🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. (ما حفظت) في (بعث) مؤتة
غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38130 ترقیم الشثری: -- 39748
٣٩٧٤٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) قطبة عن الاعمش عن عدي بن ثابت عن سالم بن ابي الجعد قال: اريهم النبي ﷺ في النوم فراى جعفرا ملكا ذا جناحين مضرجا بالدماء، وزيد مقابله على السرير، قال: وابن رواحة جالس معهم كانهم (معرضون) (٢) عنه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (معرضين).
(٣) مرسل؛ سالم تابعي، أخرجه الطبراني (١٤٦٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦١)، وورد متصلًا من حديث أبي اليسر، أخرجه الطبراني ١٩/ ٣٧٨، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢١٨)، وابن سعد ٢/ ١٣٠، وابن عساكر ٣٨/ ٢١٥.

حضرت سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہداء مؤتہ… خواب میں دکھائے گئے۔ چناچہ آپ نے حضرت جعفر کو ایک ایسے فرشتے کی شکل میں دیکھا جس کے دو پر تھے اور وہ خون میں لتھڑے ہوئے تھے اور حضرت زید کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابل تخت پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں۔ ابن رواحہ ان کے ساتھ یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ وہ ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39748، ترقيم محمد عوامة 38130)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38131 ترقیم الشثری: -- 39749
٣٩٧٤٩ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن ابي إسحاق عن ابي ميسرة انه لما اتى النبي ﷺ قتل (جعفر وزيد) (٢) وعبد الله بن رواحة (ذكر) (٣) امرهم فقال:" (اللهم اغفر لزيد) (٤) ، (اللهم اغفر لجعفر) (٥) وعبد الله بن رواحة" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ب]: (زيد وجعفر).
(٣) في [أ، ب]: (فذكر).
(٤) في [ع]: تكررت ثلاث مرات.
(٥) سقط من: [ع].
(٦) مرسل؛ أبو ميسرة عمرو بن شرحبيل تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٥٣٢)، وابن سعد ٣/ ٤٦، وابن عساكر ١٩/ ٣٦٩.

حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر اور زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کرتے ہوئے دُعا فرمائی۔ اے اللہ! زید کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! جعفر کی مغفرت فرما۔ اور عبد اللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39749، ترقيم محمد عوامة 38131)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38132 ترقیم الشثری: -- 39750
٣٩٧٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد عن قيس بن ابي حازم قال: جاء اسامة بن زيد بعد قتل ابيه، فقام بين يدي النبي ﷺ فدمعت عيناه، فلما كان من الغد جاء فقام مقامه ذلك، فقال النبي ﷺ:" (الاقي) (٢) منك اليوم ما لقيت منك امس" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (ألقى)، وفي [أ، ب]: (ألافي).
(٣) مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ٦٣، والضياء في المختارة (١٣٤٢)، وورد من حديث قيس عن أسامة، أخرجه ابن عساكر ١٩/ ٣٧٠.

حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ، اپنے والد کے قتل کے بعد حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سامنے (استقبال کے لئے) کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بھر آئیں۔ پھر جب اگلادن آیا اور حضرت اسامہ حاضر ہوئے اور پھر اپیپ اسی جگہ پر کھڑے ہوگئے تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں آج بھی تمہارا استقبال اس طرح کروں جس طرح میں نے کل تمہارا استقبال کیا تھا“؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39750]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39750، ترقيم محمد عوامة 38132)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38133 ترقیم الشثری: -- 39751
٣٩٧٥١ - حدثنا محمد بن عبيد قال: (حدثنا) (١) وائل بن داود قال: سمعت (البهي) (٢) يحدث ان عائشة كانت تقول: ما بعث رسول الله ﷺ زيد بن حارثة (في ⦗٨٧⦘ جيش قط) (٣) إلا امره عليهم ولو بقي بعده لاستخلفه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (الهني).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) حسن؛ البهي صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٨٩٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٨٢)، والحاكم ٣/ ٢١٥، وابن سعد ٣/ ٤٦، والحميدي (٢٦٧).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو کسی لشکر میں روانہ نہیں فرمایا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس لشکر میں امیر مقرر فرمایا۔ اور اگر حضرت زید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد باقی ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خلیفہ (بھی) بناتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39751]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39751، ترقيم محمد عوامة 38133)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38134 ترقیم الشثری: -- 39752
٣٩٧٥٢ - حدثنا محمد بن عبيد قال: (حدثنا) (١) إسماعيل عن (مجالد) (٢) (ابن) (٣) سعيد عن عامر ان عائشة كانت تقول: لو ان زيدا حي لاستخلفه رسول الله ﷺ (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) في [ي]: (عن).
(٤) ضعيف؛ مجالد بن سعيد ضعيف، وانظر: ما قبله.

