🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38394 ترقیم الشثری: -- 40022
٤٠٠٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد ان عليا ارسل إلى محمد بن مسلمة ان ياتيه، فارسل إليه وقال: إن (هو) (١) لم ياتني فاحملوه، فاتوه فابى ان ياتيه، فقالوا: إنا قد امرنا إن لم تاته ان نحملك حتى ناتيه بك، قال: ارجعوا إليه فقولوا له: إن ابن عمك وخليلي عهد إلي انه ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فاجلس في بيتك واكسر سيفك حتى تاتيك منية قاضية او يد خاطية، فاتق الله -يا علي- ولا تكن تلك اليد الخاطية، فاتوه فاخبروه فقال: دعوه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) ضعيف؛ لحال علي بن زيد بن جدعان ولم يدرك عليًا، أخرجه أحمد (١٦٠٢٩)، وابن ماجه (٣٩٦٢)، والحاكم ٣/ ١١٧، والطبراني ١٩/ (٥١٧)، والبيهقي ٨/ ١٩١، وابن سعد ٣/ ٤٤٤، وابن مبارك في الزهد (٢٤٧)، وابن عساكر ٥٥/ ٢٨٤، ونعيم في الفتن (٣٩٨).

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا اگر وہ میرے پاس نہ آئیں تو ان کو اٹھا کرلے آنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس آئے انہوں نے ان کے پاس جانے سے انکار کردیا انہوں نے کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے اگر آپ نہ جائیں تو ہم آپ کو اٹھا کر ان کے پاس لے جائیں حضرت محمد بن مسلمہ نے ارشاد فرمایا ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے کہو آپ کے چچا کے بیٹے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی کہ عنقریب فتنے اور تفرقے اور اختلاف ہوں گے جب یہ ہوجائے تو تو اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اپنی تلوار توڑ دینا یہاں تک کہ تیرے پاس فیصلہ کرنے والی موت یا غلیا کرنے والا ہاتھ آجائے اے علی رضی اللہ عنہاللہ سے ڈر اور ایسا نہ ہو کہ یہ غلطی کرنے والا ہاتھ ہو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے) وہ ان کے پاس آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتلایا انہوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40022]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40022، ترقيم محمد عوامة 38394)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38395 ترقیم الشثری: -- 40023
٤٠٠٢٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي عاصم (١) عن اشياخ (قالوا) (٢) : قال حذيفة: تكون فتنة ثم تكون بعدها توبة وجماعة، ثم تكون فتنة لا تكون بعدها توبة ولا جماعة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو علي بن عبيد اللَّه الغطفاني من الثقات، انظر: المعرفة ليعقوب ٣/ ٢١٨، والكنى للدولابي ١/ ٦٠٧ و ٢/ ٧٠٠، والعلل لأحمد ٣/ ٤٦٢، والأنساب ٤/ ٣٠٢.
(٢) في [ع]: (قال).
(٣) مجهول؛ لإبهام الأشياخ، أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (٧٩).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک فتنہ وقوع پذیر ہوگا پھر اس کے بعد توبہ ہوگی اور جماعت ہوگی پھر فتنہ وقوع پذیر ہوگا اس کے بعد نہ توبہ ہوگی اور نہ جماعت ہوگی (یعنی پہلے فتنے کے بعد توبہ ہوگی اور اجتماعیت قائم ہوجائے گی دوسرے کے بعد دونوں میں سے کچھ نہ ہوگا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40023، ترقيم محمد عوامة 38395)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38396 ترقیم الشثری: -- 40024
٤٠٠٢٤ - حدثنا وكيع عن سوار بن ميمون (١) قال: حدثني شيخ لنا من عبد القيس يقال له (بشير) (٢) بن غوث قال: سمعت عليا يقول: إذا كانت سنة خمس واربعين ومائة منع البحر جانبه، وإذا كانت سنة خمسين ومائة منع البر جانبه، وإذا كانت (سنة) (٣) ستين ومائة ظهر الخسف والمسخ والرجفة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) انظر: الاختلاف في اسمه في شعب الإيمان ٣/ ٤٨٨، والصارم النكي ص ١٣٥ و ١٥٠.
(٢) في [ب]: (بشر).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) مجهول؛ لجهالة بشير وسوّار.

