابی اللحم روایت کرتے ہیں کہ میں خیبر کے جہاد میں شریک تھا اور میں ایک مملوکہ غلام تھا۔ جب صحابہ کرام نے خیبر کو فتح کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک تلوار عطا فرمائی۔ اور ارشاد فرمایا۔ یہ تلوار لٹکا لو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غنیمت میں سے عطیہ دیا لیکن میرا (پورا) حصہ نہیں نکالا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39657]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39657، ترقيم محمد عوامة 38042)
ترقیم عوامۃ: 38043 ترقیم الشثری: -- 39658
٣٩٦٥٨ - حدثنا حفص بن غياث عن (بريد) (١) بن عبد الله عن ابي بردة عن ابي موسى قال: قدمنا على (النبي) (٢) ﷺ بعد فتح خيبر بثلاث، فقسم لنا ولم يقسم لاحد لم يشهد الفتح غيرنا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في: [هـ]، وفي بقية النسخ: (يزيد).
(٢) في [هـ]: (رسول اللَّه).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٣٣)، ومسلم (٢٥٠٢).
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کے فتح ہونے کے تین (دن) بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارا بھی تقسیم میں حصہ رکھا۔ ہمارے سوا جو لوگ اس فتح میں شریک نہیں ہوئے تھے ان میں سے کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حصہ نہیں دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39658]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39658، ترقيم محمد عوامة 38043)
ترقیم عوامۃ: 38044 ترقیم الشثری: -- 39659
٣٩٦٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) هشام عن ابن سيرين عن انس ابن مالك قال: لما كان يوم خيبر ذبح الناس الحمر فاغلوا بها القدور، فامر رسول الله ﷺ ابا طلحة فنادى: إن الله (ورسوله) (٢) (ينهيانكم) (٣) عن لحوم الحمر الاهلية فإنها رجس، فكفئت القدور (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [س]: (رسول اللَّه).
(٣) في [س]: (ينهاكم)، وفي [ع]: (نهياكم).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٩١)، ومسلم (١٩٤٠).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن لوگوں نے گدھوں کو ذبح کیا اور ان کو ہانڈیوں میں ڈال کر جوش دیا جا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طلحہ کو حکم دیا اور انہوں نے یہ منادی کی۔ ”بیشک اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کردیا ہے۔ کیونکہ یہ نجس ہیں۔“ پس (یہ سنتے ہی) ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39659]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39659، ترقيم محمد عوامة 38044)
ترقیم عوامۃ: 38045 ترقیم الشثری: -- 39660
٣٩٦٦٠ - حدثنا ابو داود عن شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله بن (مغفل) (١) قال: سمعته يقول: دلي جراب من شحم يوم خيبر، قال: (فالتزمته) (٢) ⦗٢١⦘ وقلت: هذا لا اعطي احدا منه شيئا، قال: فالتفت فإذا النبي ﷺ يتبسم، فاستحييت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (معقل).
(٢) في [ق]: (فالتزمتها).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٣)، ومسلم (١٧٧٢).
حضرت عبد اللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن مجھے چربی کے ایک تھیلے کے بارے میں بتایا گیا عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اس سے چمٹ گیا اور میں نے کہا۔ میں اس میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ عبد اللہ کہتے ہیں۔ پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے مسکرا رہے تھے۔ مجھے (اس پر) بہت شرمندگی ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39660]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39660، ترقيم محمد عوامة 38045)
ترقیم عوامۃ: 38046 ترقیم الشثری: -- 39661
٣٩٦٦١ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن ضمرة الفزاري عن عبد الله بن ابي سليط عن ابيه ابي سليط -وكان بدريا- قال: لقد (اتى) (١) نهي رسول الله ﷺ عن اكل الحمر وإن القدور لتغلي بها، قال: فكفاناها على وجوهها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (أتانا).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن عمرو الضمري وعبد اللَّه بن أبي السليط، وأخرجه أحمد (١٥٤٥٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٦٨)، والدولابي في الكنى ١/ ٣٦، والطبراني (٥٨٠).
حضرت عبد اللہ بن ابی سلیط، اپنے والد ابی سلیط سے روایت کرتے ہیں … اور ان کے والد بدری صحابی ہیں … یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پالتو گدھے کے کھانے کے ممانعت اس حال میں (ہم تک) پہنچی جبکہ ہانڈیوں میں یہی گوشت ابل رہا تھا… ابی سلیط کہتے ہیں … پس ہم نے ہانڈیوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39661]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39661، ترقيم محمد عوامة 38046)
ترقیم عوامۃ: 38047 ترقیم الشثری: -- 39662
٣٩٦٦٢ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: حدثنا القاسم ومكحول عن ابي امامة ان رسول الله ﷺ نهى يوم خيبر عن اكل الحمار الاهلي، وعن كل ذي ناب من السباع، (وان توطا) (٢) الحبالى حتى (يضعن) (٣) وعن ان (تباع) (٤) السهام حتى تقسم، وان تباع الثمرة حتى يبدو صلاحها، ولعن يومئذ الواصلة والموصولة والواشمة والموشومة (والخامشة) (٥) وجهها والشاقة جيبها (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [ع]: (لا توطأ).
(٣) في [أ، ب]: (تضعن).
(٤) في [س]: (إتباع).
(٥) في [س]: (والخاشة).
(٦) ضعيف؛ عبد الرحمن بن يزيد قال أهل الحديث: هو ابن تميم لا ابن جابر، وأخرجه الطبراني (٧٥٩٣)، والروياني (١٢٣٤).
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن پالتو گدھے کے کھانے سے منع کیا اور ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع کیا۔ اور اس بات سے منع کیا کہ حاملہ عورت سے وضع حمل سے قبل وطی کی جائے اور مال غنیمت کے حصہ کے تقسیم ہونے سے قبل بیچنے سے منع کیا۔ اور پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن دوسری عورت کے بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اسی طرح گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اپنا چہرہ نوچنے والی پر لعنت فرمائی اور اپنا گریبان چاک کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39662]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39662، ترقيم محمد عوامة 38047)