حضرت عامر سے روایت ہے کہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ اگر حضرت زید زندہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو خلیفہ بناتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39752]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39752، ترقيم محمد عوامة 38134)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38135 ترقیم الشثری: -- 39753
٣٩٧٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن ابيه ان رسول الله ﷺ كان قطع بعثا قبل مؤتة وامر عليهم اسامة بن زيد، وفي ذلك (البعث) (١) ابو بكر وعمر قال: [فكان اناس من الناس يطعنون في ذلك لتامير رسول الله ﷺ اسامة عليهم (قال) (٢) ] (٣) : فقام رسول الله ﷺ فخطب الناس ثم قال:"إن اناسا منكم قد طعنوا علي في تامير اسامة، وإنما طعنوا في تامير (اسامة) (٤) كما طعنوا في تامير ابيه من قبله، وايم الله إن كان (لحقيقا) (٥) للإمارة، وإن كان (لمن) (٦) احب الناس إلي، وإن ابنه من احب الناس إلي من بعده، وإني ارجو ان يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرا" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (اليعث).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٤) في [ع]: (أنا به).
(٥) في [ع]: (لحقيق).
(٦) في [ع]: (من).
(٧) مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه ابن سعد ٤/ ٦٧، وابن عساكر ٨/ ٦٢.

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا۔ اسی لشکر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے … راوی کہتے ہیں: بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت اسامہ کو اس لشکر والوں پر امیر بنانے پر اعتراض کیا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا: ”یقینا تم میں سے کچھ لوگ میری طرف سے اسامہ کو امیر بنانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حضرت اسامہ کے امیر بنانے پر اسی طرح اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس سے پہلے حضرت اسامہ کے والد کو امیر بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم!ً بلاشبہ وہ امیر بننے کے لائق تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور ان کا بیٹا ان کے بعد مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تم میں سے نیکوکار لوگوں میں سے ہوگا۔ تم اس کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39753]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39753، ترقيم محمد عوامة 38135)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38136 ترقیم الشثری: -- 39754
٣٩٧٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن (الاجلح) (١) عن الشعبي قال: لما اتى رسول الله ﷺ (٢) قتل جعفر بن ابي طالب ترك رسول الله ﷺ امراته اسماء بنت عميس حتى افاضت (عبرتها) (٣) ، (وذهب) (٤) بعض حزنها، ثم اتاها فعزاها ودعا بني جعفر فدعا لهم، ودعا لعبد الله بن جعفر ان يبارك له (في) (٥) صفقة (يده) (٦) ، فكان لا يشتري (شيئا) (٧) إلا ربح (فيه) (٨) ، فقالت له اسماء: يا رسول الله إن هؤلاء يزعمون انا لسنا من المهاجرين؟ فقال:"كذبوا، لكم الهجرة مرتين، هاجرتم إلى النجاشي وهاجرتم إلي" (٩) (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الأحلج).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [ع]: (غبرتها).
(٤) في [هـ]: (فذهب).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [س]: (يدي).
(٧) سقط من: [ق، هـ].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) مرسل؛ الشعبي تابعي، وأخرجه ابن سعد ٨/ ٢٨١.
(١٠) مكتوب في نسخة [ع]: (تم الجزء الثاني من المغازي) وفي [ط]: (تم الجزء الثاني من المغازي ويتلوه الثالث بحول اللَّه تعالى، بسم اللَّه الرحمن الرحيم).

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کی بیوی اسماء بنت عمیس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ انہوں نے آنسو بہا لئے اور غم ہلکا ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اسمائ کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے تعزیت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کے بیٹوں کو بلایا اور ان کے لئے دُعا فرمائی۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جعفر کے لئے یہ دعا کی کہ ان کے سودے میں برکت دی جائے۔ پس عبد اللہ جب بھی کوئی چیز خریدتے تو انہیں اس میں نفع ہوتا۔ پھر حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین میں سے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ (ایک مرتبہ) تم نے نجاشی کی طرف ہجرت کی اور (ایک مرتبہ) تم نے میری طرف ہجرت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39754]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39754، ترقيم محمد عوامة 38136)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38137 ترقیم الشثری: -- 39755
٣٩٧٥٥ - حدثنا (ابو) (١) إسحاق الازدي قال: حدثني ابو اويس عن (عبيد الله) (٢) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: (كنت) (٣) بمؤتة، فلما فقدنا جعفر ابن ابي طالب طلبناه في القتلى فوجدنا فيه بين طعنة (ورمية) (٤) ، ووجدنا ⦗٨٩⦘ (ذلك) (٥) فيما اقبل من جسده (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ب]: (كانت).
(٤) سقط من: [جـ، س، ي]، وفي [هـ]: زيادة (بضعًا وتسعين).
(٥) سقط من: [ق، هـ].
(٦) صحيح؛ أبو إسحاق الأزدي هو إسماعيل بن أبان الوراق، وأخرجه من طريقه الحاكم ٣/ ٢٣٤ (٤٩٤٤)، وابن سعد ٤/ ٣٨، والطبراني (١٤٦٤)، وأبو عوانة ٤/ ٥١٤ (٧٥٤٤)، لكن قال أبو حاتم كما في العلل ١/ ٣٣٥: "هذا حديث منكر من حديث عبد اللَّه "، وأصل الخبر عند البخاري (٤٢٦٠).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں مقام مؤتہ میں موجود تھا۔ پس جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو غیر موجود پایا تو ہم نے ان کو مقتولین میں تلاش (کرنا شروع) کیا چناچہ ہم نے ان کو اس حالت میں پایا کہ ان کو پچاس کے قریب تلواروں اور نیزوں کے زخم لگے ہوئے تھے۔ اور ہم نے یہ سارے زخم حضرت جعفر کے جسم کے اگلے حصہ میں پائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39755]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39755، ترقيم محمد عوامة 38137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں