مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (غزوة خيبر)
غزوہ خیبر
ترقیم عوامۃ: 38048 ترقیم الشثری: -- 39663
٣٩٦٦٣ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة عن جابر بن عبد الله قال: لما كان يوم خيبر اصاب الناس مجاعة واخذوا الحمر الانسية فذبحوها وملاوا منها القدور، فبلغ ذلك نبي الله ﷺ قال جابر: فامرنا رسول الله ﷺ (فكفانا) (١) القدور، وقال:"إن الله سياتيكم برزق (هو (احل) (٢) من ذا واطيب) (٣) "، فكفانا القدور يومئذ وهي تغلي، فحرم رسول الله ﷺ يومئذ لحوم الحمر الانسية ولحوم البغال، وكل ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير، وحرم المجثمة والخلسة والنهبة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (وكفأنا).
(٢) في [أ، ب]: (أجل).
(٣) في [ع]: (أطيب من ذا وأحل).
(٤) مضطرب؛ رواية عكرمة عن يحيى بن أبي كثير مضطربة، أخرجه أحمد (١٤٤٦٣)، والترمذي (١٤٧٨) وفي العلل ١/ ٢٤٠، وفي الأوسط (٣٦٩١)، وابن المنذر في الأوسط ٢/ ٣٠٣.
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب جنگ خیبر کا دن تھا تو لوگوں کو (شدید) بھوک نے آلیا۔ لوگوں نے پالتو گدھوں کو پکڑا اور انہیں ذبح کر کے ان کے گوشت سے ہانڈیوں کو بھر دیا۔ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا پس ہم نے ہانڈیوں کو الٹ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں ایسا رزق دے گا جو اس سے زیادہ حلال اور طیب ہوگا۔ پس ہم نے ان ہانڈیوں کو اس حال میں الٹ دیا جبکہ وہ جوش دے رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن پالتو گدھوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچلی والے ہر درندے کو حرام قرار دیا اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے کو حرام قرار دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجثمہ (وہ بکری جس کو پتھر مار مار کر ہلاک کیا جائے)، جھپٹی ہوئی چیز اور لوٹی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39663]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39663، ترقيم محمد عوامة 38048)
ترقیم عوامۃ: 38049 ترقیم الشثری: -- 39664
٣٩٦٦٤ - حدثنا (عبيد الله) (١) قال: حدثنا نعيم بن (حكيم) (٢) عن ابي مريم عن علي قال: سار رسول الله ﷺ إلى خيبر، فلما اتاها بعث عمر ومعه الناس إلى (مدينتهم) (٣) (او) (٤) إلى قصرهم، فقاتلوهم فلم يلبثوا ان انهزم عمر واصحابه، (فجاء) (٥) (يجبنهم) (٦) ويجبنونه، فساء ذلك رسول الله ﷺ فقال:"لابعثن إليهم رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله، يقاتلهم حتى يفتح الله له ليس بفرار"، ⦗٢٣⦘ فتطاول الناس لها، (ومدوا) (٧) اعناقهم يرونه انفسهم رجاء ما قال، (٨) فمكث ساعة ثم قال:"اين علي؟" فقالوا: هو ارمد، فقال:"ادعوه لي"، فلما اتيته فتح عيني ثم تفل (فيهما) (٩) ، ثم اعطاني اللواء فانطلقت به سعيا خشية ان يحدث رسول الله ﷺ (١٠) فيهم حدثا او في، حتى اتيتهم (فقاتلتهم) (١١) فبرز مرحب يرتجز، وبرزت له ارتجز كما يرتجز حتى التقينا، فقتله الله بيدي، وانهزم اصحابه فتحصنوا واغلقوا الباب، (فاتينا الباب) (١٢) فلم ازل اعالجه حتى فتحه الله (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، جـ، ع]: (حكم).
(٣) في [جـ]: (مدينهم).
(٤) في [أ، ب]: (أما).
(٥) في [س]: (وجاء).
(٦) في [ب]: (بجيشهم).
(٧) في [س]: (ومدور).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٩) في [ب]: (فيها).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [س]: (فقاتلهم).
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) مجهول؛ لجهالة أبي مريم الثقفي، أخرجه الحاكم ٣/ ٣٧، والبزار (٧٧٠).
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے (جا کر) ان کے ساتھ لڑائی کی۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ … حضرت عمر اور ان کے ساتھی … پسپا ہوگیا۔ پس حضرت عمر، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ آدمی بھاگنے والا نہیں ہوگا۔“ (یہ بات سن کر) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اور اپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کوئی خیال نہ آجائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آجائے۔ یہاں تک کہ میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لئے آیا تو میں بھی اس کے جواب میں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لئے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈبھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔ اور اس کے ساتھی پسپا ہوگئے اور قلعہ بند ہوگئے انہوں نے دروازہ بند کرلیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39664]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39664، ترقيم محمد عوامة 38049)
ترقیم عوامۃ: 38050 ترقیم الشثری: -- 39665
٣٩٦٦٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا ابو منين عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: قال نبي الله ﷺ:"لادفعن اليوم الراية التي رجل يحبه الله ورسوله"، فتطاول (القوم) (١) فقال:"اين علي؟" فقالوا: يشتكي (عينه) (٢) ، فدعاه فبزق في كفيه ومسح بهما عين علي، ثم دفع إليه الراية ففتح الله عليه يومئذ (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) في [ي]: (عنه).
(٣) صحيح؛ أخرجه النسائي (٨١٥١)، وابن حبان (٦٩٣٣)، وإسحاق (٢١٩)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٢٥، وأصله عند مسلم (٢٤٠٥)، وورد من حديث أبي حازم عن سهل بن سعد، أخرجه البخاري (٢٨٤٧).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کے دن میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے اوپر اوپر اٹھ کر دیکھنا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: ان کی آنکھ میں شکایت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوکا اور ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر پھیرا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا حوالہ کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39665]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39665، ترقيم محمد عوامة 38050)
ترقیم عوامۃ: 38051 ترقیم الشثری: -- 39666
٣٩٦٦٦ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن انس عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: سمعت عمر يقول: لولا ان يترك آخر الناس لا شيء لهم ما افتتح المسلمون قرية من قرى الكفار إلا قسمتها بينهم سهمانا، كما قسم رسول الله ﷺ خيبر سهمانا، ولكني اردت ان تكون (جرية) (١) تجري على المسلمين، وكرهت ان يترك آخر الناس لا شيء (لهم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في [هـ]، وفي [أ، ب، س، ط، ع]: (جزية).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (له).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٣٤)، وأحمد (٢٨٤)، وتقدم ١٢/ ٣٤١ برقم [٣٥١٨٧].
حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ لشکر کے آخری حصہ کو کچھ نہ ملے تو مسلمان کافروں کی جو بستی بھی فتح کرتے میں اسے مسلمانوں کے درمیان حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو مسلمانوں میں حصوں میں تقسیم فرما دیا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک اصول مسلمانوں میں چلتا رہے۔ اور میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ بعد کے لوگوں کو کچھ نہ دیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39666]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39666، ترقيم محمد عوامة 38051)
ترقیم عوامۃ: 38052 ترقیم الشثری: -- 39667
٣٩٦٦٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال: سبى رجل امراة يوم خيبر، فحملها خلفه فنازعته قائم سيفه، فقتلها فابصرها رسول الله ﷺ فقال:"من قتل هذه؟" فاخبروه، فنهى عن قتل النساء (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٣١٦)، والطبراني (١٢٠٨٢).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خیبر کے دن ایک عورت کو قید کیا اور اس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ اس عورت نے اس آدمی کی تلوار کے قبضہ پر جھگڑا کیا تو اس آدمی نے اس عورت کو قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو (مقتول) دیکھا تو ارشاد فرمایا۔ اس عورت کو کس نے قتل کیا ہے؟ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39667]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39667، ترقيم محمد عوامة 38052)
ترقیم عوامۃ: 38053 ترقیم الشثری: -- 39668
٣٩٦٦٨ - حدثنا عبد الرحيم عن ابن إسحاق عن الزهري عن عبد الله بن كعب ابن مالك ان رسول الله ﷺ نهى النفر الذين (بعث) (١) إلى ابن ابي الحقيق بخيبر ليقتلوه، فنهاهم عن قتل النساء والولدان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (بعثوا).
(٢) مرسل، منقطع حكمًا؛ عبد اللَّه بن كعب تابعي، وابن إسحاق مدلس، وأخرجه متصلًا عبد الرزاق (٩٣٨٥)، والطبراني ١٩/ (١٥٠)، والشافعي في المسند ٢/ ١١٨، والحميدي (٨٧٤)، وسعيد بن منصور (٢٦٢٧)، والبيهقي ٩/ ٧٨، والحازمي في الاعتبار ص ٢١٣، وأحمد (٢٤٠٠٩/ ٦٦)، وسبق ١٢/ ٣٨١ برقم [٣٥٣٢٧].
حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لشکر کو جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن ابی الحقیق کو خیبر میں قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39668]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39668، ترقيم محمد عوامة 38053)