حضرت بشیر بن غوث سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب ایک سو پینتالیسواں سال ہوگا تو سمندر اپنی جانب کو روک لے گا اور جب ایک سو پچاسواں سال ہوگا تو خشکی اپنی جانب کو روک لے گی اور جب ایک سو ساٹھواں سال ہوگا تو زمین میں دھنسنا اور چہروں کا بدلنا اور بھونچال ظاہر ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40024]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40024، ترقيم محمد عوامة 38396)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38397 ترقیم الشثری: -- 40025
٤٠٠٢٥ - حدثنا سفيان عن ابي سنان عن (سعيد) (١) بن (جبير) (٢) قال: لقيني راهب في الفتنة فقال: يا سعيد بن جبير! تبين من يعبد الله او يعبد الطاغوت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (سعد).
(٢) في [جـ]: (جابر).

حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے ارشاد فرمایا فتنے کے زمانے میں مجھے ایک راھب ملا میں نے کہا اے سعید بن جبیر تحقیق کرو کو ن اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کون شیطان کی عبادت کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40025، ترقيم محمد عوامة 38397)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38398 ترقیم الشثری: -- 40026
٤٠٠٢٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثنا غيلان بن جرير عن ابي قيس بن رباح القيسي قال: سمعت ابا هريرة يحدث عن رسول الله ﷺ انه قال:"من ترك الطاعة وفارق الجماعة فمات (مات ميتة) (١) جاهلية، ومن خرج تحت راية عمية يغضب لعصبته او ينصر عصبته او يدعو إلى عصبته فقتل (فقتلة) (٢) جاهلية، ومن خرج على امتي يضرب برها وفاجرها لا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد فليس مني ولست منه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (فميتة).
(٢) في [ط]: (قتله)، وفي [س]: (فقتلته).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٤٨)، وأحمد ٢/ ٢٩٦ (٧٩٣١).

حضرت ابوہریرہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جس آدمی نے (امام کی) اطاعت کو ترک کردیا اور جماعت سے جدا ہوگیا پس وہ مرا تو جاہلیت کی موت مرا اور جو آدمی اندھے جھنڈے تلے نکلا غصے کرتے ہوئے اپنے اقا رب کے لے ر یا مدد کرتے ہوئے اپنے اقارب کی یا دعوت دیتے ہوئے اپنے اقارب کی طرف اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے جو آدمی میری امت پر خروج کرے ان کے نیکوں اور فاجروں کو مارے نہ مومن کو چھوڑے اور نہ کسی عہد والے کا عہد پورا کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40026، ترقيم محمد عوامة 38398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38399 ترقیم الشثری: -- 40027
٤٠٠٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن ابي ذئب عن سعيد بن سمعان قال: سمعت ابا هريرة يخبر ابا قتادة عن النبي ﷺ قال:"يبايع لرجل بين الركن والمقام ولن يستحل البيت إلا اهله فإذا استحلوه فلا تسال عن هلكة العرب، ⦗٢٣٨⦘ ثم تاتي الحبشة (فيخربون) (١) خرابا لا يعمر بعده ابدا، وهم الذين يستخرجون كنزه" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ ع]: (فيخربونه).
(٢) صحيح؛ سعيد ثقة، أخرجه أحمد (٧٩١٠)، وابن حبان (٦٨٢٧)، والحاكم ٤/ ٤٥٢، والطيالسي (٢٣٧٣)، وأبو القاسم البغوي في الجعديات (٢٩١١)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٧/ ١٤٥.

حضرت ابوہریرہ حضرت ابو قتادہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں ارشاد فرمایا ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور ہرگز نہیں حلال سمجھے گا بیت اللہ کو مگر اس آدمی کے گھروالے جب وہ اسے حلال سمجھ گئے تو عرب کے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مت پوچھو پھر حبشہ کے لوگ آئیں گے بیت اللہ کو ایسا ویران کریں گے کہ پھر اسے اس کے بعد آباد نہ کیا جائے گا اور وہی ہوں گے جو اسکا خزانہ نکالیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40027]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40027، ترقيم محمد عوامة 38399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38400 ترقیم الشثری: -- 40028
٤٠٠٢٨ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الله بن محمد بن عمرو بن علي قال: حدثني ابي قال: قال علي: والذي فلق الحبة وبرا النسمة لإزالة الجبال من مكانها اهون من إزالة ملك مؤجل، فإذا اختلفوا بينهم فوالذي نفسي بيده لو كادتهم الضباع لغلبتهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ محمد بن عمرو لم يدرك عليًا، وأخرجه البيهقي في القضاء والقدر (٤٧٠).
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر نکالا اور جان کو پیدا کیا پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانا آسان ہے مقرر بادشاہت کے ہٹانے سے جب ان کا آپس میں اختلاف ہوگا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر وہ بجو بھی ہوتے تو ان پر بھی غالب آجاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40028]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40028، ترقيم محمد عوامة 38400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38401 ترقیم الشثری: -- 40029
٤٠٠٢٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن الاعمش عن خيثمة عن عبد الله بن عمرو قال: لا تقوم الساعة حتى تضطرب إليات النساء حول الاصنام (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ وبنحوه أخرجه الحاكم ٤/ ٥٥٠.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عورتوں کی سرینیں بتوں کے گرد حرکت کریں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40029]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40029، ترقيم محمد عوامة 38401)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38402 ترقیم الشثری: -- 40030
٤٠٠٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: حدثنا عمرو بن عبيد عن ثوبان قال: توشك الامم ان تداعى عليكم كما يتداعى القوم على قصعتهم، ينزع الوهن من قلوب عدوكم ويجعل في قلوبكم، وتحبب إليكم الدنيا (قالوا: من (قلة) ) (١) (٢) ؟ قال: اكثركم غثاء كغثاء السيل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س، ع]: (كله).
(٢) في [أ، ب]: (قال: من كان له).
(٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن عبيد العبشمي، أخرجه الطيالسي (٩٩٢)، والبخاري في التاريخ الكبير ٦٠/ ٣٥٢، والبيهقي في الشعب (١٠٣٧٢)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٢٢٣٩٧)، وأبو داود (٤٢٩٧)، والطبراني (١٤٥٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٨٢، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٥٣٤، والبغوي (٤٢٢٤).

حضرت ثوبان سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ لوگ تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گے جیسے لوگ اپنے پیالے کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں وھن (دنیا کی محبت اور موت سے کراہت) تمہارے دشمنوں کے دلوں سے نکال لیاجائے گا اور تمہارے قلوب میں ڈال دیا جائے گا دنیا تمہارے نزدیک محبوب ہوجائے گی لوگوں نے عرض کیا ایسا قلت کی وجہ سے ہوگا ارشاد فرمایا تمہاری کثرت جھاگ کے برابر ہوگی سیلاب کے جھاگ کی طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40030]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40030، ترقيم محمد عوامة 38402)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38403 ترقیم الشثری: -- 40031
٤٠٠٣١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا عاصم عن زر عن حذيفة بن اليمان قال: تكون فتنة فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، ثم تكون اخرى فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، ثم تكون اخرى فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها حتى تذهب، [ثم تكون (اخرى) (١) فيقوم لها رجال فيضربون خيشومها (حتى تذهب) (٢) ] (٣) ، ثم تكون الخامسة دهماء مجللة تنبثق في الارض كما ينبثق الماء (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فتنة).
(٢) سقط من: [أ، ب، ع].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٤) ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک فتنہ وقوع پذیر ہوگا ایک جماعت اس کے مقابلے کے لیے کھڑی ہوگی اس فتنے کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا پھر دوسرا فتنہ وقوع پذیر ہوگا اس کے مقابلے میں لوگ کھڑے ہوں گے اس فتنے کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا پھر تیسرا فتنہ وقوع پذیر ہوگا لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اس کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا۔ پھر چوتھا فتنہ وقوع پذیر ہوگا لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اس کے ناک پر ماریں گے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجائے گا تم پر پانچواں فتنہ ہوگا سیاہ چھانے والا وہ زمین میں ایسے بہے گا جیسے پانی بہتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40031، ترقيم محمد عوامة 38403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں